مصنوعی ذہانت اور ہمارے مصنوعی مسائل۔


بھگدڑ کے نتیجے میں لوگ کچلے جاتے ہیں پر اس کا شکار قومیں بھی ہو سکتی ہیں البتہ خیالات کا توازن صحت مند ہو تو بچنے کے امکانات باقی رہتے ہیں ورنہ تو ڈیفالٹ ہونے کے بعد کے کسی درجے کا کوئی ایوارڈ ہو گا تو ہم اس کے ضرور حقدار ہوں گے ۔

اس سال کے آغاز میں جب ایلون مسک کی اسٹار لنک سے متعلق آسمان پر چلنے والی تاروں نما ایک قطار دیکھنے کو ملی تو لوگ اس کو قدرتی کرشمہ اور معجزہ سمجھنے لگے، اور لگے بھی کیوں نا عقل اس چیز کو ماننے کو تیار ہی نہیں۔

دنیا جب ٹیکنالوجی کے ٹرینڈز کو جس تیزی سے بدل رہی ہے اور ای آئی کی مدد سے اب تصاویر اور فلمیں بن رہی ہیں عین اسی وقت ہم نے وی ایف ایکس کے استعمال سے بھی بلا کے غیر واقف ہیں یہی وجہ ہے کہ کویت نے اپنے ایک نجی چینل کے اینکر کو ای آئی کی مدد سے ڈیزائن کیا ہے جو کام چین نے 2018 میں مکمل کر دیا تھا اور ہمارے ہمسائے نے بھی ماضی قریب میں اس ٹیکنالوجی کا بھرپور فائدہ اٹھایا جبکہ ہمارے پاس نصاب میں جو پچھلے ایک دہائی سے پڑھایا جا رہا ہے وہ کوئی تیس دہائیوں پھلے جدید طرز عمل سے رد ہو چکا ہے

ہمارے پاس فرانس سے ای آئی میں پی ایچ ڈی کرنے والے اجمل ساوند کو قبیلائی تکرار کا نشانہ بنا دیا گیا کیونکہ ہمارا مسئلہ دس کلو فری آٹے سے آگے کا ہے ہی نہیں۔

جس تیزی سے مصنوعی ذہانت کام کر رہی ہے اور آنے والے وقت میں جس طرح وہ انسان کی قوتوں پر غالب ہو جائے گی اور گھنٹوں کے کام منٹوں میں ہونے لگیں گے اس وقت ہمیں حیران ہونے جتنا بھی وقت نہیں ملے گا۔ وقت کی جہاں تک بات ہے تو ویسے بھی ہمیں جلدی کے فیصلوں کی عادت بھی نہیں کیوں کے ہمارے سسٹم کا یہ تقاضا ہے کہ یہاں سو موٹو نوٹس کے فیصلے بھی محفوظ ہوتے ہیں اور آتے، آتے۔ آتے ہیں۔

ہم نے تبدیلی کو فقط ایک پارٹی کے سلوگن تک محدود رکھا ہے اور نئے ٹیکنالوجی کی جگہ ہم نے پورا ملک نیا بنانے کا سوچا ہوا ہے ایسے میں نئے پاکستان کی اینٹیں جہاں جس بھٹی سے لینی ہیں وہاں پر اقلیتی برادری کے غیر قانونی بنیاد پر باندھی بنائے ہوئے مزدور ہم نے خد رکھے ہوئے ہیں۔

اس وقت ہم جب ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ کر اگر نفی کا رویہ بھی اپنانا ہے تو ہم اینفیریئرٹی کامپلیکس کا طریقہ اپنائیں نا کہ مطمئن ہو کر ان کے مکمل رد کر کے کافروں کا گروہ کہے کر حقیقت پسند ہونے کے انکاری بنیں۔

ہمارے مسائل تو تعلیم کے نظام کی تبدیلیوں سے حل ہونے جیسے ہیں لیکن ہمارے مصنوعی مسائل شعور اور سنجیدگی کے سوا حل نہیں ہونے کے۔ البتہ مصنوعی ذہانت بھی اس معاملے میں حکیم لقمان نہیں۔

Facebook Comments HS