سیپ کا موتی

یہ کہانی ہے اس لڑکی کی جس کی زندگی خوف اور خدشات سے گھری ہے جس کی زندگی بے بسی کی کہانی ہے جس کی زندگی سوائے محرومیوں کے کچھ نہیں۔ حساس اتنی کے چڑھتے بادل سے ڈر جائے اور کبھی اتنی بہادر کہ تنہا راہوں میں نکل جائے۔ انہیں محرومیوں نے اس کو بالکل بچہ بنا دیا جس کو ہلکا سا ڈانٹ دیا جائے تو گھنٹوں روتا رہے یا پھر اگر پسندیدہ چیز نہ ملے تو وہ کسی چیز سے نہ بہل رہا ہو۔ خوف اتنا ہے کہ تمام وقت لوگوں کے بچھڑنے کا اور چیزوں کے دور جانے کا خوف غالب رہتا ہے۔
باسمہ کو محبت اس وقت ہوئی جب وہ عمر کے انتہائی نازک موڑ پہ تھی جس وقت جوانی اور بچپنے کی جنگ جاری ہوتی ہے اور انسان اس جنگ میں کچھ فیصلے کر بیٹھتا ہے کر کیا بیٹھتا ہے بلکہ اس سے سرزد ہو جاتے ہیں ایسا ہی باسمہ نے بھی کیا اس وقت وہ ماسٹرز کی طالبہ تھی ایک شخص جو اس کی زندگی میں نا جانے کتنی خاموشی سے داخل ہوا یا یوں کہو دبے پاؤں آنکھوں کے راستے دل میں بس گیا اور جب محبت آنکھوں کے آنگن سے دل کے آنگن میں اترتی ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
کل باسمہ کا جنم دن تھا اس دن کو لے کر وہ ہمیشہ ہی پر جوش ہوا کرتی تھی اس دن وہ ہر فکر ہر سوچ بھول کر بس اس دن کو جیتی تھی اس دن میں زندگی تلاش کرتی تھی۔ آج رات بارے بجے تک وہ انتظار کرتی تھی آج بھی وہ ایسا ہی کر رہی تھی اسی دوران ایک پیغام اس کی موبائل سکرین پر ابھرا اور وہ تو جیسے تھی ہی اس انتظار میں آج رات وہ اس سکرین پہ آئے پیغام کا جواب دے رہی تھی جواب دیتے دیتے گفتگو کا طویل سلسلہ شروع ہوا اور ایسا ہوا کہ رات گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ اسی گفتگو میں وہ اظہار کر بیٹھی آغاز دوسری طرف سے تھا لیکن اظہار باسمہ نے کیا تھا۔ اس دن کے بعد تو جیسے اس کی زندگی بدل گئی۔
باسمہ کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا۔ اس نے زندگی میں بہت مشکلیں دیکھی تھیں ان مشکلوں کا سبب صرف ایک شخص تھا وہ باسمہ کے والد تھے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک نئی مشکل کا سامنا درپیش تھا۔ انہی حالات کی بدولت وہ باغی ہو گئی تھی۔ وہ ہمیشہ منفرد راستہ تلاش کرتی تھی وہ راستہ جس کی جانب کوئی رخ نہ کرے۔ وقت و حالات نے اس کی زندگی بالکل بے حس بنا دی تھی۔ بے حسی اس کی روح میں رچ بس گئی تھی۔ اسے اب کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا تھا چیزیں اس کے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسل چکی تھی اور جو کچھ باقی تھا وہ بھی حالات کی نظر ہوتا جا رہا تھا۔ اس کی حالت ایک چلتے پھرتے مردہ انسان کی تھی جو بظاہر زندہ نظر آتا ہے لیکن اندر سے خالی جس میں نہ کوئی ہلچل ہے نہ شور، ہے تو صرف ایک سکوت گہرا سکوت۔
باسمہ کی زندگی میں باپ کے بعد مومن دوسرا شخص تھا۔ مومن میں وہ ایک مثالی شخص تلاش کرنے لگی تھی۔ باسمہ نے مومن کو دل کی گہرائیوں سے چاہا تھا وہ مومن کے لیے اس حد تک مخلص تھی کہ اس کی محبت میں خود کو وار دیا۔ اس نے اپنی خوشیاں محبت میں دان کر دی تھیں۔ مومن نے ابتدا میں باسمہ میں دلچسپی لی مگر وقت کے ساتھ ساتھ دلچسپی کی آنچ دھیمی پڑ گئی۔ باسمہ مومن کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہتی تھی اور وہ کوئی شرمیلی مشرقی لڑکیوں جیسی نہ تھی۔ باسمہ کو جو کرنا ہوتا وہ کر گزرتی کسی کی پرواہ نہ کرتی۔ باسمہ شکل و صورت سے خوبصورت تھی اور کچھ اس نے خود کو وقت کے ساتھ مزید نکھار لیا تھا۔ اس کی صورت میں کشش تھی چہرے پر ایک مرتبہ نظر پڑھتی تو دوبارہ دیکھنے کی چاہ ہوتی۔
ہر چیز کے مختلف پہلو ہوتے ہیں اسی طرح محبت کے مختلف پہلو ہیں۔ اگر مل جائے تو بہار نہ ملے تو زندگی خزاں۔ انسان ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کی تلاش میں رہتا ہے۔ ایک تلاش محبت بھی ہے کبھی تو محبت سامنے باہیں پھیلائے کھڑی رہتی ہے کبھی انسان کو موت سے ہمکنار کر دیتی ہے۔ جب انسان کسی شے کی مسلسل جستجو کرے اور جستجو کے باوجود اس کے آثار نہ ملیں تو انسان تھکنے لگتا ہے کچھ یہی حال باسمہ کا بھی تھا وہ اب چھ سال مسلسل دن رات کوشش کرتے کرتے تھک چکی تھی اور اب یہ محبت اس کے لیے اکتاہٹ بن گئی تھی جسے وہ دور پھینک دینا چاہتی تھی جس کا حصول نا ممکن بنا نا چاہتی تھی۔ مومن نے اسے محبت کے تحفے میں مسلسل اذیت دی تھی اور وہ اذیت بے رخی کی صورت میں تھی۔ بسمہ نے مومن کو وہ خوبصورت سیپ کا موتی سمجھا تھا جس کی اسے بچپن سے تلاش تھی لیکن شاید وہ موتی مومن نہ ہو۔

