بائیکاٹ

ان دنوں روزوں کے ایام پورے آب و تاب سے جاری ہیں۔ بھوک و افلاس نے بھی اپنے ڈیرے جما رکھے ہیں اس امر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جہاں بھی کسی کو روزے کے حوالے سے پوچھا جائے تو وہ صرف بھوک اور پیاس کا متبادل نام دیتا ہے۔ ساتھ اس کا کردار روزے کی روحانیت اور اس سے لاتعلقی ظاہر کرتا ہے مجھے ایک دن بازار جانے کا اتفاق ہوا تو ایک ریڑھی بان سے ملاقات ہوئی جو کینو فروخت کرنے کے لیے سرف سے نہ جانے کیا کیا پانی میں ملا کر دھونے کا بہانہ کر رہا تھا۔ پوچھا کہ سرف سے کیوں دھو رہے ہیں؟
وہ بولا ”جی صاف کرنے کے لیے۔ “
میں نے کہا ”ان میں تو سوراخ بھی ہو سکتے ہیں جو اس کے اندر گندا پانی، زہریلے مادے بھی جا سکتے ہیں۔ وہ بولا“ جناب کیا بات کر رہے ہیں یہاں لوگ کھوتے ہڑپ کر سکتے ہیں تو یہ کیا چیز ہے۔ ”
جب بھی کسی قوم اور ریاست کا موازنہ کیا جاتا ہے تو اس قوم کی تہ تک جانا ضروری ہوتا ہے جو نچلی سطح سے شروع ہوتا ہوا اوپر والی سطح تک ایک ہی رفتار اور کردار میں جہالت جیسے عناصر سے لبریز ہوتا چلتا جاتا ہے۔ یہی لوگ سوشل میڈیا پر آواز بلند کر رہے ہیں کہ روزوں کے ایام میں پھلوں کا بائیکاٹ کیا جائے تاکہ ان کی قیمتیں کم ہو سکیں۔ قیمتیں اس طرح کم نہیں ہوتیں، ان قسمت کے ماروں، مقدر کے سکندروں اور اس سرزمین کے باشندوں کی اس دکھاوے کی تحریک کا کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہو سکتا۔
اگر تم لوگ واقعی تحریک چلانا چاہتے ہو تو سب سے پہلے اپنی بے ضمیری کا بائیکاٹ کرو جو تم کو نہ انسان بننے دے رہی ہے اور نہ کلام خدا کا تابع فرمان۔ اگر واقعی تم بائیکاٹ کرنا چاہتے ہو تو ان ڈرامے بازوں کی ڈرامائی صورتوں کا کرو جو ظاہر و باطن کا تضاد لیے ایمان داری کا لوہا منوا رہے ہیں۔ بائیکاٹ کرنا ہے تو ان کا کرو جن کے ذریعے شیطان بھی رمضان کے ماہ میں کھلم کھلا گھوم رہا ہے۔ اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو بیرون ملک میں جائیدادیں بنانے والوں کا کرو جو فخر سے حکومتیں تو ادھر کرتے ہیں اور پراپرٹی دیگر ممالک میں بناتے ہیں۔
جن کے بچوں اور دودھ پیتے چراغوں کے نام کئی گم نامی جائیدادیں اور حویلیاں برآمد ہوتی ہیں۔ جو اس بات کا تصور کرتے ہیں کہ یہ ہمارے بچے پیدائشی سونے کا چمچ لے کر دنیا میں آئے۔ مگر جو ٹیکس دیتا ہے، محنت کرتا ہے، محب وطن اور ادب برائے زندگی کا درس دیتا ہے وہ آج بھی اپنا فرض سمجھ کر ملک میں اور معاشرے میں کردار سازی کو اپناتے ہوئے ذلت کا سامنا کر رہا ہے۔ ان لوگوں کا حال دیکھیں جو اپنے آپ کو ان چیزوں سے بری قرار دیتے اور دوسروں کے حقوق کو سلب کر کے ہر طرح سے اپنی اجارہ داری کو پروان چڑھاتے ہیں۔
یہی لوگ جو ان کے پیچھے میوں میوں کرتے، جھوٹے نعرے لگا کر اپنا ایمان بیچ رہے ہوتے ہیں۔ میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ اگر تم اپنے ایمان اور عقیدے کا بائیکاٹ کرو گے تو ان کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ فرق پڑنا ہے تو تم کو، تمھاری ذاتی زندگی کو، تمھاری نسل کو اور خاندان کو۔ تم لوگ ان پھلوں اور سبزیوں کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے ان جھوٹے نعروں، کھوکھلے ذہنوں اور بانجھ پن کے اشاروں سے کنارہ کشی کرو۔ جس سے تمھاری زندگی دنیا اور آخرت سنور سکتی ہے۔
یہاں تو ہر بند لیڈرشپ کا نعرہ بلند کرنے میں مگن ہے کہ میں لیڈر ہوں۔ کبھی سوشل میڈیا کا اور کبھی پرنٹ میڈیا کا سہارا لے کر اس کا جادو چلانے کے من میں ہیں۔ ان لوگوں کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتانا چاہتا ہوں کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے کردار، رویے اور عمل سے بغیر کسی کو کہے متاثر کرتا ہے۔ اس کی سوچ کوئی ایسی سرگرمی کو جنم دیتی ہے کہ دیکھنے والا خود بخود متاثر ہو نہ کہ لمبی لمبی جھوٹی تقریریں اور من پسند کے سوالات و جوابات کرے اور صحافیوں سے کہلوائے۔ لیڈر شپ کو دوسرے لفظوں میں بیاں کروں تو یہ ایک خاص رویے کا نام ہے جو بے جان لفظوں کو بھی اپنے رویے اور اسلوب سے جاندار اور متحرک بنا کر نسل انسانی کی بقا چاہتا ہو اور ایسا ممکن بھی ہو جاتا ہے۔ یہاں تو دور دور تک کوئی ایسا تاثر نظر نہیں آتا جو ان چہروں سے بھی نظر آئے۔
میں بائیکاٹ کے خلاف نہیں ہوں صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ اگر تم لوگوں نے اس کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو گیدڑ شپ کا کرو۔ اگر بائیکاٹ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے تو فیڈر ( بچوں کو جس سے دودھ پلایا جاتا ہے ) شپ کا کرو۔ جو تم کو ماموں بنا کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگاتے ہیں اور تمھاری نسلوں کا مستقبل غرق کرتے ہیں۔ بائیکاٹ کرنا ہے تو اپنی نسل کو بچانے کے لیے اور اس ریاست کا شہری ثابت ہونے کے لیے ہر اس عمل کرو جو تمھارے کردار پر انگلی اٹھانے کا سبب بنے۔
جو تمھیں گالیاں دلوانے کی وجہ ہو، تم کو خدا سے دور کرے، تمھاری وجہ سے تمھارے والدین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے حتی کہ تمھاری اپنی ناجائز خواہشات جو تمھاری عاقبت کو خراب کر دیں۔ ان سرگرمیوں میں ہڈ حرامی، رشوت خوری جھوٹ، ملاوٹ، بری سوچ اور ہر وقت مٙیں مٙیں اور مٙیں کرتے رہنا۔ جو کسی بھی فرد اور معاشرے کی گیدڑ شپ کے ظاہری اور باطنی کردار کو روز روشن کی طرح سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ جتنا بڑا لیڈر ہوتا ہے اس سے اتنے ہی گلے اور شکوے بہت کم سننے کو ملیں گے یہاں تو اس کے متضاد ہے۔
مطلب واضح ہے کہ اپنی آنکھوں کے شہتیر نظر نہیں آتے لیکن اگلے کی آنکھ کے تنکے ضرور نظر آ جاتے ہیں۔ جو ان گیدڑوں کی فیڈر شپ کی چال میں آ جاتے ہیں اور پھر شکوے خدا سے کرتے ہیں۔ دوسری جانب جھوٹی تقریر اور تحریر چلاتے ہیں کہ سبزیوں کا بائیکاٹ کرو، تو کبھی دودھ کا، گوشت کا اور کبھی پھلوں کا۔ او بھائی خدا کا واسطہ ہے ایک دفعہ زندگی میں چند سیکنڈز کے لیے اپنی بے ضمیری اور بے حسی کے ریڈر بن کر اس کا بائیکاٹ کرو۔
جو ریڈر بن کر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرے گا اس کو اس تحریک کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی چھوٹے بچوں کی طرح فیڈر لینے کی ضرورت ہے۔ وہ ان بھیڑوں اور گیدڑوں کے پیچھے پیچھے بھی نہیں جائے گا بلکہ وہ خود کار ایک ریڈر بن کر نسل کی اصلاح کرے گا۔ اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو اپنی بے ضمیری کا کرو اور اپنی زندگی میں سپیڈر بنو نہ کہ گیدڑ۔

