کتابوں کا عالمی دن پاکستان میں کتب بینی کا فروغ: وقت کی اہم ترین ضرورت
روزمرہ زندگی میں جب بھی ہم کتابوں کے مطالعہ کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں نصابی کتابوں کا خیال آتا ہے۔ بے شک نصابی کتابوں کی اپنی ایک الگ اہمیت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ زندگی کی دوڑ میں کامیاب ہونے کے لئے نصابی کتابوں کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ غیرنصابی کتب کا مطالعہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک مصنف اپنی زندگی کا نچوڑ کتاب کی شکل میں اپنے پڑھنے والوں کو مہیا کرتا ہے۔ جس میں ان کی سوچ ’نظریات و تجربات شامل ہوتے ہیں۔ ہر کتاب مختلف ہوتی ہے اور پڑھنے والے کی سوچ کو ایک نیا اور منفرد زاویہ دیتی ہے۔ ہم لکھنے والے کے عمر بھر کے ان تجربات سے نہ صرف بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں بلکہ سبق حاصل کرتے ہوئے خود کو ان غلطیوں سے بچا سکتے ہیں یا مناسب حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔
کتاب دوستی بہت پرانی ہے جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ اس سے بڑھ کر کتاب کی اہمیت کیا ہو گی کہ اللہ تعالی نے انسان کی ہدایت و راہنمائی کے لئے یا اپنا پیغام پہنچانے کے لئے الہامی کتابیں اپنے مختلف نبیوں اور پیغمبروں پر نازل کیں اور انبیاء کرام نے اپنی عملی زندگی میں ان تعلیمات کا مظاہرہ بھی کیا۔ قرآن پاک ہمارے لئے ایک مکمل جامع کتاب ہے جس کو پڑھ کر اور سب سے بڑھ کر سمجھ کر ہم اپنے رب اور نبی و رسول حضرت محمد ﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی و آخرت کو سنوار سکتے ہیں۔
آج کا دور کیوں کہ ڈیجیٹل ہو گیا ہے اس لئے آج کے بچے زیادہ تر اپنا وقت ان برقی آلات کے ساتھ ہی گزارتے ہیں۔ کتب بینی ان کو مشکل لگتی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ان کو کتابیں پڑھنا بیزار کن لگتا ہے۔ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ بچے نصابی کتابوں کے پڑھنے کو ہی کتب بینی تصور کرتے ہیں ہمیں اس ضرورت پر زور دینا چاہیے کہ بچے کچھ وقت غیر نصابی کتب کو بھی دیں تاکہ ان کو وقت گزارنے کا نہ صرف ایک بہترین مشغلہ مل سکے بلکہ ان کی معلومات میں اضافہ بھی ہو سکے۔
بقول شیخ سعدی شیرازی :
” اچھی کتابوں کا مطالعہ دل کو زندہ اور بیدار رکھنے کے لئے بہت ضروری ہے“
ایک زمانہ تھا کہ بچوں کو لوری سنائی جاتی تھی اور کھیلنے کے لئے مختلف قسم کے کھلونے دیے جاتے تھے۔ گڈا ’گڑیا کی شادیاں کروائی جاتی تھیں۔ گلی محلوں میں بچے دن بھر کرکٹ‘ فٹ بال ’پٹھو گرم‘ گلی ڈنڈا جیسے کئی کھیل کھیلتے تھے۔ دادی اور نانی بچوں کو شہزادیوں ’شہزادوں‘ علی بابا چالیس چور جیسی متعدد فلمی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ پھر جیسے جیسے وقت بدلتا گیا یہ روایات دم توڑتی گئیں۔ اب نومولود بچے کو مختلف گانوں یا انگریزی نظموں کی دھنیں لگا دی جاتی ہیں۔ جب بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو موبائل یا دوسرے گیجٹس ان کے ہاتھ میں پکڑا دیے جاتے ہیں جن پر وہ ہر وقت اپنی پسند کے کارٹون دیکھتے ہیں۔ آج کا دور اینیمیٹڈ فلموں کا ہے۔ گھر میں سارا سارا دن بچے یوٹیوب اور نیٹ فلکس پر اپنے پسندیدہ کارٹون ’فلمیں اور پروگرامز دیکھتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید دور کے بچوں کو ان پرانی اور فرسودہ کہانیوں میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کے بچے ڈیجیٹل دور میں پرورش پا رہے ہیں جن کو ایک کلک پر من پسند چینل ’فلم‘ یا رنگ برنگے کارٹون دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ بچوں میں کتابوں کا شغف پیدا کرنے کے لئے ایسی کتابیں ہونی چاہئیں جو ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کروا سکیں یا ان کو اپنی طرف مائل کر سکیں۔
لہذا وقت کی نبض کو سمجھتے ہوئے ہمیں ایسی کتابیں شائع کرنی چاہیے جن میں رنگوں کی دھنک ہو ’کہانی یا مواد ایسا ہو جو دل موہ لے‘ جو بچوں کو کتاب آخر تک پڑھنے پر مجبور کر دے۔ کہانی ایسی ہو جو ان کے دل میں اسے پڑھنے کی جوت جگا دے۔ اگر شروع کے چند صفحات بچے کو متاثر نہیں کر سکے تو بچہ کتاب کو نہیں پڑھے گا۔
مواد ایسا ہو جو ان کو بوریت کا شکار نہ ہونے دے۔ کہانیاں پریوں اور شہزادوں کی بجائے بدلتے وقت کی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے تاکہ وہ حقیقی دنیا مین رہنا سیکھیں۔ اگر بچہ کتاب کی طرف راغب ہوتا ہے اور اپنے فارغ وقت کا کچھ حصہ کتاب پڑھنے میں لگاتا ہے تو اس سے اس کو فائدہ ہی ہو گا اور دوررس نتائج بھی مرتب ہوں گے۔
بقول حکیم محمد سعید : ”یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم سب سے کم وقت اور سب سے کم دولت جس چیز پر خرچ کرتے ہیں وہ کتاب ہے۔ “
یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے کہ پبلشر ایسی کتابیں شائع کریں اور والدین ’اساتذہ بچوں کو وہ کتابیں مہیا کریں جو ان کی شخصیت میں نکھار اور جدت لا سکیں اور جو وقت کی ضرورت اور ڈیمانڈ کے مطابق ہوں۔ جو ان کے علم و معلومات میں اضافہ کریں۔
ایسی کتابیں شائع کی جائیں جو بچوں کی ذہنی قابلیت کے مطابق ’مختصر اور آسان الفاظ میں ہوں تاکہ وہ آسانی سے بات کو سمجھ سکیں اور اس پر عمل پیرا بھی ہو سکیں۔
آج کے وقت کی پڑھائی پہلے زمانے سے بہت مختلف ہے۔ بچہ دن رات نصابی کتب یا پڑھائی ’پھر ہوم ورک میں مشغول رہتا ہے۔ اگر فارغ وقت میں کوئی اور کتاب اٹھاتا ہے تو اس میں اس کی دلچسپی کا بھرپور سامان ہونا چاہیے تاکہ اس کی تھکن اتر سکے اور دوسری طرف کتب بینی کا شغف بھی پیدا ہو سکے گا کیونکہ ہمارا مقصد بچوں کو نصابی کے ساتھ ساتھ غیر نصابی کتب کی طرف مائل کرنا ہے۔
جو شخص اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق نہیں رکھتا وہ معراج انسانی سے گرا ہوا ہے۔
کتابیں ہماری بہترین دوست ہوتی ہیں ( جارج برنارڈ شا)
ابو العباس کہتے ہیں کہ: ”ہم بادشاہوں کی صحبت اختیار کریں تو عزت نفس مرتی ہے ’تاجروں میں بیٹھیں تو دل کے غریب ہو جائیں گے۔ ہماری ہم نشین کتابیں اور صرف کتابیں ہونی چاہیے جن سے کسی فتنے اور بدمزگی کا اندیشہ نہیں اور نہ ان کی زبان اور ہاتھ سے کوئی خطرہ ہے“ ۔
ہمیں اپنے بچوں کو لائیبریری کے باقاعدگی سے استعمال اور اس کی افادیت سے متعارف کروانا چاہیے تاکہ وہ ان کتب سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ اپنی لائبریریوں کو وقت کے حساب سے جدید بنانا چاہیے تاکہ بچوں کو ان کے مطلب کی کتاب با آسابی حاصل ہو سکے۔
اسکول و کالج میں بچوں میں کتب بینی کو فروغ دینے کے لئے اہم اقدامات کرنے چاہیے۔ بچوں میں لائیبریری سے زیادہ کتب ایشو کروا کر پڑھنے پر انعام سے نوازنا چاہیے تاکہ باقی بچوں میں بھی یہ شوق منتقل ہو سکے۔
عوام الناس کے لئے لائبریری سے کتب لینے کے مرحلے کو آسان بنانا چاہیے تاکہ ایک عام انسان آسانی سے کتب حاصل کر سکے اور فائدہ اٹھا سکے۔
کتب بینی کا فروغ ہر معاشرے کے لئے راحت اور کامیابی کا ضامن ہے۔ مغربی دنیا جس کی کئی معاملات میں ہم پیروی کرتے ہیں ’وہ کتابوں پر ہی زندہ ہیں اور یہی نہیں بلکہ کتابیں ان کی زندگی میں ایک لازمی اور اہم جزو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پھر چاہے ریلوے اسٹیشن ہو یا بس اسٹاپ وہ اپنے فارغ لمحے میں کتاب پڑھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک جہاں لوگ محنتی اور جفاکش ہونے کے ساتھ ساتھ ذہانت سے بھی مالامال ہیں ایسے میں ہمیں کتب بینی کو فروغ دینے کے لئے ہنگامی طور پر اقدامات کرنے چاہئیں جس سے نہ صرف یہ قوم کتابوں کی طرف مائل ہو بلکہ اپنے علم میں اضافے کے ساتھ اپنے مستقبل کو بھی سنوار سکے اور کامیابی کی طرف گامزن ہو سکے۔ نوجوان نسل ’مرد و عورت‘ بچوں اور بوڑھوں کو بلاتفریق کتابوں سے قریب کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنے چاہیے کیونکہ اس ڈیجیٹل دور میں کتب بینی کے ذریعے ہی کامیابی کا سفر طے کیا جاسکتا ہے۔
ولیم اسٹائرون کے بقول:
ایک عظیم کتاب آپ کو بہت سے تجربات دے جاتی ہے اسے پڑھنے کے بعد آپ تھک تو جاتے ہیں مگر آپ اسے پڑھتے پڑھتے کئی زندگیاں جی لیتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ ہمیں کتابوں کی اہمیت کو سمجھنا ہو گا اور کتابوں اور کتب بینی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔


