ایک خط ہرکیرت کورچاہل کے نام


ہرکیرت اس وقت میں تمھارے بہت سارے چاہنے والوں کے ساتھ لاہور جیسے ادبی اور تاریخی شہر میں بیٹھی تم سے مخاطب ہوں۔ ہاں تو سنو کیرت تمہارے ”لٹھے لوک لاہور دے“ کو اردو ترجمے کی صورت دلکش انداز میں چھپے سفر نامے کو جب میرے ہاتھوں نے تھاما تو ”اپنی بات سے“ ”مناں وے چل موڑ مہارا“ تک میری نظروں نے ادھر ادھر جانا پسند نہ کیا۔

ہرکیرت کور میں تمہاری شکرگزار ہوں کہ تم نے ہمیں اپنی خوبصورت تخلیق کا حسین تحفہ دیا۔ یقین کرنا یہ تو وہ آئینہ تھا جس میں مجھے اپنی ہی شبیہ نظر آئی تھی۔

اجنبی دنیاؤں اور اجنبی سرزمینوں کو دیکھنے، ان کے اسرار جاننے، ان کی کہانیاں سننے اور پڑھنے کا تجسس ہمیشہ سے انسان کی سرشت میں رہا ہے۔ تم اور میں بھی اس کا اسی طرح شکار ہیں۔ امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور کئی دیگر ممالک کی سیاحت میں کیا تم انہی تاثرات سے گزری تھیں جن کا اظہار تم نے اپنے اس لاہوریے سفر نامے میں کیا ہے۔ یقیناً نہیں کیرت۔ دراصل یہ تو ہم جیسے حساس لکھاریوں کی پیاسی روحوں کا اپنی نوسٹلجیائی دنیا کی جانب سفر تھا جہاں ہر آن یہ محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک دوسرے کے ہی جذبات کو زبان دے رہے ہیں۔

امرتسر سے واہگہ بارڈر تک کا پچیس ( 25 ) تیس ( 30 ) کوس کا پینڈا کیرت تمہاری سوچوں، ثقافتی جائزوں، بٹوارے کے دکھ و کرب کا نمائندہ ہے۔ واقعی پنجاب اور بہار میں کتنا خون بہا۔ انسانیت کیسے قتل ہوئی؟ امن سے نہیں رہا جاسکتا تھا۔ کتنے سوالوں نے دونوں جانب سر اٹھائے تھے۔ آج سے کوئی 18 برس قبل واہگہ بارڈر سے امرتسر، پٹیالہ، چندی گڑھ اور دلی تک کے اسفار میں کچھ ایسی ہی تلخ و شیریں سوچیں میرے ساتھ بھی تھیں۔

تم جس کی جنم بھومی پاکستان نہیں ہندوستان تھی مگر ہمارے جذبات و احساسات کتنے مشترکہ تھے کہ جب میں جالندھر سے گزر رہی تھی تو جی چاہ رہا تھا کہ بس کا دروازہ کہیں کھل جائے اور میں باہر چھلانگ لگا دوں، بھاگتی ہوئی اس مضافاتی گاؤں میں چلی جاؤں جو میری جائے پیدائش تھی۔

اب جب تم اپنے پاپا کے جذبات، اپنے عزیزوں، رشتہ داروں کے احساسات کی ترجمانی کرتی ہو جن کی وہ جنم بھومی نہیں تھی بلکہ لیکن وہ دھرتی ان کا اور تم سب لوگوں کا مکہ مدینہ ہے۔ تو پھر اندر کا کیا حال ہو گا؟ ان کو تمہارے قلم نے جو زبان دی ہے وہی تو ہماری بھی ترجمان ہے کہ میں نے بارہا اپنی ماں اور نانی دادی کو اپنے بچپن میں چولہے کے پاس بیٹھے راکھ کریدتے اور دیس کی یاد میں آہیں بھرتے دیکھا تھا۔ میری دادی تو عرصے دراز تک اسی انتظار میں رہی کہ وہ تو گھر کو تالا بھی لگا کر نہیں آئی تھی کہ چار چھ دن میں واپسی ہو جانی ہے۔ بھلا کوئی اپنی پوہ سے بھی جدا ہوتا ہے۔

تم نے ٹھیک لکھا کیرت کور لاہور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سیاسی طاقت کا مرکز تھا۔ اس جیسا جی دار حکمران پنجاب کو کبھی بعد میں نصیب نہیں ہوا۔

مغربی پنجاب نے ہجرت کا دکھ ہی نہیں اٹھایا۔ اس کا تو ورثہ بھی داؤ پر لگا۔ وہ اس کے گیت، گدے، ٹپے، اس کی لولڑیاں، اس کے بیساکھی کے تہوار اس کے رہتل و وسیب اور تمدنی و ثقافتی مشترکہ ورثہ کیسے مذہبی جنونیوں کی نذر ہو گیا۔

لاہور آنے کی لگن اور تڑپ راہیں کیسے ہموار کرتی گئی۔ بیٹے کی شادی کی خوشی اگر بے پایاں تھی تو لاہور آنے کی بھی کچھ کم نہ تھی۔

ہرکیرت اپنے گھر سے امجد سلیم کے گھر تک تمہارے جذبات و تقابلی جائزے دونوں جانب کی اشرافیہ کے عزائم و مقاصد اور عام آدمی کی سوچیں سب نے ہمیں آگاہی دی۔

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تم نے واہگہ بارڈر کے امیگریشن دفاتر کے عملے کو میری جیسی ہی تنقیدی نظر سے دیکھا۔ حسن اخلاق اور طرز عمل میں تم نے پاکستانی عملے کو پسندیدگی کا درجہ دیا اور اپنے عملے پر تنقید کی۔ ایسا ہی میرے ہاں تھا۔ یقیناً ہم نے بہترین سفارتی ذمہ داریاں نبھائیں۔

مدثر بشیر اور امجد سلیم کو دیکھ کر تمہاری آنکھوں نے مسرت کی چمکتی لو اور پیار بھرے جذبوں کو اڑان دی۔ امجد کے گھر تک پہنچنے کا سفر اور اہل خانہ سے ملنے کی داستان سب جیسے ان جذبات کے عکاس تھے جن کے بارے شاعر نے کہا ہے۔

شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پربت میں ہے

”تیجی مخلوق“ کی تقریب رونمائی میں لاہور کے نامور ادیبوں سے ملاقاتیں اور تقریب کی رنگینی اور اس میں گندھی محبتوں کا بیانیہ، سادگی و پرکاری سے لبریز تھا۔

اپنی ماں بولی کے لیے تمہاری چاہت میں مجھے وہی تڑپ محسوس ہوئی تھی جو ہندوستان اور پاکستان میں پنجابی کے متوالے لوگوں کے رویوں سے عیاں ہے۔ مگر بات تو وہی ہے کہ دونوں جانب کی اشرافیہ جب تک اس کے لیے مخلص نہ ہوگی تو بات کیسے بنے گی؟ کیا ہندوستان اور کیا پاکستان قومی زبانیں بھی بیچاریاں منہ دیکھتی پھرتی ہیں اور پروانی کا جھومر غیروں کے ماتھے پر سجا ہے۔

پریس کلب میں لوگوں کا والہانہ اظہار محبت، بابا نجمی کے گھر کھانے پر جانے اور افراد خانہ سے میل ملاقات، گلیوں، بازاروں، گھروں اور لوگوں کی چہل پہل کو تم نے اپنایت سے دیکھا اور اس پر جذبوں سے لکھا۔

پرانے لاہور کی سیاحت کرتے مسجد وزیر خان کی تفصیلی تصویر کھینچتے اور دلی دروازے، کشمیری بازار سے ہوتے ہوئے چھتہ بازار کی بیچ در بیچ گلیوں میں مدثر بشیر کے ساتھ گھومنے والے ویسے ہی خوبصورت تجربے تھے جیسے ہم جیسوں نے دلی کے کوچہ بازار میں کیے تھے۔

ننکانہ صاحب جانا بھی تو گویا ایک طرح روحانی سفر تھا۔ جس کی خواہش ہر خالصہ کے دل میں اسی طرح پلتی ہے جیسے مسلمانوں کے اندر حج عمرہ کرنے کی۔ امجد اور چندا کی معیت میں یہ بابرکت سفر گویا حاصل زندگی تھا۔

کرنسی کی ضرب تقسیم کا عمل بھی ہمارا مشترکہ مشغلہ نکلا۔ بڑا لطف آیا تھا پڑھ کر۔ دل نے کہا یہ ڈالروں میں کھیلنے والی ”لو بھئی ہم جیسی ہی نکلی۔“

کہنا پڑے گا ہرکیرت یہ سفر آپ کے لیے محبتیں سمیٹنے اور اپنے جیسے ہی لوگوں سے ملنے کا خوبصورت بہانہ تھا اور ہمیں بھی اپنے قبیلے کی ایک پیاری اور مثبت سوچ رکھنے والی لکھاری سے ملنا نصیب ہوا۔ بہت دعائیں۔

Facebook Comments HS