ہمارا پاکستان: ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو


ستر کی دہائی میں عوامی تحریک کے دوران ”طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں“ ، کا نعرہ ایوب کابینہ سے فراغت کے بعد مرحوم بھٹو نے لگایا۔ اس زمانے میں بھی قوم کی قسمت کا فیصلہ چند مخصوص قوتوں کے ہاتھ میں تھا۔ یہی احساس محرومی ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کا موجب بنا۔ بھٹو دور میں ”عوام طاقت کا سر چشمہ“ نہ بن سکے اور پھر یہ نعرہ بھولی بسری داستان بن گیا۔ اب کئی عشروں بعد ”ہمارا پاکستان“ کی صورت میں دوبارہ سننے کو ملا، جمہوریت کا پہلا اصول یہ ہے کہ اصل طاقت عوام کی ہے جو ہمارے حکمرانوں کو منتقل ہوتی ہے ’لیکن ہمارے راہنما اس طاقت کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت لڑائی اس بات کی ہے کہ سب سے برتر کون ہے؟

چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے قومی سلا متی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس میں واشگاف الفاظ میں کہا کہ آئین کے تحت اختیار پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہو گا گویا آرمی چیف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ عوام ہی اصل طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ ہمیں نئے اور پرانے پاکستان کی بحث کو چھوڑ کر ”ہمارا پاکستان“ کی بات کرنی چاہیے۔ عوام کے منتخب نمائندے منزل کا تعین کریں ’پاک فوج پاکستان کی ترقی اور کامیابی کے سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دے گی۔

اگر آرمی چیف کے خطاب کا نچوڑ نکالا جائے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی چھوڑ کر عوام کا سوچنا ہو گا اور نئے اور پرانے پاکستان کی تکرار سے نکل کر سیاست کرنا ہوگی۔ آرمی چیف کا پارلیمنٹ میں آنا اور خطاب کرنا یقینی طور پر اس بات کا اظہار ہے کہ وہ جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر سیاسی قوت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے سیاستدان باہم ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔

جنرل عاصم منیر نے کہا کہ اختیارات کا مرکز پاکستان کے عوام ہیں، آئین پاکستان اور پارلیمنٹ عوام کی رائے کا مظہر ہیں، عوام اپنی رائے آئین اور پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے ہی آئین کو اختیار ملا ہے۔ اس حقیقت سے ان کا ر نہیں کیا جا سکتا کہ ایسی کوئی افتاد یا حالات نہیں تھے کہ پنجاب اور کے پی کے، کی اسمبلیوں کو توڑ کر نیا عوامی مینڈیٹ لیا جاتا، صاف نظر آتا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین نے موجودہ حکومت کے خلاف اسے اپنے سیا سی حربے کے طور پر استعمال کیا، سابق وزیر اعلیٰ پر ویز الہی کی فواد چودھری کی گرفتاری پر تبصرہ کی جو آڈیو اور ویڈیو لیک ہوئی وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ خود سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پر ویز الہی اسمبلی توڑنے کو تیار نہیں تھے۔ لیکن اس امر کا کسی ادارے یا قوت نے کوئی نو ٹس نہیں لیا کہ صوبائی اسمبلیاں کیوں تحلیل کی جا رہی ہیں کیا انہیں تحلیل کرنے کا کوئی جو از ہے کہ عوام کے پانچ سالہ مینڈیٹ کو ایک خواہش پر اکھاڑ پھینکا جائے، بلکہ ہر طرف سے انتخابات انتخابات کا دباؤ بڑھا یا جا رہا ہے۔

عسکری قیادت کا پارلیمنٹ کی بالادستی کی آئینی پوزیشن کو پوری کشادہ دلی کے ساتھ قبول کیے جانے کا خوش آئند پیغام ہے جس پر عمل ہوا تو ان شاء اللہ پاکستان جلد ہی مستحکم اور ترقی یافتہ جمہوری ملکوں کی صف میں ممتاز مقام حاصل کرسکے گا۔ پون صدی پر محیط قومی تاریخ میں اس حقیقت کو عملاً قبول نہ کیے جانے ہی کی وجہ سے انتخابی عمل سے لے کر حکومتوں کی تشکیل اور پارلیمنٹ میں پالیسی سازی تک سب کچھ غیرجمہوری عناصر کی جارحانہ مداخلت کا شکار رہا، سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں اس وقت طبل جنگ بج رہا ہے، ملک کے دو بڑے ادارے آمنے سامنے ہیں۔ ساری لڑائی پنجاب الیکشن کے حوالے سے ہے ’پھر یہ کشیدگی صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عدلیہ بھی اس کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے اندر تقسیم کو دیکھ کر سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلی کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال اور قاضی فائز عیسی میں جھگڑا ہوا ہے۔

ہم سب اگر پاکستانی بن کر سوچیں تو شاید تیرا پاکستان اور میرا پاکستان کی بحث سے نکل آئیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آئین ہی تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ آئین کی تشریحات بھی من مانے انداز میں کی جا رہی ہیں جس آئین کی بنیاد پر پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ کھڑا ہے اسے ہی اگر متنازعہ بنا دیا جائے گا تو پاکستان کہاں کھڑا ہو گا؟ جس ملک میں متعدد بار مارشل لاء آ چکا ہو، اس میں یہ بحث تو ہو گی کہ یہ کس کا پاکستان ہے، ؟ فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران پھبتی کسی کہ ہمارا پاکستان ایک خوبصورت اصطلاح ہے مگر اس کی وضاحت کون کرے گا کہ ”ہمارا“ سے مراد کون سا علاقہ ہے۔

پاکستان میں ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ یعنی طاقت کے زور پر فیصلے ہوتے ہیں اور جمہور کی آواز کو دبایا جاتا ہے، جمہور اگر بولے تو اس پر ریاستی جبر کے ذریعے ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ سوالات تو اور بھی ہیں کہ کیا پاکستان میں عوام و خواص کے لئے یکساں قانون رائج ہے۔ کیا سب کو یکساں بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ کیا غریب کے لئے علیحدہ اور امیر کے لئے علیحدہ قانون نہیں۔ کیا عدالتوں میں کمزور کو بھی اسی سرعت سے انصاف ملتا ہے جس تیزی سے طاقتور کے حصے میں آتا ہے۔

کیا کچی آبادیوں اور پوش علاقوں میں رہنے والوں کو ایک نظر سے دیکھا جاتا ہے؟ تفریق اور تقسیم اتنی گہری ہے کہ اندھے کو بھی یہاں دو پاکستان نظر آتے ہیں۔ ایک طرف 90 فیصد عوام ہیں جو اصل مالک ہیں، لیکن صرف ووٹ دینے کی حد تک، ان کے نمائندے بھی ان کی کلاس سے تعلق نہیں رکھتے اور ان کے لئے قانون بھی وہ نہیں ہوتا جو انہیں خوفزدہ کرنے کی بجائے تحفظ فراہم کرے۔ جس ملک میں ابھی تک یہ بحث جاری ہے کہ عدلیہ سپریم ہے یا پارلیمنٹ، فوج طاقتور ہے یا مقننہ۔ وہاں قانون کی حکمرانی کہاں قائم ہو سکتی ہے؟ اس ملک میں مارشل لاؤں کی حکمرانی رہی کبھی حقیقی مارشل لاء آیا تو کبھی جمہوری مارشل لاء اور کبھی جوڈیشل مارشل لاء اسی لیے ہمارا پاکستان بحرانوں کی زد میں رہا، منیر نیازی کے بقول

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں جو دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

”ہمارا پاکستان“ کی اصطلاح اسی وقت عملی شکل اختیار کرے گی، جب آئین کے تحت تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہنے کا نہ صرف عہد کریں گے بلکہ اس پر پورا بھی اتریں گے۔ ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی عادت بد کو خیر باد کہہ دیں گے اور یہ سمجھنا بھی چھوڑ دیں گے کہ وہ ملک کے لیے ناگزیر ہیں اور ملک ان کی وجہ سے چل رہا ہے۔ پاکستان آئین اور ان کے چوبیس کروڑ عوام کی وجہ سے قائم و دائم ہے اور ہمیشہ رہے گا، جب انہیں احساس ہو جائے گا کہ وہ اس ملک میں دوسرے درجے کے شہری نہیں بلکہ انہیں بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو اشرافیہ اور مقتدر لوگوں کو حاصل ہیں۔

جب انہیں یہ یقین ہو جائے گا کہ کوئی طاقتور ان کی خوشیوں کو پامال نہیں کر سکتا۔ قانون کی نظر میں جب ایک مزارعے اور وڈیرے کی اہمیت برابر ہو جائے گی تو یہ نعرہ عملی شکل اختیار کرے گا، جہاں عوام کو آٹے کے ایک بیگ کے لئے صبح سے شام تک قطار میں کھڑا ہونا پڑے۔ اور ریاست یہ بھول جائے کہ بچوں کا بھوکے سونا ان کی ناکامی ہے، جہاں قانون کسی بے کس و لاچار کی مدد کرنے سے صرف اس لئے رک جائے کہ اس کے مقابل ایک طاقتور آدمی موجود ہے، تو وہاں محرومیاں ہی جنم لیتی ہیں، اس تقسیم کو ختم کریں گے تو یہ دیس ”ہمارا پاکستان“ بن سکتا ہے۔

Facebook Comments HS