ڈائجسٹ کہانی۔ عروج و زوال۔ 6


1970 میں آغاز ہونے والا عالمی ڈائجسٹ سات سال بعد شہرت اور مقبولیت کے نصف النہار پر تھا اور 1980 میں داستان ماضی ہو گیا۔ صرف ایک سال بعد شروع ہونے والے ”سب رنگ، جاسوسی اور سسپنس ڈائجسٹ“ نہ صرف یہ کہ بہت کم وقت میں عالمی کو بہت پیچھے چھوڑ گئے بلکہ ان کی اشاعت دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی رہی۔ دنیا کی ایک بہت بڑی حقیقت وہ شعر ہے ”وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا“

عالمی ڈائجسٹ اس لیے ختم ہوا کہ اس کے مالک و منتظم کاروباری ذہن نہیں رکھتے تھے۔ جب دیگر طاقتور حریف سامنے آئے خصوصاً سب رنگ، جاسوسی، سسپنس اور الف لیلہ ڈائجسٹ، تو عالمی کو مقابلے کے لئے حالات کے مطابق نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت تھی۔ اس کے مالک عباس صاحب اس پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ میں کچھ معاشیات پڑھا ہوا تھا۔ ان کو کہا کہ اب عالمی کو پبلسٹی کی ضرورت ہے تو انہوں نے ایک جملہ کہا جو وہ ہمیشہ دہراتے رہے کہ ”میاں عالمی ڈائجسٹ کا قاری عالمی کا ہی رہے گا۔ کسی کو قائل کرنے کی ضرورت نہیں“ ۔ اس وقت سب رنگ کے بڑے بڑے بل بورڈ لگائے جا رہے تھے

میں نے کہا ”حضور۔ جو عالمی کے قاری فوت ہوں گے کیا ان کی جگہ نئے قاری لانے کی ضرورت نہیں؟ اور بفرض محال ہمارے قارئین کی تعداد میں کمی نہ ہو تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہم خسارے میں جا رہے ہیں کیونکہ افراط زر کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے“ مگر یہ باتیں نہ وہ سمجھتے تھے نہ سمجھنا چاہتے تھے۔

جون ایلیا صرف اچھی شاعری کر سکتے تھے۔ نہ وہ اچھے شوہر تھے نہ اچھے باپ اور نہ اچھے انسان تو اچھے کاروباری کیسے ہو سکتے تھے۔ یہ بات میں 1970 سے ان کے انتقال تک ساتھ رہنے کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔

لیکن ہم عام انسانی معیار پر کردار کا فیصلہ کریں تو شاید غالب کے لیے بھی یہی کہنا پڑے گا۔ کسی بھی جینئس کے کردار کو اخلاقیات کے عام معیار پر دیکھا جائے تو وہ بد ترین اور جہنمی ہی قرار دیا جائے گا مثلاً صادقین وہ مصور ہے جو عالمی سطح پر ہمارے لیے وجہ افتخار ہے۔ اس کو فرانس نے عزت دی اور لیٹن کوارٹرز میں جگہ دی۔ انڈیا میں اس کو ہاتھیوں کے جلوس میں لے جایا گیا۔ اس نے جو قرآن کی خطاطی کی وہ معجزاتی تھی۔ جو 69 فٹ لمبے اور 23 فٹ چوڑے میورل پی آئی اے اور واپڈا کے لئے بنائے وہ ایک جناتی کام تھا۔ اس نے ایک قرآنی آیت ”اور تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے“ ۔ 32 طرح لکھی لاہور میوزیم کے تیس فٹ اونچے گنبد کے اندر وہی آیت لکھی تو بائیس دن چھت سے الٹا لٹکا رہا۔ لیکن اس تمام عمل کے دوران وہ عادت کے مطابق شراب کے نشے میں دھت رہا۔ جہنمی۔ آج وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں بہزاد لکھنوی کے عالی شان مزار کے ساتھ ہی ایک عام قبر میں لیٹا ہے۔ وہی بہزاد لکھنوی جو رئیس امروہوی کے دوست تھے اور ”حکیم بڈھن“ کے نام سے اپنی جوانی کی بے اعتدالی کے قصے عالمی ڈائجسٹ کے لئے لکھا کرتے تھے اور جو لکھتے تھے اس سے کہیں زیادہ شباب آور واقعات مجھے سامنے بیٹھ کے سناتے تھے۔ ایک قصہ ”کالو بھنگن“ کا شایع ہوا تھا جس کا خاکہ شاید میں دکھا سکوں۔

معذرت کہ میں پٹری سے اتر گیا۔ لیکن ایسا شاید آئندہ بھی ہو گا۔ غالب نے کہا تھا۔ جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا؛۔ اپنا دماغ وہ نہیں رہا۔ یادوں کی یلغار ہے اور ہر یاد متقاضی ہے کہ پہلے میں

بات تھی عالمی کے زوال کی۔ عباس صاحب اور جون کا صرف نام تھا لیکن ”عالمی ڈائجسٹ“ نام تھا صرف زاہدہ حنا کا۔ اس کا جون کو چھوڑ دینا بالکل صحیح مگر دیر سے کیا جانے والا فیصلہ تھا لیکن باعث تاخیر بھی وہ بچے تھے جن کو جنم دینے کے بعد زندگی میں کسی قابل بنانا زاہدہ کی ذمے داری بن گئی تھی۔ اس نے یہ ذمے داری کس خوبی اور خوش اسلوبی سے نبھائی یہ اسی کا حوصلہ اور کمال تھا جس کا مشاہدہ میں نے اپنی آنکھوں سے کیا تھا۔ زاہدہ ایک کتاب ہے جو میں لکھ سکتا تھا لیکن مجھے اپنے کاموں سے ہی فرصت نہ ملی حالانکہ چند سال قبل ایک بار وہ فاطمہ حسن کے ساتھ اسلام آباد ادبی میلے میں آئی ہوئی تھی اور اکادمی ادبیات میں مقیم تھی تو میں اسے بارہا لاتا لے جاتا رہا تھا۔ تب اس نے خود مجھ سے کہا تھا کہ اقبال میری سوانح لکھو جو تم ہی لکھ سکتے ہو۔ لیکن میں نے معذرت کرلی کیونکہ اس میں جون ایلیا کا ذکر بھی ہوتا اور میں سب سچ لکھتا تو زہر کا پیالہ بھی مجھے ہی اٹھانا پڑتا۔ لیکن میں لکھوں گا۔

خواتین میں جس عظمت کا حامل شاعر ادیب صحافی میں فہمیدہ ریاض کو سمجھتا ہوں اتنا ہی بڑا ادیب افسانہ نگار اور با کردار صحافی میں زاہدہ حنا کو سمجھتا ہوں۔ اس کا ایک ناولٹ ”نہ جنوں رہا نہ پری رہی“ کسی طور قرۃالعین حیدر کے کسی ناولٹ سے کم نہیں اور افغان بحران پر اس کا شہکار افسانہ ”مریم اب آرام سے ہے“ منشا یاد کے افسانے ”ایک فوٹو سٹیٹ وصیت نامہ“ کا ہم پلہ ہے

تو ”عالمی ڈائجسٹ“ کے زوال اور غروب کی دوسری وجہ زاہدہ کی کم ہوتی دلچسپی تھی جو بالکل قدرتی بات تھی۔ علامہ کی زبان میں کہوں تو ”شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور“ جدید زبان میں کہوں تو وہ سپر سانک جیٹ تھی اور بیوی بن کر ہیلی کو پٹر بن گئی تھی۔ وہ ڈائجسٹ کی دنیا میں محدود رہنے والی مخلوق تھی ہی نہیں۔ جون ایلیا کی قید شریعت سے نجات کے بعد اس کی ذہنی پرواز کا لا محدود افق کھلا۔

گلشن منتقل ہوئی تو زاہدہ کے ساتھ اس کی ضعیف والدہ۔ جوان بیمار بہن اور ایک بھائی بھی تھے۔ بہن کو میں کافی عرصہ پاکستان چوک کے ایک ڈاکٹر کے پاس لے جاتا رہا۔ جب اس کیلے مرحوم اقبال کاظمی کا رشتہ آیا تو زاہدہ کی والدہ اس کے ”پنجابی“ ہونے پر متفکر تھیں۔ میں نے انہیں مطمئن کیا کہ شریف آدمی اور کامیاب لکھاری ہے اپنا گھر ہے اللہ کا نام لے کر ہاں کردو۔ اس کا انتقال ابو الحسن اصفہانی روڈ کے فلیٹ میں شوہر سے پہلے ہوا تو زاہدہ وہاں موجود تھی۔

مجھے یاد ہے جب جون ایلیا مجبوراً گلشن گئے تو پہلے دن میں نے انہیں چھت پر گھٹنوں پر سر رکھے اداس دیکھا۔ گھر میں بجلی کا کنکشن نہیں تھا جو اگلے دن مل گیا۔ میں نے اداسی کا سبب پوچھا تو آہ بھری ”میاں ایک زندگی میں دو بار مہاجر جو ہوا ہوں“ ۔ وہ ریوالی سینما کا فلیٹ چھوڑ کر آئے تھے تو ان کا حلقہ احباب میلوں دور پرانے شہر میں رہ گیا تھا جہاں ان کی رسائی نہ تھی۔ نیا آباد ہونے والا گلشن ایک نیا شہر تھا۔ یونیورسٹی روڈ پر لائٹ تک نہ تھی۔ آبادی صرف بلاک ایک اور دو میں تھی۔ شراب کچھ نہ کچھ مل ہی جاتی تھی لیکن بقول غالب۔ ”اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے“ تو جون اس کے لیے سکون آور دوا ویلیم استعمال کرتے تھے۔ یہ ڈاکٹری نسخے پر محدود استعمال کی دوا مقدار سے زیادہ لینے پر خطرناک بلکہ مہلک بھی ثابت ہوتی ہے۔ جون میرے سامنے ہتھیلی پر گولیاں انڈیل کر نگل جاتے تھے اور ان کو چنے کہتے تھے۔ میں نے زاہدہ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ ایسا نہ ہو کسی رات سوئیں تو روز قیامت اٹھیں۔ وہ بے بسی سے بولی کہ وہ میرے روکنے سے رک جائیں گے؟ مجھے تو پتا بھی نہیں چلتا۔

جون کی تعلیمی قابلیت کم نہ تھی، وہ ایم اے پاس تھے، عربی فارسی کے ماہر تھے اور غالباً عبرانی بھی جانتے تھے گویا ماہر لسانیات بھی تھے لیکن انہوں نے ایک کتاب ”منصور بن حلاج“ لکھنے کے علاوہ صرف شاعری کی۔ ایک زمانے میں ان کو ”اردو ڈکشنری بورڈ“ کا مدیر معاون بنا دیا گیا تھا۔ اس کا دفتر نارتھ ناظم آباد کی ایک کوٹھی میں تھا۔ مدیر تھے ایک روایتی بزرگ نسیم امروہوی جو شیروانی کے ساتھ پھندنے والی ترک ٹوپی پہنتے تھے۔ میں کبھی جان کے ساتھ گیا تو دیکھا وہ بالائی منزل پر وسیع میز کے پیچھے تشریف فرما ہیں اور حقے کے کش لے رہے ہیں۔ اس حقے کی نے ایک ربر پائپ تھا جو نچلی منزل پر پہنچتا تھا جہاں حقے کے دیگر اجزائے ترکیبی ہوں گے۔ اس کی دانش آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی تو سمجھاؤں کیسے۔ جون بہت کم عرصہ وہاں رہے۔

لیکن گلشن جا کے زاہدہ نے اپنی زندگی کی کمان اپنے ہاتھ میں لی اور آج کی زاہدہ حنا بنی۔ اس کے گھر پر 1974 میں ایک شام افسانہ منعقد ہوئی جس میں انڈیا سے آنے والی عصمت چغتائی بھی شریک ہوئیں۔ یہ میری زندگی میں سب سے بڑا اعزاز تھا کہ ان کو ڈی ایچ اے سے گلشن لانے کی ذمے داری مجھے دی گی۔ میں ان کی رہائش گاہ کے باہر ایک گھنٹہ سے زائد انتظار کرتا رہا۔ موبائل فون تھے نہیں کہ میں وجہ تاخیر بتا سکتا۔ سب کو تشویش رہی کہ شاید میں نے اپنی پرانی فاکس ویگن کہیں ٹکرا دی۔ بالآخر وہ سفید ساری میں ملبوس سگرٹ پیتی بر آمد ہوئیں۔ میں نے ادب سے سلام کر کے پچھلا دروازہ کھولا اور وہ کوئی بات کیے بنا بیٹھ گئیں۔ سارا راستہ میں ان سے کوئی بات کرنے کے لیے حوصلہ مجتمع کرتا رہا لیکن یہ خیال دامن گیر رہا کہ وہ کہیں گی کیا احمقانہ بات ہے۔ ان کے نام کی دہشت ہی ایسی تھی۔ اس محفل میں زاہدہ حنا اور ذکا الرحمان نے تو افسانے پڑھے۔ زاہدہ نے مجھے بھی پڑھوا دیا ورنہ میں تو ویٹر کی طرح چائے سگرٹ پیش کر کے بھی خوش تھا۔

گلشن سے ہی زاہدہ نے انڈیا کا رخت سفر باندھا۔ وہ کمال امروہوی کی بیٹی کی شادی میں شریک ہوئی جو جون ایلیا کے کزن تھے۔ پھر دہلی گئی جہاں وہ ادریس دہلوی مالک و مدیر ’شمع‘ کی مہمان رہی اور سنا کہ ان کے ساتھ کہیں آتے جاتے سکوٹر کے حادثے میں معمولی مجروح ہوئی تو کافی دن صاحب فراش رہی۔ پھر اپنے آبائی وطن سہسرام گئی اور صحیح یاد نہیں لیکن شاید دو ماہ بعد لوٹی۔ اس دوران بھائی جون ایلیا ہی پرورش اطفال کرتے رہے جس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کیسی کی ہوگی۔ پھر وہ خود انڈیا کے دورے پر امروہہ۔ لکھنو دہلی وغیرہ چلے گئے اور ان کے اعزاز میں ایک مشاعرہ جالندھر امرتسر ٹی وی سے نشر ہوا جو لاہور والوں نے بہتر سگنل کی خاطر لمبے بانسوں پر سلور کے لوٹے پرات وغیرہ لٹکا کے دیکھا۔ جی۔ ایسا ہی دور تھا وہ۔ ڈش تو میں نے بھی 1993 میں لگائی تھی۔

اس تمام عرصے میں ”عالمی ڈائجسٹ“ کی نگہداشت یہ خاکسار ہی کرتا رہا لیکن مجموعی طور پر وہ کس مپرسی کا شکار ہوا۔ عباس صاحب میں ایسی انتظامی صلاحیت ہی نہیں تھی کہ وہ گرتی اشاعت کو سنبھال سکتے۔ عملے کے دیگر ارکان محض ملازم تھے۔ ان کی عدم دلچسپی فطری تھی۔ مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا۔ انجام وہی ہوا جو ناگزیر تھا۔ عالمی دم توڑ گیا۔ اس کے احیا کی ایک کوشش 1981 میں ناکام رہی۔

میں نے قلم سے بقا کی جنگ جاری رکھی۔ درمیانی حالات کی سختی کا کیا بتاؤں۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ میری چھ ہاتھ لمبی ’اوپل ریکارڈ‘ جو میں نے 19000 میں لی تھی ایک کباڑی 2600 میں گدھا گاڑی سے باندھ کر لے گیا کیونکہ کھڑے کھڑے وہ چلنا بھول گئی تھی، میں نے ہمت نہیں ہاری۔ ’الف لیلہ‘ ۔ داستان۔ عوامی۔ سورج، عمران، سب میں کہانیاں لے کر گیا۔ نام غیر معروف نہیں رہا تھا لیکن آمدنی برائے نام رہ گئی، کہیں کہانی چھپی تو کچھ پیسے مل گئے

اس دور ابتلا میں مرحوم جمیل صاحب فرشتہ غیب کی طرح نمودار ہوئے۔ یہ آپ پڑھ چکے ہیں

Facebook Comments HS

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal