پاکستان میں جذام کے خلاف نبرد آزما جرمن ڈاکٹر کرس شمیٹزر
ڈاکٹری کے امتحانات سے فارغ ہونے کے بعد ، جرمنی سے ایتھوپیا اور پھر وہاں سے پاکستان۔ ڈاکٹر کرس شمیٹزر کا راولپنڈی میں جذام کے مریضوں کے ساتھ کام کرتے کرتے زندگی کی تین سے زائد دہائیاں گزار دینا شاید ایک الوہی مشن ہی ٹھہرا ورنہ کون غیر نسل اور غیر مذہب لوگوں کے لئے زندگی برباد کرتا ہے۔
کہاں نکھرا نکھرا مہذب جرمنی اور کہاں راولپنڈی کا ایک دھول میں اٹا گنجان آباد محلہ امر پورہ۔ مگر یسوع مسیح کی خوشنودی اور انسانیت کے لئے ایک قاتل سمجھے جانے والے مگر درحقیقت قابل علاج مرض کی مسیحائی کی دھن نے 1988 سے آج تک ڈاکٹر شمیٹزر کو نہ پاکستان سے جانے دیا اور نا ہی تھکنے دیا۔
پاکستان میں جس ہسپتال سے ڈاکٹر شمیٹزر پچھلے 35 سالوں سے منسلک ہیں وہ 1876 سے پنجاب، شمال مغربی سرحد، کشمیر اور ملحقہ علاقوں سے آنے والے جذام کی مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
ڈاکٹر شمیٹزر کو جرمن ڈاکٹروں کے ایک رضاکار گروہ نے پاکستان آنے کی دعوت دی تھی جو اسی کی دہائی سے بھی پہلے سے پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لئے کام کر رہے تھے۔ اسی سلسلے میں ڈاکٹر روتھ فاؤ ایک بہت قابل قدر نام ہیں جن کی پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لئے گرانقدر خدمات بھلائی نہیں جا سکتیں اور جن کا انتقال 2017 میں کراچی میں ہوا۔
جب ڈاکٹر شمیٹزر راولپنڈی آئیں تو یہ ہسپتال 70 کنال پہ پھیلے ایک وسیع و عریض رقبے پر بنایا گیا تھا جسے آزادی سے قبل ”شانتینواس“ کے نام سے ریکارڈ کیا گیا اور اسی نام کی ایک تختی آج بھی مین دروازے کے بائیں جانب ایک خودرو بیل کے پیچھے چھپی ہوئی ہے۔ اس شانتی نواس کو زیادہ تر لوگ ماضی قریب تک دبے لفظوں میں، کچھ خوف اور کچھ حقارت سے کوڑھی احاطہ کہتے تھے۔ یہی کوڑھی احاطہ تین دہائیوں سے ڈاکٹر شمیٹزر کا گھر ہے۔
ڈاکٹر شمیٹزر کا ماننا تھا کہ کیونکہ جرمنی میں بہت سے ڈاکٹر تھے اور صحت کی بہت بہتر سہولیات عوام کو میسر تھیں سو وہ دنیا کے کسی ایسے حصے میں کام کرنا چاہتی تھیں جہاں لوگوں کو واقعی ان کے کام سے فائدہ ہو۔
جذام کو دنیا بھر میں اور ماضی قریب تک پاکستان جیسے کم ترقی یافتہ ممالک میں خوف کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور اس کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں عام تھیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ 1950 سے پہلے آنٹی بائیوٹک ادویات ایجاد نہیں ہوئیں تھیں اور بیکٹیریا سے پھیلنے والے تمام امراض جیسا کہ جذام کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایک ہی طریقہ تھا کہ مریض کو صحت مند انسانوں سے دور کر دیا جائے۔
یہ مرض ایک جرثومے سے پھیلتا ہے جو اپنی ہیئت میں ٹی بی کے جرثومے سے بہت مماثلت رکھتا ہے مگر جہاں ٹی بی کا جرثومہ مریض کے پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے وہاں جذام کا جرثومہ مریض کی جلد اور اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر جذام کے مرض کی تشخیص اور علاج بروقت نا ہو تو وہ مریضوں میں معذوری کا سبب بن سکتا ہے اور لوگ اسی بات سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ جدید سائنسی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ ایسے نوے فیصد لوگ جن میں جذام کا جرثومہ داخل بھی ہو جائے کبھی اس مرض کا شکار نہیں ہوں گے ۔ اس کے مقابلے میں ٹی بی کا جرثومہ کئی گنا زیادہ خطرناک ہے اور پاکستان میں اس ٹی بی کے مرض کا پھیلاؤ جذام کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
پاکستان میں آج جذام کے مرض کا پھیلاؤ ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہو چکا ہے اور یہ پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ جب ڈاکٹر شمیٹزر پینتیس سال پہلے پاکستان آئیں تھیں تو پاکستان میں ہر سال جذام کے تقریباً پندرہ سو سے دو ہزار نئے مریض تشخیص ہوتے تھے۔ اب یہ تعداد کم ہو کر سالانہ تین سو نئے کیسز تک جا پہنچی ہے۔
جذام سے بچاؤ کے لئے کوئی ویکسینیشن دستیاب نہیں اور نہ ہی اس سے بچاؤ کے لئے کچھ خاص اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔ ”مجھے بہت برا لگتا ہے جب آج بھی کوئی اس مرض کو کوڑھ کہتا ہے۔ مجھے ایک وقت لگا لوگوں کو سمجھانے میں کہ اس مرض کے لئے جذام کا لفظ استعمال کریں اور یہ جان لیں کہ یہ ایک محض ایک جلدی بیماری ہے اور سو فیصد قابل علاج ہے بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص ہو جائے اور اس کا مناسب علاج کیا جائے۔ پہلے زمانوں میں اسے موت کا پروانہ سمجھا جاتا تھا اور اس کا کوئی معلوم علاج بھی نہیں تھا مگر اب یہ مکمل طور پر قابل علاج ہے اور صرف اس صورت میں ہی مریض کے اعضاء یا پھر جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اگر ان کا مناسب اور بروقت علاج نہ ہو پائے۔
یہ ایک متعدی مرض ہے مگر اس کے ایک بیمار شخص سے دوسرے تک پھیلنے کی شرح بہت کم ہے۔ اتنے سالوں میں کوئی ایک مریض بھی ایسا نہیں دیکھا جس نے اس مرض کو اپنے اہل خانہ میں سے کسی کو دے دیا ہو۔ اگر یہ اتنا زیادہ متعدی ہوتا جیسا اسے کئی دہائیوں پہلے سمجھا جاتا تھا تو یہ سب سے پہلے شاید مجھے ہی ہوجاتا کیونکہ میں تو کئی سال سے جذام کے مریضوں کے درمیان رہ رہی ہوں“ ڈاکٹر شمیٹزر مسکرا کر بتاتی ہیں۔
آج امر پورہ میں واقع یہ ہسپتال جذام کے ایک ریفرل ہسپتال کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ ٹی بی، آنکھوں اور جلد کے دیگر امراض کے علاج کی لئے بھی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس علاقے میں اگر آپ کسی سے اس ہسپتال کا پتا پوچھیں تو بہت سے لوگ آج بھی اسے کوڑھی احاطہ کے نام سے ہی جانیں گے۔ انسان اپنے علم سے بہت سے قدرتی امراض پہ تو مستقبل قریب میں قابو پالے لیکن رویوں کی تبدیلی کے لئے شاید ایک طویل مدت درکار ہے۔


