فلسطینیوں کا المیہ


فلسطین دنیا کا ایک چھوٹا ریجن جس کا مشرق وسطٰی کے قدیم اور جدید دور میں نہایت اہم رول رہا ہے۔ جس میں پرتشدد سیاسی اور غاصبانہ قبضہ وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ جغرافیائی طور پر ایشیاء اور افریقہ کے سنگم پر واقع ہے۔ جدید دور کے عرب میں اسے فلسطینیوں کا گوارا کہنا حق بجانب ہو گا۔ یہ ریجن بحیرہ قلزم اور اردن کے دریا کے درمیان کا علاقہ ہے۔ فلسطین کا لفظ یونانی زبان کے لفظ فیلیسٹیا سے ماخوذ ہے جو ان کی قدیم یونانی تحریروں کا حصہ بارہویں صدی سے رائج تھا۔

ان کے مطابق بارہویں قبل مسیح سے یہاں فلسطینی آباد ہیں۔ جن پر مختلف اقوام نے اپنا تسلط قائم رکھا جن میں اسیریئن، بابلونی، پر شیئن، یونانی، رومنز، عرب، فاطمید، سلجوک ترک، کر وسیڈرز، مصری اور مملوک وغیرہ شامل ہیں۔ سب سے آخر یہاں 1517 تا 1917 ءاس علاقے پر خلافت عثمانیہ کا عہد رہا۔ جب پہلی جنگ عظیم 1918 ء کا خاتمہ ہوا تو نیشن لیگ نے برطانیہ کو اس علاقے کا کنٹرول دیتے ہوئے اسے 1923 ء میں یہاں یہودیوں کو آباد کرنے کی اجازت دے دی۔

اور پھر اس خطے میں یہودیوں کو باہر سے جوک در جوک لا کر آباد کرنا شروع کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کو بھرپور استحکام مہیا کیا گیا تا کہ وہ اس خطے میں با آسانی آباد ہو سکیں۔ 1947 ء میں اقوام متحدہ نے برطانیہ کے بیس سالہ دور کو ایک قرار داد کے ذریعے ختم کرتے ہوئے اسے دو ریاستوں اسرائیل اور فلسطین میں تقسیم کر دیا اور بیت المقدس کو خصوصی بین الاقوامی سٹیٹس دے دیا گیا۔ اس منصوبے کو یہودی قیادت نے قبول کیا جب کہ فلسطینی اور عرب قیادت اس سے متفق نہ ہوئی۔ ان کے نزدیک جہاں فلسطینیوں کی آبادی کی تعداد زیادہ ہے اسے فلسطینیوں کا علاقہ قرار دیا جائے۔ ایک سال کے قلیل عرصے مئی 1948 ء میں دو الگ ریاستوں اسرائیل اور فلسطین کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جب کہ برطانیہ ان علاقوں سے رخصت ہو گیا۔

جدید دور میں 1948 ء سے سرزمیں فلسطین میں ان کے خلاف صیہونیت پرتشدد دور کا نہ ختم ہونے والا ایک نیا دور شروع ہو گیا۔ 1964 ء میں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل او) نے جنم لیا جو صیہونیت کا قلع قمع کرنے پر تل گئی لیکن 1993 ء اوسلو میں ایک معاہدے کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی جدوجہد کو پرامن راستے پر ڈال دیا۔ چھ روزہ جنگ عرب اور اسرائیل 1967 ء میں چھڑ گئی جس میں عربوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے کئی علاقوں اسرائیل کے زیر تسلط آ گئے۔

جب کہ اسرائیل نے غاصبانہ طور پر فلسطینی زمین پر باہر سے لائے یہودی بسانا شروع کیے تو فلسطینیوں نے اپنے پہلے انتیفادہ کا آغاز 1987 ء میں شروع کیا۔ اور پھر دونوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں جس میں دونوں اطراف کا کافی جانی و مالی نقصان ہوا۔ یہ سلسلہ اقوام متحدہ کی کوششوں کے لئے کچھ عرصہ کے لئے سرد پڑ گیا لیکن دوبارہ 2000 ء میں دوسرے انتیفادہ کا آغاز ہو گیا اور اسی کے ساتھ پرتشدد کاروائیوں کا آغاز بھی شروع ہوا۔

2014 ء میں حماس نے فلسطین کے الیکشن جیت لئے اور بد قسمتی سے ان کے اور پی ایل او کے سیاسی گروپ الفتح میں جنگ چھڑ گئی جس میں دونوں اطراف کا کافی نقصان ہوا۔ بعد میں ایک سمجھوتے کے دونوں اقتدار میں شریک ہوئے۔ لیکن آپس کی جنگ نے ان کی طاقت کو کافی نقصان پہنچایا اور اسرائیل کے مقابلے میں یہ کمزور پڑتے چلے گئے۔ جب کہ سفارتی محاذ پر بھی عربوں کی انہیں وہ طاقت میسر نہ رہی جو اس سے قبل تھی۔ جس کا نتیجہ اسرائیلی ظلم و بربریت فلسطینیوں کے خلاف شروع ہو گئی اور تا حال جاری ہے۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں اور اب اگر یہ گاجر مولی کی طرح کٹتے ہیں تو دنیا کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

اپنے علاقوں میں فلسطینی دوسرے درجے کے شہری بن گئے ہیں ان کی عزت و ناموس محفوظ نہیں رہی، بچوں کو والدین کے سامنے شہید کر دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کا اس ماہ رمضان المبارک میں مسجد بیت المقدس میں ناطقہ بند کر دیا گیا۔ ظلم و بربریت کا بازار گرم کر دیا گیا میڈیا پر رپورٹس پیش کی جا رہی ہیں ان کے نمائندوں کو شہید کر دیا جاتا ہے لیکن دنیا بے حس خاموش تماشائی بنے بیٹھی ہے۔ خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے نہ تو مسلمان حکمران اور نہ ہی اقوام متحدہ اس ضمن میں اپنا کردار نبھا رہے ہیں۔ فلسطین کا تابناک مستقبل کچھ نظر نہیں آ رہا۔ عرب اب اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو استوار کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ ہر ایک ان پر سیاست کر رہا ہے۔ جدید دور میں ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ آج کی دنیا میں یہ ماننا پڑ رہا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

 

Facebook Comments HS