کیا صرف سیاستدان چور ہے؟


ویسے ہمارے ملک میں سب سے آسان کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے اور سب سے مشکل کام اپنی اصلاح کرنی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو اپنے اور اپنے گھر والوں کے علاوہ سب ہی دو نمبر لگتے ہیں۔ ہماری خاص بات یہ ہے کہ اگر ہم کوئی غلط کام کریں تو ہم ٹھیک ہوں گے لیکن اگر کوئی دوسرا وہی کام کریں تو وہ گناہ گار اور بے ایمان ہو گا۔ گویا ہم اپنی غلطیوں کے وکیل اور دوسرے کی غلطیوں کے جج ہیں۔

پاکستان میں دوسرے کو برا کہنا عام مشغلہ ہے لیکن سب سے زیادہ آسان کام ہے سیاستدانوں کو چور اور بے ایمان کہنا۔ ایک اندازے اور مشاہدے کے مطابق جو چیز پاکستانیوں میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہے وہ منافقت ہے۔ منافقت کے سلسلے کی ایک اہم کڑی یہ ہے کہ ہم سب کو غلط سمجھتے ہیں بالخصوص سیاست دانوں کو۔ عوام کا سارا نزلہ سیاست دانوں پر ہی گرتا ہے کیونکہ وہ یہ بات نہیں جانتے کہ کم و بیش ہر ادارے اور پاکستانی عوام پاکستان کی تباہی میں برابر کی شریک ہے مگر ان سب کی اجتماعی گالیاں سیاست دانوں کو ہی پڑتی ہیں۔

اب جیسے سابق وزیر اعظم کو ہی لے لیں، خود سیاست دان ہیں مگر سب سے زیادہ برا سیاست دان کو ہی بولتے ہیں البتہ ان کے آس پاس ایک سے بڑا ایک سیاسی فراڈیا کھڑا ہے اور ان کو سپورٹ کرنے والے دوسرے ادارے کے بھی لوگ ہیں لیکن وہ یہ بات نہیں مانیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان کے بیانیہ کو پیش نگاہ رکھیں تو یہ ہی سمجھ آتا ہے کہ سب سیاستدان چور ہیں یا پھر سوال اٹھائیں کہ کیا صرف سیاستدان ہی چور ہیں؟

اچھا تو سوال یہ ہے کہ صرف سیاستدان ہی چور ہیں کیا؟ یہ بیانیہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ بنایا گیا ہے بلکہ دہرایا جاتا رہا اور پھر عوام کہنے لگے کہ صرف سیاستدان چور ہے مگر حقیقت میں سیاستدانوں سے بڑے بڑے چور اس ملک عزیز میں پلے بڑھے ہیں۔ بیوروکریسی سمیت کم و بیش ہر ادارے میں بڑے بڑے مہذب چور ہے۔ ان مہذب چوروں کی چوریاں گر سامنے آ گئی تو سیاستدان چندی چور نظر آئیں گے۔

کیونکہ سیاستدان آسان ٹارگٹ ہوتے ہیں اس لئے جس کا من چاہا اس نے ان کو چور بول دیا کیونکہ دوسروں کو چور بولنے میں پر جلتے ہیں۔ بہرحال جس عمران خان نے یہ بیانیہ بنایا، اس کے آس پاس کون سے سیاستدان موجود ہیں؟ وہ سیاستدان کب کب کہاں کہاں نقب لگاتے رہے۔ پوری دنیا کو خبر ہے مگر وہ سیاستدان کیونکہ عمران خان کے ساتھ ہے تو وہ پاک اور پارسا ہے۔

خیر سیاستدانوں کو چھوڑ دیجئے، بڑے بڑے اداروں کے سربراہوں کو چھوڑ دیجئے، پاکستان کا چھوٹا طبقہ بھی چور ہے۔ جی ہاں سبزی والا ہو، پھل والا ہو، پرچون والا ہو، دودھ والا، افسر ہو، جس کی جہاں نقب لگ سکتی ہے وہ لگا دیتا ہے اور پھر نقب لگا کر بڑی ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ ”یہ سارے سیاستدان چور ہیں“ ۔

 

Facebook Comments HS