نیلی بتی والی گاڑی کیا جانے
ہمارے ہاں مختلف تہواروں کے دوران بازاروں میں معمول سے زیادہ رش ہونا یقینی بات ہے۔ رش زیادہ ہو تو ٹریفک کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ان مسائل کے حل کے لیے ہر شہر کی انتظامیہ مختلف اقدامات کرتی ہے جن سے کسی کو راحت ملتی ہے تو کوئی پریشانی لیے افسردگی کے عالم میں گھر کو لوٹ جاتا ہے۔ راحت تو گاڑی والوں کو میسر ہوتی ہے لیکن انتظامیہ کے شکنجے میں ریڑھی بان آ جاتے ہیں۔
آپ پاکستان کے تمام شہروں میں نظر دوڑا لیں تقریباً ہر شہر میں ریڑھی بانوں اور انتظامیہ میں ٹام اینڈ جیری والا کھیل جاری رہتا ہے۔ کبھی وارننگ دی جاتی ہے کبھی پھل کے شاپر سے کام چل جاتا ہے اور جب کوئی تہوار ہو یا کسی وزیر مشیر کا دورہ ہو تو کیونکہ انتظامیہ نے اپنی کارکردگی اعلی افسران کو بھی دکھانی ہوتی ہے اس لیے رویہ کافی سخت ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں ریڑھیاں الٹ بھی دی جاتی ہیں اور ٹرکوں پر لوڈ کر کے ٹی ایم اے آفس بھی لے جائی جاتی ہیں۔
ایسی تصاویر اکثر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں جن کے بارے میں لوگوں کا ملا جلا ردعمل سامنے آتا ہے۔ کوئی انتظامیہ کو کوستا ہے کسی نے انتظامیہ کے کام کو انتہائی احسن قرار دیا یا مجھ جیسے شاعر نے ساری صورتحال سے متاثر ہو کر شعر کی صورت میں کتھارسس کر لیا
نیلی بتی والی گاڑی کیا جانے
اک ریڑھی سے سارا ”ٹبر“ پلتا ہے
کچھ لوگ تو کہتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ اچھا ہی ہوا یہ لوگ پھل اور سبزیوں میں بہت زیادہ منافع کماتے ہیں یہ لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اگر یہ ریڑھی بان لوگوں کو لوٹتے ہیں زیادہ منافع کماتے ہیں تو ان کا بنگلہ کوٹھی اور کار تو کہیں نظر نہیں آتی وہی کسمپرسی کا عالم دکھائی دیتا ہے۔ اگر انتظامیہ ان پر خدا کا عذاب ہے تو بڑے بڑے ذخیرہ اندوزوں پر لٹیروں پر اور ٹیکس چوروں پر یہ عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا؟ ہمیشہ غریب اور کمزور ہی کیوں اس زد میں آتا ہے؟ کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ جب اک ریڑھی الٹ جاتی یا بحق سرکار ضبط ہو جاتی ہے تو اس سے ایک شخص نہیں ایک پورا خاندان اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اور یہ بات بھی سچ ہے کہ جب ریڑھیوں کی وجہ سے ٹریفک میں خلل پڑتا ہے تو ایک گاڑی نہیں بلکہ گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں متاثر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وقت کا ضیاع ہونے کے ساتھ ساتھ ایندھن بھی ضائع ہوتا ہے اور ساتھ میں ذہنی پریشانی مفت میں ملتی ہے۔
سالہا سال جاری اس پریشانی کا حل تلاشنے میں انتظامیہ اگر ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں سے کام لینے کی بجائے مستقبل بنیادوں پر کوئی حکمت عملی تیار کرتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی ویسے تو ہمارے ہاں سب مسائل کی جڑ بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی ہے جس کو قابو کرنے میں ہر حکومت ناکام رہی ہے اور موجودہ حکومت بھی اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے پا رہی کہ اس کے سر پر اور جہاں اتنی تلواریں لٹک رہی ہیں وہاں آبادی کی زہر آلود تلوار پر دھیان کیسے جاسکتا ہے۔
آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس ملک کے لیے اور پوری دنیا کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا آ رہا ہے ہمارے ملک کی صورت حال دیکھ لیں تو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران آبادی میں انتہائی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سڑکوں پر دیکھتے ہی دیکھتے رش کے سیلاب میں شدید شدت آتی جا رہی ہے۔ جہاں کبھی اکا دکا موٹر سائیکل نظر آتی تھی وہاں اب ہر طرف ٹی ٹی پاں پاں کرتے ہوئے موٹر سائیکل نظر آتے ہیں۔ گاڑیوں کی بات کریں تو گنتی سے باہر اور چنگ چی کی طرف دیکھیں تو ایسے لگتا ہے جیسے پورے چائنہ کی معیشت کا ذمہ اس چنگ چی رکشے کے سر پر ہے جو پاکستانیوں کو دھڑادھڑ بیچ ادا کر کیا جاتا ہے ۔
ہمارے محکمہ منصوبہ بندی والے جانے کون سی منصوبہ بندیاں کر رہے یا شاید ان کو منصوبہ بندی سے ہٹا کر نئی ”صوبہ بندی“ کی طرف لگا دیا ہو کیونکہ صوبہ بندی بھی اب سیاست کی تاش کا اہم پتا ہے جس کو جب دل کرتا ہے سیاسی کھلاڑی اپنے مفاد کے لیے پھینک دیتے ہیں۔
پھینکنے سے یاد آیا ایک دفعہ ایک گاڑی والا ایک ریڑھی بان کی وجہ سے ٹریفک میں پھنس گیا۔ وہ شدید غصے کے عالم میں گاڑی سے نیچے اترا۔ مغلظات استعمال کرتے ہوئے ریڑھی کی طرف بڑھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ریڑھی بان کو کچا چبا جائے گا لیکن جب وہ نزدیک پہنچا تو یک دم اس کا غصہ رفو ہو گیا کیونکہ ریڑھی بان کوئی اور نہیں اس کا استاد تھا جو کافی کھاتا پیتا شخص تھا لیکن حالات نے کروٹ بدلی اور اسے سڑک پر لا کر کھڑا کر دیا پھر ان دونوں کے درمیاں جن جذباتی اور رقت آمیز کلمات کا تبادلہ ہوا ان کا ذکر پھر کبھی سہی۔
اس مسئلے کا حل عوام انتظامیہ اور ریڑھی بانوں تینوں پارٹیوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو انتظامیہ ان لوگوں کی تربیت کے لیے ورکشاپ منعقد کروائے کیونکہ پورے ملک، بلکہ پوری دنیا کی جو معاشی صورتحال جاری وہاں ان کے کاروبار کو بند کر کے مزید لوگوں کو بھوک کی دہکتی بھٹی میں پھینکنے کے مترادف ہو گا اس لیے ان کو سکھایا جائے کہ کیسے آپ لوگوں نے ٹریفک کو بحال رکھتے ہوئے اپنا کاروبار جاری رکھنا ہے۔
ایک قطار میں رہتے ہوئے مقرر کردہ حد کے اندر کام کرنا ہے اور اس کو تجاوز نہیں کرنا اور پھر سرکاری ملازمین۔ جن میں ٹریفک اہلکار وغیرہ شامل ہیں ان کو بھی سختی سے تنبیہ کرنا ہوگی کہ ان لوگوں سے پھل کے شاپر لے کر حد تجاوز نہیں کروانی۔ اگر ہر شہر میں ایسے اقدامات ہوں اور ان لوگوں کے لیے سڑک کے اطراف میں جگہ مخصوص ہو تو ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بھی نہیں آئے گی۔ انتظامیہ کی سردرد میں بھی خاصا فرق پڑ جائے گا اور ریڑھی بان بھی اپنے بچوں کے لیے آسانی سے رزق کما سکیں گے!


