ماضی اور حال کی عید الفطر


عید الفطر پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم مذہبی تہوار ہے۔ یہ رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام اور شوال کے اسلامی مہینے کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ رمضان کے اختتام پر پورا ماہ روزے رکھنے پر مسلمانوں کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے ایک تحفہ ہے جسے خوشی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ مسلمان اس دن کو ایک اہم مذہبی تہوار کے طور پر خوشی کے ساتھ مناتے ہیں اور اسے بخشش اور خیرات کا وقت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں عید الفطر منانے کا طریقہ گزشتہ برسوں کے دوران بہت تبدیل ہوا ہے اور اب جس طرح سے یہ تہوار منایا جاتا ہے وہ ماضی میں منانے کے طریقے سے بہت مختلف ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اب ہم عید پہلے کی طرح نہیں مناتے تو یہ کہنا کچھ غلط بھی نہیں ہو گا۔

اگر ماضی کی بات کریں تو ماضی میں عید الفطر بہت سادگی سے منائی جاتی تھی۔ لوگ عید سے پہلے اپنی حیثیت کے مطابق خریداری کرتے۔ عید سے پہلے یا عید کے دن عید کی مبارکباد کے لیے دوستوں اور رشتہ داروں کو عید کارڈز اور تحفے تحائف بھیجتے تھے۔ چاند رات عید کا دن منانے کی تیاریوں اور اگلے دن کیا کرنا ہے اس کی منصوبہ بندی کرتے گزر جاتا۔ لوگ صبح سویرے اٹھ کر عید کی نماز اپنی مقامی مساجد میں ادا کرتے تھے۔ نماز کے بعد وہ اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد سے ملنے جاتے، تحائف اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے اور ان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔

پاکستان میں عید پر میٹھا کھانے کا رواج ہمیشہ سے رہا ہے۔ پاکستان میں عید کی روایتی ڈش شیر خرما ہے، جو ایک میٹھی ڈش ہے جو سویوں، دودھ، چینی اور خشک میوہ جات سے بنتی ہے۔ ماضی میں عید پر میٹھے میں شیر خرما، میٹھی سویاں اور کھیر بنتی تھی ساتھ مٹھائی بھی خریدی جاتی تھی۔ گھر پر ہی کھانے پینے کا اہتمام ہوتا اور اگر دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے جایا جاتا تب بھی ان کے گھر پر ہی کھایا پیا جاتا۔ باہر سے کھانا منگوانے یا باہر جا کر کھانے کا رواج کم تھا۔

عید الفطر خیرات اور لوگوں کی مدد کرنے اور انہیں اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کے دن کے طور پر منایا جاتا تھا۔ لوگ غریبوں اور ضرورت مندوں کو پیسے، کپڑے اور خوراک عطیہ کرتے تھے اور ایسا کرنا ایک مذہبی فریضہ سمجھا جاتا تھا اور یہ مدد خدا کی خوشنودی کے لیے کی جاتی اور اس کا دکھاوا کرنا سخت برا سمجھا جاتا تھا۔ یہ معافی اور صلح کا بھی وقت ہوا کرتا تھا اور لوگ اکثر اس موقع کو دوسروں کے ساتھ اپنے اختلافات کو طے کرنے اور صلح کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ عید پر ٹیلی ویژن پر خصوصی عید کی نشریات کا اہتمام کیا جاتا تھا جسے لوگ شوق سے عید والے دن دیکھتے اور اس تفریح سے گھر بیٹھے لطف اندوز ہوتے تھے۔

موجودہ دور میں پاکستان میں عید الفطر کی تقریبات بہت زیادہ مصنوعی وسیع اور تجارتی ہو گئی ہیں۔ اب ظاہری دکھاوا اور نمو دو نمائش ذاتی خوشی اور طمانیت پر حاوی ہو گئے ہیں۔ عید کارڈز دینا دلانا اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں لوگ اب اپنے اور اپنے خاندان کے لیے نئے کپڑوں، جوتوں اور زیورات پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔ بازار رنگ برنگی چوڑیوں، مہندی اور عید سے متعلق دیگر روایتی اشیاء سے بھرے پڑے ہیں۔

پاکستان میں اب جس طرح عید الفطر منائی جا رہی ہے اس میں سوشل میڈیا نے بھی بڑا کردار ادا کیا ہے۔ لوگ فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر اپنی عید کی تیاریوں اور جشن کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرتے ہیں اور عید کے دن کا بیشتر حصہ یہی کرنے میں صرف کر دیتے ہیں۔ وہ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ مبارکباد اور خواہشات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔ اکثریت اب روایتی میٹھے پکوان نہیں بناتی۔

گھر پر پکانا اب پہلی ترجیح نہیں رہا۔ اب باہر سے بنا بنایا کھانا منگوانا عام بات ہے۔ فوڈ ڈیلیوری سروسز نے بھی عید کے دن گھر پر پکانے کی حوصلہ شکنی کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان میں عید پارٹیوں اور تقریبات کی میزبانی کا رجحان بھی کافی مقبول ہوا ہے۔ لوگ بڑے اجتماعات کا اہتمام کرتے ہیں اور اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد کو ایک ساتھ عید منانے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ واقعات اکثر کافی شاہانہ ہوتے ہیں اور ان میں بہت زیادہ کھانا، موسیقی اور تفریح شامل ہوتی ہے۔

اب بھی اگرچہ ٹی وی پر عید کی نشریات کا اہتمام کیا جاتا ہے مگر سوشل میڈیا پر اپنی مصروفیات کی بدولت یہ نشریات اب پاکستانی عوام کی پہلی ترجیح نہیں رہی صرف وہی جو سوشل میڈیا سے جڑے ہوئے نہیں، اس کو دیکھتے ہیں مگر ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔ مزید یہ کہ اب ٹی وی کی عید کی نشریات میں پہلے والا معیار اور جذبہ بھی نہیں رہا تبھی اکثریت عید پر ٹی وی دیکھ کر اب دل نہیں بہلاتی۔

تاہم ان ظاہری تبدیلیوں کے باوجود عید الفطر کا جذبہ جوں کا توں ہے۔ اب بھی عید کو معافی، خیرات اور اتحاد و یکجہتی اور بھائی چارے کے فروغ کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن دوریاں ختم کر کے محبت کو فروغ دیا جاتا ہے۔ لوگ اب بھی اپنے دوستوں، ہمسائیوں اور رشتہ داروں سے ملنے جاتے ہیں۔ ان سے تحائف اور مبارکباد کا تبادلہ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ وہ اب بھی غریبوں اور ضرورت مندوں کو چندہ دیتے ہیں اور وہ اب بھی اس موقع کو اپنے اختلافات دور کرنے اور اصلاح کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ گویا عید منانے کا ظاہری طور طریقہ ہی ماضی سے اب تک بدلا ہے مگر اس کی اصل روح اور تعلیمات جس کے تحت یہ منائی جاتی ہے اب بھی پہلے جیسا ہی ہے۔

Facebook Comments HS