’غزمِ‘ عالی شان
ایک صاحبہ ہیں، کچھ رضوی کر کے نام ہے، ’شعر‘ کہتی ہیں، اور شعر بھی کیا کہتی ہیں بس یوں سمجھ لیجیے کہ گرد اُڑاتی ہیں، یعنی متشاعر ہیں، اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کس صنف میں شاعری کرتی ہیں، غزل کہ نظم، تو فرمانے لگیں کہ ’ہم صنفی امتیاز کے سرے سے قائل ہی نہیں، ہم تو اپنی ہی ایجاد کردہ صنف میں شاعری کرتے ہیں جسے ہم ’غزم‘ کہتے ہیں۔ ‘ بہرحال، نام انہوں نے انتہائی موزوں رکھا ہے کیوں کہ ان کے ’شعر‘ سُن کر انسان ’مغزوم‘ ہو جاتا ہے۔ فرماتی ہیں میں ردیف و قافیہ کی بندشوں سے آزاد ہوں، نظم کے قوائد نہیں جانتی، غزل کی بحروں سے نا آشنا ہوں، مگر شعر کہنے پر اسی طرح مجبور ہوں جیسے پھول کھلنے پر مجبور ہے۔ اس سے بہتر مثال ویسے یہ ہے کہ موصوفہ شعر کہنے پر اسی طرح مجبور ہیں جیسے آندھی میں شاپر اُڑنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اور یہ آندھی ہے سوشل میڈیا کی آندھی، جس میں ان کی طرح کے ان گنت شاپر اپنے ’مغزوم‘ مقاصد کے تحت اُڑتے پھرتے ہیں۔
قاعدہ یہ ہے کہ سسٹم میں شگاف ڈالنے کے لیے پہلے سسٹم کو بہت اچھی طرح سمجھنا پڑتا ہے، فارمولا بدلنے کے لیے پہلے مروجہ فارمولے کو مکمل گرفت میں لینا پڑتا ہے۔ سال ہا سال خون تھوکنا پڑتا ہے پھر کہیں جا کر نئی بات کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نئی بات تک پہنچنے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، یہ عشق کے اوکھے اور لمبے پینڈے ہیں۔ سائنس سے فنون تک، ہر میدان میں یہی عالم ہے۔ وہ جو پچھلی صدی میں ایک اسپینی نژاد مصور تھا پبلو پکاسو، آڑی ترچھی لکیریں لگاتا تھا، ٹیڑھی میڑھی شکلیں بناتا تھا، عجیب و غریب رنگ برتتا تھا، تو ایسا نہیں تھا کہ وہ ایک دن صبح اُٹھا، بسم اللہ پڑھ کر مُو قلم اٹھایا اور کیوب ازم کی بنیاد رکھ دی۔ پہلے اُ س نے سال ہا سال سیدھی لکیر کھینچنا سیکھا، دست و چشم بنائے، طوطا مینا بنائے، پورٹریٹ بنائے، لینڈاسکیپ بنائے، اور جب انگلیاں فگار ہو گئیں، خامہ خوں چکاں ہو چکا، پھر بحرِ تجرید میں غوطہ زن ہونے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ ہر شعبے میں ایسی مثالیں ہیں، اور بیسیوں مثالیں ہیں۔ ہمارا ’غزمیہ‘ یہ ہے، معاف کیجیے گا، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر وہ کام کرنا چاہتے ہیں جس کی ہم نے تیاری نہیں کر رکھی، جو ہمارا کام نہیں ہے۔
پچھلے دنوں فیصل آباد میں ایک خاتون نے نبوت کا دعویٰ کر دیا (نعوذباللہ) سوشل میڈیا پر ان کی مختصر سی ’غزم گوئی‘ سننے کا اتفاق ہوا، دو چار جملوں میں صرف ایک لفظ عربی کا آیا ’لدنی‘ جس کی دال سے پیش غائب تھی اور نون سے شد۔ آج کل کے کذاب بھی کام چور ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب تھا مگراُس نے تیاری کر رکھی تھی، عربی فارسی پڑھ رکھی تھی، فقہ و منطق، قران و حدیث سے واقفیت رکھتا تھا، خاتِم اور خاتَم کا فرق جانتا تھا، اسی لیے کچھ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کام یاب ہوا۔ چند دن ہوئے داسو ڈیم پراجیکٹ کے ایک چینی سپر وائزر کے خلاف توہینِ مذہب کی ایف آئی آر کاٹی گئی، شکایت کنندہ کیوں کہ چینی زبان نہیں جانتا تھا اس لیے ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ چینی باشندہ توہین آمیز اشاروں کا مرتکب ہوا ہے۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ ڈیم پراجیکٹ کا ایک کارکن نماز کی چھٹی لے کر گیا اور گھنٹوں بعد لوٹا، سپروائزر نے سرزنش کی تو اس کے خلاف توہین کی ایف آئی آر کٹوا دی گئی۔ وہ کارکن جس کا مبینہ طور پر مذہب سے واجبی سا تعلق تھا راتوں رات ’غزمِ‘ حق و باطل کا فولادی مومن قرار پایا۔ ویسے اس واقعہ کی تہہ میں بھی کام چوری نظر آتی ہے۔
ہمارا مسئلہ کچھ یوں ہے کہ ہم زندگی گزارنا چاہتے ہیں لاس ویگاس میں، اور دفن ہونا چاہتے ہیں جنت البقیع میں۔ جگاڑ کی آس میں رہتے ہیں، دائو لگانا چاہتے ہیں۔ آئیے اب آپ کو کچھ جج حضرات سے ملواتے ہیں جنہوں نے زندگی تو عشقِ بتاں میں گزاری ہے مگر خواہش یہ رکھتے ہیں کہ انہیں الحاج تسلیم کیا جائے۔ یعنی وہ منصفین جنہوں نے پچھلے پانچ سات سال باجوہ اور فیض کی قیادت میں آئین کا کچومر نکال دیا، جنہوں نے آئین کی ایک آدھ شق کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ پورے آئین کو پامال کر کے ایک ہائی برڈ نظام کھڑا کیا، جو ابھی کچھ دن پہلے تک باجوہ صاحب کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ میں جونیئر جج لگوا رہے تھے، جو آئین کی اناپ شناپ تشریحات کرتے رہے، وہ ایک دن سو کر اُٹھے تو آئین کے مندر کے سب سے معتبر پروہت بن چکے تھے، آئین کے تحفظ کا ’غزمِ‘ عالی شان کر چکے تھے؟ ہم کیسے مان لیں کہ آپ یک دم زُلفِ آئین کے اسیر ہو گئے ہیں۔ آئین پرست ججوں کو تو اس ملک میں بڑی بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں، اپنوں کے ریفرنس سہنے پڑتے ہیں، اپنے گھر کی عورتوں کی بھی تذلیل برداشت کرنا پڑتی ہے، آپ نے تو ایسی کوئی قربانی نہیں دی، آپ نے تو پلاٹ لیے ہیں، اپنی بیویوں کے نام پر بھی پلاٹ لیے ہیں، سپریم کورٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی میں بھی پلاٹ لیے ہیں، آپ نے کبھی اپنے اثاثے مشتہر نہیں کئے، آپ توانفارمیشن کمیشن کو اپنی تن خواہ اور مراعات بتانے کو تیار نہیں ہیں، آپ نے تو آج تک اپنی عدالت کا آڈٹ نہیں ہونے دیا، آپ تو ثاقب نثار غزمی کے پیروکار ہیں، آپ کو کہاں سے آئین یاد آ گیا؟آپ کی تیاری ہی نہیں ہے، آپ کیسے یہ امتحان پاس کر پائیں گے؟ سچ تو یہ ہے کہ آپ ریٹائرمنٹ سے پہلے جگاڑ لگانا چاہ رہے ہیں، آئین پرستوں کے قافلے میں شامل ہونے کے لیے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہے ہیں۔ نہ میرے بھائی ہم نہیں مانتے، نہ ہم غزم کو شاعری کی صنف مانتے ہیں نہ آپ کو آئین پسند منصف۔


