وہ چلے گئے ہیں جو پار سا نہ تھے


جس طرح کالم نگار کے خیالات اور اس سے مشروط اعصابی کارکردگی ہوتی ہے۔ اسی طرح سے خبروں سے جڑیں تمام اچھی بری چیزیں اس کے دل و ذہن کو کچھ اس طرح متاثر کرتی ہیں کہ وہ بکھرنے لگتا ہے۔ خیالات کے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں ہمیشہ ایک ہجوم سا برپا رہتا ہے۔ مگر خریدار نہیں ملتا۔ بھلا خریدار کیونکر ملے گا؟ لوگوں کے پاس تو اپنی دال روٹی پوری کرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ حالانکہ ہم تو احساس مفت ہی بانٹتے ہیں۔ لیکن چونکہ اس احساس میں درد بھی ملتا ہے تو خریدار خال خال ہی نظر آتا ہے۔

ان دنوں تو ہمارے ہاں سیاست کی منڈی میں الیکشن کی خوب گرم بازاری ہے۔ قومی اسمبلی میں الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے کا اجرا پھر سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ پی۔ ڈی۔ ایم اور اتحادی جماعتوں کا اجلاس پھر سے ہو رہا ہے۔ ہر طلوع ہوتے ہوئے سورج کے ساتھ نت نئے بحرانوں کا سامنا پوری قوم کو ہے۔ الیکشن کے لیے 21 ارب جمع کروانے کی ڈیڈ لائن 10 اپریل تھی۔ اسحٰق ڈار نے انتخابات کے اخراجات کے لیے جو بل پیش کیا تو قومی اسمبلی اور سینٹ کی اکثریت رائے سے یہ بل مسترد کر دیا گیا۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ اور پارلیمان کے بیچ فٹ بال بنا ہوا ہے۔ کبھی یہ عدالتی کورٹ میں چلا جاتا ہے تو کبھی حکومتی کورٹ میں۔ لیکن اس پورے معاملے کا حل سب سیاست دانوں، مقننہ اور انتظامیہ کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ صرف اور صرف شفاف انتخابات ہیں۔ ہمسایہ ملک بھارت میں تو لگ بھگ پورا سال ہی الیکشن ہوتے رہتے ہیں مگر ہمارے وطن میں بہانے بنا کر متواتر ٹالا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے علانیہ کہا ہے جتنا مرضی زور لگا لیں الیکشن 14 مئی کو نہیں ہوں گے۔

سپریم کورٹ آئین کے اصول کے مطابق حکم جاری کر رہا ہے۔ جبکہ حکومت اعتراف کرتی جا رہی ہے۔ اب کھلم کھلا اداروں کے مابین ٹکراؤ ہے۔ سال بھر سے سیاسی بحران اب آئینی بحران کی طرف تیرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کی لہریں بپھر جائیں اداروں اور تمام دانشور ارباب اختیارات کو چاہیے کہ بڑھ کر اس ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو تھام لیں۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ آئین پاکستان سے وفا کی جائے اسی میں مملکت خداداد کی آبرو ہے۔

جماعت اسلامی کے سربراہ جناب سراج الحق صاحب نے بھی کمر کس لی ہے اور مصالحانہ کردار ادا کرنے کو عمران خان چیئر مین پی ٹی آئی سے ملنے کو گئے۔ جناب سراج الحق صاحب دھیمے مزاج کے سلجھے ہوئے تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ سادگی اور قناعت ان کے کردار سے جھلکتی ہے۔ جس اعتدال اور توازن سے وہ بات کرتے انہیں سب ہی ہموار راہ کا راہی سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف عوام الگ تکلیف میں ہے۔ مہنگائی اور چیزوں تک نا رسائی ان کا مقدر بن چکی ہے۔

شطرنج کی چالیں اب بساط پر نہیں بلکہ پورے ملک پر کھیلی جا رہی ہیں۔ کبھی وزیر خزانہ، کبھی وزیر اطلاعات، کبھی وزیر دفاع سبھی مہرے ہیں۔ اور تو اور اب تو عوام بھی پیادوں میں شامل ہو چکی ہے۔ کیا ان کو خدا کی ناراضی کا کچھ خوف نہیں۔ کیا اس ملک کو آزادی اسی لیے دلوائی تھی کہ وزیروں، سیاست دانوں، فوج کے اعلیٰ عہدیداروں، سرمایہ داروں، ٹھیکے داروں، وڈیروں اور سرداروں کی بھینٹ چڑھ جائے۔ موجودہ حالات آخر کو ہمیں کہاں لے کر جائیں گے۔

سب کی آنکھوں پر کون سی ایسی عینک چڑھی ہے جس میں سے ساون کے اندھے کی طرح ان سیاست دانوں کو ہرا ہرا ہی نظر آتا ہے۔ آخر کو سب سیاست باز سیاست کو پس پشت ڈال کر مذاکرات کی میز پر کیوں نہیں آ بیٹھتے۔ آئین کے تقدس کو پامال ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ دلوں کو موم کیا جا سکتا ہے۔ بھوک، افلاس اور مہنگائی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ان سب کا حل صرف شفاف الیکشن میں ہے۔ یہ ملک کئی بار آئین بحرانوں سے نمٹا۔ آئین میں لکھا گیا ہے کہ آئین کے صدق دل سے وفادار رہیں گے۔

اس وقت کی صورت حال میں سیاسی جمود طاری ہے جو آئینی بحران کی جانب بڑھ چکا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے پاس رقم موجود نہیں۔ آئین کے مطابق صوبوں کی اپنی خود مختاری ہے۔ ظاہر ہے اگر الیکشن وقت پر نہیں ہوں گے تو حالات میں مزید پیچیدگیاں بڑھ جائیں گی۔ سیاست دان اپنی اناؤں کی گپھاؤں سے نکلیں اور سرمایہ دارانہ سیاسی ذہنیت ختم کر کے عوام کے حق میں اچھے فیصلے کریں۔ عوام ہمیشہ سے رٹے رٹائے جملے سن سن کر تنگ آ چکے ہیں۔

مثلاً تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ آئین سے کوئی بھی ماورا نہیں۔ غریب کو اس کی دہلیز پر انصاف ملے گا۔ فیصلے ہر صورت میرٹ پر قائم ہوں گے۔ نوٹس لے کر اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ عوام کی باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔ کمیشن بنا دیا گیا ہے۔ ملک کی خاطر ہم نے اپنی سیاست کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ہم دہشت گردوں کو امن برباد نہیں کرنے دیں گے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ جب تک معاشرے کے ستم رسیدہ لوگوں کو ان کا حق نہیں ملے گا ماحول میں سکون کیسے آئے گا۔

عوام کی جان و مال کا تحفظ کیونکر مل پائے گا۔ حکمران طبقہ جانتے ہوئے بھی کہ اب ان سے حکومت چل نہیں رہی وہ مسلط رہنا چاہتے ہیں۔ ڈالر کو کستے ہوئے اس کا پھندا عوام کی گردنوں کے گرد تنگ کیا جا رہا ہے۔ اس سے تو بہتر ہے عوام کو مار دیا جائے۔ آخر میں اپنے استاد محترم محمود شام صاحب کے چند اشعار قارئین کی نظر ہیں۔

محدود کر رہے ہو میرا انتخاب کیوں
ہر روز چھین لیتے ہو تم میرے خواب کیوں
وہ چلے گئے ہیں جو پار سا نہ تھے
پھر بھی ہے پورے ملک میں اضطراب کیوں
تبدیلیوں کی راہ میں دیوار گر چکی
آیا نہیں کہیں بھی پھر انقلاب کیوں
سنسان راستے ہیں تو گلیاں لہو لہو
ہوتا نہیں ہے قاتلوں کا احتساب کیوں
اب تک ہے بوڑھی ماؤں کو بیٹوں کا انتظار
ہوتے نہیں ہیں کھوئے ہوئے بازیاب کیوں

Facebook Comments HS