مفتی عبد الشکور: ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی


یہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!

علامہ اقبال کی نظم فاطمہ بنت عبداللہ کا یہ شعر ہے۔ فاطمہ امت مسلمہ کی وہ بیٹی تھی جو طرابلس کی جنگ میں پانی پلاتی ہوئی شہید ہوئی اقبال نے اس کی مختصر زندگی اور موت کا نقشہ کھینچ کریہ تسلیم کیا کہ پوری ملت اسلامیہ راکھ کا ڈھیر بن چکی ہے مگر اسی امت کے ڈھیر میں فاطمہ جیسی ایسی تابناک چنگاریاں بھی موجود ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ دنیا قائم ہے۔ مفتی عبد الشکور شہید کے بارے میں بھی اگر یہ کہا جائے کہ وہ بھی اپنی مختصر زندگی میں اس چنگاری کے مانند تھے جس کے باعث انہوں نے اپنے لازوال کردار سے خود کو امر کر لیا۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مولانا مفتی عبدالشکورؒ کی اچانک موت نے پورے ملک کو رنجیدہ کر دیا، رمضان المبارک کی 25 ویں شب 15 اپریل 2023 کو سوشل میڈیا پر وائرل یہ قیامت خیز خبر آئی کہ مفتی عبدالشکورؒ روڈ ایکسیڈنٹ میں شہید ہو گئے، ان کی شہادت پر احساسات کا یہ عالم تھا۔

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقین نہیں ہے

قوم ایک ایسے جامع الکمال انسان سے محروم ہو گئی جو کئی پہلووں سے آج کے دور میں ایک نمونے کی حیثیت رکھتا تھا۔ حرکت و پیش قدمی، جرات و حوصلہ مندی، بے غرضی و عالی ظرفی، صلاحیت و مہارت کی قدردانی اور اس سے استفادہ، منصوبہ بندی و دور اندیشی، بلند نگاہی، آئین نو سے نہ ڈرنے کی صلاحیت، ان کے وہ اوصاف ہیں جن کی کمیابی ہمارے زوال کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔

مفتی عبدالشکور ضلع لکی مروت کے پسماندہ گاؤں تاجبی خیل میں 1967 ء کو پیدا ہوئے، والد کا نام سردار خان ہے۔

مقامی پرائمری سکول میں حصول تعلیم کے بعد جامعہ حلیمیہ درہ پیزو، جامعہ انوار العلوم اور جامعہ محمدیہ چراٹ، سے استفادہ کرنے کے بعد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں پہنچے۔ 1996 ءمیں دورہ حدیث کر کے درس نظامی کی تکمیل کی۔ دارالعلوم حقانیہ سے ہی مفتی کا کورس مفتی سیف اللہ حقانی سے کیا۔ حضرت مولانا قاضی فضل اللہ ایڈوکیٹ سابق ممبر قومی اسمبلی (حال کیلیفورنیا امریکہ) سے دورہ تفسیر کی تکمیل کی۔

آپ کے مشہور اساتذہ کرام میں شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی محمد فرید ؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا شیر علی شاہؒ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق شہید ؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ شامل ہیں۔ حیدرآباد سندھ سے امام انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کے براہ راست شاگرد حضرت مولانا غلام مصطفی قاسمی سے شاہ ولی اللہ ؒکے فلسفے کے علاوہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور امام انقلاب ؒکے علوم و معارف کا وافر حصہ حاصل کیا۔

دوران تعلیم جمعیت طلبہ اسلام سے وابستہ ہوئے، ضلع لکی بنوں کے صدر منتخب ہوئے، پھر صوبائی نائب صدر، صوبائی جوائنٹ سیکرٹری اور صوبائی صدر کے عہدوں پر فائز رہے، 50

تعلیم سے فراغت کے بعد جامعہ اشاعت الاسلام ٹانک، دارالعلوم ایوبیہ تجوڑی، مرکز اسلامی بنوں میں مدرس، جامعہ عثمانیہ رحیم یار خان اور مرکزی دار القراء پشاور میں نائب شیخ الحدیث رہے۔ احیاء العلوم ریگی پشاور میں صدر مدرس کے فرائض انجام دیے۔ 2005 ء سے دارالعلوم سراج الاسلام پشاور میں صدر مدرس کے فرائض نبھا رہے تھے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی کی مشہور ترین کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے ابواب سیاست پر اڑھائی، اڑھائی گھنٹے گفتگو فرماتے۔

اقتدار کی غلام گردشوں میں بھی وہ سرخرو رہے۔ انہوں نے لباس، رہن سہن اور کھانے پینے تک میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں کی، انہوں نے سنت نبوی کو زندہ و جاوید رکھنے کے لئے پوری قوم کو اور بالخصوص اپنی جماعت کے ہر کارکن 56 کو یہ درس دیا کہ مال و دولت، بڑی بڑی گاڑیوں والوں کو دوسری گلی میں بھی کوئی نہیں جانتا اور چٹائی پر بیٹھ کر تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے کے سامنے یہ چیزیں ہیچ ہیں۔ سچی بات یہ ہے وزارت نے نہیں بلکہ انہوں نے وزارت کو بدل ڈالا۔

1999 ء اور 2002 میی جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سیکرٹری جنرل، 2014 میں مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بنائے گئے۔ اور جمعیت کے قبائلی علاقہ جات کے نگران مقرر ہوئے۔ نائن الیون کے بعد بے شمار محب وطن قبائلیوں کو خاک وخون میں تڑپایا گیا گھروں کو مسمار کیا گیا، مکینوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیا ڈرون حملوں سے ان کا قتل عام کیا گیا مساجد و مدارس کو بلڈوز کیا گیا، اکابر علماء کرام کو شہید کیا گیا، ان تمام حالات میں مفتی عبدالشکورؒ پہاڑ کی طرح اپنے نظریے پر قائم رہے اور اپنے مشن کو آگے بڑھایا، انہی خدمات کی وجہ سے جمعیت علماء اسلام نے انہیں قومی اسمبلی کا امیدوار نامزد کیا، 2018 ء کے الیکشن میں موٹرسائیکل پر انتخابی مہم چلائی 25 جولائی 2018 ء کو رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

مفتی عبدالشکور پشاور کی ایک چھوٹی سی مسجد کے امام اور ایک چھوٹے سے مدرسہ کے مدرس تھے مگر قومی اسمبلی میں قدم رکھ کر انہوں نے اپنے اسلاف کی یادیں تازہ کرا ڈالیں، 19 اپریل 2022 ء کو ایک غریب اور سادہ منش مولوی مفتی عبدالشکور کو سب سے بڑی، انتہائی مشکل اور کرپشن کے حوالے سے بدنام زمانہ وزارت ملی، لوگ حیران تھے کہ مدرسہ کا ایک سادہ مولوی اس بدنام زمانہ وزارت کو کس طرح چلائے گا حج کے موقع پر کرپشن کی کیا کیا داستانیں رقم ہوں گی مولویت کا بھانڈا پھوٹ جائے گا لیکن جب حج آپریشن ہوا تو ہر شخص کی زبان پر ان کے لئے تحسین کے کلمات تھے۔

پاکستان میں پہلی دفعہ حجاج کرام نے انتہائی سہولت، اور سکون کے ساتھ مناسک حج ادا کئے۔ ، کوئی بدنظمی نظر آئی نہ کوئی حاجی، انتظامیہ کو بددعائیں دیتا دکھائی دیا، امور حج میں کرپشن کا کوئی سکینڈل منظر عام پر نہیں آیا اور مجموعی طور پر ایک ارب دس کروڑ روپے حجاج کو واپس کیے گئے۔ یہ جمعیت علماء اسلام کے لئے ایک خوشگوار موقع تھا، جس سے قائدین اور کارکنان کو 21 سر اٹھا کر چلنے کا حوصلہ ہوا کہ جمعیت کے ایک سپاہی نے وہ کر کے دکھایا جو اس سے پہلے آکسفورڈ اور کیمرج کے پڑھے ہوئے نہیں کرسکے۔

قومی اسمبلی سے دفاع صحابہ و اہل بیت بل پاس ہوا، اس میں بھی مفتی صاحب کا کلیدی کردار تھا، مفتی صاحب نے اسلام آباد جناح کنونشن سینٹر میں منعقدہ تمام مسالک کے علماء کے اجتماع میں ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ ہم صحابہ اور اہل بیت کے غلام ہیں اس بل کو میں سینٹ سے منظور کر واکر دم لوں گا۔ مفتی صاحب تکلفات، شہ خرچیوں اور پروٹوکول سے پاک تھے

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اخلاقیات کا زوال اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے اسی لیے بعض فرقہ واریت پر مبنی ٹویٹس دیکھنے کو ملیں جن میں مفتی صاحب کی شہادت پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو موت نہیں آنی مفتی صاحب کی شہادت کی تحقیق ہر زاویے سے ہونی چاہیے مگر ہمارے ہاں مجرم نہ صرف سزا سے بچ جاتے ہیں بلکہ وہ کھلے عام دندناتے نظر آتے ہیں۔ نا معلوم لوگوں کے خلاف پرچہ کاٹ مقدمات کو داخل دفتر کر دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS