مونا لیزا۔ ایک تصور یا حقیقت


اسلام آباد میں فرانس کی ایمبیسی میں امیگریشن افسر نے مجھے پوچھا ”تم فرانس کیوں جانا چاہتے ہو“ فوری میں نے جواب دیا۔ ”مونا لیزا کو دیکھنے“ ۔ میرا فوری جواب سن کر وہ حیرانی سے میرا منہ دیکھنے لگی۔ پھر پوچھا۔ کہ تم جانتے ہو مونا لیزا کون ہے۔ میں نے مونا لیزا کے بارے میں جو کچھ پڑھا ہوا تھا اسے بیان کر دیا۔ پھر اس نے پوچھا اور کیا دیکھو گے تو میں نے جواب دیا ”آئفل ٹاور“ ۔ انہی دو سوالوں پر اس نے مجھے فرانس کا ایک ماہ کا ٹوؤرسٹ ویزا دے دیا۔

24 اکتوبر 2008 ء کو میں شام آٹھ بجے پیرس کے چارلس ڈیگال ائرپورٹ پر اترا تو بھائی کے دوست مجھے ائرپورٹ سے لینے آئے ہوئے تھے۔ وہ ائرپورٹ لے کر سیدھا مجھے آئفل ٹاور لے گئے۔ جہاں دس بجے ہم نے آئفل ٹاور کی جلتی بجھتی روشنیوں میں اس کا خوبصورت نظارہ کیا جو ابھی تک ذہن میں تروتازہ ہے۔ اگلے دن یعنی 25 اکتوبر کو صبح نو بجے ہم تیار ہو کر فلیٹ سے نکلے اور میٹرو کے ذریعے آدھے گھنٹے میں فرانس کے اور شاید دنیا کے سب سے بڑے میوزیم ”لووور“ میں پہنچ گئے۔

ٹکٹ لے کر ہم سیدھے تصاویر کے شعبے میں پہنچے جس کے در و دیوار ہاتھ سے بنائی ہوئی تصاویر سے سجے ہوئے ہیں۔ صبح ہونے کی وجہ سے اس شعبے میں سیاحوں کی ابھی اتنی زیادہ بھیڑ نہیں تھی۔ اس شعبے کو جانے والے راستے کی دیواروں اور چھتوں پر بڑی خوبصورت تصاویر بنی ہوئیں تھیں۔ دیواروں پر جگہ جگہ بڑے مشہور مصوروں کی تصاویر آویزاں تھیں۔ ہم چلتے چلتے مونا لیزا کی تصویر کے نزدیک پہنچ گئے۔ مونا لیزا کی پینٹنگ میرے تصور سے کہیں مختلف تھی۔

شیشے کے شوکیس میں سجی مونا لیز کی پینٹنگ کا سائز میرے اندازے کے مطابق اڑھائی فٹ اونچا اور دو فٹ چوڑا تھا۔ میں نے بڑے نزدیک سے مونا لیزا کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا تو مجھے ان میں مجھے خوشی اور اداسی کا ملا جلا تاثر نظر آیا۔ ابھی میں مزید جائزہ لے ہی رہا تھا کہ سیاحوں کا ایک بڑا گروپ آ گیا تو نگران نے سیاحوں کی مخصوص تعداد سے زیادہ افراد کو باہر انتظار کرنے کو کہا۔ ہم نے وہاں دو تین تصاویر لیں اور پھر باہر آ گئے۔ 2015 ء میں روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں دنیا کے ایک اور بڑے میوزیم ”ہرمٹیج“ میں اسی اطالوی مصور کی انہی سالوں میں بنی ایک تصویر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ تصویر غالباً 1510 یا اس سے ایک دو سال پہلے کی بنائی ہوئی تھی۔

مونا لیزا

مونا لیزا شاید دنیا کی سب سے مشہور پینٹنگ ہے جسے اطالوی مصور لیونارڈو دا ونسی کا انتہائی خوبصورت اور دلآویز شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس عالمی شاہکار تصویر کے لیے ماڈلنگ کرنے والی خاتون کی شخصیت ابھی تک اسرار میں ہے۔ مونا لیزا جس ماڈل کی تصویر ہے وہ ایک نامعلوم شخصیت ہے۔ لیکن ہم محسوس کرتے ہیں کہ مصور اس تصویر میں حقیقی گرم جوشی اور انسانیت بھری مسکراہٹ دکھانے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ مصور کی مہارت کی انتہا ہے۔ یہ تصویر مصور نے 1512 ء میں بنائی تھی

لیونارڈو دا ونسی

دا ونسی مصوری کی تاریخ کی سب سے زیادہ با اثر اور مشہور شخصیات میں سے ایک ہے جسے سب سے باصلاحیت مصور مانا اور سمجھا جاتا ہے۔ مصوری کی دنیا میں سب سے زیادہ معروف شخصیت اور مصور ہونے کے باوجود ان کی بنائی ہوئی تصاویر کی تعداد انتہائی کم ہے لیکن وہ سب کی سب مصوری کا شاہکار مانی جاتی ہیں۔

ماضی کی تاریخی تصاویر اور مجسموں کے چہروں کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے اصلی چہرے بنا کر دکھایا گیا ہے کہ وہ حقیقت میں کیسے نظر آتے تھے۔ وقت کا ماضی میں سفر تو شاید ممکن نہ ہو لیکن بیکا صلاح دین نے ڈیجیٹل مہارت سے ان فن پاروں کے ماضی کی اصل تصاویر کی جھلکیاں فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تصاویر اور مجسمے ابھی تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ ہم ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے مونا لیزا اور اس کے مصور لینارڈو دا ونسی کے چہروں سمیت سیزر اور قلوپیٹرا جیسی مشہور شخصیات کو ہم ان کے اصلی چہروں میں دیکھ سکتے ہیں۔ بیکا صلاح دین نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے بنائی ہوئی ان تصاویر کی مدد سے ہمیں قدیم ترین تاریخی شخصیتوں کو حقیقی چہروں میں دکھایا ہے۔

(Source) -HOME / HISTORY
Designer Reimagines Famous Historical Figures as Modern People Living Today
By Jessica Stewart on January 29, 2020

Facebook Comments HS