اساتذہ کی غیر متعلقہ اور اضافی ذمہ داریاں اور ان کے نتائج


ہمارے گزشتہ مضمون ’پیشہ ورانہ خیانت‘  کے منظر عام پر آتے ہی کئی قارئین کے برقی خطوط، قیمتی آرا اور واٹس ایپ پیغامات آنا شروع ہو گئے کہ ہمارا مضمون حقیقت پر مبنی تو ہے تاہم اساتذہ کو بہت سارے ایسے غیر متعلقہ فرائض نہ صرف سونپ دیے جاتے ہیں جو ان کے بنیادی کام یعنی ’تدریس‘ سے کہیں دور ہوتے ہیں، ان کا قیمتی تدریسی وقت ان کاموں میں لگا کر تعلیم کے معیار کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان غیر متعلقہ کاموں کو انجام نہ دینے پر شوکاز نوٹس جاری کر کے اچھی خاصی جواب طلبی بھی مانگی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس ان اساتذہ کی تدریس میں غفلت، معیار میں کمی اور بے جا غیر حاضری پر کبھی بھی جواب طلبی نہیں ہوتی۔ اساتذہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے اصل فرائض کی کوتاہی کی وجہ سے انھیں بے شک شو کاز نوٹس جاری کیا جائے لیکن دوسرے امور کی انجام دہی کے لیے انھیں مجبور نہ کیا جائے۔ ان غیر متعلقہ امور کی فہرست بنانے بیٹھ گئے تو دماغ چکرا سا گیا کہ آخر وہ کون سے غیر متعلقہ کام ہیں جو اساتذہ کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ چناں چہ ہم نے ان اساتذہ سے غیر تدریسی کاموں سے متعلق معلومات لیں تو حیرانی ہوئی کہ یہ کام آخر اساتذہ کو کیوں دیے جاتے ہیں؟ اس ضمن میں یہاں اساتذہ کی اضافی ذمہ داریاں، ان کے نتائج اور مسائل پر قابو پانے کے لیے چند طریقوں پر گفتگو کی جائے گی۔

اساتذہ کو کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ نوجوان نسل کے ذہنوں کو تشکیل دینے، علم و ہنر سکھانے کے ذمہ دار ہیں جن کی انھیں زندگی میں کامیابی کے لیے ضرورت ہے۔ تاہم پاکستان میں اساتذہ کو اکثر ایسے فرائض انجام دینے کے لیے کہا جاتا ہے جن کا ان کے پیشے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ بھاری بوجھ ان کی تدریس سے متعلقہ صلاحیت کو کم کرتا ہے، اور ان کی فراہم کردہ تعلیم کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔

اساتذہ کے وہ فرائض جو ان کے پیشے سے متعلق نہیں ہیں، درج ذیل ہیں۔

الیکشن کی ڈیوٹی: الیکشن سیزن کے دوران، اساتذہ کو اکثر پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ آفیسرز یا پریذائیڈنگ افسر جیسی ڈیوٹی انجام دینے کو کہا جاتا ہے۔ ماشا اللہ پاکستان میں صوبائی، قومی اسمبلی کے انتخابات، بلدیاتی انتخابات اور ضمنی انتخابات کا سیزن اکثر آتا رہتا ہے جس میں اساتذہ کا کافی وقت ضائع ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مضمون جس پر عبور رکھتے ہیں، اور تدریس سے دور ہو جاتے ہیں۔

قومی مردم شماری: اساتذہ کو قومی مردم شماری میں مدد کے لیے بھی بلایا جاتا ہے، جس کے لیے انھیں گھر گھر جا کر ڈیٹا اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔ مردم شماری والا کام کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا ہے۔ اس کام کی وجہ سے اساتذہ کا کافی وقت صرف ہوتا ہے۔

پولیو کے خاتمے کے فرائض: بدقسمتی سے پاکستان ابھی تک پولیو سے باہر نہیں آ سکا۔ اساتذہ کو اکثر پولیو کے خاتمے کی مہم میں حصہ لینے کے لیے کہا جاتا ہے جس کے لیے ان سے بچوں کو قطرے پلانے اور ویکسینیشن کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک اہم اقدام ہے، لیکن یہ اضافی کام تعلیم کے معیار کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔

قدرتی آفات سے متعلق امدادی کام: قدرتی آفات جیسے زلزلہ اور سیلاب کے دوران، اساتذہ کو اکثر امدادی کاموں میں مدد کے لیے بلایا جاتا ہے۔ سماجی لحاظ سے یہ کار خیر اور اہم اقدام ہیں، لیکن اس سے تدریسی عملے کا بے تحاشا وقت ضائع ہوتا ہے اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت خلل پڑتا ہے۔

بڑے عہدہ داروں کے بچے سنبھالنا: بعض اساتذہ کے مطابق اسکول کے بڑے عہدے دار اکثر نئے یا جونئیر اساتذہ کو اسکول کے اوقات کار میں اپنے شیر خوار بچوں کو سنبھالنے کا کہتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ کلاسز چھوڑ کر بچے سنبھالنے کے لیے نکل پڑتے ہیں اور طلبہ مدر پدر آزاد ہوتے ہیں۔

انسداد ڈینگی مہم: اساتذہ کو اکثر انسداد ڈینگی مہم میں حصہ لینے کے لیے کہا جاتا ہے جس کے لیے انھیں اپنے اردگرد کی صفائی اور ڈینگی بخار کے بارے میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کے حوالے سے یہ ایک اہم اقدام ہے لیکن اس سے تعلیمی اہداف کے حصول میں رکاوٹ اور قیمتی تدریسی وقت کا بے دریغ ضیاع ہوتا ہے۔

عوامی تقریبات: کچھ اساتذہ کے مطابق بعض اوقات انھیں عوامی تقریبات جیسے پریڈ، ریلیوں، جلسوں اور مارچوں میں شرکت کرنے کا حکم ملتا ہے۔ اگرچہ یہ واقعات سماجی مقاصد یا قومی واقعات کو فروغ دینے کے لیے اہم ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں اسکولوں اور اساتذہ کا کافی وقت مفت میں ضائع ہوتا ہے اور یوں تعلیم کا معیار ناقص سے ناقص تر ہوتا ہے۔

زراعت کا کام: دیہی علاقوں میں اساتذہ کو بعض اوقات زرعی کاموں میں مدد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے فصلوں کی کٹائی، فصلیں لگانا یا فصلوں کو پانی دینا وغیرہ۔ اگرچہ یہ مقامی کمیونٹی اور کچھ زمین داروں کے لیے بہت اہم ہو سکتا ہے، لیکن اس کا شعبہ تعلیم و تدریس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

غیر متعلقہ کاموں کے نتائج:

اساتذہ کو غیر متعلقہ کام تفویض کرنے کے عمل کے کئی منفی نتائج نکلتے ہیں۔ سب سے پہلے، اس سے اساتذہ کو پڑھانے پر توجہ دینے کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ اضافی کام اساتذہ کی تدریس کے معیار کو متاثر کرتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے طلبہ پر پوری توجہ نہیں دے پاتے۔

دوسرا، یہ اساتذہ کے درمیان کشیدگی اور حسد کا سبب بنتا ہے۔ کچھ اساتذہ کو غیر متعلقہ کام تفویض کرنا ان کے کام کا بوجھ بڑھاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ لمبے وقت تک کام کرتے ہیں اور اپنی ذاتی زندگی کو نظرانداز کرتے ہیں۔ جب کہ کچھ اور علاقوں کے اساتذہ کو جب ایسے غیر متعلقہ کاموں سے دور رکھا جاتا ہے تو یہ اساتذہ کے درمیان کشیدگی اور حسد کا سبب بنتا ہے۔ نیز یہ تناؤ کے ساتھ ملازمت کے اطمینان میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

تیسرا، یہ اساتذہ کی برقراری کی شرح کو متاثر کرتا ہے۔ جب اساتذہ کو ایسے کام سونپے جاتے ہیں جن کا ان کے پیشے سے کوئی تعلق نہیں ہے، تو وہ مایوس ہو سکتے ہیں اور روزگار کے دوسرے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔ اس سے قابل اساتذہ کی کمی ہو سکتی ہے جس کا ملک میں تعلیمی معیار پر طویل مدتی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ کچھ دیہات میں اساتذہ تعینات تو ہوتے ہیں لیکن ایسے غیر متعلقہ کاموں کی وجہ سے ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بڑے قصبوں یا شہروں میں اپنا تبادلہ کروائیں تاکہ وہ صرف تدریس پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکیں۔ اس سے دیہات کے طلبہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔

چوتھا، یہ اساتذہ کے حوصلے کو متاثر کرتا ہے۔ جب اساتذہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایسے کام انجام دیں جن کا ان کے پیشے سے کوئی تعلق نہیں ہے، تو وہ کم قدر اور بے عزتی محسوس کر سکتے ہیں۔ اس سے ان کے حوصلے میں کمی واقع ہو سکتی ہے جس سے ان کی کارکردگی پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

اساتذہ کو غیر متعلقہ کام تفویض کرنے کے مسئلے کو قابو کرنے کے کئی طریقے ہیں۔

اضافی عملے کی خدمات حاصل کرنا: حکومت کو ایسے کاموں کو انجام دینے کے لیے اضافی عملے کی خدمات حاصل کرنے پر غور کرنا چاہیے جن کا تعلق تدریس سے نہیں ہے۔ اس سے اساتذہ پر بوجھ کم ہو جائے گا اور وہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

انتظامی کاموں کو کم کرنا: اسکولوں کو اساتذہ کو تفویض کردہ انتظامی کاموں کو کم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ کچھ انتظامی امور کلیرکل اسٹاف بھی بجا لا سکتے ہیں۔ اس سے اساتذہ کو تدریس پر توجہ مرکوز کرنے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں مزید وقت ملے گا۔

عارضی عملے کی خدمات حاصل کرنا: انتخابات اور مردم شماری جیسی سرگرمیوں کے لیے حکومت کو عارضی عملے کی خدمات حاصل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ ایسے عملے کو ٹریننگ دے کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ملازمتی امور کی تفصیلات کی فراہمی: حکومت کو اساتذہ کے لیے ملازمت کی واضح تفصیل فراہم کرنی چاہیے جو واضح طور پر ان کی بنیادی ذمہ داریوں کا خاکہ پیش کرے۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ اساتذہ کو غیر متعلقہ کام تفویض نہیں کیے گئے ہیں اور وہ اپنے بنیادی فرائض پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔

تربیت اور معاونت برائے تدریس: حکومت کو اساتذہ کو تربیت اور مدد فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ ان کاموں کے لیے تیار ہوں جو انھیں تفویض کیے گئے ہیں۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ وہ اپنی تدریسی ذمہ داریوں سے سمجھوتہ کیے بغیر ان کاموں کو موثر طریقے سے انجام دینے کے قابل ہیں۔

دیگر محکموں کے ساتھ تعاون: حکومت کو پولیو کے خاتمے کی مہم جیسے کاموں کا بوجھ بانٹنے کے لیے دیگر محکموں جیسے کہ محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ انسداد پولیو مہم بھی کامیاب ہو، اساتذہ پر بوجھ بھی کم ہو اور وہ پڑھائی پر توجہ دے سکیں۔

حرف آخر

پاکستان میں اساتذہ کو غیر متعلقہ کام سونپنے کا رواج ایک اہم مسئلہ ہے جو اساتذہ کے کام کے بوجھ میں اضافہ، ان کی تدریس کی بنیادی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت، تعلیم کے معیار اور اساتذہ کے حوصلے کو متاثر کرتا ہے۔ اس مشق کے نتائج میں تناؤ، تعلیم کا کم معیار اور قابل اساتذہ کی کمی شامل ہیں۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے حکومت کو اضافی عملے کی خدمات حاصل کرنے، انتظامی کاموں کو کم کرنے، مراعات فراہم کرنے، عارضی عملے کی خدمات حاصل کرنے، ملازمت کی واضح تفصیلات فراہم کرنے، تربیت اور مدد کی پیشکش، اور دیگر محکموں کے ساتھ تعاون پر غور کرنا چاہیے۔ اس مسئلے کو حل کر کے حکومت تعلیم کے معیار کو بہتر اور اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ اساتذہ اپنی بنیادی ذمہ داری ’تدریس‘ پر توجہ دے سکیں۔

’پیشہ ورانہ خیانت‘

Facebook Comments HS