پنجابی ثقافت اور گندم کی کٹائی


ہلکی ہوا میں ڈولتے گندم کے سنہری کھیت، درختوں کی سرسراہٹ کی آواز، کسانوں کی پشتوں پر ڈھلتی دھوپ اور تازہ کٹی ہوئی فصلوں کی مہک یہ وہ یادیں ہیں جن کے بارے میں سوچتے ہی یادوں کا خوشنما سیلاب امنڈ آتا ہے۔

ان دنوں گندم کی کٹائی ایک غیر معمولی کام نہیں تھا۔ یہ جشن کا وقت تھا، اقربا کے اکٹھے ہونے کا وقت تھا، مشترکہ محنت کرنے اور خوشی کا وقت تھا۔ کسان اور ان کے اہل خانہ صبح سے شام تک انتھک محنت کرتے، گندم کو درانتیوں سے کاٹتے اور پنڈلیوں میں باندھتے۔ عورتیں اور بچے پونیاں جمع کر کے مدد کرتے، جبکہ مرد گندم کو جھاڑ کر اور بھوسے کو الگ کرتے۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گرمی تقریباً ناقابل برداشت ہو جاتی، لیکن کسان اس وقت تک تگ و دو کرتے جب تک یہ کام مکمل نہیں ہو جاتا۔ وہ خود کو متحرک رکھنے اور وقت گزارنے کے لیے گانے گاتے اور کہانیاں سناتے۔ وہ گیت وہ کہانیاں محبت، وفاداری اور امید کے موضوعات سے بھری ہوتی تھی، جو انسانی دلوں کی خوشیوں اور غموں کی عکاسی کر رہی ہوتی تھی۔

کٹائی کا موسم کثرت اور فراوانی کا وقت تھا، ایک ایسا وقت جب پوری برادری جشن منانے کے لیے اکٹھے ہو جاتی تھی۔ پڑوسی اور دوست ایک دوسرے کی مدد کرتے، اپنی محنت اور وسائل مل جل کر بانٹتے۔ کسان اپنی زمین کی تازہ پیداوار سے تیار کردہ مزیدار کھانا پکاتے اور بانٹتے۔

بزرگ بتاتے ہیں کہ تقسیم ہند سے پہلے اور بعد تک بھی ہمارے ہاں بیساکھی کا جشن منایا جا تا تھا جو گندم کی کٹائی شروع ہونے پر پنجاب کا خوشیوں بھرا تہوار تھا جو سکھوں سے منسوب ہونے کی وجہ سے مذہب کی نذر ہو چکا ہے حالانکہ اس کا تعلق لوک ریت یعنی کلچر سے جڑا ہوا ہے۔ گندم کی فصل جب پک کر تیار ہو جاتی ہے تو کاشت کار کے چہرے پر ایک خوشی سی آ جاتی ہے

کاشتکار کو خوشی ہوتی ہے کہ اس فصل سے وہ اپنے خاندان کی خوراک کی ضروریات اور دیگر ضروریات پوری کرے گا سکھ مذہب کے بانی پنجابی تھے اور ان کے معتقد زیادہ تر غریب کسان تھے۔ انہوں نے گندم کی کٹائی شروع ہونے کے دن کو ایک طرح سے تہوار کی حیثیت دے دی۔ زمین سے، رزق سے جڑے ہوئے اس دن کو اس تہوار کو سکھوں کی ضد میں پس پشت ڈال دیا گیا اور بغیر کسی وجہ کے یہ مذہب کی نذر ہو گیا

رزق کا ملنا اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور نعمتوں پہ شکر ادا کرنا بھی فرض ہے اس پہ خوشی کے اظہار کو کوئی بھی سماج منع نہیں کرتا اور قرآن مجید میں تو اللہ نے واضح کہا ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا خوب چرچا کیا کرو

گندم کی فصل سے پورے سال کی معیشت وابستہ ہوتی ہے اسی فصل کے بل بوتے پر بچوں کی شادیاں کی جاتی ہیں جانور، کپڑے اور زیورات خریدے جاتے ہیں۔ ہمارے لوک گیت، بولیاں، ٹپے ماہیے اور دیگر شاعری کی اصناف میں اس کا بھرپور اظہار بھی ملتا ہے۔

شکر کی ادائیگی کے انداز میں اگر مقامی رسم و رواج شامل ہو جائیں تو اسے کوئی بھی الہامی مذہب منع نہیں کرتا

جیسے جیسے سال گزرتے گئے، پنجاب کا پرانا کلچر بدلتا گیا، اور گندم کی کٹائی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید مشینری نے لے لی۔ وہ گانوں اور کہانیوں کی جگہ جو کبھی ہوا بھرتے تھے ٹریکٹر اور تھریشنگ مشینوں کی آواز نے لے لی۔ برادری اور مشترکہ محنت کے احساس نے انفرادیت اور کارکردگی کو راستہ دیا۔

جب ہم نے ہوش سنبھالا تو ماحول خاصہ بدل چکا تھا اور کچھ اس طرح کے مناظر ہمیں بھی دیکھنے نصیب ہوئے اور وہ ماحول اور رونقیں اب دن بہ دن ہمیں مانند پڑتی نظر آ رہی ہیں، جو کہ پیش نظر ہے

جب تھریشر لگتی، کنک نکلتی تو کسانوں کے من نیم کی شاخوں پہ لگے بور کی طرح کھل جاتے۔ ہم بچوں کے گندمی رنگ بھی وساکھ کی دھوپ کی مانند چمک اٹھتے۔ گندم کی کٹائی سے پہلے خوابوں کا ایک دلکش سماں آنکھوں بسا ہوتا تھا کہ کھوں پہ جائیں گے۔ بھینسوں کے باڑے کے عقب والی بیر کے رتے لال بیر وٹے مار مار اتاریں گے یا جھانبڑ سے گرائیں گے اور جیب میں بھر کر ایک ایک مزے سے کھائیں گے۔ تھریشر سے اڑتی توڑی کے بگولوں میں سے بھاگ کر گزریں گے اور پھر ایک دوسرے کے بالوں، بھنووں، پلکوں اور چہرے پہ جمی باریک توڑی دیکھ دیکھ ہنسیں گے۔

ٹیوب ویل کے کھاڈے میں کھڑے پانی میں ڈبکیاں لگائیں گے اور کھڑے پانی میں اپنا عکس دیکھ کر بال سنواریں گے۔ ونگار والوں کے ساتھ مل کر زمیں پہ بچھے تان پر بیٹھ کر تنور کی روٹی، آلو گوشت اور سوجی کا حلوہ کھائیں گے۔ چاٹی کی کھٹی لسی پئیں گے۔ بھینسوں کی اکھرانی میں بیٹھ کر پل بھر میں اپنی الگ دنیا بسائیں گے۔ کسان بن بیٹھیں گے، کھیتی کریں گے، آبیاری کریں گے اور پکی فصل کاٹ لیں گے۔ پھیری والوں سے رینڈیاں، لچھے اور شکر قندی لے کر کھائیں گے۔

اور دانے گھر آئیں گے تو جھولی بھر مل جائیں گے۔ ایک دو جھولیاں کھسکا لیں گے اور بابے چراغ دین کی دکان پر بیچ کر ٹافیاں، ٹانگر اور متیرے کھائیں گے۔ ایک اور بھی مزے کا کام تھا۔ چاچا رحیم کمہار جب ڈھیری اٹھانے کھوہ پر اپنے کھوتے لے جاتا تو ہم بھی کسی کھوتے پہ سوار ہو جاتے۔ چاچا رحیم بھی اس دن خوش ہوتا تھا۔ سال بھر چکی سے آٹا پسوانے، گھروں کی لپائی کے لیے مٹی لانے، مٹی کے برتن دینے اور ڈھیری اٹھانے کی سیپی ملنے کا دن ہوتا تھا وہ۔ ہم بچوں کی یہ بات بھی خوشی خوشی مان لیتا تھا۔

کھیتوں سے، قطار میں رکھے گندم کے گٹھوں کے درمیان میں سے، ٹاہلی کیکر کے پیڑوں کے نیچے سے، جنگلی بوٹیوں پہ منڈلاتی رنگ برنگی تتلیوں کے پاس سے، بڑے شریہنہ کی جھکی شاخوں کو چھو کر ، بھیڑ بکریوں کے چرتے ریوڑ کو دیکھتے، پگڈنڈیوں پہ ٹیوب ویل جانے کا وہ مزہ کیسا تھا، ہم کتنے خوش ہوتے تھے، یہ کیسے بتائیں۔

دور سے تھریشر سے اڑتی گرد کے بادل دکھائے دیتے تو دل میں خوشی کی چھم چھم پھوار سی ہونے لگتی۔ تیز ہوائیں سنسنا رہی ہوتیں۔ و اور ولے چلتے تو گندم کی بندھی بھریوں کو جھنجھوڑ جاتے۔ کئی گٹھوں کو اتھل پتھل کر جاتے۔ جو گندم بندھی نا ہوتی اس کے چھوٹے چھوٹے مٹھے کئی کئی میٹر فضا میں اٹھا لے جاتے اور پھر تنکا تنکا بکھیرتے دور نکل جاتے۔ واورولوں کو گندم سے کیا بیر تھا یہ تو رب ہی جانے۔ واور ولے بھی سال بھر نا جانے کس گاؤں رہتے تھے۔ بس کنک کے موسم میں ہمارے گاؤں میں آتے تھے۔ کوئی کہتا اس میں بھوت ہوتے ہیں جو گھومتے جاتے ہیں۔ کوئی کہتا اس میں جوتا پھینکو تو پیسوں کا بھر کر نیچے گرے گا۔ بس الٹا نا گرے، الٹا گرا تو گندگی سے بھرا ہو گا۔ کئی بار جوتے پھینک کر ہم مایوس ہو جاتے کہ یہ بس کسی بچے نے بے پر کی اڑائی ہے۔ پیسے دینے والا و اور ولا ہمارے گاؤں نہیں آیا کبھی۔ یا پھر اس کے بھوتوں کی جیبیں ہی خالی ہوتی تھیں۔ بہت دور دوسرے کسی گاؤں میں شاید واورولوں کے بھوت بچوں کے جوتوں میں پیسے بھرتے ہوں گے۔ ہمارے گاؤں تو بس گندم تنکا تنکا کرتے اور دھول اڑاتے تھے۔

چاچا رحیم کمہار اور چاچا غفور تڑکڑی پہ دانے تول تول کر بوروں میں ڈالتے جاتے۔ ڈھائی ڈھائی من کے بورے بھرتے جاتے۔ گنتی بڑی مزے کی کرتے تھے۔

برکت آ جی۔ برکت آ جی۔ وادھے آ جی۔ وادھے آ جی۔ تن آ جی۔ تن آ جی۔

جب سب بورے بھر جاتے تو پھر پگڑی میں ٹنگا سوآ نکال کر بوروں کو سی دیتے۔ گدھوں پہ لاد کر واپس گاؤں کا رخ کرتے۔

دانے گھر کے صحن میں انڈیل دیے جاتے۔ پھر تھال، پراتیں، بٹھل لے کر ہم سب بھڑولی میں بھرتے۔ کچھ گٹوں میں ڈال کر رکھتے۔ باقی بیچ دیتے۔ کافی سارے لوگ کنڈے وٹے، گٹے لے کر آتے۔ تول لگتا اور بوریوں میں بھر بھر لائن میں رکھتے۔ پھر سوئے سے سیتے جاتے۔ لائن میں رکھی بوریوں پہ کھیلنے کا بھی اپنا الگ سواد تھا۔ پھر وہ لوگ کمر پر لاد کر ٹرالے میں بھر لیتے۔ پیسے دے جاتے۔ ان پیسوں سے ہم گاؤں والوں کے خواب اور سدھریں جڑی ہوتیں۔

ہماری زندگی کا ساماں ہوتا۔ ان سے گرمیوں کے کپڑے اور جوتے خریدے جاتے۔ بچوں کی سکول کی وردی سلوائی جاتی۔ گھر کا سودا سلف آتا۔ زندگی دھیرے دھیرے رواں رہتی لوگ اپنی فصل کی کٹائی کے بعد عزیز و اقارب کو تحائف دیتے جو عام طور پر کپڑوں کی صورت میں دیا جاتے تھے۔ اس ساری تگ و دو اور مشقت کے بعد دیہات میں اور رشتہ داروں میں شادیوں کا سلسلہ شروع ہو جا تا۔ کسان اپنی گندم سے حاصل کی ہوئی رقم جس میں اس کی خون پسینے کی کمائی ہوتی اس کو خوشی خوشی اپنی بیٹی کے جہیز پہ لگا کر الوداع کر کے خدا کا شکر ادا کرتے۔ لوگ شادیوں پہ جاتے تو ایک ایک ہفتہ وہیں قیام کرتے، اور تاروں بھری رات کے سائے میں رات کو ایک سنگیت کا خوبصورت سماں برپا کیا جاتا۔

گندم کے خوشوں میں دانے نہیں، ہمارے خواب بھی بستے ہیں۔ گندمی رنگ کے لوگوں کے سنہری سٹوں میں بھرے ننھے ننھے سپنے۔ دھرتی کی خیر ہو۔ گندم آباد رہے۔ خواب اگتے رہیں۔ خوشوں میں بھرے ننھے سپنوں میں سورج کی کرنیں یوں ہی بسیرا کرتی رہیں۔

لیکن اب بھی، جب ہم ان پرانے دنوں کو پیچھے دیکھتے ہیں، تو ہم پرانی یادوں اور تڑپ کے احساس کے سوا مدد نہیں کر سکتے۔ ہم اس زمانے کی سادگی اور خوبصورتی کے لیے، اس تعلق اور برادری کے احساس کے لیے جو اس نے مجسم کیے تھے۔ ہم ان گانوں اور کہانیوں کے لیے ترستے ہیں جو ایک بار زندگی کی امید دیتے تھے، اس تازہ کٹی ہوئی گندم کے ذائقے اور اپنی پیٹھ پر سورج کی تپش کے لیے ترستے ہیں۔

پرانے پنجاب کی ثقافت میں گندم کی کٹائی محض ایک کام سے زیادہ نہیں تھی۔ یہ زندگی کا ایک طریقہ تھا، زمین اور اس کے لوگوں کا جشن تھا۔ یہ حسین یادوں کا وقت تھا، خوشی اور احساس کا ، محبت اور امید کا ۔ اور اگرچہ وہ دن چلے گے لیکن وہ ہمیشہ ہمارے ورثے کا حصہ رہیں گے۔

Facebook Comments HS