گھر کے چراغ سے


تاریخ کس قدر ظالم ہو سکتی ہے اس بات کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب میں ہسٹری آف پاکستان کی سٹوڈنٹ بنی اور مجھے اس پر ایک جامع کتاب تحفے میں ملی۔ اگرچہ اس کتاب کا پلاٹ اتنا جارحانہ نہیں تھا مگر پھر بھی میری کم علمی اور ناکافی مطالعہ کے سامنے یہ حقائق کافی توجہ طلب تھے۔

میں اکثر جب حالات حاضرہ پر لکھاریوں کے کالم پڑھتی ہوں تو اس میں یہ اشارتاً پاکستان کے ابتدائی دس پندرہ سالوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی تلقین ضرور کرتے ہیں اور یہ بات اب مجھے بالکل درست لگنے لگی ہے کیونکہ اگر ہم ان سالوں کا بغور مطالعہ کر کے اس سے سبق سیکھ لیں تو شاید اپنی سمت کا تعین باآسانی کر لیں۔

پہلے وزیراعظم کو اندرونی طور پر کن مشکلات کا سامنا تھا اور ممدوٹ بمقابلہ دولتانہ قصہ کیا تھا؟ تاریخ کے طلباء کی نظر سے یہ معاملات پوشیدہ نہیں ہوں گے اور پھر جناب لیاقت علی خان کے قتل سے خواجہ ناظم الدین کی برطرفی تک کے معاملات بھی۔ وفاق مذہبی فسادات کو صوبائی حکومت کی نا اہلی قرار دیتا رہا جبکہ صوبائی حکومت اس کا ذمہ دار وفاق کو ٹھہراتی رہی اور اس وقت کے گورنر صاحب نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے سیکشن نمبر دس کا غیر قانونی استعمال کیا کیوں کہ پاکستان بننے کے بعد اس کے پاس اس کا اختیار ہی نہیں تھا۔ گورنر جرنل خود وزیراعظم کی ایڈوائس پر ہی مقرر ہوئے تھے ناکہ برٹش دور حکومت کی طرح لندن سے۔ مگر کیا آج تک اس کی تحقیقات ہوئیں کہ یہ ظلم کیوں کیا گیا؟ خواجہ ناظم الدین ملک کی اکثریتی پارٹی کے نمائندہ تھے تو پھر ملک کی اکثریت کے ووٹ کو یوں سبوتاژ کیوں کیا گیا؟

یہ وہ خواجہ ناظم الدین تھے جو کہ 1943 سے 1945 تک بنگال کے وزیراعظم رہے تھے، 1947 سے 1948 تک مشرقی بنگال کے وزیر اعلی تھے، 1048 سے لے کر 1951 تک پاکستان کے گورنر جنرل رہے 1951 سے 1953 تک مسلم لیگ کے صدر رہے، 1951 سے 1953 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے۔ اتنے سارے انتظامی عہدوں پر رہنے کے باوجود بھی وہ ان سازشوں کا مقابلہ نہ کر سکے جو ایک طرح سے ان کے ماتحتوں نے ان کے خلاف کیں۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو برخاست کرنے کا پورا پورا بندوبست کیا گیا تھا جن میں لسانی اور مذہبی فسادات کے علاوہ غذائی بحران بھی پیدا کیا گیا تھا۔ بھوکی قوم کا پیٹ بھرنے کے لئے مستقبل کے ان داتا امریکہ بہادر سے گندم بھی منگوائی گئی تھی جسے اونٹ گاڑیوں پر لاد کر کراچی کی سڑکوں پر گھمایا گیا تھا اور اونٹوں کے گلے میں تختیاں لٹکائی گئی تھیں جن پر ”تھینک یو امریکہ“ لکھا ہوا تھا۔

اس کے بعد محمد علی بوگرہ صاحب کے سر پر وزارت عظمیٰ کا ہما بٹھا دیا گیا جو کہ اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ جیسے ہی میں یہاں پہنچی تو مجھے سابق وزیراعظم عمران خان کی رجیم چینج والی بات دماغ میں آ گئی اور ایک دن فیس بک لائیو پروگرام میں میرے ساتھی اینکر نے بھی اس رجیم چینج کو کلی مسترد نہیں کیا تھا اور ویسے بھی ہماری تاریخ یوں باہر بیٹھے افراد کا بریف کیس اٹھا کر پاکستان میں آ کر اہم کرسیوں پر بیٹھ جانا اور چند سالوں بعد واپس پرانی نوکریوں پہ چلے جانا کوئی نئی بات تو نہیں مگر میرے ساتھی اینکر نے یہ بھی کہا کہ رجیم چینج کی بات تو سچ ہے مگر پورا سچ نہیں اور عمران خان کو پورا سچ بولنا چاہیے۔ لیکن میں یہ کہتی ہوں عمران خان پورا سچ بولیں یا نہ بولیں تاریخ ضرور سب کچھ دکھا ہی دیتی ہے جلد یا بدیر۔ اور جلتے گھر کے باسی کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

Facebook Comments HS