انا کا بت

ملک عزیز گزشتہ کچھ عرصہ سے آئینی و سیاسی بحران میں مبتلا ہے اور آئے روز اس میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی لڑائی بڑھتے بڑھتے اب اداروں کی لڑائی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وجہ سے آئینی اور ملکی سلامتی کے ذمہ دار ادارے اور ان کے سربراہان شدید تنقید کی ضد میں ہیں۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کا موقف ماننا تو درکنار سننا تک گوارا نہیں کر رہیں۔ سوشل میڈیا پر سیاسی کارکنان اپنے اپنے لیڈرز کی قصیدہ گوئی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ ملک، معیشت، آئین، قانون، اخلاق، اصول اور ضوابط قصہ پارینہ بن چکے۔
غیر ذمہ دارانہ بیانات اور اشتعال انگیز تقاریر نے معاشرے کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے اور یہ تقسیم اب صرف سیاسی نہیں رہی بلکہ ملکی آئینی اور سلامتی کے ذمہ دار اداروں تک جا پہنچی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جرنیلوں اور ججز کے باہمی اختلافات بند کمروں سے نکل کر سڑکوں اور پارکس تک جا پہنچے ہیں۔ انا کے سرکش گھوڑوں پر سوار سیاسی قیادت اور اداروں کے سربراہان اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لئے ملک کو داؤ پر لگانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ان کو ملکی معیشت کے ڈوبنے کا غم ہے نہ آئی ایم ایف کے سامنے لکیریں کھنچنے کا دکھ،
ملک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کا احساس ہے نہ دہشت گردی و لاقانونیت کے سر اٹھانے کا کوئی ادراک،
روز بروز بڑھتے ملکی مسائل کا روگ ہے نہ بڑھتی مہنگائی کا کوئی خدشہ۔
ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہے تو ان کی بلا سے،
گزشتہ آدھے سال سے آئی ایم ایف سے ناک سے لکیریں نکالنے کے باوجود معاہدہ ہو نہ ہو ان کو کیا پرواہ۔
دوست ممالک کنارہ کش ہو جائیں ان کو کیا واسطہ،
معیشت ڈوب چکی، مہنگائی کا عفریت سفید پوش طبقہ کو نگل چکا، عام آدمی ملک کے مستقبل سے مایوس ہو چکا، صاحب ثروت لوگ اپنے جوان بچوں کو تعلیم کے نام پر بیرون ممالک منتقل کرنے کے درپے۔ مقتدر حلقوں کے علم میں شاید یہ بات ہو گی کہ گزشتہ اور رواں برس نوجوان طالب علموں کی سب سے زیادہ تعداد بیرون ملک جا چکی اور اس وقت بھی ملک بھر میں ٹریولنگ ایجنسیز کے دفاتر میں ہزاروں نوجوانوں کے یورپ، آسٹریلیا، برطانیہ و دیگر ممالک جانے کے لئے کیسز پڑے ہوئے ہیں۔ ان افراد کا بیرون ملک جانے کا مقصد صرف تعلیم اور حصول روزگار نہیں بلکہ یہ ملکی مستقبل سے مایوسی اور ملکی قیادت اور اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار بھی ہے۔ یہ عدم اعتماد ملکی مستقبل اور سلامتی کے لئے سنگین خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ جنہوں نے ان خطرات کی حدت کو کم کرنا تھا وہ ذاتی لڑائیوں میں مصروف ہیں۔ پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کا یک نکاتی ایجنڈا عمران خان کو سیاسی طور پر رستے سے ہٹانا ہے اس کے لئے موجودہ حکومت ہر حد تک جاتی نظر آتی ہے دوسری طرف سابق وزیر اعظم عمران خان صاحب کی پوری کوشش اپنے آپ کو گرفتاری سے بچانا ہے اس کے لئے چاہے انسانی ڈھال کو بطور ہتھیار ہی کیوں نہ استعمال کرنا پڑے۔ دونوں متحارب سیاسی گروہ اپنی اپنی انتہاؤں پر مورچہ زن ہو کر ایک دوسرے کے خلاف گولہ باری میں مصروف ہیں اور اس جنگ میں دونوں گروہ ملکی اداروں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر فریق بنائے ہوئے ہیں۔
دونوں گروپس کے سیاسی کارکنان سوشل میڈیا پر آئینی اداروں، ان کے سربراہان، سلامتی کے ذمہ دار اداروں اور ان کے سربراہان کو تختہ مشق بناتے ہوئے ایک طوفان بدتمیزی بپا کئیے ہوئے ہیں۔ گالم گلوچ، بد اخلاقی، بدزبانی، اخلاق کے دائرہ سے نکلی ہوئی گفتگو اور لچر پن کا ایک طوفان ہے جس نے سوشل میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بڑا محفوظ ہے نہ چھوٹا، علمی شخصیت محفوظ ہے نہ ادبی، علماء محفوظ ہیں نہ صحافی، حکومت محفوظ ہے نہ اپوزیشن، ججز اور جرنیل تو خاص ہدف بن چکے، فیصلے کرنے والے کنفیوژن کا شکار ہو چکے، مرضی کا آئین مرضی کی تشریح، ذاتی مفادات پر مبنی قانون سازی اور اس کا رستہ روکنے کا انداز بھی غیر آئینی، جج جج کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آچکے، جرنیل جرنیل پر الزام تراشی کر رہے۔ آنے والے جانے والوں کو مورد الزام ٹھہرا کر پتلی گلی سے نکلنے کے لئے کوشاں، جانے والے وعدے پورے نہ ہونے پر مشتعل۔
ایسے میں آئینی درخواستوں پر سماعت کے لئے بننے والے بینچز میں ججز کے نام دیکھ کر ایک چھابڑی فروش بھی سماعت سے پہلے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ممکنہ فیصلہ سنانے کا اہل ہو گیا، کہاں کا جج کہاں کا وکیل، کیا سماعت اور کیا دلائل، کون سا قانونی نکتہ اور کون سا حوالہ، کون سی عدالت اور کون سی درخواست، ملزم اور منصف کا نام بتاؤ لکھا لکھایا فیصلہ حاضر۔
تقسیم انتہاؤں کی خطرناک بلندیوں پر پہنچ چکی، ملکی سلامتی داؤ پر لگ چکی۔ اس بات میں تو دو رائے نہیں کہ جج، جرنیل، ادارے اور سیاسی قیادت اس ملک کی مرہون منت ہے۔ خدانخواستہ ملک نہ رہا تو پھر کچھ نہیں رہے گا، سقوط ڈھاکہ کا زخم ابھی بھرا نہیں، مگر ہم تاریخ سے سبق حاصل کرنے کو تیار نہیں، پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے سربراہ کے طور پر محترم چیف جسٹس صاحب کو اپنی آئینی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ملک کے بڑے کے طور پر بھی اس بھڑکتی آگ کو بجھانے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا، سیاسی جماعتوں کی طرف سے امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم جناب سراج الحق صاحب نے پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لئے ایک بروقت اور صائب کوشش شروع کی ہے، سیاسی قیادت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ان کی اس کاوش کو غیبی امداد سمجھتے ہوئے ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک میز پر بیٹھ کر ذاتی اختلافات سے بالا تر ہو کر ملکی معیشت، استحکام اور مستقبل کے متعلق مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ ملکی مسائل جن کے پیدا کردہ ہیں ان کو اس کے حل کے لئے یکسو ہو کر انا کے بت کو پاش پاش کرنا ہو گا۔ انا، ضد، ہٹ دھرمی اور ملک کی محبت ایک جگہ یکجا نہیں ہو سکتی، ملک کے لئے، قوم کے لئے اور غریب عوام کے لئے ذاتی انا کے بت کو توڑ کر دیکھیں یہ فیصلہ آپ کی عزت میں یقیناً اضافے کا باعث ہو گا۔

