پیوند لگی شلواریں
تحریر: رسول پرویزی
ترجمہ: عارف ظہیر بھٹی
غم و خوشی کا باہم مسابقہ رہتا ہے۔ سکول کا صحن ہنسی اور رونے میں غرق تھا۔ جو شاگرد سکول کے دالان سے گزرتا، اس کا چہرہ اترا ہوا ہوتا۔ لیکن جیسے ہی صحن میں پہنچتا بچوں کی خوشی کا ایک ریلا اسے گھیر لیتا۔ تب وہ بھی باقی بچوں کے طرح ہنسنے لگتا۔ اس ہنسی کا سبب لباس تھا۔
ماجرا کیا تھا؟
ہیڈماسٹر آغا نے سو بار کہا تھا کہ پینٹ کوٹ پہن کر آؤ لیکن کسی نے بھی ان کی بات پر کان نہ دھرا۔ شاگرد اسی طرح عبا، سرداری، عمامہ اور کلاہ قجری کے ساتھ سکول آتے۔ آخر اس روز ہیڈماسٹر آغا نے عاجز آ کر ایک فٹ، ایک قینچی اور ایک میز کو سکول کے دروازے کے قریب رکھا۔ جو کوئی بھی سکول میں وارد ہوتا اور پینٹ کوٹ اور پہلوی ہیٹ نہ پہنا ہوتا، فوراً اس کی عبا یا سرداری، قبا یا ارخالق کو اتارتے اور فن خیاطی کی رعایت کیے بنا، فٹ رکھتے اور اس کے پہلو میں قینچی رکھتے۔ سرداری، عبا یا قبا کو کاٹ دیتے۔ شاگرد تاسف کے ساتھ کٹے ہوئے لباس کو پہنتے، منہ لٹکا کر سکول کے صحن میں داخل ہوتے۔ ذرا سوچیں اور اپنے تصور خیال میں یہ منظر لائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ کیا مضحکہ خیز چیز سامنے آتی ہے۔
قانون اتحاد شکل کا اجرا زور و شور سے جاری تھا۔ لیکن روحانیان اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ سکول کی طرف سے زور ڈالا جا رہا تھا کہ پینٹ کوٹ پہنو۔ سکول کے باہر شہر میں شور اور ہنگامہ تھا کہ پینٹ کوٹ نہ پہنو۔ مخالف انجمنیں قانون اتحاد شکل کی تعمیل نہیں کر رہی تھیں۔ مقامی گروہ مزاحمت کر رہے تھے۔ ایک علی دراز تھا جو کہ آج کل کے لوگوں کے نزدیک فتنہ پرور اور بلوہ پسند تھا۔ جب بھی شہر کا نظم درہم برہم کرنا ہوتا، کوئی ہنگامہ کرنا ہوتا، حاکم کو معزول کرنا ہوتا یا روٹی کی قیمت کم کرانی ہوتی تو علی دراز کو بلایا جاتا۔ علی دراز کا ایک دوسرا لقب بھی تھا۔ اپنے علاقے میں وہ ’نہ نہ بچا‘ کے نام سے معروف تھا علی دراز کا طریقہ کار کچھ یوں تھا:
ہاتھ میں اپنے قد سے بھی لمبی لاٹھی تھامے گلی کی نکڑ پر نمودار ہوتا۔ کوئی شعر یا کلام پڑھتا۔ کبھی تالیاں بجاتا۔ جیسے ہی رذیل اور اوباش لوگ اس کے گرد جمع ہوتے تو چل پڑتا۔ جب پہلوی ہیٹ اور پینٹ کوٹ شیراز میں آئے اور سب کو جبرا پہننے کے لئے کہا گیا تو مخالفین نے مزاحمت کی ہر ممکن کوشش کی۔ علی دراز کے ٹولے کو بلایا۔ علی دراز تالیاں بجاتے ہوئے اپنے ٹولے کے آگے آگے چلتا اور اپنا کلام پڑھتا جس کے ایک دو شعر مجھے یاد رہ گئے ہیں۔
دسمال آبی نمی خوایم
حاکم بابی نمی خوایم
کلاہ فرنگی نمی خوایم
ہمیں نیلا رومال نہیں چاہیے
ہمیں بوبی حکمران نہیں چاہیے
ہمیں فرنگی ٹوپی نہیں چاہیے
جیسے ہی کسی ایسے شخص کے پاس پہنچتا جو پہلوی ہیٹ پہنے ہوتا۔ لاٹھی کو تمام قوت کے ساتھ اسے مارتا۔ ہیٹ اس کے سر سے اتارتا اور پھاڑ دیتا۔ میں نے خود اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھا کہ اس نے میدان مولا میں ایک باعزت سرکاری عہدے دار کو پکڑا۔ اس کے ہیٹ کو تار تار کر دیا اور میں ڈر کے مارے اپنے ہیٹ کو ٹانگوں میں دبائے وہاں سے دور بھاگا۔ میں اتنا ڈر چکا تھا کہ قریب تھا کہ جان ہی نکل جاتی۔ یہ علی دراز واقعی بہت خطرناک بدمعاش تھا۔ کچھ دنوں بعد جب شہر میں حکومت کا کنٹرول بحال ہو گیا اور علی دراز کو گرفتار کر کے لوگوں کے سامنے کوڑے لگائے گئے۔ کوڑے لگنے کے دوران بھی وہ اپنی مسخرگی اور شرارت سے دست بردار نہ ہوا اور اپنے اسی کلام کو پڑھتا رہا
دسمال آبی نمی خوایم
حاکم بابی نمی خوایم
کلاہ فرنگی نمی خوایم
سرکاری ملازم اور سکولوں کے شاگرد عجیب مشکل سے دوچار تھے۔ سکول اور دفاتر میں مجبور تھے کہ متحد الشکل ہوں۔ باہر وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا کریں۔
بعض کے سر پہ عمامہ ہوتا تن پہ عبا ہوتی۔ عبا کے نیچے پینٹ کوٹ پہن رکھا ہوتا پہلوی ہیٹ کو رومال، تھیلے یا تولیے میں لپیٹ کر ہاتھ میں تھاما ہوتا۔ سکول یا دفتر کے باہر تعزیہ خوانوں کی طرح اپنا حلیہ تبدیل کرتے۔ عبا اتارتے اور پہلوی ہیٹ کو سر پہ رکھتے۔ خیر ہماری کہانی اس روز کے بارے میں ہے جس دن بچے دم کٹے جانوروں کی مانند ہو چکے تھے۔
کسی کی سرداری آدھی ہے اور چوں کہ ہیڈماسٹر بزرگوار نے صرف قینچی چلائی تھی، اس کی درز کو سیا نہیں تھا۔ نیچے سے سرداری یا ارخالق کا استر باہر نظر آ رہا تھا۔ شلواریں نیفوں تک نظر آ ری تھیں۔ اس سے قبل شاگردوں کی شلواریں ان کی سرداری یا قبا کے نیچے چھپی ہوتی تھیں، ظاہر ہو گئیں اور گھڑیال کے پنڈولم کی مانند دائیں بائیں حرکت کر رہی تھیں۔ شلوار کے آسن پر لگے بے ڈھنگے پیوند نظر آ رہے تھے۔ کچھ پیوند عجیب و غریب قسم کے تھے۔
مثلاً کرامت کی شلوار سفید فلالین کی تھی۔ یہ شلوار اس کے والد کی پرانی شلوار کا بقایا تھا۔ جسے بہت سال استعمال کرنے کے بعد کاٹ کر کرامت کو پہننے کے لئے دیا تھا۔ شلوار کی پچھلی جانب، ٹھیک نشست والی جگہ پر دو پیوند لگے تھے۔ ایک بیضوی شکل کا خاکی رنگ کا ریشمی اور دوسرا پرانی ململ کا کالے رنگ کا گول تھا۔ ذرا چشم تصور میں لائیں کہ گھس چکی سفید فلالین اور اس پر لگا ایک ریشمی اور دوسرا ململ کا پیوند، ایک خاکی رنگ کا اور ایک کالے رنگ کا، کیسا رقت انگیز منظر سامنے آتا ہے۔
باقی بچوں کا حال بھی ویسا ہی مضحکہ خیز تھا۔ وہ دن قیامت کبری تھا۔ چھپے ہوئے عیب ظاہر ہو چکے تھے۔ لیکن ان تمام عیوب کا اثر طالب علموں پر الٹا ہوا۔ بجائے اس کے کہ اکٹھے ہو کر گریہ و زاری کرتے اور ایک دوسرے کی پیوند لگی شلواروں سے عبرت پکڑتے، تیتروں کی مانند چہک رہے تھے، ہنس رہے تھے، تالیاں بجا رہے تھے اور ایک دوسرے کا ٹھٹھا اڑا رہے تھے۔ اسی دوران کلاس لگنے کی گھنٹی بج گئی۔
٭٭٭٭٭
گھنٹی نے اس مسخرگی کا خاتمہ کیا۔ دم کٹے شاگرد قطاروں میں لگ کر اپنی اپنی کلاسوں میں جانے لگے۔ یہ وقت دوپہر کا تھا۔ بہار کی دوپہر۔ سکول کے صحن میں جس قدر شادمانی، خوشی اور حرکت تھی، کلاس میں ماتم زدگی اور سوگ کا راج تھا۔
جن لوگوں نے پرانے سکول دیکھ رکھے ہیں انھیں معلوم ہے کہ کس قدر تنگ و تاریک کمرے تھے۔ زیادہ تر زندان کی مانند تھے۔ شاگرد ان کمروں میں بے زار بیٹھتے تھے۔ خاص طور پر بہار کے دنوں میں اور وہ بھی دوپہر کے وقت شیراز جیسے شہر میں۔
شیراز کی بہار مست کر دینے والی تھی۔ فضا میں مدہوشی اور سرشاری ہوتی ہے۔ ہوا سانس کے ذریعے انسان کا حال یوں مست کر دیتی ہے کہ جام دل عشق و آرزو سے لبریز ہو جاتا ہے اور کام کی باتیں فراموش ہو جاتی ہیں۔ بچوں کا دل چاہتا ہے کہ میدانوں کا رخ کریں اور گندم و جو کے کھیتوں میں بانسری بجائیں۔ جوان اپنے عشق کی خبر گیری کرتے ہیں۔ بوڑھے جوانی کی خواہش کرتے ہیں۔ اس موسم میں اس شہر میں کام دھندے کی باتیں کرنا بالکل بے معنی گفتگو ہے اور طالب علموں کے لئے تو زیادہ بے معنی ہے۔
اس حال میں ہم سب اس زندان میں جس کا نام کلاس تھا، بے حوصلگی کے ساتھ بیٹھے تھے۔ صحن کی خوشی و مسرت مر چکی تھی۔ گویا موت کی آندھی پورے سکول پہ پھر چکی تھی ان پر جو قہقہے لگا رہے تھے اور اپنے دوستوں کی کٹی ہوئی قبا کا مذاق اڑا رہے تھے، کلاس میں دو زانو بیٹھے حسرت کے ساتھ کلاس کے رنگا رنگ شیشوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ بینچوں پر آزاد اور شور مچا رہی چڑیوں کو باندھ کر قید کر لیا گیا تھا۔ کلاسیں کوفت کاری کی جگہ تھیں بجائے درس پڑھانے کے۔
آزار و شکنجہ تھا، نہ کہ تعلیم و تربیت۔ معلم بد زبان، بد اخلاق اور شمر صفت تھے۔ گویا انھیں اپنے دشمنوں سے سروکار پڑا ہے نہ کہ معصوم اور بھولے بھالے بچوں کے ساتھ۔ بانس کی چھڑیاں، فٹ اور مار پیٹ تھی۔ خاموشی، تھکاوٹ اور پریشانی تھی۔ سکول نہیں تھا، زندان تھا۔ مرگ سیاہ تھا۔ حقارت آمیز تھپڑ اور لاتیں تھیں۔ آپ کہیں گے کہ ان سکولوں میں اگر یہ کثافت کاری ہوتی تھی تو درس و سبق بھی تو پڑھاتے تھے۔ بھاڑ میں جائے ایسا درس و تعلیم۔
ایک بے فائدہ اور لایعنی چیز کو دماغوں میں بٹھاتے اور روح انسانی کو ذلیل و رسوا کرتے تھے۔ بے کار، سست اور خود پسند انسان جو پرندے کا پاؤں تو کھول نہیں سکتے لیکن دعوے بہت بڑے بڑے کرتے تھے۔ ہمیں سکول سے ڈر لگتا تھا۔ صبح زندان جاتے اور عصر کے وقت واپس آتے۔ ان تمام رنج و اذیتوں کے درمیان صرف ایک دل خوشی تھی اور وہ میرزا جواد خان کا پیریڈ تھا۔
میرزا جواد خان ہمارے تاریخ کے معلم تھے۔ خوش مشرب افیونی تھے۔ ان کا پیریڈ دوپہر کے وقت رکھا گیا تھا۔ میرزا جواد خان افیون بہت زیادہ پیتے۔ اس مخدر نے مرد افگن کی طبیعت کو نرم کر دیا تھا۔ دن کے شروع کے پیریڈوں میں مخمور و سرشار رہتے اور عالم خیال کی سیر کرتے رہتے۔ جب ٹھوڑی ہلنے لگتی تو اس وقت بولنا شروع کرتے اور ہمیں تاریخ باستانی پڑھاتے۔ اتنی شیریں گفتگو ہوتی کہ سننے والا محسور ہو کر رہ جاتا۔ خوب صورت لفظوں کا اک سیل روا ان کے منہ سے نکلتا۔
بعض اوقات اس قدر دل نشین درس دیتے کہ شاگرد مبہوت ہوئے، منہ کھولے ان کی طرف دیکھ رہے ہوتے۔ جب میرزا جواد خان کے منہ سے لفظوں کا ایک درخشاں آبشار جاری ہوتا تو شاگرد تاج کاؤس، کمر کیخسرو، رقص شیریں اور شاہ حسین صفوی کی حماقتوں کو گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے۔ میرزا جواد خان کی باتیں اس قدر مدہوش کر دیتی کہ ہمیں دیگر کلاسیں، ہیڈماسٹر کی ضربیں اور معلموں کی اذیتیں بالکل فراموش ہو جاتیں۔ اتفاق سے اس روز جب ہماری دمیں کاٹی گئیں، تاریخ کا پیریڈ تھا۔
٭٭٭٭٭
”خبردار!“ ۔ سب بچے کھڑے ہو گئے۔ میرزا جواد خان ٹہلتے ٹہلتے کلاس میں وارد ہوئے اور آرام سے اپنی کرسی پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے قانون اتحاد شکل کی تعمیل تو کی تھی لیکن غربت کے سبب قانون کے ساتھ دست درازی بھی کی ہوئی تھی۔ نئے پینٹ کوٹ کے بجائے ان کے تن پر ایک پرانا اوور کوٹ تھا۔ تاریخ کے معلم کے اوور کوٹ کی تاریخ کرامت کی فلالین کی شلوار سے کم نہیں تھی۔ جب معلموں کو وزارت تعلیم کی جانب سے پینٹ کوٹ پہننے پر مجبور کیا گیا تو میرزا جواد خان کے پاس، پینٹ کوٹ سلوانے کے لئے نیا کپڑا خریدنے کی سکت نہیں تھی۔
چنانچہ آسان راہ کا انتخاب کیا اور چٹائیاں بنانے والوں کے ہاں (شیراز کے لنڈا بازار) پہنچے۔ وہاں ایک گھسا ہوا اوور کوٹ، جس کے کالروں کا چمکدار اطلس ابھی سلامت تھا، خریدا۔ یہ کوٹ ایک ارمنی نژاد کا تھا جو کہ شاہی بینک میں مترجم تھا۔ جب ارمنی یہاں سے جانے لگا تو اپنی تمام پرانی چیزیں چٹائیاں بنانے والوں کے ہاں بیچ گیا۔ آپ جانتے ہیں کہ ارمنی موٹے ہوتے ہیں۔ یہ اوور کوٹ ارمنی مترجم کے ڈیل ڈول کے ناپ کا تھا۔
میرزا جواد خان کی افیونی نحیف جسم کے سائز کا نہیں تھا۔ لیکن اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ جب وزارت تعلیم کے جانب سے سرکلر جاری ہوا کہ معلم پینٹ کوٹ پہنیں۔ اگر میرزا جواد خان مزاحمت کرتے تو ان کی نوکری جا سکتی تھی۔ اس اوور کوٹ سے میرزا جواد خان کی شان شوکت ماند پڑ رہی تھی۔ انھیں خود یہ معلوم تھا۔ اسی وجہ سے جیسے ہی بچوں کے چہروں سے معلوم ہوا کہ انھیں یہ اوور کوٹ پسند نہیں آیا تو بنا دیر کیے فوراً پڑھانا شروع کیا۔
”بچوں! میں پہلے پچھلا سبق سنوں گا۔ پھر اگلا سبق پڑھاؤں گا۔ کرامت! یہاں آؤ۔“
کرامت اس ہیئت کذائی میں اٹھا۔ ہمت نہ ہوئی کہ بینچوں کے درمیان سے گزر کر معلم کے سامنے جائے۔ وہیں کھڑا رہا اور بنا ہلے معلم کے سوال کا جواب دینے لگا۔
”کرامت! بتاؤ ہماری تاریخ کتنی پرانی ہے؟“
”آغا! ہماری تاریخ دو ہزار سال پرانی ہے۔“
نہیں معلوم یہ کیسے ہوا۔ جیسے ہی کرامت کے منہ سے دو ہزار نکلا، میں اس کے پیچھے بیٹھا تھا، میری نظر کرامت کی شلوار پر لگے پیوندوں پر پڑی اور میری ہنسی نکل گئی۔
”بتاؤ! کون سے بادشاہ نے دو شیروں کا سر کاٹا؟“
”آغا! بہرام گور تھا۔ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کا باپ مر گیا۔ تاج دینے کے بجائے اسے فریب دینے کی کوشش ہوئی۔ چونکہ وہ شجاع تھا اس لئے اسے فریب نہ دے سکے۔ بزرگان قوم نے صلاح کہ بہرام گور اپنی اہلیت ثابت کرے۔ انھوں نے تاج کو دو شیروں کے درمیان رکھا اور کہا اگر تم بہادر ہو اور تمہارا یہ کہنا درست ہے کہ سلطنت تمہارا ہی حق ہے تو جاؤ اور تاج اٹھا لو۔ بہرام گور نے بھی بزدلی نہ دکھائی۔ تلوار میان سے باہر نکالی۔ پہلے ایک شیر کا سر اڑایا اور پھر دوسرے کا۔ جب دونوں شیروں کو مار لیا تو تاج اٹھا لیا۔“
دوبارہ معلوم نہیں کون سے مرض نے مجھ پر حملہ کیا۔ جیسے ہی ’دو شیر‘ کلمہ سنا۔ میری نظر کرامت کے پیوند کی طرف گئی۔ مجھے لگا کہ پیوند دو شیر کی شکل میں ڈھل گئے ہیں۔ نظریں چندھیا گئیں۔ بدتر یہ کہ میری نظر میں شیروں کی شکل مجسم ہو گئی اور میں ہنسنے لگا، لیکن ہنسی کو بمشکل گلے میں روکا۔ اس حال میں ابراہیم جو کہ بہت شرارتی بچہ تھا، کھڑا ہوا اور میرزا جواد خان سے پوچھا:
”آغا! وہ شیر بندھے ہوئے تھے یا کھلے تھے؟ وہ بھاگے کیوں نہیں؟ بزرگان قوم جو یہ تماشا دیکھنے کے لئے وہاں پر اکٹھے ہوئے تھے انھیں کیوں نہیں چیرا پھاڑا؟ اگر بندھے ہوئے تھے اور پنجرے میں تھے تو بندھے ہوئے شیروں کو مارنا کوئی لیاقت نہیں ہے۔“
میرزا جواد خان میری ہنسی اور ابراہیم کے سوال سے طیش میں آ گئے۔ اپنے سگریٹ کے پائپ کو میز پر زور سے مارا۔
”یہ بکواس تمھارے ذہن میں نہیں آئی ہے۔ احمق گدھے! تو اور وہ لمبا ( نظریں میری طرف تھیں ) دفع ہو اور کلاس سے باہر نکلو۔ مانیٹر ان دونوں کے لئے دو صفر لگاؤ۔“
جیسے ہی میرزا جواد خان نے کہا، ”دو صفر لگاؤ“ ۔ دوبارہ میری نظر کرامت کی شلوار کی پیوندوں کی طرف گئی جو ابھی تک وہیں میرے سامنے کھڑا تھا۔ اس بار ان کی شکل بدل چکی تھی۔ مجھے لگا کہ وہ دو عدد صفر ہیں اور بڑے ہوتے جا رہے ہیں۔ میں از سر نو ہنسنے لگا۔
میری ہنسی نے میرزا جواد خان کو اس نرمی و ملائمت کے باوجود برافروختہ کر دیا۔ فوراً اٹھے۔ میرا کان پکڑا۔ کھینچتے ہوئے کلاس کے دروازے تک لائے اور ایک زور دار لات مار کر کلاس سے باہر پھینکا۔ پھر یہی حال ابراہیم کے ساتھ کیا۔ جیسے ہی ہم باہر گرے، میرزا اونچی آواز میں، جو افیون کے دھویں کے اثر سے پھٹ چکی تھے بولے :
”کلاس کے باہر دو حیوان بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں حرامی ہیں۔ دونوں کو دو یکوں میں دو خچروں کی جگہ جوتنا چاہیے۔“
معلم کی آخری بات مین تین بار ’دو‘ کی تکرار تھی۔ دو حیوان، دو یکے اور دو خچر۔ لیکن اس بار میرے کان میں یوں جلن ہو رہی تھی اور جہاں پر لات پڑی تھی درد ہو رہا تھا کہ مکمل طور پر کرامت کی شلوار پر لگے پیوند میرے ذہن سے نکل گئے اور مجھے بالکل بھی ہنسی نہ آئی۔
________________________
( 1928 ء میں، قانون متحدالشکل کے تحت، ایران کے تمام مردوں کو عمامہ اور روایتی ٹوپیوں کو پہلوی ہیٹ کے ساتھ تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔
دو سال بعد ، تمام لڑکوں اور مردوں کے لئے روایتی کپڑوں قبا، شال، عبا، پوستین، عمامہ وغیرہ پر پابندی عائد کردی گئی، اور اس کی جگہ یکساں لباس پینٹ، کوٹ اور پہلوی ہیٹ پہننا لازمی قرار دیا۔
چھ سال بعد ، جون 1935 ء میں، اسمبلی نے دوسرے قانون کو منظور کیا جس میں پہلوی ہیٹ کی جگہ یورپی سٹائل فیڈورا ہیٹ اور مختلف قسم کے روایتی جوتوں کی جگہ یورپی سٹائل کے چمڑے کے جوتوں نے لے لی۔
صرف وہی لوگ ان قوانین سے مستثنی تھے جو آخوند یا روحانی کہلاتے تھے۔ ان میں علماء، مجتہد، مذہبی مدارس کے طالب علم، مساجد کے پیش امام اور چند دوسرے گروہ شامل تھے۔
ان سب لوگوں کو حکومت کی طرف سے دیگر لباس پہننے کے لئے لائسنس یافتہ ہونا ضروری قرار دیا گیا۔
1941 ء لباس کے یونیورسلائزیشن کے ان قوانین کو منسوخ کر دیا گیا۔ )








