پاکستان کے سنگین ترین معاشرتی جرائم رائٹ ونگ ہی نے کر رکھے ہیں: رعایت اللہ فاروقی
سرخیاں :
اردو کالم تقریباً موت کے دروازے پر ہے
سوشل میڈیا کا اسلوب مادر پدر آزاد ہے، جس کی وجہ سے یہ مستند نہیں بن سکتا
نام ور صحافی اور کالم نگار، رعایت اللہ فاروقی سے خصوصی مکالمہ
انٹرویو نگار: اقبال خورشید
طویل صحافتی سفر نے تجربات سے لیس کیا، نظریات اظہار کی قوت بنے، اور مطالعے نے اسلوب کو جلا بخشی۔ رعایت اللہ فاروقی کا شمار اس عہد کے نمایاں کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔ اخباری کالمز کا حلقہ تو وسیع تھا ہی، مگر جب سوشل میڈیا کے لیے بلاگنگ کا سلسلہ شروع کیا، تو ”متاثرین“ کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ ان کے بلاگز کی کاٹ اپنی مثال آپ۔ طنز اور مزاح کا پرقوت امتزاج ملتا ہے۔ چبھتے ہوئے سوالات کے ”تگڑے“ جواب فراہم کرتے ہیں۔ اپنے موقف کو وہ پہلے منطق اور دلیل میں گوندھتے ہیں، پھر اسلوب کے ڈھانچے میں ڈھال یوں پیش کرتے ہیں کہ جواب پڑھنے والے کو پسند آئے یا نہ آئے، لیکن طرز ایسی کہ قاری بہتا چلا جائے۔
گزشتہ دنوں فاروقی صاحب سے ایک طویل مکالمہ ہوا، جس میں ایک جانب جہاں انھوں نے اپنے مطالعے کی عادات اور پسندیدہ قلم کاروں پر اظہار خیال کیا، وہیں سوشل میڈیا کے اثرات اور یہاں لکھنے کے تقاضوں پر بھی خوب روشنی ڈالی۔ آئیں آپ بھی اس مکالمے میں شریک ہوجائیں۔
اقبال: پاکستان کا مستقبل کیا ہے؟ ہم مزید کتنے برس نازک دور سے گزرتے رہیں گے؟
فاروقی صاحب: میں نے پاکستان کے سیاسی نظام کے جس عرصے کو شعور کی آنکھ سے دیکھا ہے، اس میں مسلسل بہتری رونما ہوتی دیکھی ہے۔ بہتری کا یہ عمل بھٹو دور سے شروع ہوا ہے، اور یہ مسلسل جاری ہے۔ بھٹو پہلا شخص تھا، جس نے ہمارے ہاں میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز بنائے تھے۔ ہمارے ملک میں ایم بی بی ایس ڈگری بھٹو کے بنائے کالجز سے ہی جاری ہوئی ہے۔ ورنہ اس سے قبل ایک تو ڈاکٹرز ہوتے بہت ہی کم تھے۔ اور جتنے بھی تھے سب کے وزیٹنگ کارڈ اور کلینک کے بورڈ پر ڈگری ایڈمبرا وغیرہ کے نام کے ساتھ درج ہوتی تھی۔ اسی طرح اسٹیل مل اور ایٹمی پروگرام وغیرہ جیسے ہائی ٹیک ادارے بھی بھٹو دور یا اس کے بعد کی پیداوار ہیں۔ بھٹو کی کارکردگی کے پریشر کے نتیجے میں جنرل ضیاء پر بھی کارکردگی کا دباؤ تھا، چناں چہ ان کے دور میں بھی بہت کچھ بنا۔
مگر سیاسی نظام اپنی اصل میں بدستور بہت ہی کم زور ہے۔ سطحی نظر سے دیکھنے والے فوجی مداخلت کو اصل وجہ سمجھتے ہیں۔ مگر میرے خیال میں اصل وجہ آئین پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ خود سول حکومتیں آئین کو کوئی اہمیت نہیں دیتیں۔ نہ صرف یہ کہ غیر آئینی اقدامات کرتی ہیں، بلکہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا شور بھی صرف اس وقت مچاتی ہیں جب فوجی مداخلت ہو جائے۔ ورنہ آپ یہ یہی دیکھ لیجیے کہ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کی حاضری کتنی ہوتی ہے؟
نواز شریف جیسے مقبول وزیر اعظم کی بھی تیسرے دور میں حاضری فقط 12 فی صد تھی۔ جب سویلین حکم راں خود آئین کا پاس نہیں رکھیں گے، تو اس سے جرنیلوں اور ججز کے لئے اسی آئین کو توڑنے کا راستہ تو کھلے گا۔ مگر ایک اچھی چیز یہ ہو رہی ہے کہ جرنیلوں کے پاس آپشنز ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اگر غور کریں تو مشرف کی صورت انہوں نے یہ تجربہ کیا تھا کہ حکومت فوجی ہو، مگر مارشل لاء نہ ہو اور ضیاء الحق جیسی سختی بھی نہ ہو۔ چناں چہ مشرف دور اس لحاظ سے دل چسپ دور تھا کہ نہ صرف میڈیا مکمل آزاد تھا، بلکہ وہ پرائیویٹ نیوز چینلز بھی لائے۔
خود میں نے مشرف دور میں ان کے خلاف بہت ہی سخت کالم لکھے۔ ردعمل میں نہ تو دھمکی آئی، نہ کالے شیشوں والا ڈالا آیا اور نہ ہی نوکری گئی۔ مگر فوج کا وہ تجربہ بھی بری طرح ناکام ہوا۔ چناں چہ اگلا تجربہ انہوں نے ہائیبرڈ نظام کا کیا۔ عمران خان 11 بجے وزیر اعظم ہاؤس آتے اور پانچ بجے چلے جاتے۔ حکومت جنرل فیض حمید چلاتے۔ مگر فوج کے لئے صورت حال اتنی بدتر ہو گئی کہ فوجی حکومتوں میں تو آخر میں آمر یہ کہا کرتا تھا کہ ”میں جا رہا ہوں“ اس بار ادارے کو کہنا پڑا ”ہم نیوٹرل ہو رہے ہیں“ گویا پہلی بار ادارے نے تسلیم کیا کہ فرد واحد صرف ایک فریب ہوتا تھا۔ فوجی مداخلت ادارہ ہی کرتا ہے۔ اب یہ موقع بھی اگر سیاست دانوں نے ضائع کر دیا، تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ حالات کب بہتر ہوں گے۔ لیکن اگر انہوں نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود اپنے آپ کو ہی حقیقی معنی میں آئین کا تابع کر لیا، تو پھر ممکن ہے ہم پہلی بار کوئی سنجیدہ سیاسی سفر شروع کر پائیں۔
اقبال: اگر آپ صاحب اقتدار ہوں، تو ملک کی بہتری کے لیے اولین حکم کیا جاری کریں گے؟
فاروقی صاحب: کوئی بڑا تعلیمی ماسٹر پلان جاری کرنا چاہوں گا۔ جس میں نصاب سے لے کر اداروں کی تشکیل نو تک سب کچھ شامل ہو گا۔ یہاں تک کہ یونیورسٹی کو ڈویژن کا لازمی حق کرنا چاہوں گا۔ جس طرح تحصیل کو ضلع کا درجہ ملنے پر ڈگری کالج اور سو بستروں کا اسپتال وغیرہ لازمی ملتا ہے، بعینہ ڈویژن کے لئے سرکاری یونیورسٹی لازمی ہو۔ اور اسی ماسٹر پلان میں کم تعلیم والے افراد کے لئے ہنر سکھانے کا منظم نظام بھی شامل ہو۔
اقبال: : اردو کالم نگاری کا مستقبل کیا ہے، پرنٹ میڈیا، یا سوشل میڈیا؟
فاروقی صاحب: سوشل میڈیا کالم نگاری کا متبادل پلیٹ فارم نہیں بن سکتا۔ سوشل میڈیا مادر پدر آزاد ہے۔ وہاں لکھی جانے والی پوسٹ کتنی ہی اعلی کیوں نہ ہو وہ اردو کالم کا درجہ نہیں پا سکتی۔ وہ جو اخبار میں ایڈیٹوریل ایڈیٹر اور ایڈیٹر کی چھلنی سے گزر کر کالم آتا ہے، اس کا اپنا ہی ایک وزن ہے۔ وہ ایک مستند چیز مانی جاتی ہے۔ تمام حکومتی ادارے ادارتی صفحات کو بغور پڑھتے ہیں۔ یونیورسٹیز اور لائبریریز میں پڑھا جاتا ہے، ملک کی ساری انٹیلی جنشیا پڑھتی ہے۔ سوشل میڈیا کی آواز میں شور بہت ہے، مگر شور کبھی بھی ”مستند“ نہیں ہوتا۔ یہ تو کسی چلتی واردات کو روکنے کے لئے ہوتا ہے بس۔ جیسے پرس چھینے جانے پر عورت شور مچا دے۔ یا ڈاکو دیکھ کر چوکیدار چلا دے۔ پھر سب سے اہم یہ کہ سوشل میڈیا کا اسلوب تقریباً مادر پدر آزاد ہے، جس کی وجہ سے یہ مستند بن بھی نہیں سکتا۔
اردو کالم نگار تو بہت بڑھ گئے ہیں، مگر اردو کالم تباہی کے آخری دھانے تک پہنچ گیا ہے۔ اردو کالم اور فیچر یہ دو وہ اسلوب تھے، جو تھے تو صحافتی مگر ان کی کرافٹنگ ادبی تھی۔ 90 کی دہائی سے پیچھے جو اردو کالم لکھے گئے، وہ اعلی درجے کا آرٹ ورک تھا۔ پرانے کالم نگاروں کی موت سے جو خلا پر ہوا اسے پر کرنے والے بیش تر کالم نگار تو اردو تک غلط لکھ رہے ہیں، آرٹ ورک ان کے بس کا کہاں؟ اس وقت عطاء الحق قاسمی، ہارون رشید، عرفان صدیقی، وجاہت مسعود اور خورشید ندیم ہمارے پاس آخری اردو کالم نگار بچے ہیں۔ یعنی وہ کالم نگار، جن کے کالم پر اردو کالم کی تعریف پوری پوری صادق آتی ہے۔ سو اردو کالم تقریباً موت کے دروازے پر ہے۔
اقبال: آپ کے قاری ان گنت، خود کسے پڑھنا پسند کرتے ہیں؟ پسندیدہ کالم نگار کون رہا؟
فاروقی صاحب: میرے پسندیدہ کالم نگار صرف مجیب الرحمن شامی رہے۔ کہنے کو عطاء الحق قاسمی اور رفیق افغان نے بھی بہت متاثر کیا۔ لیکن شامی صاحب نے جس طرح اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا تھا، کوئی اور اس کا دسواں حصہ بھی نہ کر سکا۔ مگر یہ آج والے مجیب الرحمن شامی نہیں۔ یہ آدمی تو وہی ہے، مگر اس کا کالم تو تیس سال ہوئے فوت ہو چکا۔ آپ یقین کریں گے، جب ان کا کالم پڑھ کر فارغ ہوتا تو اولین خیال ہی دل میں یہ آتا کہ اب پھر تین دن انتظار میں سڑنا پڑے گا۔
ان سے شان دار اردو کالم نہ تو کوئی لکھ سکا ہے، اور نہ ہی شاید آنے والے وقتوں میں لکھا جا سکے۔ 1988 ء سے 1992 ء تک جنگ میں شائع ہونے والے شامی صاحب کے کالم کی اردو کالم نگاری میں میری نظر میں وہی حیثیت ہے، جو عرب شاعری میں السبع المعلقات کی ہے۔ خود ہارون رشید صاحب نے ابھی دو چار سال قبل یہ بات لکھی تھی کہ ہم آج کے کالم نگار تو اس لئے مزے میں ہیں کہ شامی صاحب اب نہیں لکھتے۔ وہ لکھتے تو ہمیں کس نے پوچھنا تھا؟
وہ آدمی نوجوان نسل کا محسن ہو گا، جو شامی صاحب کے اس دور کے تمام کالم نکال کر کسی ویب پیج پر ڈال دے۔ ممکن ہے، اس سے نوجوان نسل میں حقیقی اردو کالم نگاری کا ذوق ایک بار پھر پیدا ہو جائے۔ ان میں پیش کیا گیا نظریاتی موقف اپنی جگہ، جس سے اختلاف بھی ہو سکتا ہے، مگر کالم صرف کانٹینٹ کا نام تو نہیں ہوتا۔ اس کی ادبی کرافٹ ایک الگ چیز ہوتی ہے۔ اور یہ چیز شامی صاحب کے 1988 ء سے 1992 ء تک جنگ میں آنے والے کالم میں بہت ہی اعلی درجے کی ہے۔ شامی صاحب تب پکے پٹواری ہوا کرتے تھے اور مجھے نواز شریف زہر لگا کرتے تھے، مگر پھر بھی شامی صاحب کے سحر میں مبتلا تھا، تو سبب ان کا آرٹ اینڈ کرافٹ ہی تھا۔
اقبال: آخری کتاب کون سی پڑھی؟ کون سی کتاب نوجوانوں کو پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں؟
فاروقی صاحب: آخری کتاب تو ان دنوں استاد محترم ڈاکٹر عزیز ابن الحسن صاحب کی ”محمد حسن عسکری، ادبی اور فکری سفر“ زیر مطالعہ ہے۔ مجھے جو کتابیں بہت اہم لگی ہیں، وہ ایسی ہیں جن کے مطالعے کے لئے اچھے ذوق مطالعہ کی موجودگی ضروری ہے، جو ظاہر ہے پہلے سے چلے آرہے مسلسل مطالعے سے بن سکتا ہے۔ گویا یہ کتب ان کے لئے ہی کار آمد ہیں، جن کا مطالعے کا سفر بچپن میں بچوں کی کہانیوں سے شروع ہو کر عمران سیریز، جمشید سیریز، ڈائجسٹوں اور کلاسیکل اردو ادب کے مراحل طے کرچکا ہو۔
ہمارے بچپن و لڑکپن میں تو یہ عام سی بات تھی۔ کراچی میں تو اس کا ایسا ماحول تھا کہ ہر محلے میں ناولز اور ڈائجسٹ کرائے پر ملا کرتے تھے۔ مگر سوشل میڈیا دور کی نسل میں یہ کلچر ہی غائب ہے۔ کتنے شرم کی بات ہے اب کتاب کا ایڈیشن ہی 500 نسخوں کا آتا ہے۔ حالاں کہ ہمارے دور میں مصنف 1100 نسخوں کا ایڈیشن بتاتے ہوئے بھی یہ سوچ کر شرماتا تھا کہ یہ تو عام سے رائٹر کی کتاب کا ایڈیشن ہوتا ہے ورنہ کم از کم 2200 نسخوں کا ایڈیشن تو ہو۔
میری سب سے پسندیدہ کتاب تو ٹالسٹائی کا ناول وار اینڈ پیس ہے۔ اس کے بعد دو ستوئیسکی کا برادرز کرامازوف، کرائم اینڈ پنیشمنٹ، ان دونوں کے بعد ٹالسٹائی کا اینا کر ینینا اور پھر دو ستوئیسکی کی نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ۔ یہ میری ٹاپ لسٹ ہے۔ باقی جو کچھ بھی آتا ہے، ان کے بعد آتا ہے۔ بعد کی لسٹ میں کچھ تو ایسے مصنفین ہیں جن کا سارا کام پڑھنا چاہیے۔ ان میں شاہ ولی اللہ، رابندر ناتھ ٹیگور، مولانا آزاد اور ڈیل کارنیگی شامل ہیں۔
اگر قاری کے پاس پختہ فلسفیانہ شعور ہو تو امام غزالی اور ابن عربی بھی بہت ضروری ہیں۔ جہاں تک کسی انفرادی کتاب کا تعلق ہے تو ژاں ژاک روسو کی دی سوشل کنٹریکٹ، ایڈورڈ سعید کی اور یئنٹل ازم، اور مولانا آزاد کی غبار خاطر بہت ہی اہم ہیں۔ ان میں سے غبار خاطر کی اہمیت کو بہت کم لوگ ہی سمجھ پائے ہیں۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مولانا آزاد کے خطوط ہیں۔ سو اس میں کتاب والا ماحول نہیں ہے، بلکہ ہمیں اس میں ایک بہت ہی اعلی درجے کا شعور رکھنے والا دوست اپنے دوست سے مخاطب ملتا ہے۔
جس سے ایک بے تکلف ماحول میں بہت سنجیدہ مسائل پر گفت گو وجود میں آ گئی ہے۔ یہ خطوط لکھتے وقت مولانا آزاد کا ذہن اس دباؤ سے بالکل آزاد رہا ہے کہ مجھے لاتعداد اور نامعلوم قارئین سے مخاطب ہونا ہے، لہذا لہجہ یہ ہونا چاہیے اور فلاں فلاں بندشوں کی پاس داری کرنی ہے۔ آپ غبار خاطر کو مولانا آزاکا ”سوشل میڈیا“ کہہ سکتے ہیں۔ اس زمانے کا سوشل میڈیا خطوط ہی تو ہوا کرتے تھے۔ یعنی بے تکلفی سے جو چاہا لکھ دیا، کہہ دیا۔ آج کل کی نسل اس کی مشکل زبان سے بدکتی ہے۔ مگر مشکل زبان سے بھاگیں گے تو زبان پر اعلی درجے کی گرفت کیسے قائم ہوگی؟
اس کے علاوہ تین شخصیات اور بھی ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں۔ یہ آرتھر شوفن ہائر، فرانز کافکا اور چارلس بکاؤسکی ہیں۔ شون ہائر تو فلسفی ہیں، باقی دونوں ناول نگار۔ ان تینوں کا دل چسپ قدر مشترک یہ ہے کہ شوفن ہائر ماں اور باقی دونوں باپ کے ستائے ہوئے تھے۔ تینوں پر اس کا گہرا اثر ہے اور تینوں ڈارک تھیم پر ہیں۔ کافی عرصے سے ارادہ ہے کہ انہیں کسی ایک مضمون میں اس طرح جمع کرنا ہے کہ تینوں کا ایک ہی مینار سا بن جائے۔ اس میں ارتکاز اس بات پر رکھنا چاہتا ہوں کہ سخت گیر والدین کے زیر اثر پروان چڑھنے والے غیر معمولی لوگ کیا اثرات اور نتائج رکھتے ہیں۔ اور یہ دوسروں سے کس طرح مختلف ہوتے ہیں۔
مجھے مزاح صرف کرنل محمد خان، صدیق سالک کا ہی رج کر متاثر کر سکا ہے۔ خاص طور پر صدیق سالک کی ہمہ یاراں دوزخ میں اشک اور تبسم کا ساتھ ساتھ سفر بے حد متاثر کن ہے۔
اقبال: عام خیال ہے کہ بہت سے اچھے لکھاری اور ادیب سوشل میڈیا کی وجہ سے ضائع ہو گئے، کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
فاروقی صاحب: ارتقاء کا مطلب یہ ہے کہ آنے والا دور ترقی کے سفر میں نئے پلیٹ فارم اور نئے تقاضے سامنے لاتا ہے۔ کسی انسان کی زندگی میں عام طور پر دو جب کہ نسبتاً طویل عمر والے افراد کی زندگی میں تین ادوار آتے ہیں۔ ان میں سے جو نئے دور کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر پاتے وہ ضائع ہو جاتے ہیں۔ ٹرین کے سفر کو عیاشی باور کرنے والوں نے جب پہلی بار طیارے کے سفر کا دور دیکھا تو ان میں سے بھی بہت سے طیارے پر قدم نہ رکھ سکے تھے۔
وسائل تھے طیارے کے سفر کے، مگر وہ خود کو اس نئی تبدیلی سے ہم آہنگ نہ کرسکے تھے۔ بعینہ لکھاری اور ادیب بھی وہ ضائع ہوئے ہیں، جو خود کو سوشل میڈیا سے ہم آہنگ نہ کرسکے۔ سوشل میڈیا ایک بالکل ہی الگ چیز ہے۔ اگر آپ غور کریں، تو ان ادیبوں کو یہاں معقول قاری ہی نہیں مل پا رہے، جو اب تک جریدہ دور والے تقاضوں سے چپکے بیٹھے ہیں۔ یہ نیا پلیٹ فارم اپنا ہی اسلوب رکھتا ہے۔ اس اسلوب کی بنیادی شرط کسی بیٹھک یا چوبارے جیسی بے تکلفی ہے۔
یہاں روایتی ادبی تکلف برتنے والا پٹے گا۔ یہاں اسے بس وہی پڑھیں گے، جو اس کی کتابوں کے قاری رہے ہوں گے۔ وہ جو ادبی دنیا کا ایک محتاط ریزرو سا پر تکلف ماحول ہوتا ہے، وہ یہاں وزن نہیں، بوجھ کا درجہ رکھتا ہے۔ آپ یقین جانیے میں نے مزاح کا اسلوب سوشل میڈیا پر آ کر ہی سیکھا ہے۔ سوشل میڈیا سے قبل کے 25 سالہ قلمی سفر میں کبھی ایک بار بھی مزاح نہیں لکھا تھا۔ یہاں یہ لازمی ضرورت بن گیا تھا۔ چناں چہ ایک تو مزاح میں کام کی بات کہنے کا ہنر سیکھنا پڑا۔
اور ساتھ ہی وقفے وقفے سے سنجیدہ تحاریر بھی آتی رہتی ہیں۔ یوں بے تکلفی اور مزاح کے سحر کا شکار قاری یہ سنجیدہ تحاریر بھی بہت شوق سے پڑھ جاتے ہیں۔ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب یہ دیکھتا ہوں کہ مجھ سے بدرجہا فائق اور باقاعدہ ادیب سوشل میڈیا پر خوار نظر آتے ہیں۔ میری نظر میں لائیکس وہ پیمانہ ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کی تحریر توجہ کتنی کھینچ رہی ہے۔ مستند ادیب 24 گھنٹے میں 30 سے ساٹھ لائیکس لے رہے ہیں، جب کہ میری پوسٹ صرف 30 منٹ میں ڈیڑھ سو کا بیریئر کراس کر جاتی ہے۔ ایسا اس لئے نہیں ہے کہ میں ان سے زیادہ لائق یا بہتر رائٹر ہوں۔ بل کہ اس لئے ہے کہ میں نے خود کو سوشل میڈیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیا ہے اور انہوں نے نہیں کیا۔ اگر یہ حضرات تقاضے پورے کر لیں تو ہمیں تو کوئی گھاس بھی نہ ڈالے۔
اقبال: فیس بک جھگڑے، ٹرولنگ کیا صحت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے؟
فاروقی صاحب: سوشل میڈیا ٹرولنگ صحت پر بہت اثر انداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر قلبی اور دماغی صحت پر ۔ جو حضرات لکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اور انہیں بڑی تعداد میں فالوؤرز بھی میسر ہیں۔ ان کے لئے تین چیزیں بہت ضروری ہیں۔ پانی بہت پینا چاہیے، نیند پوری لینی چاہیے اور سیر ضرور کرنی چاہیے۔ سیر پر طبیعت آمدہ نہ ہوتی ہو، تو کوئی جانور مثلاً بلی پال لیں یا مچھلیوں کا ایکویریم رکھ لیں اور ان کے ساتھ وقت گزارا کریں۔ ورنہ سوشل میڈیا ٹرولنگ انہیں اعصابی طور پر توڑ کر رکھ دے گی۔ ان میں سے پوری نیند تو ان رائٹرز کے لئے بھی ضروری ہے، جو سوشل میڈیا پر نہیں ہیں۔ رائٹر کا پاور ہاؤس اس کا دماغ ہی تو ہے۔ اور دماغی صحت کا اولین تقاضا پوری نیند ہے۔
اقبال: پاکستانی لبرلز پر تو درجنوں اعتراضات، مگر کیا رائٹ ونگ اپنا کردار ادا کر سکا؟
فاروقی صاحب: رائٹ ونگ اپنا کردار ادا کر سکا؟ ارے بھئی، اس ملک کے سب سے سنگین معاشرتی جرائم تو رائٹ ونگ نے ہی کر رکھے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ انسانی تاریخ کی سب سے مہلک خون ریزیاں مذہب اور نسل کے نام پر ہوئی ہیں۔ جدید دور میں لیفٹ نے نسل جب کہ رائٹ نے مذہب کے نام پر خون ریزی کا تسلسل جاری رکھا ہوا ہے۔ لیکن اگر آپ عددی اعتبار سے دیکھیں، تو رائٹ ونگ کی ہلاکت خیزی بہت ہی بڑے درجے کی ہے۔
کتنے شرم کی بات ہے کہ یہ وہ کر رہے ہیں، جنہوں نے تعلیم یہ حاصل کر رکھی ہے کہ راستے میں پڑی موذی چیز ہٹانا بھی ثواب یعنی اللہ سبحانہ و تعالی کو خوش کرنے والا عمل ہے۔ تو سوچئے ناں کہ کسی کے سینے میں گولی اتارنا کتنا سنگین جرم ہو گا؟ اللہ کے رسول ﷺ نے پوری حیات مبارکہ میں کسی انسان کو مخاطب کر کے اس کے عیب کی نشان دہی اور اصلاح نہیں فرمائی۔ کسی میں کوئی بڑا معاشرتی عیب دیکھا تو منبر رسول سے اجتماعی خطبے میں اس کا عمومی ذکر فرما دیا۔ کیوں؟ کیوں کہ وہ عزت نفس کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے۔ اور ان کے آج کے پیروکاروں کا طرز عمل یہ ہے کہ عزت نفس چھوڑے، سالم بندہ ہی بم سے اڑا کر رکھ دیتے ہیں۔ رائٹ ونگ کے جرائم اس کے خیر پر غالب ہیں۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ معاشرے میں خرابی زیادہ اور خیر کم ہے۔
اقبال: مریم، بلاول، عمران خان، اگلا وزیر اعظم کون ہو گا؟
فاروقی صاحب: اگر انتخابات کسی مداخلت کے بغیر صاف و شفاف ہوئے اور بروقت ہوئے تو حکومت مخلوط ہوگی اور وزیر اعظم نون لیگ سے ہو گا۔ مریم کا تو فی الحال امکان نہیں ہے۔
اقبال: دوبارہ زندگی ملی، تو بلا رعایت یہی کردار چنیں گے؟
فاروقی صاحب: اجتماعی زندگی میں تو بلا رعایت یہی کردار اور یہی چلن اختیار کرنا چاہوں گا۔ نجی امور میں البتہ کچھ بڑی تبدیلیاں یقیناً چاہوں گا۔ ایسی تبدیلیاں جن کی بنیاد اوائل عمری میں ہی ڈل سکتی ہے۔
اقبال: مضامین کو کتابی شکل دینے کا ارادہ ہے؟
فاروقی صاحب: مضامین میرے تین شکلوں میں ہیں۔ ایک تو سوشل میڈیا پر لکھی گئی تحاریر ہیں جو تعداد کے لحاظ سے بہت زیادہ ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ون لائنرز سے لے کر طویل مضامین تک مجموعی طور تقریباً بیس ہزار پوسٹیں کرچکا ہوں۔ سو ان میں سے معاشرتی، مذہبی، سیاسی۔ پھر سیاسی میں بین الاقوامی اور عسکری امور کے موضوعات الگ۔ ان سب پر شاید الگ الگ مجموعے لانے پڑیں۔ اس کے بعد اخباری کالم ہیں۔ ان کا مجموعہ الگ رکھنا پڑے گا۔ ایک مستقل مجموعہ میرے مقالات کا بھی ہو گا۔ میرے اس کام سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ یہ اکیڈمک لیول کا کام ہے سو مخصوص حلقوں تک ہی اس کی رسائی ہوئی ہے۔ غالباً درجن بھر مقالات ہیں۔ سب سے مختصر بیس، جب کہ سب سے طویل 120 صفحات کا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نوٹ: یہ انٹرویو کتابی سلسلے ”بات چیت اقبال خورشید کے ساتھ“ کے لیے کیا گیا ہے۔ جلد یہ کتاب ڈیجیٹل شکل میں دست یاب ہوگی۔




