سرمایہ دار اور غریب، سب سڑکوں پر موت بانٹ رہے ہیں

ہماری موجودہ دنیا طبقات میں بٹی ہوئی ہے۔ طبقاتی نظام انسانی تہذیب کی انتہائی ناگوار حقیقت ہے۔ اس نظام میں غالب لوگ نہ صرف ذرائع پیداوار پر قابض ہوتے ہیں بلکہ معاشرے کے تمام ادارے مثلاً فوج، پولیس، عدالتیں اور انتظامیہ سب ان کے طابع ہوتے ہیں۔ قانون وہ خود بناتے ہیں اور جوڑ توڑ کر کے فائدہ اٹھانے کے طریقے بھی ایجاد کر لیتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ارتقا کے ابتدائی مراحل میں انسانی معاشرہ اشتراکی نوعیت کا تھا اور انسانیت اس وقت معراج پر پہنچے گی جب ساری دنیا کے وسائل اور مسائل پھر مشترک ہو جائیں گے۔ اس وقت تک طبقات ایک دوسرے کا گلا گھونٹ کر، ایک دوسرے کے حقوق چھین کر ایک دوسرے کا نقصان کرتے رہیں گے۔
مہذب معاشروں میں اس منزل کو پانے کی جدوجہد ہمیشہ جاری رہتی ہے۔
سرمایہ داری نظام کی بنیادیں طبقاتی مظالم پر رکھی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود اس نے ایسے قوانین بنائے ہیں کہ کمزور طبقات کو بھی زندہ رہنے کا کچھ موقع مل سکے۔
پاکستان جب وجود میں آیا تو کمزور طبقات میں غالب اکثریت کے خلاف جدوجہد کے اوصاف موجود تھے۔ اس کشمکش کا عروج پیپلز پارٹی کے وجود کی شکل میں نظر آیا۔ بھٹو کا صنعتوں، سکولوں اور بنکوں کو قومیانے کا فیصلہ اشتراکی معاشرے کی طرف پہلا قدم تھا۔ بدقسمتی سے وہ بری طرح ناکام ہوا۔ مل مالکوں نے آئندہ کسی ایسے حملے سے بچنے کے لیے سیاست میں مداخلت شروع کردی اور سرمایہ داروں نے سکول کالج کھول لیے۔ سب نے مزدور، کسان اور طلبا تنظیموں کو بڑا دشمن گردانتے ہوئے ان پر پابندیاں لگا دیں۔ کچھ تنظیمیں ختم ہو گئیں اور باقی انتہائی کمزور شکل میں مزاحمت کے قابل ہی نہ رہیں۔ پھر ملک پر طاقتور لوگوں کا قبضہ بڑھتا چلا گیا۔
فیکٹریوں میں مزدوروں کا استحصال ہوا۔ اسکول کالجز کو تعلیم دینے کی بجائے دولت چھاپنے کے کارخانے بنا لیا گیا۔ ملوں میں ناقص مال تیار ہونے لگا اور یونیورسٹیوں نے نالائق و نا اہل ملازمین اور افسر پیدا کر دیے۔
لوٹ مار سرمایہ داری نظام کا خاصہ ہے۔ سرمایہ دار کا مقصد ہر قانونی اور غیر قانونی طریقے سے دولت اکٹھی کرنا ہے۔ روک ٹوک ختم ہوئی تو ملک اندھیر نگری بن گیا۔ حکومت پہلے ہی طاقتور طبقے کے ہاتھ میں تھی اب وہ ہر قسم کی اخلاقیات اور قوانین سے بھی بالا ہو گئے۔ کمیشن اور رشوت کا بازار گرم ہوا، چور بازاری اور لاقانونیت عام ہو گئی۔
دفاتر میں کام فائل کو پہیے لگانے سے کروایا جا سکتا ہے اور تھانے میں کسی بھی جرم کی تفتیش کو رشوت و سفارش کی بنیاد پر کسی طرف بھی موڑا جا سکتا ہے۔ قانون اندھا ہے اور طاقتور کی چھڑی اسے ہانک کر کسی بھی کھڈے میں دفن کر سکتی ہے۔
حکمران قانون سے بالا ہوئے تو نچلی سطح پر عوام نے بھی جس قانون کو اپنے سامنے پایا اسے روند کر گزرنے میں اپنی بڑائی محسوس کی۔
کمزور طبقات تو ہمیشہ سے نقصان جھیلتے رہے ہیں اب لاقانونیت اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ اس آگ کے شعلے اوپر والے طبقات کو بھی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔
نور مقدم نچلے طبقے سے نہیں تھی۔ ایاز امیر کی بہو امیر ترین گھرانے کی بیٹی تھی۔ گارڈ کے ہاتھوں مرنے والا سیٹھ عابد کا بیٹا کوئی عام انسان نہیں تھا۔
سب سے بڑا ظلم سڑکوں پر ہو رہا ہے۔ ہمیں یاد ہے جونیجو حکومت میں ملک میں کاروں کی پروڈکشن کرنے والی سب سے بڑی کمپنی نے اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے رشوت میں امپورٹڈ گاڑیاں دے کر اپنی تھرڈ کلاس گاڑیوں کے مقابلے میں دوسری کمپنیوں کو ملک میں لائسنس دینے سے روکا تھا۔
پہلے سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں امپورٹ ہوتی تھیں۔ ایک لمبے عرصہ سے طرح طرح کی پابندیاں اور ٹیکس لگا کر ان کی قیمت مقامی گاڑیوں سے زیادہ کر دی جاتی ہے۔ مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیاں انتہائی کمزور ہیں۔ ان میں جدید دور کی ضروریات کے مطابق حفاظتی میکینزم موجود نہیں۔ جو ہیں ان کی حالت مفتی عبدالشکور کی گاڑی نے بیان کر دی ہے۔ اس مہنگی ترین گاڑی کا بوقت ضرورت ایک بھی ائر بیگ نہ کھل سکا۔ اسی طرح قمر الزمان کائرہ کے بیٹے کی گاڑی ہائی سپیڈ پر اوورٹیکنگ کرتے ہوئے اچانک سامنے آ جانے والے موٹر سائیکل کو بچاتے ہوئے ایک درخت سے ٹکرائی تو بھی کوئی ائر بیگ کام نہ آیا تھا۔ محترم شیر افگن خاں نیازی کا بیٹا بالکل نئی گاڑی کے حادثے میں مارا گیا تو انہوں نے کمپنی پر اس خامی کی وجہ سے کیس کر دیا۔ کمپنی نے عدالت میں یہ توجیہہ پیش کی کہ ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ نہیں لگائی تھی۔ وہ پہلا حفاظتی بند ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو ائر بیگ نہیں کھلتے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سیٹ بیلٹ لگانے کے قانون پر بھی عمل درآمد بہت کم ہوتا ہے۔ لیڈی ڈیانا کی گاڑی میں چار افراد سوار تھے۔ ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ کسی ہوئی تھی صرف اس کی جان بچی باقی تینوں موقع پر ہی فوت ہو گئے۔
ہماری سڑکیں موت کا کنواں بن چکی ہیں۔ ٹریفک پولیس کے پاس یا تو اختیار ہی نہیں اور اگر ہے تو لاقانونیت کے سامنے وہ بے بس ہیں۔ اب کبھی کسی نے ڈرائیور سے لائسنس کے بارے میں نہیں پوچھا۔ چنگ چی اور موٹر سائیکل چلانے والے اکثر ڈرائیوروں کے پاس لائسنس نہیں ہوتا۔ کراچی میں پچھلے سال لائسنس بنوانے کی مہم بری طرح ناکام ہوئی۔ رات کو زیادہ تر حادثے بیک لائیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
جس ڈرائیور کی گاڑی سے مفتی صاحب کی گاڑی ٹکرائی اس کا تیرہ بار اوور سپیڈنگ کا چالان ہوا تھا اور ایک بار بھی ادائیگی نہیں ہوئی تھی۔ اگر اس ایکسیڈنٹ کی ویڈیو غور سے دیکھی جائے تو پتا چلتا ہے کہ مفتی صاحب خود بھی ثانوی سڑک سے مین سڑک پر بن دیکھے چلتے آ رہے ہیں۔ یہی حال ہم روزانہ سڑکوں پر دیکھتے ہیں کوئی ڈرائیور بھی ٹریفک کے عام سے قوانین پر عمل نہیں کرتا۔ گاڑیاں اور سڑکیں اس نوعیت کی بنا دی گئی ہیں کہ پتا بھی نہیں چلتا اور سپیڈ ایک سو پچاس کو کراس کر جاتی ہے۔ موٹر وے جہاں سنا ہے کہ قانون بہت سخت ہے وہاں بھی اکثر گاڑیاں سپیڈ کی حد کو تجاوز کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
کوئٹہ کا ایک مشہور کیس ہے جس میں ہمارے آفیسرز کی ایک غیر قانونی فیراری اوور سپیڈنگ کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گی تھی۔ پچھلے سال اسلام آباد میں کشمالہ طارق کے بیٹے کی گاڑی غیرقانونی کراسنگ کرتے وقت چار جانیں لے گئی۔
سرمایہ داروں نے اپنی گاڑیاں بیچنی ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس میں حفاظتی میکینزم کام کرتا ہے یا نہیں۔ سوچنا پڑے گا اب اس طبقاتی لوٹ مار کا شکار بڑے لوگ بھی ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ عوام کو سڑک پر چلنے کے آداب کا پتا نہیں۔ وہ کسی قانون پر عمل کرنے کو تیار بھی نہیں۔ اب سڑکوں پر ہونے والی لا قانونیت سے عوام الناس کے ساتھ ساتھ حکمران طبقے کو بھی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
لوٹ مار تو طبقاتی معاشرے اور سرمایہ داری نظام کا خاصہ ہے لیکن یہی نظام پوری دنیا میں چل رہا ہے۔ کمپنیاں بھی نفع کمانے کے لیے گاڑیاں بناتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ کم از کم اس طرح کی اموات کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ انہوں نے کچھ قوانین بنا کر ان پر عمل درآمد لازمی کر دیا ہے۔
اب ہماری سڑکوں پر بھی قانون کو لاگو کرنا پڑے گا۔ نا اہل اور نالائق افسروں کو قانون سکھانا پڑے گا۔ سرمایہ دار طبقے کی کھچائی بھی کرنا پڑے گی کیونکہ سڑک پر امیر غریب سب برابر کا نقصان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سڑکیں اجتماعی ملکیت ہیں۔ اس پر آنے والے ہر شخص کو قانون کے مطابق چلتے ہوئے دوسرے کے حق کی قدر کرنا پڑے گی۔ موٹر سائیکل والے غریب ہوں یا قیمتی گاڑیوں والے امیر سب کو ایک دوسرے کا خیال کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھانا پڑیں گیں۔

