اداسیاں ہی تعفن زدہ معاشروں کی حقیقت ہیں!


تم ہر وقت اداس کیوں رہتے ہو؟ دی ہوئی زندگی کی چھوٹی چھوٹی مسرتوں کو اپنے سے دور کیوں رکھتے ہو۔ یہ زندگی جیسی بھی ہو نعمت ہے اس کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ کون سا انسان تکالیف سے نہیں گزرتا، پریشانیوں سے نبرد آزما نہیں ہوتا، لیکن دیکھو پھر بھی سب لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں، زندگی کے رنگوں سے مستفیض بھی ہوتے ہیں۔ ہر وقت کی بے دلی اور اداسی نا امیدی کا باعث بنتی ہے جو طبیعت کو غمگین رکھنے اور ڈپریشن کے فروغ کا ذریعہ ہے اور یہ سارا عمل زندگی کے وجود کا انکار ہے۔

زمر نے بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ کوئی انسان ہے جسے زندگی میں ہر شے عطا کر دی گئی ہو؟ جس کی ہر حسرت ادا ہو چکی ہو، ایسا کوئی انسان نہیں ہوتا تو پھر تم بتاؤ آدم! تم ہر وقت کیوں اداس اداس پھرتے ہو، اپنی زندگی کو نئے مواقع کیوں نہیں دیتے، چھوٹی چھوٹی سی خوشیاں سیلی بریٹ کیوں نہیں کرتے، کیوں اپنے آپ کو کوستے رہتے ہو، ایسی زندگی تو سزا ہے جو تم نے خود کو دی ہوئی ہے۔ آدم خاموشی سے اس کی گفتگو سنتا رہا۔

اس کی آنکھیں اتنی وحشت ناک تھیں کہ کوئی دیکھے تو ایسا ہی محسوس ہو جیسے کسی گہرے سمندر میں جھانک لیا ہو۔ یعنی پانی ہی پانی لیکن کوئی لہر اٹھ نہیں رہی۔ آدم کے ساتھ زمر کی یہ پہلی گفتگو نہیں تھی بلکہ زمر کی طرح کی یہ گفتگو وہ پہلے بھی کئی انسانوں سے سن چکا تھا۔ زمر تم جانتی ہو یہ سوالات جن کے توسط سے تم مجھ سے مخاطب ہو، میرے لیے نئے نہیں ہیں اور یقین جانو کہ ان سوالات کے ساتھ میرا جتنا وقت گزرا ہے شاید ہی کسی اور کے ساتھ گزرا ہو۔

میں جانتا ہوں زندگی کے رنگوں کی تقسیم، جذبوں کی کشش، خوشبوؤں کی لبھاہت اور انسانوں سے وابستگیوں کا سکون۔ زندگی کو حقارت میں رکھنا ظلم ہے اور اس کے لمس کو بے حدت رکھنا اس ظلم کی انتہا۔ یہ بھی معلوم ہے کہ میں اکیلا انسان نہیں جس پہ زندگی الجھنوں، دکھوں اور غموں کے بھنور میں اتاری گئی۔ لیکن بات یوں ہے میری پیاری زمر! تم خود کو میرے ساتھ اس گفتگو میں وابستہ کر کے محض اپنے لمحے ضائع کر رہی ہو۔ تم خود زندگی کے حسین ترین رنگوں کا امتزاج ہو، رس سے بھرپور، خوشبو سے لبریز ہو اپنی توانائیاں کسی مجھ جیسے پہ صرف کر کے ضائع مت کرو۔

آدم نے بات کو طوالت دی اور مخاطب ہوا زمر! کبھی کسی انسان کو دیکھا ہے کہ قبر کھود کر خودی اس میں لیٹ جائے اور موت کا انتظار کرنے لگے، یا کبھی کسی شخص کو خود اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ کر قید کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ بلا شبہ نہیں دیکھا ہو گا۔ انسان میں غم تکلیف، خوشی، مسرت، حسرت، خواب، خواہش، اپنائیت اور محبت جیسے کئی جذبے ایک ساتھ اتارے گئے ہیں جو بلا شبہ اپنے اپنے وقت پہ ظاہر ہوتے ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ کچھ خیال جو انسان پہ اتارے جاتے ہیں انھیں معاشرے کی تشکیل کے اعتبار سے انسان خود دھتکار دیتا ہے نہ بھی دھتکار سکے تو بھی وہ خیال مسترد کر دیے جاتے ہیں۔

یعنی وہ خیال جو بہت سے نو مولود جذبوں کا اظہار تھے اپنے اظہار میں ہی قید کر دیے گئے۔ اگر تم ذرا ٹھہر کر دیکھو تو یہ انسان جو خوش پھرتے ہیں ان کی مسکراہٹیں کاغذی ہوتیں ہیں یعنی ان میں کوئی کشش نہیں ہوتی۔ ان سب انسانوں نے طرح طرح کے چہرے بنا رکھے ہیں۔ یہ دراصل اپنے ہی جسم میں مدفون جذبوں کی بو سے بوکھلائے ہوئے ہیں۔ ان کے جسم بدبودار ہیں اور ان کے چہروں پہ حجاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی انسان کے ساتھ مسلسل وابستہ رہنا اپنے آپ میں ایک اذیت بن چکا ہے۔

تعلقات سکون دینے کی بجائے تذلیل کا باعث ہیں۔ حتی کہ وہ گھر جہاں انسان پیدائش سے لے کر جوانی تک ساتھ رہتے ہیں تعفن زدہ ہیں۔ کوئی حقیقتاً کسی دوسرے کو برداشت کرنا کجا سننے سے بھی قاصر ہے۔ ہر ایک جذبے کے اظہار کے لئے مادے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ انسان خود کو سجا سجا کر دوسرے انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے کہ شاید کہیں کوئی اپنائیت کی راہ ہموار ہو سکے۔ پیاری زمر! جنھیں تم خوشیاں منانا کہتی ہو وہ محض سسکیوں کو چھپا لینے کا ایک بھونڈا طریقہ ہے۔

یہ سارے کے سارے منافق ہیں اور اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔ اتنے چہرے بدل لیے ہوئے ہیں کہ خود بھی نہیں جانتے اصل چہرہ کیا تھا۔ میں کم از کم منافق نہیں ہوں۔ میں اپنے اندر دفن ہوئے جذبوں کا اظہار چاہتا ہوں اور یہ تعفن زدہ معاشرے میں لتھڑے ہوئے جسم ان اظہاروں کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔ میری آنکھوں میں دیکھو تو جان جاؤ کہ یہ سالوں سے آنسوؤں کو اظہار دینے کی کوشش میں ہیں۔ یہ لوگ اپنے جسم کی بھوک کے لیے اپنائیت کے جھوٹ بولتے ہیں۔

یہ پیاس بجھانے کے لیے پیار کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تم غور سے دیکھو گی تو ان کے چہرے تازگی سے بے نیاز ہیں اور بدھے ہیں۔ زمر! میں نقاب اتار چکا ہوں، مزید اداکاری نہیں کر سکتا، میرا جسم خود میرے اندر موجود فطری جذبوں کا قبرستان بن چکا ہے تو میں کیسے کسی کو مسکرا مسکرا کر دکھاؤں۔ کیسے بتاؤں کہ مجھ میں لبھاہت کا قیام معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔ میں اس تعفن زدہ معاشرے کی خوشیوں میں شامل نہی ہو سکتا۔ میں چاہ کر بھی اپنے اوپر نازل کی گئی زندگی کو زندگی نہیں بخش سکتا۔

میری پیاری زمر! جب تک میں تمھارے بدن کی لبھاہت سے آزاد نہیں ہو جاتا، میرا تمھارے لیے کیا گیا محبت کا ہر دعویٰ جھوٹا، پیار کا ہر اظہار جال اور اپنائیت کا ہر انداز ایک نقاب ہے۔ میرے توسط سے کسی زندگی کا اظہار اپنے آپ میں ایک تکلیف ہے اور میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ یہ زندگی میری سزا ہے یا میں اس کی سزا ہوں۔ میری پیاری زمر! میرے جیسے لوگ خود زندگی کے لیے تکلیف کا باعث ہوتے ہیں اور بغیر جیے ہی مر جاتے ہیں۔

اس حجاب زدہ معاشرے میں بغیر حجاب کے زندہ رہنا اپنے آپ میں ایک قبر میں لیٹے رہنے جیسی کیفیت ہے۔ جانتا ہوں کہ میرے جیسوں پہ اتارے گئے خیالات کبھی جذبوں کے اظہار کی منزل نہیں پا سکتے لیکن کیا کیجیے! بھوکا رہنا زیادہ بہتر ہے بجز اس کے کہ کسی کو محبت کا فریب دے کر جسم کی بھوک کا سامان کروں، پیاس ہی میرا اثاثہ ہے، اور اداسی طرز زندگی۔ تم ہی بتاؤ یہ بدن بے رس، یہ چہرہ بد نما، یہ روح بے تشخص، یہ خیالات مسخ شدہ اور یہ زندگی ایک بدھا مذاق نہ ہو تو کیا ہو۔ اداسی ہم جیسوں کی کبھی پہلی چوائس نہیں ہوتی بلکہ چوائس ہی نہیں ہوتی۔ میں انسانوں کو آئینہ دکھاتا رہوں گا اور جب تک زندگی کی مہلت باقی ہے اسی طرح اداسیاں سمیٹ سمیٹ کر ان تعفن زدہ معاشروں کو بدبو سے نجات دلاتا رہوں گا۔

Facebook Comments HS