ایک اور متوقع آپریشن کی تیاریاں
حکومت کی جانب سے ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں آپریشن کی منظوری ہو چکی ہے جس سے اہالیان پختونخوا میں انتہائی خوف ہراس، بے چینی، اور غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ یہ صورتحال عوام اور مقتدر حلقے دونوں کے لئے اچھے نہیں ہیں۔
مقتدر حلقے یہ دعویٰ کر رہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر تیزی سے دہشت گردی پھیل رہی ہیں، میرے خیال سے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی۔ ہم خود ہی دیکھ رہے کہ ایک جگہ ٹارگٹ کلنگ دوسری جگہ بم بلاسٹ تیسری جگہ اغواء کار وغیرہ، واقعی حالات سازگار نہیں ہیں۔ لیکن حالات ایسے بھی نہیں کہ حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو؛ یہ سب کچھ دیکھ کر میرے ذہن میں چند سوالات آرہے ہیں۔
1) حالات اس نہج پر کیسے پہنچ گئے کہ اتنی تیزی سے نا خوشگوار واقعات ہو رہے ہیں؟
2) یہ لوگ کہاں سے آ گئے حالانکہ افغانستان و دیگر سرحدوں کے بارڈر پر باڑ لگی ہوئی ہے؟
3) عمران خان حکومت میں ان کے ساتھ جو مذاکرات ہو رہے تھے جس میں سرکردہ رہنماؤں کی رہائی بھی ہوئی وہ کیوں کامیاب نہ ہو سکی؟ اس مذاکرات میں پارلیمنٹ کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا؟
4) جو نقصانات پچھلے جنگوں میں لوگوں نے اٹھائے ان کا ازالہ اسی طرح سے ہوا ہے کہ نہیں جس طرح سے ہونا چاہیے تھا؟
5) آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد کے بعد ایک نئے آپریشن کی ضرورت کیوں؟
اس کے باوجود کیا خیبر پختونخوا کے لوگ کسی کو یہ اجازت دیں گے کہ یہاں پر ایک اور آپریشن کی شروعات ہو؟ میرے خیال سے لوگ کسی حال میں بھی ایک نئی آزمائش کے لئے تیار نہیں ہوں گے ، ایسا لگ رہا ہے کہ لوگ اس بار بہت مضبوط مزاحمت کریں گے۔
مزاحمت کیوں نہ کریں، جو گھر پہلے برباد ہوچکے ہیں، جو مائیں اپنے کھوئے ہوئے بچوں کے لئے ابھی تک روتی ہیں وہ کیسے ایک مرتبہ پھر اپنے پیاروں کو قربان کرے؟ وہ بہنیں جنہوں نے اپنے بھائیوں کو گزشتہ جنگ میں کھویا، وہ خود کو قربان کریں گی لیکن بھائی کو نہیں کر سکتیں۔
لوگوں نے بہت کچھ دیکھا بھی ہے اور برداشت بھی کیا ہے لیکن اب پبلک جاگ گئی، وہ مسئلے کو سمجھ گئی اور اپنے دوست دشمن کو پہچان گئی۔
میں حکومت سے چند گزارشات بھی کرنا چاہتا ہوں۔ ایک بیماری کو ختم کرنے کے لئے ڈاکٹر پہلے اس بیماری کے وجوہات معلوم کرتے ہیں کہ یہ بیماری کب اور کیسے شروع ہوئی، اس کے بعد اس بیماری کا علاج شروع ہوتا ہے۔ آپ بھی اسی طرح پہلے اس بات پر غور کیجئے کہ یہ حالات کیوں اور کیسے بنے۔ کون ہے جو ان لوگوں کو سپورٹ کر رہے ہیں؟ کون اس میں ملوث ہیں؟ اس کے پیچھے وجوہات کیا ہیں؟ کیا باہر سے کوئی ان کو فنڈ دے رہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ
آپ پہلے ان چیزوں کے خلاف کروائی کریں۔ شاید پھر کوئی مثبت نتائج برآمد ہوں۔
بقول سینیٹر مشتاق احمد صاحب، اب تک 12 آپریشن اور 9 ایگریمنٹس ہوچکے لیکن حالات ابھی تک تسلی بخش نہیں۔
آزادی سے لے کر آج تک ہم کئی جنگیں لڑ چکے ہیں اب مقتدر حلقے اور حکومت کو چاہیے کہ بے روزگاری، غربت، افلاس، بے شعوری اور جاہلیت کے خلاف بھی جنگ لڑے تاکہ ملک خداداد پاکستان کے حالات بہتر ہو جائیں۔
حکومت خیبر پختونخوا و دیگر محروم علاقوں میں ترقی لائے، سکول، کالج، ہسپتال، یونیورسٹی، سڑک، انٹرنیٹ و دیگر ضروریات زندگی کو یقینی بنائے، پھر اگر کوئی دہشت گرد ان علاقوں میں آ بھی گئے تو وہاں کے عوام ان سے خود نمٹ لیں گے۔


