عید کے کپڑے
عید کے کپڑے خریدنا اور سلوانا کسی پہاڑ سر کرنے سے کم کارنامہ نہیں اس لیے ہر شخص خصوصاً خواتین اس معاملے میں بہت پریشان ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ ٹپس دینا چاہوں گی۔
میں ہمیشہ رمضان سے بہت پہلے کپڑے خرید کر سلوا لیتی ہوں تاکہ رمضان میں نہ تو بازار جانا پڑے نہ ہی مہنگی چیزیں خریدنی پڑیں۔ اس لیے اگر آپ برانڈ کونشئس نہیں اور لیٹسٹ عید کولیکشن ہی نہیں پہننا چاہتے تو رمضان سے پہلے یہ کام کر لیجیے۔
کیونکہ ہمارے ہاں اچھے درزی تو یکم رمضان سے ہی بکنگ بند ہے کا بورڈ لگا دیتے ہیں اور جو چاند رات کو بھی کپڑے لے لیتے ہیں وہ یقیناً اتنے اچھے درزی نہیں ہوتے اسی لیے بیکار بیٹھے ہوتے ہیں انہیں کپڑے کبھی بھی مت دیجئے۔ اپنے درزی کو ہی کپڑے دیں۔ کیونکہ میرے خیال میں درزی اور بیوٹی سیلون کا رسک نہیں لینا چاہیے اور اپنے آزمائے ہوئے پر ہی جانا چاہیے۔
لڑکوں کے کپڑے عموماً شلوار قمیض یا پینٹ شرٹ ہوتے ہیں اور ان میں ہر سیزن میں فیشن میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آتی اس لیے اگر کپڑا لے کر سلوانا چاہیں تو رمضان سے ایک ماہ پہلے ہی لے کر سلوا لیجیے۔ مجھے تو ریڈی میڈ لینا بہتر لگتا ہے کیونکہ درزی سلائی میں کوئی نہ کوئی گڑبڑ تو ضرور ہی کرتا ہے۔
اس لیے جب بھی برانڈز پر سیل لگے، آج کل تو ہر دوسرے ماہ میں سیل لگی ہوتی ہے، تو مردانہ اور لڑکوں کے سلے ہوئے کپڑے خرید لیجیے۔ خواتین بھی سیل میں سے سوٹس لے کر رکھ سکتی ہیں۔ کیونکہ سات سے دس ہزار کا جوڑا سیل میں چار پانچ ہزار کا مل جاتا ہے۔ اور جوتے بھی ایسے ہی سیل میں سے خریدے جا سکتے ہیں۔
میرے چونکہ دو ہی بیٹے ہیں اس لیے جیولری وغیرہ کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ لیکن بیٹیاں ہوں تو جیولری بھی چاہیے ہوتی ہے۔ کراچی والے زینب اور گلف مارکیٹ، لاہور والے شاہ عالمی اور لبرٹی مارکیٹ اور اسلام آباد والے ایف ایٹ مرکز کے ہول سیل اسٹورز، مغل سرائے، مدینہ اور امپیریل مارکیٹ راولپنڈی سے سستی اور بے حد اچھی جیولری، بیگز، کاسمیٹکس اور دیگر چیزیں خرید سکتے ہیں۔
عید کے لیے کھانوں کی تیاری کے سلسلے میں بھی میرا یہی اصول ہے کہ گروسری ساری رمضان سے پہلے ہی کرتی ہوں۔ عید کا مینیو بچوں کی پسند سے بناتی ہوں اور میرینیشن، اسٹفنگز، بریانی کے لیے چکن دو دن پہلے تیار کر کے رکھ دیتی ہوں پھر چاند رات کو صفائی کے بعد سب پکا کر رکھ دیتی ہوں تاکہ عید والے دن صرف ناشتہ ہی بنانا پڑے۔
سارا رمضان عبادات کر کر کے چاند رات کو بازاروں میں خوار ہونے اور اپنی عبادات پر پانی پھیرنے سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔ کیونکہ بازاروں میں اتنا رش ہوتا ہے کھوئے سے کھوا چھل رہا ہوتا ہے۔ کئی لڑکے تو بازار میں موجود ہی صرف لڑکیوں کے لیے ہوتے ہیں۔ جتنا مرضی بچنے کی کوشش کر لیں کوئی نہ کوئی آپ سے ٹکرا ہی جاتا ہے۔ احادیث میں غیر محرم سے دوری اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اور ہم خاص طور پر چاند رات کو چوڑیاں اور مہندی لگوانے جاتے ہیں۔ آج کل نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے کہ مرد مہندی لگاتے ہیں اور ہماری وہ بہنیں جو عموماً مردوں سے دور ہی رہتی ہیں بھرے بازار میں نامحرموں کو ہاتھ پکڑوا کر گھنٹوں مہندی لگوانے کے لیے بیٹھی رہتی ہیں۔ حالانکہ کئی بیوٹی سیلون اور فی میل مہندی آرٹسٹ موجود ہوتی ہیں۔ یہی حال چوڑیوں کا ہے کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ آپ چوڑیاں خرید کر گھر لے جائیں اور خود پہن لیں۔ میں چوڑیاں نہیں پہنتی مگر یہ جانتی ہوں کہ لوشن، شیمپو اور ویزلین لگا کر چوڑیاں آسانی سے پہنی یا اتاری جا سکتی ہیں۔
یہ میری طرف سے کچھ تجاویز ہیں اگر اچھی لگیں تو عمل کر لیجیے دوسری صورت میں آپ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔

