ماں تمہاری یاد ستاتی ہے
دکھ دل کے کسی کونے میں سنبھال لیے جائیں تو وہ روگ بن جاتا ہے۔ رہ رہ کر ستاتے ہیں۔ جی بھر کے رو نے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں۔ دوسرے کے سامنے حوصلے اور اکیلے میں توڑ جاتے ہیں۔ ایک دکھ ہم نے الماری میں سنبھال رکھا تھا۔ نہ جانے دن میں کتنی بار اس کا سامنا ہوتا اور ہم منہ چراتے دائیں بائیں ہو جاتے۔ ایک چھوٹا سا خواب تھا، ایک چھوٹی سی خوشی تھی جو ہمیں اب رہ رہ کر ستائے گی اس کی خبر نہ تھی۔ بس ایک نظر کے ہم منتظر اب تاقیامت رہیں گے۔ گوٹے کے دوپٹے میں لپٹا دکھ آنسوؤں کو کہاں اپنے اندر سمو پائے گا۔ کتنی عام سی بات لگتی ہے کہ آپ اپنے پہننے کے لیے کوئی لباس سلوائیں اور کسی وجہ سے اس چاؤ سے اسے زیب تن نہ کر سکیں۔
آپ لوگوں کو کتنا تعجب ہو گا کہ اگر ہم یہ لکھیں کہ ہم ایسی ہی بات کو دل سے لگا بیٹھے ہیں؟ آخر ایسا کیا ہے اس پیرہن میں جس کو دیکھتے ہی ہم آب دیدہ ہو جاتے ہیں۔ کیوں تیزی سے الماری کا پٹ بند کرنے کی عجلت میں رہتے ہیں؟ چلیں کچھ ہماری بپتا بھی سن لیجیے۔ دو برس پہلے خدا جانے ہمیں کیا سوجھی کہ ہم نے عید کے کپڑے رمضان آنے سے پہلے ہی سلوا لیے اور نفیس گوٹے سے سجا سوٹ بنوا بیٹھے۔ امی کو عید کی تیاری کی خبر دی تو خوش ہو کر بہت دعائیں دیں۔ ساتھ ساتھ ہم نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ نہ تو عمر ہے اور نہ ہی گوٹا مجھے پسند ہے لیکن معلوم نہیں کیوں اس بار دل کر رہا ہے کہ گوٹے لپے والے کپڑے پہنوں۔ دوسری جانب شاید تصور میں ہمیں دیکھا جا چکا تھا، فوراً کہنے لگیں کہ
”کیوں نہیں اچھا لگے گا، ضرور پہنو۔“
لیکن میرے رب نے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔ اسے امی کو اپنے پاس بلانے کی جلدی تھی۔ اس کے آگے کب کس کی چلی ہے۔ تیسرے روزے وہ ہم سب کو چھوڑ چھاڑ کر اپنے آخری سفر پر چل دیں اور وہ جوڑا الماری میں دھرے کا دھرا ہی رہ گیا۔ ہم سے وہ ماں کی نظر ہی روٹھ گئی جو ہم پر صدقے واری جایا کرتی تھی۔ ہر ماں کو اپنی اولاد اپنی جان سے پیاری ہوتی ہے۔ اولاد چاہے کیسی بھی ہو مگر اس کے دل کا سکوں کہلاتی ہے۔ کالی ہو، موٹی ہو، واجبی شکل و صورت کی مگر اس کے لیے چاند کا ٹکرا ہی ہو گی۔
اسی طرح ہم بھی اپنی والدہ کے دل کی چمک تھے۔ جب کبھی ان کے گھر تیار ہو کر جاتی تو کہتیں کہ ذرا سامنے کھڑی ہو جاؤ، میں تم کو جی بھر کے دیکھ تو لوں۔ اگر ہمیں بیٹھنے کی جلدی ہوتی تو پھر کہتیں، ذرا پھر سے سامنے آنا نظر بھر کا دیکھا ہی نہیں۔ پھر اپنے سامنے کھڑا کر دیتیں۔ ہم ہنستے ہنستے بتیسی نکالے پھر کھڑے ہو جاتے۔
سچ ہے کہ مامتا کا دل اولاد کو دیکھ کر بھرتا ہی کہاں ہے۔ ایک دن ہم میکے پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ والدہ ماجدہ اپنے موبائل پر ہماری تصویر زوم کر کے کچھ گن رہیں تھیں۔ ہم نے پوچھا، ”کیا گنا جا رہا ہے؟“
تو بڑے پیار سے کہنے لگیں، ”میں دیکھ رہی تھی، جب تم کھلکھلا کر قہقہہ لگاتی ہو تو تمہارے کتنے دانت نظر آتے ہیں۔“
ہم پھر قہقہہ لگا کر امی کے پاس بیٹھ گئے۔
خیر ذکر ہو رہا تھا عید کا۔ عید کے لفظ سے خوشی کا اظہار ٹپکتا ہے۔ لیکن اب عید کے نام سے ہی وحشت سی ہوتی ہے۔ ایک خوف ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ عید تو نام تھا اس طواف کا جو امی کے گرد ہوتا تھا۔ ہمارے میکے میں چاند رات کو عید کی گہما گہمی شروع ہو جاتی تھی۔ جہاں امی کے ہاتھ کا شیر خورمہ لازمی حصہ ہوا کرتا تھا۔ روز عید عام طور پر والدہ ماجدہ صوفے پر بیٹھی ہی ملا کرتیں۔ مسکراہٹوں اور دعاؤں سے استقبال ہوتا۔ کچھ ہی دیر میں سب کی آل اولاد ان سے عیدی لینے کے لیے ایک ہی کمرے میں جمع ہو جاتی۔
ہمارے والدین آپس میں مشاورت کر کے عیدی کی رقم کا حتمی فیصلہ کرتے اور ہم سب عیدی بڑھانے کا مطالبہ کرتے۔ ایک ہنگامہ کمرے میں برپا ہو جاتا۔ قہقہے اور چٹکلے سنائی دیتے۔ اپنی آل اولاد کو دیکھ کر ان کی مسکراہٹ میں اضافہ ہوتا چلا جاتا۔ عیدی کی تمام رقم خزانچی یعنی بڑے بھائی کو تھما دی جاتی۔ بچوں کی لمبی قطار بنوائی جاتی۔ باری باری سب ان کے پاس آتے، سلام کرتے، پیار اور دعاؤں کے ساتھ عیدی وصول کرتے اور تصویر بنوا کر اگلے کو موقع دیتے۔ بس مسئلہ تب ہوتا جب ہماری باری آتی۔ ہم امی کو بانہوں میں دبوچ کر زور کی جپھی دیتے۔ بے چاری امی سمیٹ جاتیں اور ہنسنے لگتیں۔
ماشاء اللہ سے باقی بہن بھائیوں کے بچوں کی تعداد ہمارے سے کچھ زیادہ ہے تو عیدی کے معاملے میں ہمیں جو خسارہ ہوتا، امی کی توجہ دلاتے کہ بچوں کے کم ہونے پر ہمیں ہر سال عید پر خاصا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لہٰذا نظر کرم کر کے عیدی میں اضافہ کر دیا جائے۔ بس ہر بار یہ مطالبہ ہوتا اور ہمارے مخالفین میدان میں اتر آتے۔ ہم ہر بار جانتے تھے کہ یہ بات کبھی منظور ہو نہیں پائے گی کیونکہ فی بچہ عیدی عنایت کی جاتی تھی۔ ایک ہنگامے کے بعد ہمارے مخالفین ہمیں زبردستی کھینچ کر ان کے پاس سے اٹھا دیتے کیونکہ سب جانتے تھے کہ یہ جھگڑا ہمارا ہر سال کا ہے۔
آخری عید پر ہم کچھ دیر سے گھر پہنچے۔ عیدی دینے کی رسم ادا ہو چکی تھی۔ ہماری عیدی الگ سے ہمارے ہاتھ میں تھما دی گئی۔ اس بار ہم نے چھوٹے ہونے کے نسخے کو آزمایا کہ میں چھوٹی ہوں ناں تو مجھے عیدی زیادہ چاہیے۔ امی نے بھی جھٹ سے ایک اور نوٹ نکال کر ہمارے ہاتھ پر دھر دیا۔ ہم بولے دھت تیری کی لینہ، برس ہا برس سے کم بچوں کی وجہ سے جو عیدی میں اضافے کی درخواست نامنظور ہو جاتی تھی اس کی جگہ ہم پہلے ہی چھوٹے ہونے کا کہہ دیتے تو برسوں اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ نہ جانے کتنی خطیر رقم کا اضافہ ہو چکا ہوتا۔ سچ بتاؤں، انہوں نے ایسا اس لیے کیا تھا کیونکہ ہر سال ہم ضد کرتے تھے تو انھوں نے اپنی آخری عید پر اسے پورا کر ڈالا۔ کیونکہ اس کے بعد ان کو معلوم تھا کہ ان کی بیٹی پھر کسی سے ضد نہیں کر پائے گی۔
لگتا ہے امی جاتے جاتے ہماری ضد، مسکراہٹ اور ہماری ہر خوشی اپنے ساتھ لے گئیں۔ اب ہم اس ماں کو کہاں سے لائیں جو ہمیں اپنے سامنے کھڑا کر کے دیکھنے کی خواہش کیا کرتی تھیں۔ ہم اپنے اوپر دل و جان سے واری جانے والی ماں کو کہاں تلاش کریں۔ جتنا مرضی پیٹ بھرا ہو اس کے باوجود کھانے پر اصرار کرنے والی کہاں سے ڈھونڈوں۔ ہماری چھوٹی چھوٹی سی کامیابی پر جی بھر کے خوشی کا اظہار اب کون کرے گا۔ ہماری خوشیوں کے لیے کون رات رات بھر رب کے آگے ہاتھ پھلائے گا۔ رات کو اکیلے جانے پر اب کون پریشاں ہو گا۔ موبائل پر ہماری کوئی تصویر دیکھ کر خوشی میں کون ابو کو اب آواز دے کر کہے گا، ”انور صاحب! ذرا یہ لینہ کی تصویر تو دیکھیے۔“
امی ابو ٹھیک کہتے ہیں کہ میکے ماں کے دم سے ہوتے ہیں۔ آپ پہلے بھی بغیر کہے سنے ہمارے دل کا حال جان لیا کرتیں تھیں۔ اب بھی ایسا ہی ہے۔ ایک خواب دیکھا تھا جس میں امی نے یہ فیصلہ صادر کیا تھا، ”بس لینہ کو میرے پاس بھیج دو وہ بہت پریشان رہنے لگی ہے۔“
لیکن صبح ہوئی تو ہماری آنکھ پھر اسی دنیا میں کھلی تھی۔ سچ بتاؤں دکھوں پر چپ سادھ لی جائے تو دل ایک گہرا کنواں سا لگنے لگتا ہے جو کبھی بھرتا ہی نہیں۔ ہمیں نہ جانے ایسا کیوں لگنے لگا ہے کہ شاید ہم پہلے جیسی رہے ہی نہیں۔ ہمارے وجود کے اندر توڑ پھوڑ کے باوجود ایک عجیب خوفناک سا سناٹا چھایا رہتا ہے۔ گھر والوں کا خیال ہے کہ اب ہم بہت کم بولتے اور مسکراتے ہیں۔ شاید آپ کے جانے کے بعد ہم اپنے قہقہے کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں۔ کیونکہ سناٹے میں قہقہوں کی گونج ایک عجیب سا خوف طاری کر دیتے ہیں۔


