سو سنار کی اور ایک لوہار کی : تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
ایک بہت مشہور کہاوت ہے کہ ”سو سنار کی اور ایک لوہار کی“ ۔ عدالت عالیہ کے پے در پے ایسے فیصلوں سے جن پر پارلیمنٹ کے ممبران اور سیاسی جماعتوں نے نہ صرف تحفظات کا اظہار کیا، بلکہ انہوں نے قراردادوں کے ذریعے ہم خیال بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا اور خود سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان میں سے سینئر ججز نے اختلافی نوٹسز میں عدالت عالیہ کو سیاست میں ملوث کرنے پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا، مگر تین رکنی بینچ نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی، اہم اداروں کی بریفنگ کے بعد لوگوں کو لچک کی امید تھی مگر عدالت لگی تو اپنا غلط فیصلہ درست کرنے کی بجائے اپنی دی ہوئی پنجاب کے صوبائی انتخابات کے لیے تاریخ 14 مئی پر مصر نظر آئی۔
عدالت عالیہ نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی بلا کر حاضر کیا اور انہیں حکم دیا کہ 3 گھنٹوں میں باہم مذاکرات کر کے ایک تاریخ پر اتفاق کریں اور عدالت کو آگاہ کریں ورنہ عدالت کا فیصلہ برقرار ہے۔ ”جوڈیشل ایکٹو ازم“ پارلیمنٹ اور عوام کے پارلیمانی منتخب لیڈر شپ کے ساتھ ہتک آمیز صورت میں سامنے آ رہا تھا اور لگتا یہ تھا کہ عدالت عالیہ عجلت میں ایک اور ایسے فیصلے کی خواہاں ہے جس میں صرف ججز کا کہا اور لکھا ہوا ہی قانون گردانا جائے۔ یہ کیفیت رواں دواں تھی کہ مولانا فضل الرحمن نے نے اپنی پریس کانفرنس نے ملک میں ارتعاش برپا کر دیا اس کے مندرجات نے ایسی کاری سیاسی ضرب لگائی جس کے بعد عدالت تو ایک طرف اینکرز اور تجزیہ نگاروں کو بھی سانپ سونگھ گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے واضح الفاظ میں کہ دیا کہ اب سیاست دان کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور ان کے پاس عدالت کو دینے کے لیے مزید کچھ نہیں۔ ایسے ہی موقع کے لیے یہ کہاوت مشہور ہے ”سو سنار کی ایک لوہار کی“ جس کا مفہوم یہ ہے کہ کمزور کی سو ضربوں پر زبردست کی ایک ضرب بھاری رہتی ہے، کار برآری کے لئے زور سے زیادہ ہنر یا تدبر درکار ہوتا ہے۔ چنانچہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے واشگاف انداز میں عمران خان سے مذاکرات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، کہ وہ عدالت کی جانب سے ’جبری فیصلے‘ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کی نیوز کانفرنس کے اہم نکات یہ تھے۔
»عدالت ہمیں کہہ رہی ہے کہ عمران خان سے بات کریں اور الیکشن کی کسی ایک تاریخ پر اتفاق رائے کریں۔ ہم نے اس پر اپنا موقف دیا ہے کہ عدالت اپنی پوزیشن واضح کرے کہ وہ عدالت ہے یا پنچایت۔
»وہ انصاف کا ہتھوڑا بجا رہے ہیں۔ 90 دن میں الیکشن کرانا ناگزیر ہے اور عمران خان اگر اتفاق کر لے تو قبول ہے۔
»جس شخص کو اب تک نا اہل ہو جانا اور پاکستان کی سیاست سے دور رکھنا چاہیے تھا۔ سپریم کورٹ اسے پاکستانی سیاست کا محور بنانا چاہتی ہے۔ ’
»اسمبلی قانون بنا چکی ہے۔ عدالت کس اختیار کے تحت ہمیں دھونس دکھا رہی ہے، اسے پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت کام کرنا ہو گا۔
» اس بینچ پر پارلیمنٹ عدم اعتماد کر چکی ہے۔ ہمارے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل انھیں بتا چکے ہیں کہ ہم آپ پر عدم اعتماد کرتے ہیں۔ آج اسی بینچ کے سامنے میں پیش ہو جاؤں یا یقین دہانیاں کراؤں جس کے سامنے پیش ہونا آئین کا تقاضا نہیں ہے۔
» کس شخص سے ہم مذاکرات کریں وہ الیکشن کروانا چاہتا تو قومی اسمبلی کیوں نہیں توڑی۔
» یہ لوگ ملک میں سراسر احمقانہ اقدامات کر رہے ہیں، انھیں یہ علم نہیں کہ ملک کی سلامتی کے تقاضے کیا ہیں۔
»ہم عدالت کے جبر کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کب تک ہمیں ان باتوں سے بلیک میل کیا جاتا رہے گا۔ ایک وقت تھا بندوق کے سامنے مذاکرات کرنے کو کہا جاتا تھا آج ہتھوڑے کے سامنے کہا جاتا ہے مذاکرات کریں۔
»جس شخص نے کہا اگر دو تہائی اکثریت نہ ملی تو نتائج کو نہیں مانوں گا، اس سے بات کرنا پوری سیاست، پوری پارلیمنٹ کی توہین ہے
»جناب چیف جسٹس آپ اور آپ کے رفقا ایک معزز کرسی پر بیٹھ کر ہماری توہین کر رہے ہیں۔ ایک شخص کو تحفظ دینے کے لیے آپ پوری قوم کو ذلیل کر رہے ہیں۔ ’
»ہم عمران خان کو اس کا اہل نہیں سمجھتے کہ ان سے بات کی جائے پہلے عدالت ان کے خلاف مقدمات کا فیصلہ کرے۔ میں آپ کے انصاف کو تسلیم کرتا ہوں آپ کے ہتھوڑے کو نہیں۔ ہم پر فیصلہ مسلط کیا گیا تو ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے۔ ’
»عدالت 14 مئی میں پھنسی ہوئی ہے، عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے وہ واپس لے، اگر پارلیمنٹ سپریم ہے تو وہ ہمیں بلوا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں، سپریم کورٹ اپنے رویے پر لچک پیدا کرے »سپریم کورٹ اپنے رویے میں لچک پیدا کرے، اگر عمران خان کے لیے لچک ہے تو ہمارے لیے بھی لچک پیدا کرتی، وہ واضح فریق کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر واضح فریق بن رہے ہیں تو پھر استعفے دے کر سیاست میں آجائیں۔
فوری انتخاب کے حصول کے لئے خان صاحب نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل کروانے کا رسک لیا۔ انہیں گماں تھا کہ ان دو صوبوں کی نئی اسمبلیوں کے لئے بروقت انتخاب ہو گئے تو عوام میں ان کی مقبولیت روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی۔ ان دو صوبوں میں بروقت انتخاب یقینی بنانے کے لئے تحریک منظم نہ کر پائے۔ تو انہوں نے امید باندھ لی کہ سپریم کورٹ ہی آئین کی اس شق کے تحفظ کے لئے ان کی مدد کرے گی کہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد آئے نوے دنوں کے اندر نئے انتخاب ہوں۔
عدالت ان کی توقع کے مطابق متحرک ہوئی۔ سوموٹو پر اعلیٰ ترین عدالت میں واضح تقسیم سامنے آئی اور پہلا فیصلہ ہی 4 / 3 اور 3 / 2 میں متنازع ہوتا دکھائی دیا۔ سپریم کورٹ چیف جسٹس کی عجلت پر سوالات اٹھنے لگے۔ ان سوالات کے باوجود پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لئے 14 مئی کی تاریخ طے کردی گئی۔ خیبرپختونخوا کو نظرانداز کر دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کا اختیار بھی بینچ نے لیا اور گرانٹ جاری کرنے کے لئے بھی آرڈر کر دیا۔
قانون بننے سے پہلے حکم امتناع جاری کر دیا۔ جس سے آئینی ادارے پارلیمنٹ کی سپرمیسی پر بھی حرف آیا رہی سہی کسر 14 مئی کے حوالے سے فیصلے کا ڈراوا دے کر عمران مخالف سیاسی جماعتوں کو جلد سے جلد مل بیٹھ کر انتخابات کی تاریخ دینے کا پابند کرنے کی کوشش کی گئی۔ اتنا کچھ ہونے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو نا ہی تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی نیوز کانفرنس نے عدالت عالیہ کو پیغام دیا ہے کہ اب بس کر دیں ترازو ہی ایک طرف نہیں جھکا ہوا بلکہ آپ دوسروں کا موقف سننے کے لیے بھی تیار نہیں تو آپ عمران مخالف سیاست دانوں اور پارلیمنٹ کے بارے میں آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب کیوں گردانتے ہیں۔ گویا مولانا فضل الرحمن نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عدالت عالیہ کی منصفی سوال اٹھایا ہے۔ کہ
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے


