چھپکلی
نہ جانے اس بے ضرر، خاموش طبع اور نازک اندام مخلوق میں ایسا کیا نظر آتا ہے کہ اسے دیکھتے ہی اکثر خواتین چیخیں مارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ نہ تو اس کا رنگ روپ ہی ایسا بھیانک ہے نہ ہی ڈیل ڈول ایسا خطرناک، نہ اس کے نوکیلے پنجے، نہ بڑے بڑے دانت، نہ لمبے لمبے سینگ، تو پھر اس جاندار سے ڈرنے اور کانپنے کی کوئی معقول اور ٹھوس وجہ ہمیں تو نظر نہیں آتی۔
عادات و خصائل کے لحاظ سے بھی چھپکلی خاصی شرمیلی طبیعت کی مالک ہوتی ہے۔ آپ کو کبھی یہ گلیوں اور چوراہوں پر مٹر گشت کرتی دکھائی نہیں دیتی ہمیشہ چار دیواری میں مستور رہتی ہے۔ خاکم بدہن ہمارا ارادہ ہرگز ہرگز کسی موازنے یا تقابلی جائزے کا نہیں ہے لیکن خدا جھوٹ نہ بلوائے تو ایک قدر مشترک نزاکت بھی ہے اس کے باوجود بھی خواتین کا اس ”معصوم“ سے اللہ واسطے کا بیر بعید از فہم و ادراک محسوس ہوتا ہے۔
دیکھا جائے تو گھروں میں دراندازی کرنے والے دیگر ”گھس بیٹھیوں“ کی نسبت جن میں چوہے، لال بیگ، مکھی، مچھر وغیرہ شامل ہیں، چھپکلی کو نسبتاً پر امن اور مہذب کہا جا سکتا ہے۔ چوہوں کو ہی لیجیے، ادھر ادھار بھاگنے دوڑنے، گندگی پھیلانے، سوتے ہوؤں کو ستانے، بچوں کو ڈرانے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی چیزوں پر منہ مارنا یہ اپنا پیدائشی ”استحقاق“ سمجھتے ہیں۔ کسی چیز کا تعلق غذا سے ہو یا نہ ہو یہ بے تکلفانہ اسے کترنے میں لگ جاتے ہیں، کتابیں، اخبار، کپڑے، پردے، بجلی کے تار، اسٹور میں رکھے گتے کے کارٹن یہاں تک کہ صابن تک ان کی تخریبی سرگرمیوں سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔
اس کے برعکس چھپکلیوں کو آپ کبھی اس قسم کی چھچھوری حرکتوں میں ملوث نہیں پائیں گے، الٹا یہ تو ضرر رساں کیڑے مکوڑوں سے آپ کو بچانے کے لیے ہر لمحہ مصروف عمل دکھائی دیتی ہے۔ چھپکلی نہ تو سانپ کی طرح ڈستی ہے، نہ بچھو کی طرح ڈنک مارتی ہے پھر بھی زہریلی سمجھی جاتی ہے حالانکہ ہمارے علاقے اور گھروں میں چھپکلیوں کی جو قسم پائی جاتی ہے وہ قطعاً بے ضرر ہوتی ہے۔ چند ایک واقعات مشہور ہیں کہ سالن کی پتیلی میں چھپکلی گر گئی تو وہ زہریلا ہو گیا، ہو سکتا ہے کہ واقعی ایسا ہوتا ہو لیکن اس سے بچنے کے لیے احتیاط برتنا تو ہمارا کام ہے۔
اب اگر کوئی چھپکلی اپنے شکار کا پیچھا کرتے ہوئے چھت سے الٹی لٹکی رینگ رہی ہے اور پاؤں پھسل جانے پر عین نیچے رکھی آپ کی کھلی ہوئی سالن کی پتیلی میں جا گرتی ہے تو اس سلسلے میں بہتر یہی نظر آتا ہے کہ چھپکیلوں کو قصوروار ٹھہرانے میں اپنی صلاحیتیں برباد کرنے کے بجائے سالن کو ڈھک کر رکھنے کا اہتمام کرنے پر زور دیا جائے۔ جان بوجھ کر کبھی کوئی انسان آتش فشاں کے دہانے میں چھلانگ نہیں لگا سکتا تو اتنی سوجھ بوجھ تو اس چھوٹی سی مخلوق کے ننھے سے دماغ میں بھی قدرت نے رکھی ہوگی کہ سالن کی پتیلی میں چھلانگ اس کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، مقصد صرف یہ کہ کہ اس قسم کے واقعات اتفاق یا حادثات کہلاتے ہیں جو کسی بھی جاندار کہ ساتھ پیش آ سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں پائی جانے والی چھپکلیوں کی تقریباً ساڑھے چار ہزار اقسام میں سے کوئی چھ سات ہی ایسی ہیں کہ جنہیں خطرناک کہا جا سکتا ہے اور ان میں سے بھی اکثریت آدم بیزار طبیعت کی مالک ہوتی ہے اور سنیاسیوں کی طرح زیادہ تر جنگلات، بیابانوں اور صحراؤں میں پائی جاتی ہے۔ ویسے ”پایا جانا“ چھپکلیوں کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔ انٹارکٹیکا کے علاوہ یہ ہر براعظم میں پائی جاتی ہیں یہ ایسی ایسی جگہ بھی پائی جاتی ہیں کہ عقل دنگ ہو کر رہ جائے، ہم نے خود ایک زیر تعمیر کثیرالمنزلہ عمارت کی چھت پر بنے اسٹور روم کی بنا پلاستر دیوار پر چھپکلی کے نوزائیدہ بچے دوڑتے دیکھے ہیں۔ ہماری عقل تو یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک ننھی سی مخلوق نے بقائے نسل کے سلسلے میں سطح سمندر سے اس قدر بلند اور غیر آباد مقام کا انتخاب کیونکر کیا ہو گا۔
کچھ خواتین کا چھپکلیوں سے ڈرنے کا سبب ان کا یہ ماننا ہے کہ چھپکلیوں کے روپ میں جن بھوت بھی ہوا کرتے ہیں اور وہ بڑی شد و مد سے اس بات کی قائل نظر آتی ہیں، ان کی اس ”آسیبی راسخ العقیدگی“ کی بھی کوئی منطق سمجھ نہیں آتی۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کسی ”ایڈوینچر پسند“ جن کو ڈری سہمی خواتین کی فلک شگاف چیخیں سننے میں اتنی ہی دلچسپی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے اس ”احمقانہ“ شوق کی تکمیل کے لیے اسے چھپکلی کا روپ دھارن کرنے کی آخر کیا ضرورت ہے یہ کام تو وہ اپنے حقیقی رخ روشن کی براہ راست زیارت کروا کر زیادہ موثر طریقے سے کر سکتا ہے۔
سو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض فرضی افسانہ نگاری ہے۔ ہم تو سائنس کی افسانہ نگاری کے بارے میں بھی مشکوک ہیں جس کا ماننا ہے کہ چھپکلیوں کے آبا و اجداد کا تعلق مگرمچھوں سے ہے۔ اجی صاحب کہاں وہ خونخوار، عظیم الجثہ، بیہودہ جانور کہاں یہ صلح جو نازک اندام حسینہ۔ یقیناً یہ ہوائی بھی ڈارون جیسے کسی بندے نے اڑائی ہوگی اور ڈارون وہ انسان ہے کہ جس نے یہ انکشاف کیا کہ حضرت انسان کے آبا و اجداد بندروں کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، ویسے اس میں رتی بھر بھی صداقت نہیں ہے، خود اس کے اپنے بھائی بندوں ( انگریزوں ) نے یہ ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ ان کے باپ دادا بن مانس ہوا کرتے تھے، جنگلوں میں گھومتے اور درختوں پر جھولتے تھے، دینی لحاظ سے بھی یہ بات بالکل لغو ثابت ہوتی ہے، اس قسم کا کوئی اشارہ کہیں موجود نہیں ہے۔ مذہب کی بات چل ہی نکلی ہے تو یہ ایک اہم بات ہے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے چھپکلی کوئی پسندیدہ مخلوق نہیں ہے لیکن اس حقیقت کے باوجود بھی اس سے ڈرنے یا خوف کھانے کا کوئی جواز نہیں نکلتا۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ صرف دو طرح کے ڈر انسان میں پیدائشی طور پر پائے جاتے ہیں، ایک بلندی سے گرنے کا ڈر اور دوسرا بلند آواز کا ڈر یہی وجہ ہے کہ اگر آپ بہت چھوٹے بچے کو ہوا میں اچھال دیں یا اس کے قریب کوئی غبارہ پھاڑ دیں تو وہ سہم کر رونے لگتا ہے۔ جوں جوں انسان کی عمر بڑھتی جاتی ہے وہ مزید ڈر اور خوف اپنے مزاج میں شامل کرتا جاتا ہے۔ جو چیز اسے نقصان پہنچائے اس سے ڈرنے لگتا ہے۔ دوسروں کو کسی چیز سے ڈرتا دیکھ کر خود بھی اس خوف کھانے لگتا ہے۔ کچھ ڈر ہم خود اپنے بچوں کے ذہنوں میں ٹھونستے ہیں جیسے جنوں بھوتوں چڑیلوں کا ڈر، اس کے علاوہ انسان صرف اس چیز سے ڈرتا ہے جس کے بارے میں وہ مکمل معلومات نہ رکھتا ہو، اب چھپکلی کا ڈر کس خانے میں فٹ ہوتا ہے اس کا فیصلہ ہم خواتین پر چھوڑتے ہیں۔


