غریب کا بچہ اور عید!


پیاری مما اور محترم بابا! دوستوں سے سنا ہے آج عید ہے، چنانچہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آج آس پاس سب بچے خوشی سے پھولے نہیں سما رہے، سب بڑے خوش ہیں، ہنس رہے ہیں، ہاتھوں میں عیدی کے پیسے ہیں، کھلونے ہیں، مزے کر رہے ہیں، دوست ہیں، کھا رہے ہیں، پی رہے ہیں، تحائف کا تبادلہ ہے، ملاقاتوں کی محفلیں ہیں اور ہر کسی نے قسم قسم لباس زیب تن کیا ہوا ہے، اس کا مطلب ہے یہ کوئی بہت ہی خاص دن ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر میں ہی کیوں رو رہا ہوں، میری ہی آنکھیں نم کیوں ہیں، آنسوؤں کیوں بہا رہی ہیں؟

اپنے دوستوں میں صرف میرے پاس ہی کیوں کھلونے نہیں ہیں؟ صرف میں ہی نئے لباس کے بجائے خستہ حال اور پرانے لباس میں کیوں نظر آ رہا ہوں؟ ایسا کیوں ہے کہ جب عید آتی ہے تو پریشانیاں اور غم ہم غریبوں کے سر پر حملہ آور ہوتے ہیں؟ یہ کیوں ہمیں اندر سے توڑنے اور ہمارے زخموں کو مزید گہرا کرنے آتی ہے؟ کیوں ہم مسلسل غربت اور محرومی کی باہوں میں دب کر بھوک سے بے چین ہو رہے ہیں؟ کیوں ہم خود کو کمتر اور ذلیل محسوس کر رہے ہیں اور کیوں ہمیں اپنے سامنے مایوسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا؟ عید کیا ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے، اس کا پتہ ہمیں کب چلے گا؟

ماں، پڑھی لکھی اور سمجھدار کیوں نہ ہو تب بھی اس کی ممتا لخت جگر کے سوالات کے سامنے ہار جاتی ہے، اس لیے اپنے کلیجہ سے یہ باتیں سن کر اس کا دل غم سے ٹوٹ گیا کہ اس نے اپنے بچوں کو مصائب اور محرومی کے منظر میں کیوں پھینکا ہے اور ان پر اپنی شفقت اور ممتا نچھاور کر دینے کا کوئی راستہ کیوں نہیں پا رہی ہے۔ باپ، مگر عموماً ایسا نہیں ہوتا، وہ چاہے اندر سے ٹوٹ کیوں نہ رہا ہو تب بھی سمجھانے ہی کی کوشش کرتا ہے۔ سو، کہنے لگا: دیکھو بیٹا، اللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں : ہم ازراہ امتحان تمہیں بری بھلی حالتوں میں مبتلا کرتے ہیں ”انبیاء 35۔

کبھی فراخی کے ذریعہ اور کبھی تنگی کے ذریعہ، کبھی صحت کے ذریعہ اور کبھی بیماری کے ذریعہ، کبھی مال اور وسائل کی فراوانی کے ذریعہ اور کبھی فقر و فاقہ کے ذریعہ۔

الغرض، ہم سب یہاں حالت امتحان میں ہیں، اللہ تعالی کسی کو دے کر آزماتا ہے اور کسی سے لیکر۔ اب ہم غریب ہیں تو ہمارا امتحان صبر کرنے میں ہے اور جو امیر ہیں، ان کا امتحان بخشش کرنے اور شکر کرنے میں ہے، جس انسان نے اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لیا وہ کبھی امتحان میں فیل نہیں ہو سکتا، لہذا ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہم خود کو بھیک مانگنے اور اللہ تعالی کی شان میں شکایت کرنے سے بچائے رکھیں اور امیروں کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی دی ہوئیں نعمتوں پر شکر بھی کریں اور انہیں مستحق لوگوں میں بانٹنے میں بخل سے بھی کام نہ لیں۔ پس ہمیں صبر سیکھنے کے ساتھ ساتھ خود کو سختیاں جھیلنے کا خوگر بنانا ہو گا جبکہ امیروں کو نرم دل اور حساس ہونا ہو گا۔

قارئین! باپ نے تو بیٹے کو سمجھا دیا اور امید ہے وہ وہ سمجھ بھی گیا ہو گا لیکن اب ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہمارا شمار امیروں میں ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو پھر سوچنا چاہیے کہ کیا کبھی ہم نے کسی غریب کے بچے کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے؟ کبھی اس کے آنسوؤں پونچھے ہیں؟ کبھی اسے بھی کوئی کھلونا لے کر دیا ہے؟ اپنے بچپن کو یاد کریں، کیا یہی کھلونے آپ کی جنت نہیں ہوا کرتے تھے؟ کیا کبھی اسے بھی نیا سوٹ خرید کر دیا ہے؟ یاد ہے آپ کتنا خوش ہوتے تھے نئے کپڑے پہن کر؟ چلیں مالی مدد نہ سہی، کبھی معنوی طور بھی اس کے کبیدہ خاطر کو تسلی دی ہے؟

کبھی کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا ہے تاکہ اس کو کبھی ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ یہ نہ لکھنا پڑے کہ (ماتت امی ومات معھا کل شئ) میری ماں کی موت کے ساتھ ہی ہر خوشی بھی مر گئی اگر ایسا کچھ نہیں کیا ہے تو ہمیں اپنے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانا پڑے گا کیونکہ ضمیر مرتا نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات وہ فقط غفلت کی نیند سو رہا ہوتا ہے۔

خوب یاد رکھیں! دنیا میں ہر شخص خوش بھی ہوتا ہے اور غمگین بھی، کامیاب وہ ہے جو اپنی خوشی کو شکر اور غم کو صبر بنائے رکھے۔ یہاں فقیر کی فقیری کو دوام ہے اور نہ ہی امیر کی امیری کو، جس ذات نے آپ کو امیر بنایا ہے وہی ذات آنکھ جھپکتے ہی فقیر بھی کر سکتی ہے۔ یہ امیری نہیں، حقیقت میں آپ کا امتحان ہے، اب مرضی آپ کی ہے کہ آپ پاس ہونا چاہتے ہیں یا فیل!

Facebook Comments HS