فلسطین اور اسرائیل کا نیا تنازعہ


گزشتہ دنوں اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور اس کے ردعمل میں غرب اردن سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ سے حملے اور بیت المقدس میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت سے صاف سے ظاہر ہوتا ہے موجودہ قدامت پرست اسرائیلی حکومت حماس کے ساتھ ساتھ محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی سے تنازعہ کھڑا کر کے یہودیوں کی غیر قا نونی آبادیوں میں اضافہ اور مسجد اقصیٰ کے کچھ حصوں پر قبضے کا جواز تلاش کر رہی ہے

ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل اور محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی غزہ کی نسبت اسرائیل کے ساتھ امن و سکون سے رہ رہے تھے لیکن جب سے ناتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے اسرائیلی الٹرا قدامت پسند پارٹیوں کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی ہے اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کی عرب آبادی کے تعلقات مسلسل خراب ہو رہے ہیں

چونکہ یہ اسرائیلی قدامت پرست پارٹیاں کسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے سخت خلاف ہیں لہٰذا انہوں نے یہ نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے اور اسرائیل اور فلسطین کی وہ آبادی جو دو خود مختار ریاست کے حل کے قائل ہیں ان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب تک اسرائیلی قدامت پرست گروہ اور حماس یہ بات تسلیم نہیں کر لیتے کا نہ اسرائیلی 75 لاکھ فلسطینوں کو بحر روم میں پھینک سکتے ہیں نہ حماس 50 لاکھ یہودیوں کو فلسطین سے بیدخل کر سکتے ہیں اس کا واحد حل ایک دوسرے کو تسلیم کرنا اور اچھے ہمسائے کی طرح رہنا ہے۔

دوسری طرف لیکوڈ پارٹی کی طرف سے دس سال سے غزہ کی مسلسل ناکہ بندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی اسرائیل کے سب سے بڑے حامی امریکا اور اسرائیل میں دوریاں پیدا کر رہی ہیں موجودہ بائیڈن ایڈمنسٹریشن مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فورسز کے حملے اور فلسطین اتھارٹی کے ساتھ تنازعہ پر ماضی کی طرح حمایت نہیں کر رہی ہے بلکہ یہودیوں کی فلسطینی علاقوں می غیر قانونی آباد کاری اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر مذمت کر رہی ہے

اسرائیل کو سمجھ لینا چاہیے کہ امریکا میں اس کی کم ہوتی حمایت مستقبل قریب میں اس کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی قدامت پرست گروہ اور حماس اپنے عمل سے دونوں طرف کے لبرل لوگوں کو جو دو ریاستی حل کے حامی ہیں خاص طور پر اسرائیلی لیبر پارٹی اور محمود عباس کی PLO کو عام انتخاب میں وہ عوامی اکثریت حاصل نہیں ہوتی جس میں وہ بیٹھ کر اس دو ریاستی حل کے لیے روڈ میپ بنا سکیں۔ ایک طرف حماس ہے اور دوسری طرف اسرائیلی قدامت پرست گروہ یہ دونوں طرف خوف کا ماحول پیدا کر کے خطے کا امن تباہ کر رہے ہیں اور دو آزاد ریاستوں کے آسان حل جس سے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گزشتہ 30 سال سے دور رکھے ہوئے ہیں۔

Facebook Comments HS