فن اور اخلاقیات

فن ایک عمل خالص کا نام ہے۔ ایسا عمل جو اندرونی تحرک کی بنا پر ابھرتا ہے اور کسی بھی قسم کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ نقالی کا نام فن نہیں بلکہ یہ نام ہے موجود امثال میں جدت لاتے ہوئے نقطۂ کمال کی جانب بڑھنا۔ فن کو سات اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں اصطلاح میں فنون لطیفہ کہا جاتا ہے۔ اس میں فن تعمیر (روم میں پینتھیان، مصر میں اہرام، اور بھارت میں تاج محل اس کی مثالیں ہیں ) ، رقص ( انتہائی قابل ذکر رقص کام ڈومینیکو ڈ پیاسنزا، ماریس پیٹیپا، ایگریپینا واگینووا یا ہانیا ہولم کے تھے ) ، ادب (میمون بن قیس، ولیم شیکسپیئر، کنگ ایڈورڈ، لارڈ بائرن، رودکی، چیخوف، میر تقی میر، اور غالب وغیرہ کی امثال سامنے ہیں ) ، مصوری (ایورورڈ منچ، پکاسو، اٹاپورکا، لیونارڈو ڈ ونچی کی پینٹنگز) ، سنگ تراشی ( ڈسیکوبولو ڈی میرن ڈی ایلیوٹراس، ایسٹر جزیروں کا مویا، ریو ڈی جنیرو شہر میں مسیح دی فدیہ یا مائیکل جیلو کے ذریعہ پیئٹا مشہور سنگ تراشی کی کچھ مثالیں ہیں ) ، اور سینما شامل ہیں۔ یہاں یہ بیان کرنا کہ قدیم یونان میں ارسطو نے کس طرح فن کو دو اقسام میں تقسیم کیا اور کسی طرح بیسویں صدی عیسوی تک آتے آتے اس کی سات اقسام قرار پائیں، مضمون کو طول دینے کا باعث ہو گا۔
فن پر روشنی ڈالنے کے بعد یہ ضروری ہے کہ یہ بیان کیا جائے کہ اخلاقیات کس چیز کا نام ہے۔ اخلاقیات، اخلاق کی جمع ہے جو کہ فلسفہ کی ایک شاخ ہے جس میں معاشرے کی اخلاقی اقدار پر بحث کی جاتی ہے۔ بعض مفکرین اخلاقیات کو زندگی کے فن کی داستان قرار دیتے ہیں۔ اخلاقیات کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
1) مذہبی اخلاقیات
2) معاشرتی اخلاقیات
اولالذکر میں کوتاہی گناہ اور موخر الذکر میں جرم قرار پاتی ہے۔ یہ بحث بھی یہاں غیر موزوں معلوم پڑتی ہے کہ یہ بیان کیا جائے کہ کس طرح اخلاقیات مذہبی تناظر سے سیکولر تناظر میں داخل ہوئیں۔ البتہ اتنا بیان کر دینا ضروری ہے کہ اس عمل میں سگمنڈ فرائڈ، کارل مارکس، یووال ہراری، ابراہم ماسلو، وکٹر فرینکل اور کارل روجرز جیسے ماہرین کا ہاتھ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ فن اور اخلاقیات کا کیا تعلق ہے؟
اس موضوع کو دو تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
1) فن اور اخلاقیات
2) فنی اخلاقیات
فن اور اخلاقیات میں سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ کسی بھی فن کی تخلیق کے وقت یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ فن عوامی چیز ہے اور اس کو عوام کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔ اس لیے کسی ایسی چیز کو فن کا عنصر نہ بنایا جائے جو معاشرتی اخلاقی مسلمات کے خلاف ہو۔ یعنی فن ایسا نہ ہو کہ اس سے عوام میں چوری، ڈاکا زنی، عصمت دری/ عصمت فروشی وغیرہ کی خواہش پروان چڑھے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ
”اور شعرا، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔“ (الشعراء آیات 224۔ 226 )
اور اگر کوئی ایسی بات بیان کرنا لازم ہو جس میں جنسیت کا عنصر ہو تو استعاراتی اسلوب اختیار کیا جائے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں میاں بیوی کے جنسی تعلق کے متعلق ارشاد ہے :
”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔“ ( سورۃ البقرہ: 187 )
لفظ ”لباس“ کے استعمال سے سارا معاملہ بھی واضح ہو گیا ہے مگر ایسے کہ سننے والوں کے جذبات میں ہیجان پیدا نہیں ہوتا۔
دوسری بات یہ کہ فن اندرونی تحرک کا نام ہے جو خدا کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے فن میں ذات باری تعالیٰ کی حمد و ثناء کا بیان ضروری ہے۔ یا یوں کہ جس معاشرے میں فن تخلیق کیا گیا ہے اس کے عقیدے کے مطابق ذات مقدس کی حمد و ثناء بیان کی جائے۔
فن کو آفاقی ہونا چاہیے اور ہر ایک مسئلہ کو اس کے اندر سمونے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ یہ بات اخلاقیات کے خلاف ہے کہ فن کو ایک موضوع تک محدود کرتے ہوئے باقی تمام موضوعات سے کنارہ کش رہا جائے۔ برصغیر کے فنون میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ جنسیت تک محدود ہو کر رہ گئے۔ اقبال فرماتے ہیں :
ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویس
آہ! بیچاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار! (ضرب کلیم)
فنون لطیفہ میں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جانا بھی ضروری ہے کہ کسی بھی شخص کی بے جا تعریف یا ہجو نہ کی جائے۔ یہ بات معاشرتی اخلاقیات کے خلاف ہے کہ کسی بھی شخص پر بلاوجہ الزام لگایا جائے اور اس کی عزت و آبرو کو داغ دار کیا جائے۔
فنون لطیفہ کا سب سے اہم کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان دوستی کو پروان چڑھائیں اور قومیت سے رشتہ استوار کرنے کے بجائے آفاقیت کا رشتہ پروان چڑھائیں۔ اس وجہ سے فن کے ذریعے کسی بھی ایسے جذبہ کو ابھارنا جو قومی، مذہبی اور ملکی مسائل تک محدود رہ جائے یا خاص قوم میں احساس تفاخر قائم کرتے ہوئے باقی تمام اقوام کو کم تر قرار دے، انسانی اخلاقیات کے منافی ہے۔ فن کو انسان سے مخاطب ہونا چاہیے نہ کہ ایک خاص گروہ سے۔ ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ زمانہ قدیم میں فن کے ذریعے قومی جذبات کو ابھارا جاتا تھا اور جنگیں لڑی جاتی تھی۔ عرب میں رزمیہ شاعری اس کی مثال ہے۔ مگر موجودہ زمانہ آفاقیت کا زمانہ ہے۔ اس وجہ سے فن کا قومیت سے آفاقیت تک سفر کرنا ضروری ہے۔
اب دوسرے سوال پر بات کرتے ہیں کہ فنی اخلاقیات سے کیا مراد ہے۔
فنی اخلاقیات سے مراد ہے کہ فن میں نقالی کے بجائے مروجہ فنی امثال میں جدت پیدا کرتے ہوئے فنی نقطۂ کمال کی جانب بڑھنا۔ اور پہلے سے طے شدہ معیارات اور جدید معیار میں حد تفاوق کھینچتے ہوئے امتیاز کو واضح کرنا۔
یہ بات فنی اخلاقیات کے منافی ہے کہ کسی کے فن مثلاً نظم، موسیقی کی دھن اور مضمون وغیرہ کو اپنے نام سے منسوب کرتے ہوئے معاشرے میں پیش کرنا۔ فن، فنکار کی متاع ہوتا ہے اور کسی کی دولت کو چھیننا نا صرف معاشرتی جرم بلکہ مذہبی اور اخلاقی گناہ کے زمرہ میں بھی آتا ہے۔
فن داخلی تحرک کا نام ہے اور فنکار کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ودیعت کردہ فن میں ہنر کی آمیزش کرتے ہوئے، عروج کی جانب محو سفر ہونے کے لیے محنت کرے۔ محنت فن، جو ودیعت کیا گیا ہے، کے بنیادی علم کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ اس وجہ سے فنکار کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے متعلقہ فن کا علم حاصل کرے۔
مجموعی جائزہ:
وہ عمل جو انسان کی جمالیاتی حس کو تسکین پہنچاتے ہوئے اسے زندگی گزارنے کا ہنر سکھاتا ہے، فن ہے۔ اور فن کہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مروجہ معاشرتی مسلمات کے منافی نہ ہو۔ اگر فن معاشرتی مسلمات کے خلاف ہو گا تو اس سے دو رد عمل ظاہر ہوں گے۔ پہلا یہ کہ لوگوں میں اشتعال انگیزی پروان چڑھے گی اور وہ فن اور فنکار کے دشمن ٹھہریں گے۔ دوسرا یہ کہ لوگ اخلاقیات سے منہ موڑنے لگیں گے۔ دونوں عوامل ہی معاشرے کی بقا اور امن و سلامتی کے منافی ہیں۔ اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ فنون لطیفہ کو اخلاقیات کے منافی ہونے کے بجائے ان میں مضبوطی لانے کا باعث ہونا چاہیے۔

