پابلو نرودا اور گائے زدہ شاعر اور ادیب


پابلو نرودا بذات خود نہ تو کسی تعریف اور نہ کسی تعارف کے محتاج ہیں۔ وہ چلی کے مانے، جانے اور پہچانے انقلابی شاعر، اپنے وقت کے ایک افسر شاہی اور ایک سیاح لکھاری کی حیثیت سے اپنی نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی زیست کے تمام پہلوؤں پر بچپن سے لے کر آخر عمر تک ایک آپ بیتی سپرد قلم کی ہے جس میں وہ بغیر کسی سنسر کے بولتے چلے جاتے ہیں۔ وہ کس جگہ کس شاعر اور کس طرح کے شاعر سے ملے۔ اس نے اپنے وقت کے امریکہ، یورپ اور ایشیا کا کس طرح نقشہ کھینچا۔

اپنی مسافرت کی زندگی سفارت کے داؤ پیچ میں کیسی گزاری۔ مادہ نیولہ کیسے پالا۔ اپنے خاندانی نام نیفٹالی ریز کو کیسے بدلا، اپنی پہلی نظم کب کہاں اور کس طرح لکھی، کتنی کتابیں کب کہاں اور کس طرح لکھیں۔ کہاں کہاں تعینات رہیں۔ کتنے زبانی اور جسمانی عشق کیے ۔ انگریزوں اور کالونی میں رہنے والوں کے درمیان رویوں کے افراط و تفریط کو کیسے دیکھا اور پرکھا۔ دنیا کے کتنے بڑے بڑے لکھاریوں کو اپنی آپ بیتی میں نمایاں کیا اور کتنوں سے متاثر ہوئے۔ خود کتنے سچے اور کھرے لکھاری تھے۔ یہ سب کچھ ان کی آپ بیتی میموریز یعنی یادیں میں بڑے سلیقے، طریقے قرینے اور ایک خاص طرز نگارش میں لفظ بہ لفظ ثبت ہے۔

اب میں ایک ہی کالم میں تو اس کا احاطہ نہیں کر سکتا البتہ چونکہ وہ ایک اچھے شاعر اور ادیب تھے تو جہاں بھی گئے تو کسی نہ کسی شاعر اور ادیب سے ضرور ملے اور ان کی شاعری کے اچھے اور برے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت پر بھی روشنی ڈالی ہے جن میں ایک منفرد کردار کا حامل ایک شاعر اور ادیب اومر وگنول بھی تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ بیونس آئرس میں مجھے ارجنٹینا کے ایک بے حد خبطی ادیب سے ملنے کا موقع ملا۔ جس کا نام اومر وگنول تھا یا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ اب بھی بقید حیات ہے۔ وہ ایک دیو قامت شخص تھا جو چلنے کی ایک بھاری چھڑی کو اپنے ہاتھ میں رکھتا تھا۔

ایک مرتبہ وسطی قصبے کے ایک ریستوران میں جہاں اس نے رات کے کھانے پر مجھے مدعو کر رکھا تھا، میز پر میری جانب مڑا اور ایک کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک ایسی آواز میں جسے پورے کمرے میں سنا جا سکتا تھا کہا ”بیٹھ جاؤ اومر وگنول“ ۔ میں بے چینی کی کیفیت میں بیٹھ گیا اور فوراً ہی اس سے پوچھ بیٹھا تم مجھے اومر وگنول کیوں کہتے ہو تم جانتے ہو کہ تم اومر وگنول میں پابلو نرودا۔

” ہاں“ اس نے جواب دیا لیکن اس ریستوران میں بے شمار لوگ ہیں جو مجھے محض نام سے جانتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو مجھ میں سے دن کی روشنی کو نکال دینا چاہتے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ ایسا وہ تمھارے ساتھ کریں۔

وگنول ارجنٹینا کے ایک صوبے میں کاشتکار رہ چکا تھا اور اپنے ہمراہ ایک گائے لے آیا تھا جو اس کی نہ جدا ہونے والی دوست بن گئی تھی۔ وہ بیونس آئرس میں ہر جگہ اپنی گائے کے ہمراہ اس کی رسی تھامے پھرتا اس زمانے میں اس کی کچھ کتابیں شائع ہوئیں جو تمام کی تمام عجیب و غریب ناموں کے ساتھ تھیں مثلاً ”گائے کیا سوچتی ہے؟“ ”میں اور میری گائے“

جب ( PEN ) کلب کی پہلی بین الاقوامی ادبی کانفرنس بیونس آئرز میں منعقد ہوئی تو اس کے سربراہ وکٹوریہ اوکیمپو اور تمام ادیب یہ سوچ کر کانپ گئے کہ وگنول وہاں اپنی گائے کے ہمراہ آ جائے گا۔ انھوں نے حکام بالا کو اس خطرے کے بارے میں آگاہ کر دیا اور پولیس نے پلازہ ہوٹل کے اطراف کی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کر دی، تاکہ اتنی شاندار جگہ منعقد ہونے والی کانفرنس میں کسی خبطی دوست کو ہنگامہ کرنے سے روکا جا سکے۔ لیکن یہ سب بے کار ثابت ہوا۔

تقریبات پورے زور و شور پر تھیں اور ادیب حضرات یونان کی کلاسیکی دنیا کا آج کے عہد کے جدید تاریخی مطلب سے اطلاق کے بارے میں بحث مباحثے میں مصروف تھے کہ عظیم وگنول اپنی جدا نہ ہونے والی گائے کے ہمراہ کانفرنس ہال میں آ دھمکا اور طرفہ تماشا یہ کہ گائے نے بھی چیخنا شروع کر دیا جیسے وہ بھی مباحثہ میں شریک ہونا چاہتی ہو۔ وہ اپنی گائے کو شہر کے مرکز تک ایک بند ویگن میں لایا تھا جس پر محتاط پولیس کو ذرہ بھر بھی شک نہ ہو سکا۔

اسی وگنول کے بارے میں، میں کچھ اور بتاؤں گا کہ ایک مرتبہ اس نے ایک پہلوان کو چیلنج دے دیا۔ جسے اس نے قبول کر لیا اور مقابلے کی رات کو میرا دوست صحیح وقت پر لیونا پارک میں اپنی گائے کے ہمراہ پہنچ گیا، جسے اکھاڑے کے کونے میں بٹھا کر اپنا شاندار لبادہ اتارا اور کلکتہ اسٹرینگلر کے بالمقابل کھڑا ہو گیا۔ لیکن نہ گائے اور نہ خود لڑنے والے شاعر کے چیلنج نے اس کا ساتھ دیا۔ کلکتہ کے شہرت والے پہلوان نے وگنول کی خوب پٹائی کی اور اسے رنگ کے رسوں میں بے یارو مددگار حالت میں باندھ دیا، اور صرف پٹائی ہی پر اکتفا نہ کیا بلکہ بے عزتی میں اضافہ کرتے ہوئے تالیوں کے شور میں وہ اپنا پاؤں اس ادبی بیل کے گلے پر رکھ کر کھڑا ہو گیا، جبکہ دیکھنے والے لڑائی کو جاری رکھنے کے لئے شور کر رہے تھے۔

چند ماہ بعد وگنول کی ایک کتاب شائع ہوئی۔ جس کا نام ”گائے کے ساتھ مکالمہ“ تھا میں اس کتاب کے پہلے صفحے پر موجود ایک دلچسپ انتساب کو کبھی نہ بھولوں گا۔ اگر میرا حافظہ میرا ساتھ دیتا ہے تو وہ کچھ یوں تھا۔ ”میں اس فلسفیانہ کام کو ان چالیس ہزار کتیا کے بچوں کے نام منسوب کرتا ہوں، جنھوں نے چوبیس فروری کو لیونا پارک میں میری موت کے لئے غل غپاڑہ کیا اور سیٹیاں بجائیں۔“

 

Facebook Comments HS