پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال


اگر بفرض محال پنجاب اور کے پی کے میں اگلے ماہ الیکشن ہو بھی گئے تو کسی بھی جماعت کو مکمل اکثریت ملنے کا امکان نہیں۔ پی ٹی آئی زیادہ نشستیں لے سکتی ہے لیکن کیا وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی جبکہ سندھ اور بلوچستان اس مجوزہ الیکشن کا حصہ ہی نہیں ہوں گے ۔ اس سچویشن میں پھر وہی ہارس ٹریڈنگ۔ سیاسی جماعتوں کے جوڑ توڑ اور ڈرٹی گیم کھیلا جائے گا جو کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ اس کے علاوہ مئی میں مجوزہ الیکشن جیتنے والی جماعت آئندہ ہونے والے صوبائی اور قومی اسمبلی کے الیکشنز میں اثر انداز ہوگی۔ جس سے صورتحال مزید خراب ہوگی اور ملک میں انارکی پھیلنے کا اندیشہ ہے جس کا فائدہ کوئی اور اٹھائے گا اور ساری بساط لپیٹ دیے جانے کا امکان ہے۔

پچھلے چند برسوں سے یہی محسوس ہوا کہ پیپلز پارٹی ہی ایک جینوئن سیاسی پارٹی ہے اور اس کی قیادت میں شامل افراد واقعی سیاسی ذہن کے حامل ہیں وہ سیاست کو سمجھتے بھی ہیں اور جذباتیت سے ہٹ کر بہت سوچ سمجھ کر فیصلے بھی کرتے ہیں۔ زرداری صاحب کی فراست اور سیاست کا کوئی ثانی نہیں۔ جس کا مظاہرہ ایک بار پھر انہوں نے موجودہ سیٹ اپ میں کیا اور صرف دو وزارتیں لیں جن کا عوام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں اس طرح پیپلز پارٹی مہنگائی اور بد امنی کے سبب عوام کے غیض و غضب کا براہ راست نشانہ نہیں بنی جبکہ مہنگائی اور اشیائے خورد و نوش کی قلت کا سارا ملبہ پی ڈی ایم اور خاص طور پر نون لیگ پر گرا اور عوام کا یہ غم و غصہ آئندہ ہونے والے الیکشن میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور نون لیگ کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ تحریک عدم اعتماد لانا پی ڈی ایم کی ایک فاش غلطی تھی جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کی تمام ناقص کارکردگی ان کے گلے پڑ گئی اور خان صاحب کو سیاسی شہادت مل گئی بصورت دیگر پی ٹی آئی بقایا ڈیڑھ سال میں خود عوام کے سامنے جانے کے قابل نہیں رہتی۔

ان حالات میں پیپلز پارٹی نے جس طرح بلاول کو لانچ کیا اور جس طرح اس کی گرومنگ کی وہ قابل ستائش ہے۔ بلاول کا لب و لہجہ بتا رہا ہے کے وہ مستقبل کا ایک وژنری سیاستدان بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سندھ کی سطح پر پیپلز پارٹی سے شدید اختلاف کیا جا سکتا ہے جہاں وہ شہری علاقوں میں محض سندھی قوم پرست جماعت کے طور پر پہچانی جاتی ہے وہ نسلی تعصب میں بہت آگے چلی گئی ہے جو شاید سندھ کے دیہی علاقوں کے لیے تو بہت اچھا ہو لیکن شہری علاقوں میں پارٹی کی پذیرائی مشکل ہے جب تک وہ شہری عوام کو ساتھ لے کر نہیں چلتے اور ان کے حقوق نہیں دیے جاتے۔ ملازمتوں کی تقسیم اور دیگر امور پر پیپلز پارٹی صرف ایک سندھی پارٹی بن جاتی ہے اور شدید ترین تعصب کا مظاہرہ کرتی ہے یہ پالیسی اسے سندھ کے شہری علاقوں میں کبھی مقبول نہیں ہونے دے گی۔

ایم کیو ایم کے ”زوال“ کے بعد کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں سیاسی ویکیوم تھا جسے پیپلز پارٹی بخوبی پر کر سکتی تھی اور شہری عوام کی ہمدردیاں سمیٹ سکتی تھی لیکن صد افسوس کہ پیپلز پارٹی نے صرف لیاری اور ملیر ہی کو کراچی سمجھا اور اس موقع کو ضائع کر دیا۔ پچھلے الیکشن میں سندھ کے شہری علاقوں اور کراچی میں اسٹیبلشمنٹ نے اس سیاسی خلا کو مصنوعی طریقے سے پی ٹی آئی کے ذریعے پر کرنے کی کوشش کی اور نادیدہ قوتوں کی آشیرباد سے کراچی کی ”نمائندگی“ کا تاج اس کے سر پر سجایا گیا جسے وہ سنبھال نہ سکے اور صفر کارکردگی دکھائی۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک ختم نہیں ہوا۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد عمران خان کی حامی ہے اور اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتی ہیں۔

جماعت اسلامی نے کمال ہوشیاری سے کراچی میں سیاسی خلا کو کسی حد تک پر کیا۔ حافظ نعیم الرحمان صاحب نے جماعت کو بڑی مہارت سے متحرک کیا اور اسے ایک نئی زندگی دی۔ اس میں شک نہیں کہ جماعت اسلامی کے افراد نظریاتی بھی ہیں اور ان میں بددیانتی بھی مفقود ہے۔ حافظ نعیم نے کراچی میں جماعت اسلامی کا تشخص ایک بار پھر اجاگر کیا اور سخت محنت کی جس کا نتیجہ پچھلے بلدیاتی انتخاب میں واضح نظر آیا۔ جماعت کے ذیلی ادارے الخدمت نے نہ صرف کراچی کے عوام کے لیے کام کیا بلکہ پورے ملک میں ہر مشکل گھڑی میں متحرک نظر آئی۔ لیکن اس کے باوجود جماعت اسلامی سیاسی طور پر شاید کبھی ملکی سطح پر پذیرائی حاصل نہ کر سکے گی جس کی بڑی وجہ اس میں سیاسی بصیرت کا فقدان اور ان کا غیر لچکدار رویہ ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان میں بہت زیادہ ٹوٹ پھوٹ ہو چکی ہے اور اس میں دھڑے بندیوں کی وجہ سے پاٹی کو شدید نقصان ہوا اور ان کا ووٹر شدید کنفیوژن کا شکار ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ الطاف حسین صاحب کا سحر اب تک مکمل ختم نہیں ہوا۔ آج بھی ان کی ایک آواز پر کوئی بڑا اپ سیٹ ہو سکتا ہے۔ الطاف حسین کی پاکستان آمد اب ناگزیر ہے ورنہ محض ہیلو کی کال مزید موثر نہیں رہے گی۔

نواز لیگ جو پی ڈی ایم کی بڑی جماعت ہے اس کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب میں اس کا ووٹ بینک بہرحال موجود ہے اس جماعت میں شامل گھاگ سیاستداں ہیں اور وہ اپنے اپنے حلقوں میں بااثر بھی ہیں۔ حیرت ہے کہ مریم نواز کے سوا پارٹی کے دوسرے رہنما زیادہ متحرک نظر نہیں آرہے اور محسوس ہوتا ہے کہ کہیں اندرونی خلفشار ہے۔ نواز شریف صاحب ہی وہ ذات ہیں جو پارٹی کی اصل آواز ہیں ان کا واپس آنا اب ضروری ہو گیا ہے ہر گزرتا دن پارٹی کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی ایک سنجیدہ سیاسی جماعت ہے جس میں اچھا بولنے والے، قانون دان اور سیاسی بصیرت کے حامل نظریاتی افراد ہیں جو کسی حد تک سیکولر بھی ہیں اور روشن خیال بھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اب یہ کلٹ پالیٹکس کے بجائے پارٹی کے کارکنوں کو بھی آگے لائیں اور پارٹی کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ اس میں شک نہیں کہ ماضی میں اس پارٹی نے بہت قربانیاں دیں۔ اس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے جیل کاٹیں۔ کوڑے کھائے اور خود سوزیاں کیں۔ بھٹو صاحب کا عدالتی قتل ہوا۔ بے نظیر کو شہید کیا گیا یہ سانحات ناقابل فراموش ہیں لیکن صرف شہید کارڈ کھیلنا کافی نہیں ہو گا یہ یاد رکھیں اب وہ نسل نہیں رہی جس نے یہ مناظر دیکھے۔ آج کے نوجوان شاید ماضی کے واقعات پر وہ رد عمل نہ دیں جو پچھلی نسل کا تھا لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی آج کے تقاضوں کو لے کر آگے بڑھے۔ ابھی اس جماعت میں اتنی جان ہے کہ وہ مستقبل میں حیرت انگیز نتائج دے سکتی ہے۔

یہ کہنے میں کوئی عار نہی کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود اپنے میڈیا سیل کے ذریعے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو عمران خان کے سحر میں جکڑے رکھا ان کی شخصیت کو ایک مسیحا کے طور پر پیش کیا گیا اور ان کے ہر عمل کو سوشل میڈیا پر خوب اچھالا جس کی وجہ سے وہ خود کو ہر قسم کے قانون اور ضابطے سے بالاتر سمجھنے لگے۔ ان کے چاہنے والے ایک قسم کے Personality Worship Syndrome کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اس صورتحال اور بے جا ”خود اعتمادی“ کی بدولت خان صاحب ہر ادارے سے ٹکرانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں جو خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

کسی پارٹی یا شخصیت سے متاثر ہونا یا کسی نظریے کی تائید کرنا بالکل ذاتی معاملہ ہے اور ہر ایک کا حق ہے اسی طرح مخالفت بھی کی جا سکتی ہے مگر یہ کیا کہ انسان تہذیب اور شائستگی ہی چھوڑ دے اور کسی کی شخصیت کے سحر میں اس طرح گرفتار ہو جائے کہ اس کی ہر بات کی اندھی تقلید شروع کردے اور اپنے پسندیدہ شخصیت کو دیوتا سمان سمجھنے لگے۔ خان صاحب ہی کی پارٹی میں کئی شکرے اسی انتظار میں ہیں کہ خان صاحب کی کہانی ختم ہو آور وہ پارٹی ٹیک اوور کر لیں۔ اس حقیقت سے خان صاحب بھی واقف ہیں اور ان کو کسی پر اعتماد نہیں شاید یہی وجہ ہو کہ وہ خود ہی ہر حلقے سے انتخاب لڑتے ہیں کہ کوئی دوسرا ہے ہی نہیں جو پارٹی کو آگے لے جا سکے۔ ادھر عوام کا یہ حال ہے کہ ان کا پرسان حال کوئی نہیں۔ بجائے کچھ ریلیف دینے کے انہیں عجیب گورکھ دھندوں میں پھنسا دیا گیا ہے

فل پنچ۔ چھہ رکنی۔ چار رکنی۔ نو رکنی بنچ۔ شق باسٹھ تریسٹھ۔ ایک سو تراسی۔ اٹھاون ٹو بی۔ نیا پاکستان۔ ریاست مدینہ۔ اسلام کا قلعہ۔ ووٹ کو عزت دو وغیرہ وغیرہ یہ منطق عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہیں انہیں صرف پیٹ بھر روٹی اور امن و امان چاہیے اور بس۔ عام آدمی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ فیصلہ چار تین کا ہے یا تین دو کا یا کس کی حکومت ہے۔ ملک کا چیف جسٹس کون ہے آرمی چیف کون ہے۔ انہیں تو بس اپنے اور اپنے بچوں کے لیے رزق۔ روزگار اور امن و امان سے غرض ہے۔ خدارا رحم کریں اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے اور پسی ہوئی عوام سڑکوں پر آ جائیں اور ایک ایسی انارکی جنم لے کہ سب کچھ بھسم ہو جائے۔ چینی فلاسفر کنفیوشس کا قول ہے ”جب عوام کا حاکم وقت اور حکومت سے اعتماد اٹھ جائے تو ریاست تباہ و برباد ہوجاتی ہے“

Facebook Comments HS