میں کون ہوں اے ہم نفسو (9)

ذکر یاران گم گشتہ۔ کاشف زبیر اور علیم الحق حقی
ڈائجسٹوں کی دنیا میں جو نام مقبولیت کے بام عروج تک گئے اس میں میرے اندازے کے مطابق سب سے جونیئر میں ہی تھا۔ نئے رسالوں کے اجرا کے ساتھ نئے کہانی کار بھی سامنے آئے لیکن زیادہ تر ان کی شہرت کا دائرہ محدود رہا یا ان کے ذہن کی زرخیزی باقی نہ رہی۔ ایک نام مجھ سے جونیئر تھا جس نے بہت کم وقت میں بہت لکھا۔ بہت اچھا لکھا اور اپنی جگہ صف اول کے لکھنے والوں میں بنالی۔
یہ نام کاشف زبیر کا تھا ایک روز سعید منزل والے آفس میں ایک خاتون کو دیکھا جو کیشیئر سے مطبوعہ کہانیوں کا معاوضہ وصول کر رہی تھیں، انہوں نے ہاتھ کا لکھا کچھ مواد برائے اشاعت بھی دیا اور چلی گئیں۔ میں نے انور فراز مدیر جاسوسی ڈائجسٹ سے ان اجنبی خاتون کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا ”یہ کاشف زبیر کی والدہ تھیں” ”وہ خود کہانیاں دینے اور معاوضہ لینے کیوں نہیں آتا؟“ انور فراز ہنسے لگا ”وہ مفلوج کیسے آ سکتا ہے۔ وہیل چیئر پر ہے“ مجھے سخت شاک ہوا ”خاتون کی عمر تو اتنی زیادہ نہی“ ” وہ بھی نوجوان ہے۔ ابھی شادی بھی نہیں ہوئی“ مجھے سخت شاک لگا۔ کوئی مفلوج نوجوان جو حرکت سے معذور ہو اتنی اچھی کہانیاں کیسے لکھ رہا ہے جن میں انگریزی ناولوں کی تلخیص بھی ہوتی ہے گویا صرف معیار ہی نہیں، مقدار بھی ہے۔ تجسس نے ایسا مجبور کیا کہ میں دوسرے تیسرے دن پتا لے کر ماڈل کالونی ملیر پہنچ گیا۔ جانے سے پہلے میں نے اسے فون کر کے بتا دینا مناسب سمجھا اور عادت کے مطابق ایک بیکری سے کیک ساتھ لے گیا۔
ایک جگہ پہنچ کے راستہ بند ہو گیا۔ گاڑی آگے نہیں جا سکتی تھی۔ وہ موبائل فون اور گوگل سے لوکیشن لینے کا زمانہ نہیں تھا پتا پوچھتا میں اس گلی تک پہنچ گیا جہاں کاشف زبیر وہیل چیئر پر بیٹھا اپنے بھائی کے ساتھ میرا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے اسے گلے لگایا تو وہ آبدیدہ ہو گیا کہ یہاں تک کبھی کوئی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔ ہم گلی میں اس کے گھر پہنچے تو میرا استقبال اس کے والدین اور بہن نے کیا۔ وہ سب خوش تھے کہ اتنے مشہور مصنف نے ان کے گھر کسی وجہ کے بغیر قدم رنجہ فرمایا۔
اب میں کیا بتاتا کہ کہ میرے نزدیک کاشف زبیر میرے لیے کتنی بڑی وجہ تھا۔ خاطر مدارات میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، ساتھ کھانا کھایا اور تصویریں اتاریں اس دن میں نے کاشف زبیر کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اس رشتے کو نبھانے کی کوشش ضرور کی میں گلشن معمار سے ملیر ماڈل کالونی جاتا تھا تو بہت دور لگتا تھا لیکن اس فیملی کی داد دینا پڑتی ہے جو وہیل چیئر ڈکی میں رکھ کے ہمارے گھر پہنچ جاتی تھی۔ ایک بار وہ آئیے تو اس کی ماں نے کاشف زبیر کی شادی کا دعوت نامہ دیا۔
یہ ملیر میں اس کے گھر کے پاس ہی شامیانہ کے نیچے ہوئی تھی میرے علاوہ شادی میں ایک نمایاں شخصیت 84 سال کے مرزا جمیل احمد کی تھی جنہوں نے نوری نستعلیق بنا کے اردو میں نشرو اشاعت کی دنیا بدل دی تھی اور کتابت کو کمپیوٹر پر یوں منتقل کیا تھا کہ خوش خطی بر قرار رہی تھی۔ اجل ہے لاکھوں ستاروں کی اک ولادت مہر۔ اس سے خوش نویسی کے فن کا خاتمہ ہو گیا تھا کراچی کی روایتی شادیوں کی طرح اس شادی میں بھی تاخیر ہوئی۔
مرزا جمیل احمد اور میں ایک ہی میز پر بیٹھے تھے۔ وہاں ایک دوسرے کے شناسا ہم ہی تھے۔ میرا خیال تھا کہ رات گیارہ بجے مرزا صاحب بریانی شاید نہ کھائیں اور سلاد پر گزارا کریں لیکن انہوں نے بریانی کا انتخاب کیا تو میں نے حیرانی کا اظہار کیا۔ وہ بالے ”میاں اقبال۔ ہاضمہ کے لیے سب سے خطرناک چیز سلاد ہی ہے، یہ ملیر ندی والے سیوریج کے پانی میں پیدا ہوتی ہے۔ کراچی میں اتنا صاف پانی کہاں کہ کیٹرنگ والے اسے اچھی طرح دھوئیں۔
بس برتن دھونے والے پانی میں ایک ڈبکی دی اور پیش کر دیا۔ سب بیکٹیریا غسل کر کے تازہ دم بیٹھے ہوتے ہیں کہ آپ کے پیٹ میں کہرام بپا کریں۔ بریانی کی دیگ جس آنچ پر پکتی ہے اس میں بیکٹیریا اور جراثیم سب کی یخنی بن جاتی ہے ”میں اس مرد ضعیف کی دانش پر دم بخود رہ گیا اور یہ دانائی کی بات آج تک اسی طرح پلے سے باندھ رکھی ہے جب میں نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہوا تو میرا لکھنا موقوف ہو گیا۔ یہ ایسی ذہنی اور اعصابی بیماری ہے جس کی جسمانی علامات کچھ نہیں اور بظاہر وجہ بھی کوئی نہیں۔
بس میں قلم پکڑے خلا میں دیکھتا رہتا تھا اور ایک جملہ نہیں لکھ پاتا تھا تو اٹھ کر صوفے پر بیٹھ جاتا تھا اور ٹی وی کو گھورنے لگتا تھا، وہ بھی دیکھنا نہیں ہوتا تھا۔ نیند بھوک سب نارمل۔ بیٹوں نے اور بھائی نے یہ دیکھا تو ان کا تشویش میں مبتلا ہونا جائز تھا۔ وہ مجھے ایک نامور ماہر نفسیات کے پاس لے گئے اور اس نے کہا کہ یہ بیماری تو ہے لیکن علاج اس کا یہ ہے کہ مزاحمت نہ کی جائیے اور پریشان نہ ہوا جائیے ۔ آپ تمام ذہنی تفکرات کو بھلا دیں اور بس۔
ایک دوا بھی تھی لیکن اچانک میرا لکھنا لکھانا ختم ہو گیا اور پتا نہیں تھا کہ میں کب مکمل شفایاب ہو کے لکھنے لگوں گا میں شکاری کے بعد کوئی قسط وار سلسلہ لکھ رہا تھا۔ اس کا اختتام قریب تھا۔ ایڈوانس قسط میں نے زندگی میں کبھی لکھ کر نہیں دی تھی۔ اب یہ مشکل آن پڑی کہ آگے کی کہانی کون لکھ کر دے گا۔ قرعہ فال کاشف زبیر کے نام نکلا اور اس نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ یہ ہرگز کوئی آسان کام نہ تھا۔ نہیں معلوم اس نے کیسے کر لیا۔
پیچھے کی کہانی اس کی پڑھی ہوئی تھی۔ آگے کی اس نے بنائی۔ اپنی طرف سے میرا انداز تحریر اختیار کرنے کی سر توڑ کوشش کی اور دو تین اقساط میں کہانی لپیٹ دی۔ شاید مکمل شفا کے بعد پھر قلم اٹھانے میں مجھے تین ماہ لگے تھے۔ میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا کہ انداز تحریر کے فرق کو کتنے پڑھنے والوں نے نوٹ کیا تھا۔ بعد میں بارہا مجھ سے پوچھا گیا کہ اس قسط کا اختتام کس نے کیا تھا اس راز پر سے آج پردہ اٹھانے کا مقصد صرف کاشف زبیر کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ میں اسلام آباد میں تھا جب مجھے کاشف زبیر کی مرگ ناگہاں کی خبر ملی۔
یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ایک رات میں ایسا کیا ہو گیا کہ ہسپتال ہسپتال پھرنے کے باوجود اسے صبح کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہوا —
عشق کا عین۔ علیم الحق حقیٓ —
ہم عصر کہانی کاروں میں اس کا نام بڑا تھا اور اس کے ایک ناول کی دھاک ایسی بیٹھی تھی کہ ہم رشک کرتے تھے۔ یہ ناول وہ خود تھا۔ اس عشق کو نفس نفس علیم نے جیا تھا لیکن کبھی رسوا نہ کیا تھا۔ ہم دو چار کے مقابلے میں اس کی عمر زیادہ تھی لیکن لیکن وہ زندگی کے سرکس میں ایک پہیے کی سائیکل چلا رہا تھا اور اتنا سنجیدہ رہتا تھا کہ ہم جوکر لگتے تھے ایک دن اچانک اس نے شادی کا دعوت نامہ تھما دیا ”کل میری شادی ہے“ ہم نے کہا ”عقد سے کس کو رستگاری ہے۔ آج ہم کل تمہاری باری ہے۔ لیکن کل“ اور کارڈ کو دیکھے بغیر رکھ لیا ”ہاں کل۔ وقت کی پابندی ضروری ہے۔ جو اقوام۔۔۔“ اس نے عادت کے مطابق نصیحت شروع کی جو ہم نے عادت کے مطابق نہیں سنی خوش قسمتی کہ اگلے روز ہم چار افراد کارڈ میں لکھے ”روانگی بارات شام سات بجے ”کے وقت سے چار سیکنڈ قبل پاپوش نگر میں حقی کے دروازے پر تھے۔ ایک طویل سجی سجائی گاڑی کا ڈرائیور دروازے میں تالا لگا کے اپنی جائے مخصوص پر بیٹھا اور گاڑی دوڑا دی۔
میری گاڑی میں انور فراز مدیر جاسوسی ڈائجسٹ عبیداللہ قدسی مصنف سلسلہ وار کہانی ”مجاہد“ اور آرٹسٹ شاہد بھی تھے۔ یہ واضح ہو جانے کے بعد کہ بارات کہیں اور جائے گی ایک ریس شروع ہوئی۔ بارات میں یہی دو گاڑیاں تھیں چنانچہ منزل پر پہنچنے کے لیے ضروری تھا کہ ہم دولھا کے پیچھے لگے رہیں ورنہ ”اک اک سے پوچھتا ہوں کہ جاؤں کدھر کو میں ”والا معاملہ ہو جائے گا۔ پاپوش کے علاقے سے گزر کے خیال تھا کہ بارات ناظم آباد کے کسی ہال میں جائے گی، یہ خیال غلط ثابت ہوا۔
دولھا کی گاڑی بڑی تھی اور اس کا ڈرائیور شاید بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتا تھا۔ اس نے گاڑی کوئی یوں بھگانا شروع کیا کہ مدیر نے کہا ”بھی یہ تو “دولھا کا اغوا” ہے۔ “آرٹسٹ نے کہا ”اچھا آئیڈیا ہے کہانی کے لیے اقبال صاب“ میں نے کہا ”بھاڑ میں گی کہانی۔ اس وقت میں ڈرائیور ہوں اور مجھے دولھا کی اتنی بڑی گاڑی سے ریس لگانی پڑ رہی ہے۔” ناظم آباد کے سارے شادی ہال گزر گئے۔ گرو مندر سے بندر روڈ پہنچ کر سوچا کہ کیا پتا دلہن کے گھر جانا ہو۔ لیکن دولھا کی گاڑی داخل ہو گی ”آئی بی اے انسٹی ٹیوٹ“ میں۔ اس وقت شام کے ساڑھے سات بجے تھے اور دلہن والے ٹینٹ کھڑے کر رہے تھے۔ ان پر بارات کو دیکھ کر سکتہ سا طاری ہوگیا۔ دانت پیس کر مسکراتے ہوئیے انہوں نے کہا ”آپ تو بہت جلدی آ گئے “ مدیر اعلا نے صورت حال سنبھالی ”چلیے ہم کچھ دیر میں آ جاتے ہیں“ دولھا نے سہرا میری گاڑی میں رکھا اور ہم پیدل باہر نکل آئیے۔ ساتھ ہی شاید کیفے مبارک تھا۔ وہاں چائے پینے بیٹھے تو علیم الحق حقی نے عقد سے پہلے گالیاں کھانے والے پہلے دولھا ہونے کا اعزاز حاصل کیا ”کارڈ پر آئی بی اے کا ایڈریس نہ لکھنے میں کیا عقلمندی تھی؟
”گھر کا پتا تو تھا نا۔ ساتھ آسکتے تھے“ میں نے بھنا کے کہا ”جیسے میں آیا ہوں؟“ شاہد نے کہا ”بھائی جی ادھر آنے والے اب تالا دیکھیں گے“ دولھا نے فرمایا ”جو وقت کی پابندی نہیں کرتے ان کی یہی سزا ہے“ ”آفرین آفرین۔ کیا خوب دن چنا تم نے یہ سبق سکھانے کے لیے۔“ مجاہد عبیداللہ قدسی نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا دو بار چائے پینے کے بعد ہم نے بمبینو سینما کے پوسٹر دیکھے اور صدر میں ایک طوطے سے حقی کے ازدواجی مستقبل کی پیش گوئی سوا روپے میں سنی اور نو بجے واپس آئی بی اے پہنچ کراس کے سر پہ سہرا رکھا۔
اب نکاح کا مرحلہ آیا تو حقی نے اعلان کیا ”نکاح میرا دوست عبیداللہ قدسی پڑھائے گا” دلہن والے پھر جز بز ہوئیے ”ہم نے مسجد کے مولانا کو بلایا ہے“قدسی بھی مسجد خضرا کے پیش امام کا بیٹا اور حافظ ہے۔” اب قدسی صاحب نے جو نکاح پڑھایا تو بس ایک بار پوچھ کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ ایک بار پھر شور مچا کہ تین بار پوچھنا چاہیے ۔ قدسی نے کہا ”لاؤڈ سپیکر پر پوچھا تھا۔ کس نے نہیں سنا؟“ اس کے بعد تقدیر نے کہا کہ پنگا ہے تو پورا ہی سہی۔
اگلے روز عین ولیمے سے پہلے شہر کی فضا ایسی خراب ہوئی کہ انتظامیہ کو کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ جو کچھ لوگ ولیمے میں شرکت کے لیے آئیے تھے واپس گھر کی طرف دوڑے کہ ایسا نہ ہو نہ راستہ ملے نہ ٹرانسپورٹ۔ فرار ہونے والوں میں چار یار بھی تھے۔ پلاؤ زردے کی دیگوں کے منہ کھلنے سے پہلے شہر سنسان ہو گیا۔ حال ہی میں مجھے حقی کے کسی بچے کی شادی کا دعوت نامہ ملا تھا لیکن وقت بھی کم تھا اور اسلام آباد میں بھی معمول کے مطابق بحران تھا تو نہ پہنچ سکا۔ شاید ان کی فیملی کی نظر سے بھی یہ روداد گزرے۔

