آپ دانشور آفتاب اقبال کے ہیرو کو جانتے ہیں؟

سوچتا ہوں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر عمران خان کا ایک پروجیکٹ کے طور پر حادثاتی نزول نا ہوا ہوتا تو بڑے بڑے ناموں کی اوٹ میں چھپے ہوئے ”ذہنی بونے یا سوڈو انٹلیکچوئل“ کیسے بے نقاب ہوتے؟ ان کی شخصیت پر پڑا ہوا دانشوری کا لبادہ کیسے سرکتا؟ یہ جو چار لوگوں کے بیچ بیٹھ کے تالیوں کی گونج میں دانشوری جھاڑ رہے ہوتے ہیں ان کے جاہ و جلال یا غیظ و غضب کا مصنوعی سا طنطنہ یا رعونت کیسے آشکار ہوتی؟
شعور کی اس سطح تک پہنچنے میں ابھی وقت درکار ہے کہ چہرے پر ”پرسونا ماسک“ چڑھا کر یا وقتی سا گیٹ اپ اختیار کر کے اداکاری تو کی جا سکتی ہے دانشوری نہیں۔
اس حقیقت کی گہرائی میں اترنے کے لئے آپ کو آفتاب اقبال کا عید اسپیشل پروگرام ملاحظہ کرنا چاہیے، جس میں وہ اپنے ہیرو عمران خان کی فریش پروجیکشن کرتے دکھائی دیتے ہیں، سیاسی تنہائی کے مارے ہوئے ایک نارسسٹ شخص کے کچھ ایسے پہلو عوام کو دکھا کر اس کے پھس پھسے سے شخصی پتلے میں خودداری کی ہوا بھرنے میں مصروف ہے جو عوام میں مقبول ہیں، ظاہر ہے وہ پہلو مذہب کے علاوہ اور کیا ہو سکتے ہیں۔
ویسے کیسا پر لطف منظر تھا کہ دو نارسسٹ ایک دوسرے کے سامنے مؤدب بیٹھے تھے؟
ساری زندگی کی عیاشیوں اور من چاہیوں کے بعد مذہب کے دامن میں پناہ ڈھونڈنا اس منافق معاشرے کا طرہ امتیاز ہے۔ اس قسم کی وقتی سی کاوش کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہوتا کہ مذہب میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ بلکہ اس قسم کی پروجیکشن کے پیچھے مقصد دوسروں کو بیوقوف بنانا اور اپنے حصے کی طاقت حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ہی کچھ اس قسم کا ہے کہ جہاں مذہب کا چورن ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ چورن بیچنے والوں کا مذہب سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ مذہبیت کی طرف دھکیلنے والوں کے اس گروہ کو ”فرنچ کٹ“ مسلمان کہا جاتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کے لئے مذہب کو اپنے حساب سے اپنے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور اپنے حصے کی پوری ”لبرٹی“ بڑے دھڑلے سے حاصل کر لیتے ہیں اور انہیں مذہبی تائید بھی بڑی سہولت سے مل جاتی ہے چونکہ انہی کے دم خم سے ہی تو دین و دنیا کا نظام چلتا ہے۔ یعنی یہ لوگ خود یورپ کی تعلیم کو ترجیح دیں گے، پوری طرح سے وہاں کی نعمتوں سے فیض یاب ہوں گے، اپنے بچوں کو پڑھنے کے لئے افغانستان، سعودی عرب یا کسی بھی اسلامی ملک میں بھیجنے کی بجائے یورپ بھیجنا پسند فرمائیں گے۔ اور عمر کے آخری حصے میں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لئے دوسروں کو یورپ بیزاری اور مذہب سے لو لگانے کے لیکچر دیں گے اور دوسروں کے بچوں کو مدارس کی تعلیم کی طرف راغب کرتے نظر آئیں گے۔
وطن عزیز میں اس وقت ”عمران خان سنڈروم“ اسی منافقانہ ذہنیت کا شاخسانہ ہے جسے مستحکم کرنے اور معاشرے میں قبولیت کا درجہ دلوانے کے لیے آفتاب اقبال جیسے کوشاں نظر آتے ہیں۔
کچھ دنوں پہلے اس شخص نے اپنے پروگرام میں حسن نثار کو بھی مدعو کیا تھا۔ جی ہاں وہی حسن نثار جو کبھی عمران خان کے مینٹور ہوا کرتے تھے اور آج کل ذرا بچ بچا کے چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس پروگرام میں ان کا لہجہ بتا رہا تھا کہ ”بس یار اب نہیں، بہت ہو گیا“۔ اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ شاید عمرانی غلطیوں سے رجوع کرنا چاہتے ہیں اور وہ بار بار عمران کی بڑی بڑی غلطیوں جو کہ ان کی نظر میں ”بلنڈر“ تھے نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہے تھے مگر آفتاب اقبال انہیں مجبور کر رہا تھا کہ وہ خامیوں کی بجائے خان کی خوبیوں کو ہائی لائٹ کریں اور ساتھ ساتھ اپنی باتوں کا تڑکا لگاتا رہا کہ ”اب کی بار عمران پوری تیاری سے آئے گا اور چھا جائے گا“
اپنی اپنی انا کے خول میں بند یہ دونوں زبردستی کے دانشور عمران خان کو مستقبل کا وزیراعظم ڈیکلیئر کر کے ہی اٹھے۔ حیرت تو اس وقت ہوئی جب عید اسپیشل پروگرام میں ”امام فرہنگ آصفیہ“ اس وقت بالکل خاموش رہا جب اس کے ہیرو عمران خان نے ”ریورس انجینئرنگ“ کا لفظ بولا۔
پوچھنے کی جسارت تک نہیں کی کہ
”بھائی یہ ریورس انجینئرنگ کیا ہوتی ہے؟
کہیں یہ بھی کوئی روحانیت کا چکر تو نہیں؟
ویسے حیرت ہے کہ جگت بازوں کی پلانٹڈڈ غلطی تو یہ دانشور فوری سے پکڑ لیتا ہے اور اچھی خاصی مضحکہ خیزی بھی کرتا ہے مگر مرشد کے سامنے فرہنگ آصفیہ لپیٹ لپاٹ کے ایک طرف رکھ دی۔ بہرحال آج کل اس دانشور کی دانشوری ان کے ہیرو کی پکڑ میں ہے اور مرشد جو بھی فرما دیں گے محترم آفتاب اقبال اس پر آنکھ بند کر کے اپنی مہر تصدیق ثبت کر دیں گے۔
جوش ملیح آبادی نے ایک بار حفیظ جالندھری کے متعلق ایک جملہ کہا تھا جو آج کے منظر نامے پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے فرماتے ہیں کہ
”پنجاب کی شرافت ہے کہ یہ اپنے بونوں کو“ بڑے زوروں ”سے منوا کر باون گز کا بنا دیتا ہے“ ہمیں یہ دن بھی دیکھنا تھے کہ آفتاب اقبال جیسوں کی دانشوری مرشد کو باون گز کا بنانے کے کام آ رہی ہے۔

