غیر سیاسی باتیں: ایک عہد کی سرگزشت
زندگی میں ایک اور مقدس مہینہ اپنی برکت اور رحمتوں کے نزول کے ساتھ گزر گیا۔ معلوم نہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں ہماری عبادات کو کتنی قبولیت ملی اس کا حال تو وہی با برکت ذات جانتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ خود ہی وعدہ فرماتے ہیں کہ ”روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا“ ۔ رمضان المبارک تو ویسے بھی بخشش اور رحمتوں سے بھر پور مہینہ ہے اس بابرکت مہینے میں گناہ گار انسان اپنے رب سے گناہوں کی بخشش اور رحمتوں کا طلبگار ہوتا ہے۔
اجر و ثواب تو بندے اور اس کے رب کا معاملہ ہے اور رب العالمین اپنے بندے کی وہ عبادات کبھی ضائع نہیں کرتا جو صدق دل سے اس کی خوشنودی کے لئے کی جائیں۔ اس بابرکت مہینے کے بعد عید الفطر کے پر مسرت موقعہ پر ہم دیہات کے رہنے والے عید اپنے آبائی گاؤں میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ عید کے موقع پر ملک کے کونے کونے سے عزیز و اقارب گاؤں میں جمع ہوتے ہیں جس سے عید کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے عید میل ملاپ کا خوبصورت موقع ہوتا ہے لیکن بدلتے زمانے میں مصروفیات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ انسانی مجبوریوں اور ضرورتوں نے عید کے موقعہ پر ملاپ کے یہ رنگ پھیکے کر دیے ہیں۔
میں بھی عید پر بچوں کے امتحانات کی وجہ سے گاؤں نہ جا سکا لاہور میں ہی کتابیں پڑھ کر اور نیند پوری کر کے عید گزار دی۔ والد صاحب کہا کرتے تھے کہ وہ صحافت سے ریٹائر ہو کر گاؤں میں بڑھاپا گزاریں گے لیکن جب بڑھاپے کو پہنچ گئے تو کہنے لگے کہ بڑھاپے میں علاج معالجہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں شامل ہو گیا ہے اور یہ سہولت دور افتادہ گاؤں میں میسر نہیں، چھوٹے سے چھوٹے مرض کے علاج کے لئے بھی لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے اس لئے انہوں نے لاہور میں رہنے کا فیصلہ کیا البتہ مجھے یہ نصیحت ضرور کی کہ وہ اپنے گاؤں کے آبائی قبرستان میں آسودہ خاک ہونا چاہیں گے اور ساتھ ہی کہا کہ آبا و اجداد کی وراثتی زمینیں تمہاری ذمہ داری ہیں اور تمہارا کام ان کی حفاظت کرنا اور ان کو اگلی نسل کے سپرد کر کے جانا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جو نسل بزرگوں کی نصیحتیں پلے باندھ لیتی ہے اور ان پر عمل کرتی ہے وہ عملی زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوتی۔
وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے کہ انسان دنیا میں وقوع پذیر تبدیلیوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ نئی ایجادات نے انسان کو چکرا دیا ہے ان تبدیلیوں میں کتب بینی بھی زوال پذیر ہو گئی ہے کتاب اور قاری کا رشتہ کمزور پڑ رہا ہے حالانکہ ایک وقت میں کتاب کے مطالعے کے بغیر انسان اپنے آپ کو ادھورا سمجھتا تھا لیکن نئی ایجادات بلکہ خرافات نے زندگی کو اس قدر تبدیل کر دیا ہے کہ کتاب کے مطالعے کے لئے وقت نکالنا محال ہو چکا ہے۔
موبائل فون نے زندگی میں جہاں پر آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں پر اس نے ہمارے معاشرتی نظام کے بگاڑ میں کلیدی کردار بھی ادا کیا ہے۔ محفل میں بیٹھیں تو ہر شخص باہمی گفتگو و شنید کی بجائے موبائل کے ساتھ مصروف ہو جاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں معاشرہ اس عفریت سے محفوظ تھا اخبار اور کتاب سے رشتہ مضبوط بنیادوں پر استوار تھا ہر گھر کی صبح اخبار کی خبروں سے ہوتی تھی اور کتب کا مطالعہ لازمی تصور کیا جاتا تھا بلکہ کتاب پڑھنے کے لئے وقت نکالا جاتا تھا۔
اس عید پر چونکہ فرصت ہی فرصت تھی اس لئے فون کو ایک طرف رکھ دیا اور کتب کے مطالعہ کو ترجیح دی۔ والد صاحب کے دیرینہ دوست محترم جمیل اطہر نے اپنی کتاب ”ایک عہد کی سرگزشت“ ارسال کی تھی جو کافی دنوں سے زیر مطالعہ تھی اس کے بیک فلیپ کے لئے والد صاحب نے ایک تحریر ”فرزند سرہند“ کے عنوان سے لکھی تھی عبدالقادر حسن کی صحافتی زندگی کے واحد اثاثے ان کے کالم غیر سیاسی باتیں کے قارئین کے مطالعہ کے لئے یہ تحریر پیش خدمت ہے وہ لکھتے ہیں۔
”محترم دوست جمیل اطہر قاضی پرانے صحافی ہیں اور ایک کامیاب صحافی، انہوں نے اپنی تحریروں اور دوستوں کو ضائع نہیں کیا۔ تحریروں کو جمع کیا ہے اور دوستوں کے تاثرات حاصل کر کے ان کو بھی مدون کر دیا ہے اور اس طرح اپنا مکمل تعارف کرا دیا ہے۔ بدقسمتی سے میں نے کبھی ان کے کسی ادارے میں کام نہیں کیا اس لئے میں ان کی صحافتی رہنمائی سے محروم رہا لیکن ان کی تحریریں ملتی رہیں اور ان کی دل آویز محبت بھری دوستی بھی جاری رہی، وہ جہاں بھی رہے میں ان سے باخبر رہا اور ان کے ساتھ پرانے تعلق روشنی مجھ تک پہنچتی رہی۔
میں ان کی بہت قدر کرتا ہوں کہ انہوں نے کارکن صحافی سے مالک صحافی بننے تک سفر نیک نامی کے ساتھ طے کیا۔ نیک نامی کا لفظ میں خاص طور پر لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں نیک نامی کمزور پڑتی جا رہی ہے جبکہ ہمارے استاد اور بزرگ صحافی اپنے پیشے کی اعلیٰ روایات قائم کرتے رہے۔ وہ صحافی بھی رہے اور صحافت کے اصولوں پر سیاست بھی کرنا پڑی تو انکار نہ کیا۔ جیلوں میں گئے اور جیلوں سے باہر بھی حکومتی سختیاں برداشت کرتے رہے۔
جمیل اطہر قاضی انہی صحافیوں کی پیداوار ہے جس نے اخباری ادارے قائم کیے اور کامیابی کے ساتھ ان کو چلاتے رہے اور چلا رہے ہیں لیکن ہم نے ان پر کوئی انگلی اٹھتی نہیں دیکھی۔ ان کے ساتھی صحافیوں نے اپنے دلوں میں شرمندگی ضرور محسوس کی کہ ان کا ساتھی صاف ستھرا ہے لیکن ان سے اس کا انتقام نہیں لیا بلکہ اسے برداشت کیا۔ جمیل اطہر کی مہربانی کہ اس نے ”ایک عہد کی سرگزشت“ لکھ کر بہت سارا قرض اتار دیا۔ انہوں نے اپنے اور صحافت کے ساتھیوں اور اپنے دور کے بزرگ سیاست دانوں اور بڑے لوگوں کے بارے میں اپنے تاثرات جمع کر دیے ہیں۔
یہ نہیں کیا کہ لکھتے رہے اور چھپوانے کے بعد ردی کی ٹوکری کی نظر کرتے رہے، یہ ان کی مہربانی ہے کہ جو دیکھا کہہ دیا اور جو محسوس کیا وہ بیان کر دیا۔ اپنے ذمے کوئی قرض نہیں رہنے دیا اور صاحب کتاب بن گئے۔ ان کی یہ کتاب ایک حوالے کی کتاب بھی رہے گی خصوصاً صحافی اس کتاب سے مدد حاصل کرتے رہیں گے کہ ان کی ضرورت کو سمجھنے والے ایک ساتھی نے ان کا کام کر دیا ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے میرا جمیل اطہر سے تعارف بہت پرانا ہے اور میں ایک اچھے صحافی اور ایک شائستہ شخص سے متعارف رہا ہوں، جب بھی آمنا سامنا ہوا پیار کی نظروں سے دیکھا اور خوشی ملی، کبھی کوئی شکوہ پیدا نہیں ہوا تو ایک صوفی مزاج نوجوان سے اور کیا مل سکتا ہے۔ جمیل اطہر کا تعلق سرہند سے ہے۔ مجدد کے شہر سے جس کی روشنی سے وہ سرشار اور منور ہوتے رہے، یہ جمیل کی خوش بختی کی علامت ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی کا عکس ان کی معمولی خوش نصیبی نہیں۔ جمیل مجدد کے پیغام کو عام کرنے میں مصروف رہے ہیں انہوں نے اس پر کتابیں بھی لکھیں اور ایک تنظیم بھی بنا دی۔ آج جب میں جمیل اطہر قاضی کے بارے میں کچھ لکھ رہا ہوں تو محسوس کر رہا ہوں کہ میں اپنے دوست کا حق ادا نہیں کر رہا لیکن عرض ہے کہ وہ یہ چند الفاظ قبول کر لیں ”۔


