گزرے تھے ہم جہاں سے: صائمہ ملک کی کتاب آگ کا دریا ہے
میرا شمار لکھنے والوں میں تو نہیں ہے لیکن پڑھنے والوں میں ضرور ہوتا ہے۔ کچھ دن قبل میں نے صائمہ ملک صاحبہ کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ کا مطالعہ کیا۔ جیسے جیسے میں وہ کتاب پڑھتا گیا ویسے ویسے ہی میرے ذہن میں صرف ایک سوال ابھرتا گیا کہ کیا یہ سوہنی کے دیس کی ایک خاتون کی لکھی کتاب ہے؟ وہ سوہنی کہ جسے غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ وہ سوہنی جس گھڑے پر وہ تیر کر اپنی منزل مقصود تک پہنچا کرتی تھی۔ اس کی جگہ کچا گھڑا رکھ دیا گیا تھا اور اس کچے گھڑے پر توکل کرتے ہوئے سوہنی دریا میں کود پڑی تھی اور بیچ منجدھار میں گھڑے نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور وہ ڈوب گئی، مگر صائمہ ملک اسی کچے گھڑے پر سوار ایک آگ کے دریا میں کود پڑی۔ کچے گھڑے نے ساتھ چھوڑ دیا (ان کے تمام قریبی رشتے) جیسا کہ کتاب میں وہ لکھتی ہیں کہ کیسے انہوں نے حق کی جنگ تنہا لڑی اور آگ کے دریا نے انہیں جھلسا کے رکھ دیا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو گا کیونکہ ہمارے یہاں کی یہ روایت ہے کہ جو سچ بولے اور جو آواز بلند کرے اپنے حق کے لیے، اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہے، مگر صائمہ ملک یہ دریا کچے گھڑے پر آگ میں کود کر اپنے زور قلم کے آسرے پر پار کر گئیں اور یہ کتاب ہمارے سامنے آئی۔ یہ کتاب کیا ہے؟ یہ کتاب ہمارے معاشرے کا مکروہ سچ ہے اور اس کو جنوبی پنجاب کے ایک جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والی خاتون لکھتی ہیں تو ان خاتون کی مشکلات کا سوچ کر ایک دفعہ میں دہل جاتا ہوں۔ نجانے کتنی مشکلوں سے انہوں نے اس کتاب کو لکھا اور ہم تک پہنچایا۔ اس کتاب کے بارے میں بہت بڑے بڑے نام ہیں جنہوں نے بہت کچھ کہا۔ صرف بلیک بیک فلیپ کی طرف ہی چلتے ہیں تو اس میں سب سے پہلے وجاہت مسعود کا نام جھلملاتا نظر آتا ہے۔
وجاہت مسعود فرماتے ہیں کہ
صائمہ ملک کی کیا پوچھتے ہیں۔ ایک پسماندہ معاشرت میں کھلنے والا پورا کنول۔ میں نے صائمہ کی پہلی تحریر پڑھتے ہی محسوس کر لیا تھا کہ پوری عورت ہے، مکمل مامتا ہے۔ کھلے دروازے کی دوست ہے۔ اگر مو قلم محبت کی کرن میں ڈبویا جاتا تو مونا لیزا کا نقش ثانی ابھرتا۔ صائمہ کے پر پرواز پر گرہیں لگائی گئی ہیں۔ اس کی آنکھ کے نم میں شہد نہیں، تکلیف کا نمک ہے۔ اردو میں لکھتی ہیں مگر تو سن خیال کا رخ مائل بہ مغرب ہے۔ اتفاق سے تاریخ کا دریا بھی اسی سمت بہ رہا ہے۔ ادب کا ایک معمولی طالب علم ہونے کے ناتے اپنی رائے دیتا ہوں کہ صائمہ ملک آج کے پاکستان میں جین آسٹن ہے۔ آنے والا کل اسے جارج ایلیٹ تسلیم کرے گا۔
دوسری جانب ایک اہل علم نفسیات ڈاکٹر اختر علی سید کچھ یوں لکھتے ہیں کہ
اس معاشرے میں کرنے کا سب سے اہم کام سوال اٹھانا ہے۔ خاص طور پر طاقتور کی کار گزاری پر سوال اٹھانا۔ طاقتور پر دوسرے طاقتور کا سوال محض اقتدار کی جنگ ہے۔ طاقت پر سوال اٹھانے کا جائز حق صرف اس کے پاس ہے جو طاقت کے گھمنڈ سے پاک ہو۔ صائمہ ملک طاقت کے بہیمانہ اور مردانہ وار استعمال پر ایک عورت کی حیثیت سے سوال اٹھاتی ہیں۔ ان کو پڑھتے ہوئے آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ان کا اٹھایا ہر سوال جائز اور صائب ہے۔ لیکن خوب صورتی یہ ہے کہ یہ سب کچھ وہ ایک خاص جمالیاتی احساس اور اظہار کے ساتھ کرتی ہیں جس کی اس مردانہ وار مائل بہ تشدد معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔
فصیح باری خان کے کمال کا لکھاری ہونے میں ہمیں تو کوئی شک نہیں اور صائمہ صاحبہ کی کتاب کے بارے میں ان کے سنہرے حروف ملاحظہ کیجئے،
ایک عورت جو تار عنکبوت میں الجھی ہوئی ہے۔ صائمہ ملک اپنی تحریروں کی طرح الجھی ہوئی عورت۔ بدن کے سارے راز جب منکشف ہو جائیں تب حیرت کی آنکھ بند ہوتی ہے اور من کے اندر وحشت کا جنگل پھیلنا شروع ہوتا ہے۔ یہ وحشت کا جنگل صائمہ کی ملکیت ہے۔ وہ رشتوں کو اپنے ہاتھوں سے سپرد خاک کر چکی ہے۔ یہ جنازے بہت بھاری ہو رہے ہیں تبھی اس نے اپنے جی کا بوجھ لفظوں کی شکل میں اتارنا شروع کیا ہے۔ گزرے تھے ہم جہاں سے ایک پراسرار چھپی ہوئی عورت کے رازوں سے بھری ہوئی کتاب ہے۔ صائمہ کی اپنی شخصیت کی طرح اس کے لکھے ہوئے میں بھی الجھاؤ کے بھنور ہیں لیکن صائمہ کی خوبی یہ ہے کہ وہ قاری کو اس بھنور میں نہیں الجھاتی، بس اپنی آپ بیتی سنا ڈالتی ہے۔
علی معین صاحب کا کہنا بھی دل کو لگتا ہے۔ فرماتے ہیں،
لفظوں کا عجیب معاملہ ہے۔ یہ کسی پر کھلتے ہیں اور کسی کو اس شعور کا دھوکا دے جاتے ہیں، مگر کیا کیجیے کہ حقیقت کو بیان کرنے کا یہی راستہ ہے کہ خاموشی خدا کی زبان ہے۔ انسانوں کی نہیں۔ صائمہ ملک کی کتاب پڑھتے ہوئے بھی مجھے لگا کہ لفظ اسے دھوکا دے گئے۔ اور کہیں لگا وہ حرف و معانی سے بدلہ لے رہی ہے۔ ٹوٹے عکس، ادھورے آئینے، آدمی باتیں، پوری چپ۔ میرے نزدیک اس کتاب کا نام ”بھولی یادیں اور الجھی باتیں“ ہونا چاہیے تھا۔ صائمہ نے شاید اپنے سارے خوف ختم ہونے کے بعد خوشی منائی اور ہمیں بھی اس میں شریک کر لیا۔ سچ ناخنوں سے کریدنے اور کھرچ کر باہر لانے کی کوشش ہے۔ اور بہت خوب صورت ہے۔ اس کے بعد ناچیز کے کچھ کہنے کو کتاب کے بارے میں یارا نہیں رہتا۔ بس صائمہ ملک کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ کے بارے میں دنیا بھر میں قارئین تک رسائی کی ممکن ہونے کی دعا کی جا سکتی ہے تاکہ بند اذہان کے قفل کھولنے کی یہ کوشش رائیگاں نہ جائے۔



