(2)ڈاکٹر خالد سعید بٹ: ایک عہد، ایک شخصیت


مجھے نیشنل کونسل آف دا آرٹس اسلام آباد کے زیراہتمام قومی سطح کی کئی تقریبات میں شرکت کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ مشتاق معینی صاحب سے اس ادارے اور اس کے سربراہ ڈاکٹر خالد سعید بٹ صاحب کے بارے میں جتنا کچھ سنتا رہا تھا، ان سب پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی۔ واقعی ڈاکٹر صاحب اعلیٰ پائے کی تقریبات ہی سجاتے تھے۔ ایسی تقریبات کہ جن کی فضا سے باہر آنا آسان نہیں ہوتا اور اب پھر یادوں کے دریچے وا ہوئے ہیں تو مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ بیتا موسم لوٹ آیا ہے اور ڈاکٹر خالد سعید بٹ ابھی کچھ بولیں گے اور اپنے لب کھولیں گے۔

سید فخرالدین بلے کا تبادلہ ملتان ہو گیا۔ انہیں ملتان میں ڈائریکٹر آرٹس کونسل بنا دیا گیا۔ یہ 1982 کی بات ہے۔ مجھے ایسا لگا کہ شاید اب اعلیٰ پائے کی تقریبات دیکھنے کو نہیں ملیں گی جو ڈاکٹر خالد سعید بٹ وفاقی دارالحکومت میں اکثر سجاتے ہیں اور شاید اب ان سے ملاقاتیں بھی محدود ہوجائیں لیکن میرے یہ خدشات درست ثابت نہیں ہوئے۔ انہوں نے تقریبات سجانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا، کسی اور ادارے میں تعینات ہو گئے تو وہاں بھی اپنے رنگ جماتے نظر آئے۔

ثقافتی اداروں میں ایسی باکمال شخصیات ہوں تو ہی اداروں کی اہمیت، ضرورت اور افادیت کا لوگوں کو پتا چل پاتا ہے ورنہ ادارے سرکاری تنخواہیں لینے اور مراعات سمیٹنے ہی کے لئے کام کرتے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سعید بٹ ایک زندہ دل شخصیت تھے۔ فنون و ثقافت کے فروغ کے لئے سرگرم رہے اور فن کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے اتنی شان دار خدمات انجام دیں کہ انہیں تادیر بھلایا نہیں جا سکے گا۔ سید فخرالدین بلے نے ملتان میں آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے مصوروں، خطاطوں، ادیبوں، شاعروں، اسٹیج اداکاروں، ہدایت کاروں اور ڈراما نگاروں سے رابطے تیز کر دیے اور یہ محسوس کیا کہ یہ خطہ اسٹیج کے حوالے سے بھی جوہر قابل سے مالا مال ہے۔ اور اس کے ساتھ بڑے پیمانے پر جشن تمثیل سجانے کا اعلان کر دیا۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ تھا۔

ڈائریکٹر جنرل نیشنل کونسل آف دا آرٹس ڈاکٹر خالد سعید بٹ نے اس جشن تمثیل کا افتتاح کیا اور اتنے بڑے پیمانے پر ڈراما فیسٹیول سجانے پر ملتان کے اسٹیج فنکاروں کی کھل کر حوصلہ افزائی کی۔ یہ ڈراما فیسٹیول مسلسل 25 روز جاری رہا۔ اختتامی تقریب میں انعامات بانٹے گئے اور کمشنر حسن رضا پاشا کے ساتھ ڈاکٹر خالد سعید بٹ بھی شریک ہوئے۔ مجھے یاد ہے ڈاکٹر خالد سعید بٹ نے یہ بھی کہا کہ میں اسٹیج کی دنیا کا آدمی ہوں لیکن میں نے کسی ملک کے لئے یہ نہیں سنا کہ وہاں کوئی ایسا ڈراما فیسٹیول ہوا ہو، جس میں ہر روز ایک نئی ٹیم کے ساتھ ایک نیا ڈراما اسٹیج پر پیش کیا گیا ہو۔

اس لئے مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ یہ کارنامہ انجام دینے کی بنیاد پر سید فخرالدین بلے کو مین آف دا اسٹیج قرار دوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا اس جشن تمثیل کے نتیجے میں قومی سطح پر فلم، ٹی وی اور اسٹیج کو نئے اداکار، نئے فن کار، نئے ڈراما نگار ملیں گے اور پھر دنیا کو یہ پتا چلے گا کہ جشن تمثیل سجا کر کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا گیا ہے۔ کوتاہی ہوگی اگر اس امر کا اعتراف نہ کیا جائے کہ اس جشن تمثیل کے لئے ڈاکٹر خالد سعید بٹ صاحب نے کمپیئر مشتاق معینی کو خاص طور پر اسلام آباد سے ملتان بھجوایا تھا اور وہ ہر روز اسٹیج ڈرامے کے شروع اور آخر میں اپنے مخصوص انداز میں کمپیئرنگ کر کے ماحول کو خوشگوار بنائے رکھتے تھے۔

یہی نہیں اگلے روز روزنامہ امروز ملتان میں ان کا کالم بھی چھپتا تھا، جس میں جشن تمثیل کے حوالے سے وہ چٹکلے بھی چھوڑتے تھے اور چٹخارے دار جملوں سے شائقین ثقافت کی خاطر تواضع کا اہتمام بھی کیا کرتے تھے۔ ان کی کالم نگاری کا سلسلہ ڈاکٹر خالد سعید بٹ کے تعاون کے باعث جشن تمثیل کے ختم ہونے کے بعد تک جاری رہا۔ اقبال ساغر صدیقی روزنامہ امروز کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر اور جشن تمثیل کی مجلس مصنفین کے صدر تھے اور ان کالموں کو بڑی خوبصورتی اور اہتمام کے ساتھ روزنامہ امروز، ملتان کی زینت بنایا کرتے تھے۔

انہوں نے کئی بار اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ اگر مشتاق معینی اپنے ان کالموں کو کتابی شکل دیں تو ڈراما فیسٹیول کی ایک تاریخ محفوظ ہو سکتی ہے اور وہ بیٹھے بٹھائے ایک کتاب کے مصنف بن سکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد سعید بٹ صاحب تو دنیا سے چلے گئے لیکن اپنے پیچھے یادوں کا ایک جہان چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے کارنامے وقت گزر جانے کے ساتھ مزید اجاگر ہوں گے۔ جب بھی ان کا کوئی چاہنے والا قلم اٹھائے گا تو ان کی تہذیبی، ادبی، علمی اور ثقافتی خدمات با انداز دگر ہمارے سامنے آئیں گی اور دنیا کو پتا چلے گا کہ ہم کتنی بڑی شخصیت کی رفاقت اور محبت سے محروم ہو گئے ہیں۔ مجھے یہاں اپنے بڑے بھائی سید عارف معین بلے کے دو اشعار یاد آرہے ہیں اور انہی پر میں اپنے مضمون کو ختم کر رہا ہوں۔

فن کار تو اٹھ جائیں گے، فن زندہ رہے گا
پت جھڑ میں بھی یہ رنگ سخن زندہ رہے گا
اس دھرتی کو فن کاروں نے سینچا ہے لہو سے
ہے مجھ کو یقیں، میرا چمن زندہ رہے گا

Facebook Comments HS