معاہدہ کراچی: تاریخ گلگت بلتستان کا ایک سیاہ باب
گلگت بلتستان کی جغرافیائی حدود شمال میں چین کے صوبہ سنکیانگ، مشرق میں ہندوستان کے زیر کنٹرول جموں وکشمیر، جنوب میں پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور مغرب میں واخان کی پٹی کے ذریعے افغانستان اور وسط ایشیا سے ملتی ہیں۔
دفاعی و جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے اس خطے کو ایشیاء کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے اس لئے یہ علاقہ ماضی میں نوآبادیاتی قوتوں روس اور تاج برطانیہ کے درمیان کھیلے جانے والے ”گریٹ گیم“ کا مرکز رہا ہے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان 1846 ء سے لے کر 1947 ء تک متنازعہ شاہی ریاست جموں و کشمیر اور تاج برطانیہ کی ایک کالونی رہی ہے مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا بھر کی نوآبادیات کو آزادی ملی وہاں گلگت بلتستان میں بھی اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ یکم نومبر 1947 کی جنگ آزادی گلگت بلتستان کے نتیجے میں ہی گلگت بلتستان سے ڈوگرہ حکومت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ممکن ہوا اور یہ آزادی محض 16 دنوں تک برقرار رہی اس لئے
جنگ آزادی گلگت بلتستان کو گلگت اسکاؤٹس کے انگریز کمانڈنٹ میجر الیگزینڈر براؤن نے بغاوت گلگت کا نام دیا ہے جبکہ مقامی افراد اس سے جنگ آزادی گلگت بلتستان کا نام دیتے ہیں۔
گلگت بلتستان 16 نومبر 1947 سے آج تک پاکستان کے زیر انتظام علاقہ ہے، معاہدہ کراچی کے تحت اس علاقے کا انتظامی کنٹرول حکومت پاکستان نے حکومت آزاد کشمیر سے 28 اپریل 1949 میں حاصل کیا تھا۔
معاہدہ کراچی ایک اہم قانونی دستاویز ہے اس لیے اس کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ گزشتہ کئی سالوں سے گلگت بلتستان کے وکلاء برادری، سیاسی قائدین و کارکنوں کے درمیان معاہدہ کراچی کے بارے میں ایک قانونی و سیاسی بحث جاری ہے کہ کس طرح حکومت پاکستان اور کشمیری نمائندوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی مرضی کے بغیر ان کے مستقبل کا سودا کیا، اس لئے گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال 28 اپریل کو معاہدہ کراچی کی مذمت کرتے ہیں اور اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس معاہدے کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ
معاہدہ کراچی حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور ال جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان طے پایا اور اس معاہدے کی رو سے حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور ال جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان تقیسم کار کی تفصیلات اس طرح درج ہیں۔
(حصہ الف) حکومت پاکستان کے دائرہ کار کے اندر معاملات کل آٹھ ہیں جو کہ مندرجہ زیل ہیں۔
1۔ دفاع۔ 2۔ آزاد کشمیر کی خارجہ پالیسی،
3۔ اقوام متحدہ کی کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان (UNCIP) کے ساتھ مذاکرات۔
4۔ پاکستان اور بیرونی ممالک میں تشہیر کے معاملات۔
5۔ مہاجرین کی آبادکاری اور امداد کے انتظامات میں باہمی ربط۔
6۔ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے سلسلے میں تشہیر میں باہمی ربط۔
7۔ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے اندر مختلف اقدامات جیسے خوراک کی فراہمی سول سپلائی ٹرانسپورٹ مہاجرین کے کیمپوں کا قیام اور طبی امداد وغیرہ۔
8۔ پولیٹیکل ایجنٹ کے زیر انتظام گلگت بلتستان اور لداخ کے تمام معاملات چلانا۔
(ب) آزاد کشمیر حکومت کے زیر اختیار معاملات۔
1۔ آزاد کشمیر کے علاقے کی انتظامیہ کے متعلق پالیسی۔
2۔ علاقہ آزاد کشمیر میں انتظامیہ کی عمومی نگرانی۔
3۔ آزاد کشمیر حکومت اور انتظامیہ کی کارکردگی کی تشہیر۔
4۔ عزت مآب وزیر بے محکمہ ( حکومت پاکستان ) کو اقوام متحدہ کے کمیشن UNCIP سے مذاکرات کے بارے میں مشورہ۔
5۔ آزاد کشمیر کے علاقے میں اقتصادی وسائل کی ترقی۔
(ج) ال جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اختیار معاملات۔
1۔ علاقہ آزاد کشمیر میں رائے شماری کے بارے میں تشہیر۔
2۔ ریاست کے ہندوستانی مقبوضہ علاقے میں سرگرمیاں اور تشہیر۔
3۔ ریاست کے ہندوستانی مقبوضہ علاقے اور آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کو منظم کرنا۔
4۔ رائے شماری کے بارے میں ابتدائی انتظامات۔
5۔ رائے شماری کے انعقاد کو منظم کرنا۔
6۔ پاکستان کے اندر آباد کشمیری مہاجرین میں سیاسی سرگرمیاں اور تشہیر۔
7۔ عزت مآب وزیر بے محکمہ حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کی کمیشن برائے انڈیا و پاکستان یعنی ( UNCIP) سے مذاکرات کے بارے میں مشاورت مہیا کرنا۔
اس معاہدے پر 28 اپریل 1949 کو بمقام کراچی ان تین فریقین نے دستخط ثبت کیے ہیں جن میں غلام عباس صدر ال جموں کشمیر مسلم کانفرنس، مشاق احمد گورمانی وزیر بے محکمہ حکومت پاکستان اور محمد ابراہیم خان صدر حکومت آزاد کشمیر شامل تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں گلگت بلتستان کا کوئی بھی نمائندہ شامل نہیں تھا۔
جس کی تصدیق سپریم کورٹ اف پاکستان نے 19 جنوری 2019 کو سول ایوی ایشن اتھارٹی بنام سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان وغیرہ نامی کیس کے فیصلے کے پیراگراف نمبر 14 میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کیا ہے اور معاہدہ کراچی کے بارے میں یہ لکھا کہ
”On 28th April 1949، 0fficials of the Pakistan Government met those of AJK Government to ink the Karachi Agreement۔
Under this Accord، it was agreed that the affairs of Gilgit Baltistan would be run by the Pakistan Government۔
It appears that no leaders from Gilgit was included in this Agreement۔ ”
سپریم کورٹ کے تصدیق کے بعد اس پر مزید بحث کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ یہ ایک غیرقانونی دستاویز ہے جس میں گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا اس لیے یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ یہ معاہدہ ایک نوآبادیاتی طرز کا معاہدہ ہے جس کے تحت آزاد جموں وکشمیر اور حکومت پاکستان کے نمائندوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی مرضی کے بغیر ان کے مستقبل کا سودا کیا اس لئے گلگت بلتستان کی قوم اس معاہدے کو گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب سمجھتی ہے۔
چونکہ اس معاہدے کے فوراً بعد گلگت بلتستان میں ایف سی آر کا کالا قانون نافذ کیا گیا بعد ازاں صدارتی حکم ناموں کے تحت اس خطے کا انتظام چلایا جاتا رہا اور تاحال گلگت بلتستان میں بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دینے کے لیے کوئی آئین موجود نہیں ہے نہ ہی یہ علاقہ پاکستان کے آئین کا حصہ ہے البتہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس خطے کو متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 257 میں لکھا گیا ہے : ”جب ریاست جموں اینڈ کشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات مذکورہ ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے۔“ ۔
تاحال گلگت بلتستان کے لوگوں کو آزاد جموں وکشمیر کے برابر بھی حقوق حاصل نہیں ہے آزاد کشمیر کو حکومت پاکستان نے لوکل اتھارٹی کے تحت داخلی خودمختاری اور ایک آئین بھی دیا ہے جبکہ دوسری طرف گلگت بلتستان کو معاہدہ کراچی کی بنیاد پر ایف سی آر اور پھر مختلف ایل ایف اوز اور آرڈرز کے ذریعے چلایا جاتا رہا ہے اور اس خطے کے عوام کو سیاسی اور سول رائٹس سے تا حال محروم رکھا گیا ہے۔ اور اس علاقے کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے آئین پاکستان میں بھی شامل نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری طرف دستاویز الحاق نامے کی رو سے انڈیا اس خطے پر بھی دعویٰ دار ہے اور معاہدہ کراچی کی رو سے کشمیری بھی اس خطے کو اپنی متنازعہ ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔
1970 کے بعد کے ادوار میں آزاد کشمیر کی قیادت نے گلگت بلتستان کو دوبارہ اپنے زیر کنٹرول لانے کی کئی بار کوششیں کی، مثال کے طور پر سال 1972 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے اس بابت ایک قرارداد بھی پاس کی جبکہ آزاد ریاست جموں و کشمیر کے عبوری دستور 1974 میں بھی گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق سپیکر مرحوم ملک مسکین کی دائر کردہ کیس میں 1992 میں ایک تاریخی فیصلہ دیا اور معاہدہ کراچی کو عارضی قرار دے کر ختم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کا حصہ قرار دے کر آزاد کشمیر حکومت کو ناردرن ایریاز کا انتظامی کنٹرول وفاق پاکستان سے اٹھانے کا حکم بھی دیا۔ PLD 1993۔ page 1۔
مگر آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے کر ناردرن ایریاز پر پاکستان کے انتظامی کنٹرول کو درست اور قانونی قرار دیا ہے۔
گلگت بلتستان میں معاہدہ کراچی پر دو طرح کی رائے پائی جاتی ہے ایک مکتبہ فکر کا یہ ماننا ہے کہ معاہدہ کراچی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس مکتبہ فکر میں زیادہ تر سرکاری دانشور شامل ہیں جو درحقیقت بین الاقوامی قانون سے نابلد ہیں اس لیے ان کی اکثریت عام طور یہ دلیل دیتے ہیں کہ کہ ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا ہے لہذا معاہدہ کراچی کی کوئی اہمیت نہیں اس لیے ہم اسے نہیں مانتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مکتبہ فکر کے نمایندوں کی گلگت بلتستان اسمبلی میں ہمیشہ سے اکثریت رہی ہے مگر آج تک ان میں سے کسی ایک ممبر نے بھی گلگت بلتستان اسمبلی میں معاہدہ کراچی کے خلاف ایک بھی قرارداد پیش نہیں کیا ہے نہ ہی کسی بھی عدالت میں آج تک اس یک طرفہ معاہدہ کراچی کو چیلنج کیا ہے۔
نہ ہی وہ عوام کو اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون میں کسی بھی ملک کے ساتھ الحاق کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ اور الحاق کون کر سکتا ہے؟
اگر ہمارے آباؤ اجداد نے الحاق کیا تھا تو پھر گلگت بلتستان کی انتظامی کنٹرول آزاد کشمیر سے لینے کی نوبت کیوں پیش آئی؟ اور گلگت بلتستان کو بھی اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کے لیے مسئلہ کشمیر میں کیوں شامل کیا گیا؟
اور پھر سپریم کورٹ اف پاکستان نے اپنے سترہ جنوری 2019 کے فیصلہ میں گلگت بلتستان کو متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ کیوں قرار دیا؟
مثال کے طور 17 جنوری 2019 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سول ایوی ایشن اتھارٹی بنام سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان نامی کیس پر اپنے تاریخی فیصلہ کے پیراگراف نمبر 13 میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ”حکومت پاکستان کی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے ذمہ داریاں بنتی ہیں چونکہ 1948 میں اقوام متحدہ کی کمیشن برائے انڈیا و پاکستان نے ان علاقوں میں لوکل اتھارٹیز کی قیام کو تسلیم کیا ہے جو کہ ان علاقوں کے لیے حکومت پاکستان سے مختلف ہیں۔ ہم اس مقدمے میں صرف گلگت بلتستان کے بارے میں فکر مند ہیں یہ علاقہ پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا ہے چونکہ یہ متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ علاقہ شروع سے پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں رہا ہے“ ۔
سپریم کورٹ کے اس اہم فیصلہ کے بعد گلگت بلتستان میں سرکاری دانشوروں عام طور پر ان بنیادی سوالات سے انکھیں چراتا ہے۔
معاہدہ کراچی پر دوسرا نقطہ نظر گلگت بلتستان کے قوم پرستوں کا ہے جن میں سے اکثریت معاہدہ کراچی کو گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب سمجھتے ہیں اور اس سے ایک نوآبادیاتی دستاویز قرار دے کر مسترد کرتے ہیں چونکہ اس دستاویز میں گلگت بلتستان کے عوام کی منشا اور مرضی تک شامل نہیں ہے اور ہر سال 28 اپریل کو معاہدہ کراچی کی مذمت کرتے ہوئے معاہدہ کراچی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ کرتے ہیں اس مکتبہ فکر کا واضح موقف ہے کہ جب تک اقوام متحدہ کے زیر نگرانی مسئلہ کشمیر پر رائے شماری نہیں ہوتی ہے گلگت بلتستان کو بھی آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے جو کہ لوکل اتھارٹیز کی صورت میں تا تصفیہ مسئلہ کشمیر ایک بہترین حل ہے اور فوری طور پر گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کیا جائے تاکہ گلگت بلتستان کی ڈیموگرافی مزید بدل نہ جائے۔
اس مکتبہ فکر کا موقف ہے کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے نہ کہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ تاریخی اعتبار سے گلگت بلتستان کبھی بھی کشمیر کا حصہ نہیں رہا ہے بلکہ ان کی اپنی ایک علیحدہ قومی شناخت ہے ان کی قومی تاریخ ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔
لیکن 1840 کے بعد اس خطے پر بیرونی جارحیت ہوئی پہلے پنجاب کے خالصہ حکومت یعنی سکھ افواج نے حملے کیا بعد ازاں جموں کے ڈوگرہ فوج نے تاج برطانیہ کے ساتھ مل کر جنگ و جدل کے ذریعے گلگت بلتستان پر قبضہ کیا تھا لیکن ایک طویل عرصہ کی جدوجہد کے بعد بلا آخر ان کے آبا و اجداد نے یکم نومبر 1947 کو اپنی مدد اپ کے تحت ڈوگرہ حکومت سے آزادی حاصل کی ہے تب سے لے کر آج تک گلگت بلتستان میں ڈوگرہ حکومت کا کوئی نام نشان باقی نہیں ہے مگر بدنیتی سے گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر میں الجھایا گیا ہے اس لئے تنازعہ کشمیر میں پاکستان، انڈیا، کشمیریوں کے بعد وہ خود کو مسئلہ کشمیر کا چوتھا فریق سمجھتے ہیں اور آزاد کشمیر کی طرح حکومت پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ عمرانی کا ڈیمانڈ کرتے ہیں اور لوکل اتھارٹیز کے تحت مقامی آئین ساز اسمبلی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں جس کی سفارش اقوام متحدہ کی کشمیر پر قرارداد نمبر 80 میں بھی کیا گیا ہے۔
مختصر یہ کہ اس پس منظر میں قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو معاہدہ کراچی ایک قانونی دستاویز ہے جو آج تک نافذ العمل ہے لہذا جب تک معاہدہ کراچی کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک گلگت بلتستان اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک معاہدہ عمرانی کے لیے راستہ ہموار نہیں ہو سکتا ہے۔
لہذا معاہدہ کراچی کے متعلق اگر ایک جملے میں یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ معاہدہ کراچی نے گلگت بلتستان کی قومی وقار کو اس طرح مجروح کیا ہے جس طرح معاہدہ و رسیلز نے جرمن قوم کے وقار کو مجروح کیا تھا۔


