بت پرستوں کی نئی نسلیں (10)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو اسے پاش پاش کر دیتے۔ مگر پرانے بت کے ٹکڑوں کو پاؤں تلے روندنے اور نیا بت تراشنے کے درمیان بس ایک مختصر سا وقفہ ہوتا تھا۔
—————————————————-
دسواں باب : نیا شہزادہ اور نئے مسائل
آئیے اب ذرا روشن داد کے حالات کی بھی کچھ خبر لیں۔
اس نے جب لندن سے دوبارہ بی اے کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو وہاں اس کی ملاقات اپنی ایک کلاس فیلو کرسٹینا البرٹ سے ہو گئی۔ کچھ دیر تو وہ کلاس فیلوز کی طرح ہی ملتے رہے مگر پھر دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔
اپنے ملک میں بھی روشن داد کے کئی لڑکیوں سے قریبی تعلقات رہے تھے لیکن کرسٹینا کچھ اور ہی شے تھی۔ نیلی آنکھیں سنہری بال بھولا بھالا چہرہ لیکن بلا کی ذہین۔ بات کرتی تو لہجے کی مٹھاس سننے والے کو اپنی شیرینی میں جکڑ لیتی۔ اگر اس کا حسن دلکش اور جاں فزا تھا تو اس کا ذہن عقاب کی طرح سیدھا نقطے پر پہنچنے اور جھپٹ لینے والا۔ یادداشت جیسے کوئی کمپیوٹر۔ البتہ محبت نے اس کے دل و دماغ پر بھی اتنا ہی طوفانی حملہ کیا، جتنا کہ روشن داد پر ۔
دوچار بے تکلف ملاقاتوں کے بعد ہی وہ روشن داد کے بستر میں پہنچی اور طلسم ہوشربا بن گئی۔ اس کے جسم کی ایک ایک قوس ایک ایک زاویہ ایسا نپا تلا تھا کہ نہ کہیں ایک ملی میٹر کم نہ کہیں ایک ملی میٹر زیادہ۔ بدن کیا تھا، ٹھاٹھیں مارتا اور بجلیاں گراتا ہوا جوبن۔ اس نے روشن داد کو حیران ہونے کا بھی موقع نہ دیا، جب اس پر حملہ آور ہوئی اور اسے اپنے جسم کی گہرائیوں میں گم کر دیا۔ ابھی وہ اس کے جادوئی حصار سے نکل کر ذرا سانس لینے کی فکر میں ہی تھا کہ کرسٹینا نے اپنے ہونٹوں، ہاتھوں اور بدن کی حرارت سے، سست پڑتے ہوئے روشن داد کا ایک ایک چراغ روشن کر دیا۔ یوں کہ وہ پھر سے توانائی کا دیو بن گیا اور وہ دونوں محبت کے طوفان میں ڈھل گئے۔
روشن داد نے بڑی بڑی تیز لڑکیاں دیکھی تھیں لیکن جو داؤ پیچ، جو پینترے کرسٹینا کے پنڈے میں تھے، ان کی تو ایک جھلک بھی اس نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔ اپنے حسن اور اپنی ذہانت سے تو وہ پہلے ہی اسے متاثر کر چکی تھی، جسم کی کاریگری سے بھی زیر کر لیا۔ روشن داد تو جیسے ہکا بکا ہی رہ گیا۔
اظہار محبت اور اعتراف محبت تو بے شک دونوں طرف سے ہو چکا تھا، لیکن روشن داد تو بستر کے باہر کی زندگی میں بھی ایک جنونی حالت کے زیراثر رہنے لگا۔ جبکہ کرسٹینا بالکل نارمل نظر آتی تھی۔
بے شک صبح کو ملتے وقت، وہ اس کا ایک بھرپور بوسے سے استقبال کرتی اور شام کو بچھڑتے ہوئے بھی ایسی ہی مرحمت کی بوچھاڑ، مگر زندگی کے باقی جھمیلوں میں اور پڑھائی کے دوران میں وہ جیسے بھول ہی جاتی کہ وہاں روشن داد نام کا کوئی فرد موجود بھی ہے۔ جبکہ روشن داد اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے اسی کو محسوس کرتا اور اسی کے خیالوں میں گم رہتا۔ کرسٹینا کو جلد ہی اس کی حالت کی خبر ہو گئی۔
ایک دن کلاس روم سے نکلتے ہوئے وہ روشن داد کو پکڑ کر ایک طرف لے گئی۔ پھر کسی بھی تمہید کا سہارا لیے بغیر بولی ”روشن! محبت زندگی کا مقصد اور منزل نہیں ہے، بلکہ زندگی کو اچھے طریقے سے منزل کی طرف لے جانے کا راستہ ہے۔ یہ دل و دماغ کو قوت دینے کے لیے ہے جان کا روگ بنانے کے لیے نہیں۔ اور پھر میں تو یہیں ہوں۔ تمہارے پاس اور دستیاب بھی۔ اس لیے اپنے پاگل پن سے باہر نکلو اور اپنی پڑھائی کی طرف دھیان دو ۔ اپنی صحت، اپنے لباس اور اپنے اٹھنے بیٹھنے کے انداز کو پھر سے سنوارو۔ زندگی ایک طوفان کی رفتار سے گزرتی جا رہی ہے۔ یہاں کسی کو فرصت نہیں ہے کہ کسی گرے پڑے کو اٹھانے کے لیے رک سکے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ زندگی کی طرف لوٹ آؤ، ورنہ میں بھی تمہاری محبت سے کنارہ کشی اختیار کر لوں گی“ ۔
روشن داد پر اس کی بات کا خاطر خواہ اثر ہوا اور وہ زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ اسے یہ سوچ کر کافی پشیمانی ہوئی کہ وہ کس بے وقوفی کے بھنور میں پھنس گیا تھا۔ وہ دونوں اب بھی اکثر ویک اینڈ پر ملتے۔ کبھی ایک اور کبھی دو راتیں اکٹھے گزارتے، مگر باقی وقت بالکل نارمل رہتے۔
روشن داد کے لیے اب بھی وہ مشکل وقت ہوتا جب ویک اینڈ پر کرسٹینا کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں پارٹ ٹائم جاب کر رہی ہوتی۔ اس کے علاوہ بھی ہر پانچ چھ یا زیادہ سے زیادہ سات ہفتوں کے بعد اسے کچھ دیر کے لیے پارٹ ٹائم جاب کرنا ہی پڑتی تھی تاکہ یونیورسٹی کی فیسوں اور دیگر بلوں کی ادائیگی کر سکے۔ اسے ماں باپ کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملتی تھی۔ ایسے میں روشن داد نے کئی بار اسے مالی معاونت کی آفر کی مگر ہر بار اس نے انکار کر دیا۔
روشن داد بہت کوشش کرتا لیکن پھر بھی جب وہ دونوں کہیں اکٹھے جاتے تو کرسٹینا اپنے حصے کا بل خود ادا کرتی۔ روشن داد کے پاس تو پاؤنڈز کی کوئی کمی ہی نہیں تھی۔ وہ باپ سے جتنے بھی مانگتا، فضل داد اسے دوچار سو پونڈ زیادہ ہی بھیجتا۔ یہ سب جاننے کے بعد بھی اور محبت کے ہر اعتراف کے باوجود وہ روشن داد کو یہ اعزاز دینے کے لیے کبھی تیار نہ ہوئی۔ وہ ہمیشہ یہی کہتی ”میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، اپنے بل بوتے پر زندگی گزاری ہے۔ اور اپنا یہ فخر میں ہمیشہ قائم رکھنا چاہتی ہوں“ ۔
ابھی ان کی تعلیم مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ایک رات جب دونوں روشن داد کے فلیٹ پر بستر میں تھے تو روشن داد نے اسے شادی کی دعوت دے دی۔ کرسٹینا نے حیرت سے اسے دیکھا ”کیوں؟ تم شادی کیوں کرنا چاہتے ہو؟“ اس نے الٹا سوال کر دیا۔
”اپنی محبت کو قانونی تحفظ دینے کے لیے“ وہ بولا
کرسٹینا بستر سے باہر نکلی۔ کپڑے پہنے اور قریبی صوفے پر جا بیٹھی۔ روشن داد تو یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کی ایسی کسی دعوت پر بہت خوش ہو گی۔ مگر اس کا ردعمل دیکھ کر پریشان ہوا اور اس کے پاس نشست سنبھالی ”اگر تمہیں میری بات اچھی نہیں لگی تو میں معذرت چاہتا ہوں۔ لیکن پلیز یوں ناراض نہ ہو“ ۔
”میں ناراض نہیں ہوں“ وہ بولی ”میں تو یہ سوچ کر حیران ہوئی ہوں کہ تمہارے خیال میں محبت کو بھی کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں تمہیں ایک عقلمند اور باشعور انسان سمجھ رہی تھی“ ۔
”نہیں میں اتنا عقلمند نہیں ہوں۔ ورنہ پہلے ہی جان جاتا کہ کم از کم تمہاری محبت کو ایسی کسی سند کی ضرورت نہیں ہے۔ آئی ایم سوری“ ۔ روشن داد نے معذرت خواہانہ لہجے میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”میں تمہیں آج پہلی اور آخری بار بتا رہی ہوں۔ میں شادی کرنا نہیں چاہتی۔ نہ تم سے نہ کسی اور سے۔ اور نہ ہی میں ابھی دس بارہ سال تک بچے پیدا کرنا چاہتی ہوں۔ تم ابھی سے سوچ لو، اس سے پہلے کہ ہم اس رشتے میں اور آگے بڑھیں“ ۔
روشن داد تو یہی نہیں جانتا تھا کہ اس سے اور آگے بڑھنا کیا ہوتا ہے؟ جبکہ کرسٹینا کے نزدیک اور آگے بڑھنے کے باقاعدہ معنی تھے۔ روشن داد نے اس کے بعد پھر کبھی اس سے شادی کی بات نہیں کی، اور اپنے طور پر اس انتظار میں رہا کہ کبھی نہ کبھی کرسٹینا خود ہی اس سے بیاہ کی آرزومند ہو جائے گی۔
مگر وہ انتظار ہی کرتا رہا، یہاں تک کہ دونوں نے ایم اے کی ڈگریاں حاصل کر لیں۔ اور آکسفورڈ کو خدا حافظ کہہ کر لندن آ گئے۔ کرسٹینا کو اسی سیاسی پارٹی کے خارجہ امور کے دفتر میں ایک جونیئر عہدہ مل گیا، جس کی وہ اب تک صرف ممبر چلی آ رہی تھی۔ اس کی تنخواہ تو خیر بس اتنی ہی تھی کہ وہ اپنے چھوٹے سے فلیٹ کا کرایہ دے کر باقی زندگی کو بھی گھسیٹ سکے مگر وہ بہت خوش تھی کیونکہ اسے اپنی ترقی کے بہت امکانات نظر آ رہے تھے۔ پھر یہی اس کا آئیڈیل پروفیشن بھی تھا۔ اور اس وقت تو اس کی پارٹی تھی بھی اپوزیشن میں۔ پارٹی کے برسراقتدار آنے کی صورت میں اس کا مستقبل یقیناً روشن تھا۔
روشن داد کی حالت اب پہلے سے کہیں خراب ہو چکی تھی۔ باپ کی ڈیمانڈ تھی کہ پڑھائی مکمل ہو چکی ہے، اس لیے وعدے کے مطابق واپس آ جائے۔ مگر وہ وطن واپس جانے کی بجائے کئی طرح سے ٹال مٹول کے حربے استعمال کر رہا تھا۔ اور اصل میں اب وہ وہاں کیوں پڑا ہوا تھا، اس کی کوئی ٹھوس وجہ بتانے سے بھی قاصر تھا۔
باپ نے کچھ دیر انتظار کرنے اور کوئی واضح وجوہات نہ جان سکنے کے بعد اس کی مالی امداد بند کر دی تھی۔ عروسہ، رخشندہ اور تابندہ میں بھی
اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ فضل داد کی مرضی کے خلاف اسے پیسے بھیج سکتیں۔ اور فضل داد اس کے بار بار مانگنے پر بھی اتنا ہی بھیجتا، جس سے وہ گزر گزران کر سکے۔ جبکہ روشن داد کو کھلے ہاتھ سے خرچ کرنے کی عادت تھی۔ سو، روشن داد کو اپنے اخراجات چلانے کے لیے کبھی کبھی چھوٹا موٹا جاب بھی کرنا پڑتا اور کام کرنے کی تو اسے عادت ہی نہیں تھی۔
کرسٹینا نے اسے کئی بار سمجھایا کہ وہ کسی یونیورسٹی میں ریسرچ کے شعبہ میں جاب تلاش کرنے کی کوشش کرے، جو اسے آسانی سے مل سکتی ہے۔ لیکن وہ تو صرف اس انتظار میں تھا کہ اگر کرسٹینا اس کے ساتھ شادی نہیں بھی کرنا چاہتی تو کم از کم اس کے ہمراہ پاکستان جانے پر ہی تیار ہو جائے۔ مگر کرسٹینا اپنے طے کیے ہوئے روڈ میپ سے ایک انچ بھی ادھر ادھر ہونے کو تیار نہ تھی۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کئی کئی ہفتے اس کی کرسٹینا سے ملاقات نہ ہو پاتی۔ وہ اپنے طور پر کڑھتا سلگتا فلیٹ میں پڑا شراب پیتا اور ٹی وی دیکھتا رہتا۔ شاذ شاذ ہی سہی مگر زیادہ پینے کے بعد الٹیاں کرتا اور کچھ کھائے بغیر ہی سو جاتا۔ کرسٹینا کو جب وقت ملتا تو وہ اس کے فلیٹ پر آتی۔ اپنی چابی سے دروازہ کھولتی۔ کھڑکیوں کے در وا کر کے ان کے پردے ہٹاتی کہ اس کی قے کی وجہ سے پھیلی ہوئی بو کمرے سے باہر نکل جائے۔ اس کے فلیٹ کی صفائی کرتی، اسے اٹھاتی، کپڑے تبدیل کرواتی، کھانے کے لیے کچھ بنا کر دیتی اور جاتے ہوئے دھونے والے کپڑے بھی لانڈری کے لیے لے جاتی۔
وہ اسے بار بار سمجھاتی ”اس طرح خود کو تباہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اگر یہاں رہنا چاہتے ہو تو کوئی کام کرو، نہیں تو وطن واپس لوٹ جاؤ“ ۔
روشن داد سے کام کوئی ہوتا نہیں تھا اور کرسٹینا کو چھوڑ کر واپس جانے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ زیادہ مجبور ہوتا تو دادی کو فون کرتا اور وہ اسے کچھ نہ کچھ روپے بھیج دیتی۔ لیکن وہ بھی کیا کرتی؟ وہ اگر لاکھ روپیہ بھی بھیجتی تو اسے چند سو پاؤنڈ ہی ملتے۔ جو ہفتہ دس دن میں ختم ہو جاتے۔ گوہر جان کے پاس پیسے کی تو کمی نہیں تھی کہ روشن آباد کے کتنے ہی پراجیکٹس میں وہ حصہ دار تھی لیکن پاکستان سے زیادہ پیسے بھیجنے کا کوئی طریقہ اسے آتا نہیں تھا اور فضل داد اس معاملے میں اس کی کوئی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کے لیے تو یہ برداشت کرنا ہی مشکل ہو رہا تھا کہ ماں اس کی مرضی کے خلاف پوتے کو پیسے بھیج رہی تھی۔
یہ سب حالات کافی دیر تک تو فضل داد کے اپنے لوگوں کے علم تک ہی محدود رہے، مگر پھر آہستہ آہستہ یہ خبر روشن آباد اور ملک پور تک پھیل گئی۔ ہر کسی کو دکھ تھا کہ روشن داد کیوں وہاں ایسی حالت میں پڑا ہے؟ جبکہ یہاں ایک طرح سے بادشاہت اس کے انتظار میں تھی۔
نوربانو بھی ایک دن اپنے باپ کے پاس بیٹھی تھی کہ روشن داد کا ذکر چل نکلا۔ اس نے باپ سے پوچھا ”آپ تو کہتے تھے، کوئی انسان بھی
اسے حاصل ہو جانے والی آسائشوں اور مرتبے کو آسانی سے چھوڑنا نہیں چاہتا تو پھر بھلا روشن داد کیوں یہاں کی بادشاہی چھوڑ کر وہاں پڑا ہوا ہے؟ میں نے سنا ہے وہ وہاں ہوٹلوں میں نوکریاں کرتا اور ان کے غسل خانے تک دھوتا ہے مگر یہاں نہیں آتا ”۔
منشی چراغ دین بولا ”ابھی یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے بیٹی کہ اس نے یہاں کے عیش و آرام کسی کی محبت میں یا کسی اعلیٰ مقصد کے لیے تج دیے ہیں یا کوئی اور بات ہے“ ۔
نوربانو :تو پھر یہ فیصلہ کب ہو گا؟ پانچ سال تو ہو گئے اسے وہاں گئے ہوئے۔ وہ ایک بار بھی پلٹ کر نہیں آیا۔ اس کی دادی بیمار ہے اور اسے یاد بھی بہت کرتی ہے۔
منشی : وہ ایک بار آئے، کچھ دیر یہاں رہے اور پھر واپس چلا جائے تو میں سمجھوں گا کہ اب وہ وہیں رہنا چاہتا ہے۔ کسی محبت نے اسے اتنا مضبوط بنا دیا ہے۔
نوربانو : لیکن وہ آئے تبھی نا؟
منشی : ہاں! لیکن مجھے امید ہے وہ ایک بار آئے گا ضرور۔
نوربانو :چلیں دیکھتے ہیں! اب آپ کو امید ہے تو اس کی کوئی وجہ بھی ہو گی!
۔
ادھر روشن داد کے حالات دن بدن بگڑتے ہی جا رہے تھے۔
دوستوں سے ملنا جلنا تو اس نے کافی دیر کا چھوڑا ہوا تھا۔ اب یا تو گھر میں پڑا کرسٹینا کا انتظار کرتا رہتا یا پھر کسی پب میں جا بیٹھتا اور شراب سے دل بہلاتا۔ اکثر زیادہ پی لیتا تو وہاں کسی سے جھگڑا کر بیٹھتا۔ نتیجہ، مار کھا کے گرتا پڑتا گھر لوٹ آتا۔
کرسٹینا کو خبر ملتی تو وہ اپنے کام چھوڑ کر آتی اور اس کی مرہم پٹی کرتی۔ مگر آخر ایک دن وہ بھی تنگ آ گئی اور بولی ”روشن! تمہاری محبت اب میرے لیے درد سر بنتی جا رہی ہے۔ میں یہ بوجھ اب اور نہ اٹھا سکوں گی۔ بہتر ہے کہ تم اپنا کوئی اور بندوبست کر لو“ ۔
روشن داد : میں تم سے شدید محبت کرتا ہوں کرسٹینا!
کرسٹینا : لیکن تم محبت کو اپنی نان پریکٹیکل شرائط پر چلانا چاہتے ہو اور یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ مجھے محبت کے علاوہ اور بھی مسائل کا سامنا ہے۔ پھر میرا کیریئر ہے جو مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے، تمہاری محبت سے بھی زیادہ۔ میں تمہیں آج آخری بار کہہ رہی ہوں خود کو بدلو یا پھر میں اپنا راستہ بدل لوں گی۔
روشن داد کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ کیا کہے۔ وہ خاموش بیٹھا رہا۔ کرسٹینا نے اس کے کچن کی صفائی کی اور اسے خداحافظ کہہ کر نکل گئی۔
روشن داد کا خیال تھا کہ وہ ایسا کہنے کے باوجود پھر آ جائے گی۔ لیکن جب دس دن سے زیادہ ہو گئے اور کرسٹینا نے کوئی رابطہ نہ کیا (جو کہ بہت خلاف معمول تھا) تو روشن داد نے اسے فون کرنے شروع کیے۔ مگر وہ اس کا فون بھی اٹینڈ نہیں کر رہی تھی۔ اس نے کئی میسج بھی لکھے مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ روشن داد کو نئی فکر ہوئی اور اس نے اس کے دفتر رابطہ کیا تو خبر ملی کہ وہ وہیں ہے اور باقاعدگی سے دفتر کا کام کر رہی ہے۔ روشن داد نے پھر فون کیے اور کئی پیغامات لکھے تو آخرکار کرسٹینا کا بھی جواب آ گیا۔
”میں نے نیا دوست بنا لیا ہے۔ اب تم مہربانی کر کے مجھے فون کرنا اور SMS لکھنا بند کر دو “ ۔
روشن داد کے لیے یہ بہت بڑا جھٹکا تھا۔ اس نے پہلے چاہا کہ اس کے دفتر جائے اور اسے منا لے۔ لیکن چاہنے کے باوجود بھی وہاں جانے کی ہمت نہ کر پایا اور شراب کی بوتل کھول کر بیٹھ گیا۔
ادھر دادی گوہر جان کی طبیعت خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی تھی۔ ڈاکٹروں کی سب کوششیں ناکام ہو رہی تھیں۔ اسے جب ذرا ہوش آتا تو وہ روشن داد کے بارے میں پوچھتی لیکن روشن داد تھا کہ نہ فون اٹینڈ کر رہا تھا نہ کسی میسج یا ای میل کا جواب دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ گوہر جان فوت ہو گئی۔
مگر روشن داد تھا کہ رابطے میں ہی نہیں آ رہا تھا۔
تب فضل داد نے عمر جلیل کو فون کیا۔ عمر جلیل لندن میں ایک ریسٹورنٹ کا مالک تھا اور پیسے کے لین دین کا کاروبار بھی کرتا تھا۔ فضل داد سے اس کے تعلقات بھی اسی ضمن میں تھے اور اسی لیے روشن داد بھی اس کے پاس آتا جاتا رہتا تھا۔ دونوں میں تھوڑی گپ شپ بھی تھی۔ فضل داد نے اسے حالات سے آگاہ کیا تو عمر جلیل نے اس کی مشکل کو حل کرنے کا بیڑہ اٹھایا اور روشن داد کے گھر جا پہنچا۔ مگر بار بار گھنٹیاں بجانے اور دروازہ کھٹکھٹانے کے بعد بھی کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کرسٹینا سے رابطہ کیا۔
کرسٹینا نے آ کر اپنی چابی سے دروازہ کھولا تو روشن داد کو واش روم میں پڑے پایا۔ وہ کہیں شراب کے نشے میں وہاں گیا اور وہیں گر پڑا۔ اور نجانے کب سے وہاں پڑا تھا، پیشاب وغیرہ بھی کپڑوں میں ہی خطا ہو چکا تھا۔ دونوں نے مل کر اسے پانی وانی ڈال کر جگایا اس کے کپڑے تبدیل کیے اور اٹھا کر سٹنگ روم میں لائے۔ اسے لیموں چٹایا، چائے پلائی تو کہیں ایک گھنٹے کے بعد وہ بات کرنے کے قابل ہوا۔ پوری ہوش اسے ابھی بھی نہیں تھی۔ کرسٹینا تو جتنی دیر بھی وہاں رہی روتی ہی رہی۔ عمر جلیل نے اپنے کچھ دوستوں کو وہاں بلایا کہ روشن داد کا خیال رکھ سکیں اور خود ٹکٹ وغیرہ کے بندوبست میں لگ گیا۔
بہت ساری کوشش کے بعد ، وہ شام تک اسے اس قابل کر سکے کہ وہ ائرپورٹ پر سوبر (sober) نظر آ سکے اور جہاز پر سوار ہونے سے نہ روک دیا جائے۔
دوسرے دن صبح وہ پاکستان پہنچا تو گوہر جان کا جنازہ اٹھایا جا سکا۔ روشن داد کو یہاں پہنچنے کے بعد ہی صحیح طور پر کچھ ہوش آئی تھی اور وہ مسلسل روئے جا رہا تھا۔ دادی کے بچھڑنے کا غم تو تھا ہی لیکن اس کے آنسوؤں میں بڑا حصہ شرمندگی کی وجہ سے تھا۔ دیکھنے والوں کو بھی اسے دیکھ کر دکھ ہو رہا تھا کہ اس نوجوانی میں وہ کتنا بیمار، عجیب اور اجنبی سا نظر آ رہا تھا۔ فضل داد اور عروسہ نے ڈاکٹروں سے مدد لی اور اس کی صحت یابی تک اس کا لوگوں سے ملنا روک دیا گیا۔
فضل داد کو الیکشن کی مصروفیات بھی تھیں، ماں کی آخری رسومات کی بھیڑ بھاڑ بھی اور ساتھ میں اسے روشن داد کی دیکھ بھال بھی کرنا پڑ رہی تھی۔ پھر بھی وہ اس معاملے کو گھر کی خواتین پر نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔
ایک ہفتے کی مکمل نگہداشت، بار بار مساج، وقت پر کھانے پینے اور مسلسل غسل وغیرہ کے بعد خدا خدا کر کے روشن داد اس قابل ہوا کہ اسے دوسرے لوگوں سے ملنے کی اجازت دی جا سکے۔ ڈاکٹر ابھی بھی دن میں دو بار اسے چیک کرنے آ رہے تھے۔
نوکر چاکر تو دن رات اس کی خدمت کے لیے حاضر تھے ہی، ماں اور دونوں بہنوں نے بھی اپنی چھٹیاں بڑھوا لیں تھیں کہ زیادہ سے زیادہ وقت اس کے ساتھ گزار سکیں۔ بھانجے اور بھانجیوں نے بھی خوب اودھم مچایا ہوا تھا کیونکہ انہوں نے بھی ابھی تک ماموں کو سکائپ اور واٹس اپ پر ہی دیکھا تھا۔ روشن داد اس ماحول کو خوب انجوائے کر رہا تھا اور دل ہی دل میں خوش تھا کہ چاہے دادی کی فوتگی کی وجہ سے ہی مگر وہ اس عذاب سے نکل آیا تھا، جس میں وہ لندن کے قیام کے دوران پھنسا ہوا تھا۔
پرانے دوستوں کو جیسے جیسے اس کی صحت یابی کی خبر مل رہی تھی، وہ اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پھر ایک دن ان میں سے دس پندرہ نے مل کر پروگرام بنایا اور اکٹھے ہو کر اسے صحت یابی کی مبارکباد دینے آ دھمکے۔ اس کا کمرہ، اظہار محبت کے لیے لائے گئے خوش رنگ گلدستوں کی مہک سے لبالب بھر گیا۔ لڑکیوں کے ریشمی ملبوسات کی سرسراہٹ، ان کے جسموں سے اٹھتی ہوئی طرح طرح کی خوشبوؤں اور لڑکوں کے قیمتی لباسوں کی چمک دمک سے ماحول لبریز ہو گیا۔ نوجوانوں کے چھلکتے ہوئے قہقہے گھر کے گیٹ تک لپکنے لگے۔ فضل داد سٹڈی سے اپنا کام چھوڑ کر اس شادمانی کی طرف کھنچا چلا آیا۔
”تم مجھے چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے روشن؟ میں تو تمہاری جدائی میں مرنے کے قریب پہنچ گئی تھی“ ۔ کوئی لڑکی روشن داد سے مذاق میں کہہ
رہی تھی مگر جذبات سے لبریز لہجے میں۔
دوسری بولی ”یہ جھوٹ کہہ رہی ہے، تمہاری اصل عاشق تو میں ہوں“ ۔
اس پر کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ لیکن جونہی فضل داد کمرے میں داخل ہوا تو اسے دیکھتے ہی سب قہقہے یک لخت رک گئے۔ سب اسے آداب سلام کہتے ہوئے جیسے اپنی اپنی جگہ ساکت ہو گئے۔
”سوری! میں نے آپ لوگوں کو ڈسٹرب کر دیا۔ اصل میں تو میں آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا کہ آپ کے آنے سے جیسے یہ گھر پھر سے زندہ ہو گیا ہے۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ اصل زندگی صرف جوانی میں ہوتی ہے۔ اس کے بعد تو انسان بس گزارا ہی کرتا ہے۔ میری عمر میں تو کوئی کھل کر قہقہہ بھی نہیں لگا سکتا۔ اگر کوشش کرے تو اس پر دیوانگی کا گمان ہونے لگتا ہے“ ۔
اس نے ایک لمحہ کا وقفہ دیا اور پھر گویا ہوا
”خیر! آپ سب کو یوں دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ اور خاص طور پر یہ جان کر دلی خوشی ہوئی کہ آپ لوگ ابھی تک بڑوں کا لحاظ کرتے ہیں۔ بے شک اب آپ کو بزرگوں سے ڈر نہیں لگتا۔ یوں بھی اس تابعداری کا کیا فائدہ جو محبت کی بجائے کسی دباؤ کی وجہ سے ہو۔ ویسے ہم اپنی جوانی میں آپ لوگوں کی طرح خوش قسمت نہیں تھے۔ ہم اخلاقی دباؤ کی وجہ سے بزرگوں کا احترام کرتے تھے۔ ہماری تابعداری کی بنیاد محبت یا صرف احترام نہیں تھا۔ آپ لوگ یوں خاموش کیوں ہو گئے؟ لگتا ہے میں ہی تقریر کرنے لگ گیا ہوں۔ تو چلیے! آپ لوگ انجوائے کیجیے، میں اپنی دخل اندازی ختم کرتا ہوں“ ۔ اور وہ باہر نکل گیا۔
اس کے باہر نکلتے ہی کمرہ پھر قہقہوں سے گونجنے لگا۔
ایک لڑکا روشن داد سے مخاطب ہوا ”بھئی روشن! تیرا بڈھا تقریر تو اچھی کرتا ہے“ ۔
دوسرا بولا ”کیوں نہ کرے؟ سیاستدان جو ہوا“ ۔
تیسرے نے فلسفہ جھاڑا ”بے شک میں سمجھ نہیں سکا، لیکن لگتا ہے بات کوئی پتے کی تھی“ ۔
”تم انکل کا مذاق اڑا رہے ہو بے وقوفو؟ کوئی عقل نام کی چیز بھی ہے تمہارے بھیجوں میں یا صرف کوڑا بھرا ہے ان میں؟ بہت سائنٹیفک اور فیکٹ فل بات کی ہے انہوں نے“ ایک لڑکی نے سب کو ڈانٹنے والے انداز میں کہا۔
”چپ کرو بھئی! مس فلاسفر بول رہی ہیں“ ۔ ایک کونے سے آواز آئی۔
اور سارا کمرہ پھر سے قہقہوں میں ڈوب گیا۔
یوں یہ محفل کافی دیر تک چلتی رہی۔
روشن داد کے دوستوں کے جانے کے بعد ایک ملازم اس کے لیے فضل داد کا بلاوا لے کر آیا۔
روشن داد باپ کے کمرے میں پہنچا تو اس نے پہلے اسے بیٹھنے کے لیے کہا، اور پھر اپنی بات شروع کی ”خدا کا شکر ہے بیٹا کہ اب آپ کی صحت پہلے سے کافی بہتر ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کے پرانے دوست بھی آپ کی صحت کے بارے میں فکرمند تھے۔ حالانکہ پچھلے دو سال میں آپ نے شاید ہی کسی سے رابطہ رکھا ہو“ ۔
”نہیں پاپا، ایس ایم ایس کے ذریعے تو میں سب سے ہی رابطے میں تھا۔ اور چند ایک کے ساتھ تو واٹس اپ اور ای میل کے ذریعے بھی۔ ہاں! یہاں آنے سے ذرا پہلے یہ سلسلہ تھوڑا ڈھیلا ضرور پڑ گیا تھا“ ۔
”خیر اب آپ آ گئے ہیں تو ملنا جلنا بھی بڑھ جائے گا“ ۔
”جی پاپا! میں بھی اب ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہوں گا“ ۔
”بڑی خوشی کی بات ہے بیٹا! لیکن اس سلسلے میں آپ کو ذرا احتیاط بھی برتنا پڑے گی“ ۔
”وہ کیوں پاپا؟“
”وہ اس لیے کہ پچھلے پانچ سال میں، جب آپ لندن اور آکسفورڈ میں تھے تو یہاں بڑی تیزی سے کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بڑی تند رفتار ترقی ہوئی ہے، جس نے ہمارے معاشرے کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا ہے“ ۔
”آئی ٹی تو میرے یہاں ہوتے ہوئے بھی کافی پراگریس کر چکی تھی“ ۔
”لیکن تب تک یوں بچے بچے کے ہاتھ میں سمارٹ فون نہیں آ گیا تھا۔ بے شک کچھ مثبت اثرات بھی ہوئے ہیں اس کے لیکن منفی بہت زیادہ ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ اس کا استعمال بہت منفی طریقے سے ہو رہا ہے“ ۔
”یہ مسائل تو ساری دنیا میں ہی ہیں پاپا“ ۔
”یہاں کچھ زیادہ ہی ہیں۔ اپنا اور دوسروں کا وقت بہت ضائع کرنے لگے ہیں۔ خواہ مخواہ میں چھوٹی چھوٹی اور بعض اوقات بالکل پرائیویٹ باتیں بھی سوشل میڈیا تک پہنچ جاتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر بلیک میل کی بیماری ہے جس کی بنیاد عام طور پر جعلی ویڈیوز ہوتی ہیں۔ اس لیے آپ کو بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے“ ۔
”مجھے۔ ؟ لیکن کیوں۔ ؟“ ۔
”بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو ہماری فیملی کا سٹیٹس ہے۔ آپ کی والدہ اس وقت بہت اہم عہدے پر فائز ہیں، آپ کی دونوں بہنیں بھی سول بیوروکریسی کا حصہ ہیں اور میری سیاست کے علاوہ ہمارے بہت سے کاروبار ہیں۔ انہی کی بنیاد پر ہمیں یہ عیش و آرام اور یہ شان و شوکت حاصل ہے۔ اور انہی کی وجہ سے ہمیں دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے“ ۔
”مگر میں تو شاید زیادہ دیر یہاں رکوں بھی نہیں“ ۔
”مطلب، آپ واپس لندن جانا چاہتے ہیں؟“ فضل داد نے سوال کیا۔
”نہیں، ابھی میں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا“ ۔ روشن بولا
”تو پھر جب تک آپ یہاں سے جانے کا فیصلہ نہیں کر لیتے، تب تک ہمارے وقار اور ہماری نیک نامی کا خیال رکھیے گا۔ ایک بات۔ دوسری بات، آپ کا فیصلہ بہت سوچ بچار اور ٹھوس بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ کیونکہ آپ کے اس فیصلے کا ہم سب کی زندگیوں پر بڑا عمیق اثر پڑے گا۔ منفی یا مثبت، اس کا انحصار آپ کے فیصلے پر ہو گا۔ آپ کی لندن میں گزری ہوئی پچھلی دو سالہ زندگی سے میں کسی حد تک واقف ہوں اور اسے کسی صورت بھی پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا“ ۔
(روشن داد سر جھکائے باپ کی باتیں سن رہا تھا۔ فضل داد نے بات جاری رکھی)
”البتہ ایک بات جو میں جانتا ہوں، وہ ضرور آپ کے گوش گزار کر دینا چاہتا ہوں۔ یورپ کی عورتیں ہمارے نقطہ نظر سے بہت بے شرم ہیں لیکن وہ بغیر کسی خاص وجہ کے جھوٹ نہیں بولتیں۔ جبکہ یہاں اور خاص طور پر ہمارے طبقے کی لڑکیاں جو بظاہر بے شرم نہیں ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر جھوٹی اور منافق ہیں۔ ان سے رابطہ رکھنے کے لیے آپ کو بھی منافقت سیکھنی پڑے گی، انہی کے طور طریقے اپنانے پڑیں گے یا پھر ان سے فاصلہ رکھنا پڑے گا“ ۔
”اتنی عقل تو ہے مجھ میں“ ۔
”ہو سکتا ہے، ہو، لیکن میرے خیال میں وہ آپ کے اندازے سے زیادہ چالاک ہیں۔ آپ آکسفورڈ سے ایم اے کرنے کے بعد بھی ان کی نسبت کہیں سادہ ہیں۔ پچھلے پانچ سال میں یہاں عجیب و غریب تبدیلیاں آئی ہیں۔ ویسے دل بہلانے کا سامان ہمارے پاس بھی بہت ہے اور وہ مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں رہتا ہے۔ وہ کسی طور بھی ہماری شہرت و عزت پر اثرانداز نہیں ہو سکتا“ ۔
”میں کچھ سمجھا نہیں!“
”جب آپ روشن آباد اور ملک پور کا ٹوور کریں گے تو وہ بھی سمجھ جائیں گے۔ اور ہاں! کسی بھی فیصلے سے پہلے بہتر ہو گا کہ آپ نہ صرف
روشن آباد اور ملک پور کا تفصیلی ٹوور کریں بلکہ ہماری کنسٹرکشن کمپنی اور ایکسپورٹ فرم کا بھی مکمل علم حاصل کریں۔ یورپ جانے سے پہلے آپ اپنی سٹڈی میں اتنا مصروف تھے کہ میں نے آپ کو کاروبار کے معاملات سے دور ہی رکھا۔ لیکن اب ضروری ہے کہ آپ اس کی مکمل جانکاری حاصل کریں۔ یہ سب ملا جلا کر ایک بڑا ایمپائر ہے جو یوں تو آپ کے لیے ہی کھڑا کیا تھا، لیکن اگر آپ واپس لندن یا یورپ امریکہ میں کہیں اور جا کر سیٹل ہونے کا پروگرام بناتے ہیں تو اس سے آپ کا تعلق ختم ہو جائے گا۔ یہ سب پھر میں آپ کی والدہ، آپ کی بہنوں اور دیگر کام کرنے والوں میں تقسیم کر دوں گا ”۔
یہ سنتے ہی روشن داد کی پیشانی پر فکر کی لہریں ابھر آئیں۔ فضل داد نے بیٹے کا چہرہ پڑھ لیا اور بولا
”لیکن گھبرائیے نہیں۔ آپ کو فارن جا کر سیٹل ہونے کے لیے جو بھی رقم درکار ہو گی، وہ آپ کو کسی نہ کسی طرح فراہم کر دی جائے گی۔ البتہ اگر آپ کی پلاننگ فیل ہو جاتی ہے تو پھر آپ کو اپنی قسمت پر انحصار کرنا پڑے گا۔ پھر آپ کو یہاں سے اور کچھ نہیں ملے گا۔ یہ کوئی دھمکی نہیں ہے بلکہ وہ فیصلہ ہے جو میں نے آپ کی والدہ کے ساتھ مل کر پچھلے سال ہی کر لیا تھا۔ میرے خیال میں وجوہات سے آپ بخوبی آگاہ ہیں“ ۔
روشن داد فکرمند خاموشی سے باپ کی باتیں سن رہا تھا۔ باپ نے بات آگے بڑھائی
”آپ اچھی طرح جانتے ہیں، میں کسی حال میں بھی بدتمیز نہیں ہوتا، نہ کبھی کسی کو کسی بھی کام کے لیے مجبور کرتا ہوں اور میرا رویہ بھی ہمیشہ نرم ہوتا ہے لیکن میں اپنے فیصلوں کے ضمن میں بہت سخت ہوں۔ اس معاملے میں کسی لچک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب میں آپ کو فیصلہ کرنے کے لیے پورے دو مہینے دیتا ہوں۔ ان دو مہینوں میں آپ کچھ اور جاننا چاہیں، کوئی کام کرنا چاہیں یا کوئی غیرمعمولی پیسوں کی ضرورت ہو تو آپ بلا جھجک میرے ساتھ بات کر سکتے ہیں“ ۔
”دو مہینے؟“ روشن داد نے سوال کیا
”جی ہاں! اور تب تک آپ کو پوری آزادی ہے۔ جہاں جائیں، جو کریں، جس سے ملنا چاہیں۔ البتہ یہاں جو کام پہلے سے اور خوش اسلوبی سے چل رہے ہیں، انہیں تبدیل کرنے کی خواہش بھی مت کیجیے گا۔ ابھی میں آپ کو اس کا اختیار نہیں دے سکتا۔ ایک بات اور! یہاں گاڑی خود ڈرائیو مت کیجیے گا۔ ایک تو یہاں کی بے اصول ٹریفک، دوسرے آپ نے کہیں رکنا ہو گا تو پارکنگ کا مسئلہ نہیں رہے گا۔ سب ڈرائیوروں کے پاس اپنے موبائل فون ہیں۔ آپ کی ایک کال پر حاضر ہو جائیں گے۔ جب تک یہاں ہیں، یہاں کے طور طریقوں پر چلنا ہی عقل مندی ہے۔ میرا خیال ہے بات آپ کی سمجھ میں آ گئی ہو گی!“
”جی میں سمجھ گیا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں دو مہینے سے پہلے ہی کسی فیصلہ پر بھی پہنچ جاؤں گا“ ۔
”اب ایک آخری بات، جو شاید سب سے اہم ہے“ ۔
”جی میں سن رہا ہوں“ ۔
”آپ جانتے ہیں، آپ کس حالت میں لندن سے آئے تھے؟“
”جی کسی حد تک“ ۔
”تو باقی میں بتا دیتا ہوں۔ آپ کی حالت بہت خراب تھی۔ ہمارے ڈاکٹروں اور نرسوں کو لگاتار دو ہفتوں تک آپ پر بہت سخت محنت کرنا پڑی۔ تب جا کر کچھ صحت یابی ہوئی۔ لیکن ابھی آپ پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے ہیں۔ مطلب یہ کہ اب اگر آپ نے شراب کو ہاتھ بھی لگایا تو حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو جائے گی۔ اور اگر ایسا ہوا تو میں آپ کو ابھی سے بتا دوں کہ میں دوبارہ سے ڈاکٹروں کے چکر میں نہیں پڑوں گا اور نہ ہی آپ کو کسی ہسپتال یا کسی ری ہیب لے جانے کی کوشش کروں گا بلکہ سیدھا پاگل خانے بھیجوں گا“ ۔
(روشن داد اسے حیرت سے دیکھنے لگا)
”اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاگل خانے میں زیرعلاج کسی انسان کے نام پر زمین یا بینک بیلنس ٹرانسفر نہیں کیے جا سکتے“ ۔
”جی میں جانتا ہوں اور اس بات کا مطلب بھی سمجھ رہا ہوں“ ۔
”ویری گڈ! تو اب اس سارے معاملے کے بارے میں آپ کے پاس کوئی سوال ہے؟“
”نہیں، فوری طور پر تو نہیں ہے۔ البتہ جب بھی کوئی ضرورت ہوئی میں آپ سے پوچھ لوں گا۔ ابھی تو میں نئی سم کا انتظار کر رہا ہوں جو فقیر علی لینے گیا ہوا ہے۔ میں جب سے آیا ہوں لندن کے دوستوں سے بات نہیں کر سکا“ ۔
”میرے خیال میں وہ سم لے آیا ہے اور وہ ایک سمجھدار آدمی ہے۔ آپ اس وقت اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف تھے اس لیے اس نے آپ کو ڈسٹرب کرنے سے پرہیز کیا“ ۔
”ٹھیک ہے، میں لے لیتا ہوں اس سے۔ میرا لندن کے دوستوں سے رابطہ کرنا بہت ضروری ہے“ ۔
اور وہ اپنے باپ سے اجازت لے کر چلا آیا۔
اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے فقیر علی کو بلایا۔ اپنے موبائل کی سم تبدیل کی اور کرسٹینا کو کال کی۔ مگر کرسٹینا نے کال اٹینڈ نہیں کی تو اسے خیال آیا کہ ہو سکتا ہے اجنبی نمبر ہونے کی وجہ سے کرسٹینا کال اٹینڈ نہ کر رہی ہو تو اس نے اسے میسج لکھا اور جواب کا انتظار کرنے لگا۔ مگر جواب نہ آیا تو وہ رنجیدہ ہو گیا۔ تب اس نے مسعود چیمہ کو فون کیا اور اس کے گھر چلا گیا۔
مسعود اس کا پرانا دوست تھا اور اس کی بیماری کے دوران کئی بار اسے ملنے بھی آیا تھا۔ مسعود کا باپ فاروق چیمہ ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز تھا۔ مگر مسعود نے کسی سرکاری نوکری میں جانے کی بجائے، ایم بی اے کرنے کے بعد ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کر لی تھی اور اب خوب مزے میں تھا۔ وہ سرکاری نوکری کو اس لیے بھی اچھا نہیں سمجھتا تھا کہ اس میں پابندیاں بہت ہوتی ہیں۔ جبکہ وہ آزاد زندگی گزارنے کا خواہاں تھا۔
اس کا خیال تھا کہ 35 سال کی عمر سے پہلے مرد کو شادی نہیں کرنی چاہیے۔ اور اس وقت تک جتنے بھی رومانس کر سکے کر لینے چاہئیں۔ البتہ شادی کے بعد سکون سے شادی شدہ زندگی بسر کرنی چاہیے۔ اس نے روشن کو اپنے کئی رومانی قصے بھی سنائے۔ مگر جب روشن نے کرسٹینا کے بارے میں اسے بتایا اور اس کے ساتھ اپنی سنجیدگی واضح کی تو مسعود بولا
”کرسٹینا کو وہاں رہنے دو یار! ویسے بھی وہاں کی لڑکیاں کچھ زیادہ ہی انڈی پینڈنٹ ہوتی ہیں۔ ہمیں بھاؤ نہیں دیتیں۔ اب یہاں آ گئے ہو تو یہاں کی تتلیوں کے رنگین پروں کا لمس حاصل کرو۔ ویسے بھی ہمارے جیسے لوگوں کو جو عیش آرام یہاں میسر ہیں وہ یورپ میں تو مل نہیں سکتے، تو ہم یورپ جا کر کیوں رہیں؟ ہاں البتہ کبھی کبھی سیر سپاٹے کے لیے آدمی چلا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ تمہارے لیے بھی اچھا ہے کہ پہلے یہاں قدم جماؤ اور پھر سال دو سال بعد یورپ کا چکر بھی لگا لیا کرو۔ تمہاری کرسٹینا تو وہاں ہے ہی، اور اگر وہ کہیں اور بزی ہو گئی تو یورپ میں لڑکیوں کی کون سی کمی ہے؟ تم تو پانچ سال وہاں رہ کر آئے ہو۔ کرسٹینا نہیں تو کوئی“ کا ٹیا ”کوئی“ اینا ”مل جائے گی“ ۔
روشن کا دماغ چونکہ ابھی تک کرسٹینا پر رکا ہوا تھا، اس لیے وہ مسعود کے کسی سوال کے جواب میں بھی کوئی واضح موقف اختیار نہ کر سکا۔ پھر شام سات بجے کے قریب کرسٹینا کا فون آ گیا۔ اس نے روشن کی آواز سنتے ہی نہایت خوشی کا اظہار کیا اور پھر تفصیل سے اس کا حال پوچھا۔ پہلے کال نہ سننے اور میسیج کا جواب نہ دے سکنے کے سلسلے میں اس نے وضاحت کی کہ وہ دفتر میں تھی اور دفتر کے اوقات کار کے دوران میں وہ نہ تو اپنا پرائیویٹ فون استعمال کرتی ہے اور نہ ہی کال یا میسج چیک کرتی ہے۔ ابھی وہ لنچ بریک پر کینٹین میں آئی اور فون چیک کیا تو میسج پڑھنے کے بعد اسے فون کر رہی ہے۔
روشن داد بولا ”میں تو سمجھا تھا، تم مجھے بھول گئی ہو“ ۔
”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ روشن! میں تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں؟ تم اچھی طرح جانتے ہو میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتی۔ تم میری زندگی کی پہلی محبت ہو۔ تم سے پہلے، یعنی میرے لڑکپن میں جو کچھ بھی تھا وہ سب بھولپن کا زمانہ تھا۔ لیکن اپنی ہوش میں، سمجھ بوجھ کر میں نے جو محبت کی ہے وہ صرف تم سے کی ہے۔ تم سے مل کر ہی تو پہلی بار میں نے جانا کہ محبت اصل میں ہوتی کیا ہے؟“ ۔
۔ ۔

