سوڈان تیسری سول وار

سوڈان کے بدقسمت شہری رمضان کے مقدس مہینہ میں اپنی جدید تاریخ کی اس تیسری سول وار کو جھیل رہے ہیں، جس نے آن واحد میں دارالحکومت خرطوم سمیت ملک کے بڑے شہروں کو لپیٹ میں لے لیا، جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی فوج اور محمد حمدان دگالو کی، ریپڈ سپورٹ فورس، جسے سویلین لیڈر شپ کی حمایت حاصل ہے، کے مابین کانٹے کی لڑائی جاری ہے۔ سوڈان میں اس وقت لاکھوں شہری دوطرفہ فائرنگ میں پھنس کر تیزی سے زندگی کے امکان سے دور ہوتے جا رہے ہیں، یہ جھڑپیں نہایت سرعت کے ساتھ ایک مکمل جنگ میں بدلتی نظر آتی ہیں، جس کی مہیب لہریں پڑوسی ممالک کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔
افریقی، خلیجی اور مغربی ممالک جن میں سے بعض کے جنرل برہان سے قریبی روابط ہیں، فریقین کو جنگ بندی پر راضی کرنے کی بجائے اس انسانی المیہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے کوشاں ہیں۔ بظاہر اس تنازعہ کی ابتداء فوج کی طرف سے ”ریپڈ ریسپانس فورس“ کو تحلیل کر کے باقاعدہ فوج میں ضم کرنے کے مطالبات سے ہوئی۔ 15 اپریل کو خرطوم میں شروع ہونے والی جھڑپوں بارے واضح نہیں کہ پہلی گولی کس نے چلائی تاہم یہ ہولناک جنگ جس سرعت سے خرطوم کے شمال، جنوب، مشرق اور مغربی شہروں کی طرف پھیلی، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ فریقین جنگ کے لئے پہلے سے تیار تھے۔
جنگ کی رفتار میں کمی بیشی اور فریقین کی طرف سے کلیدی اداروں پہ کنٹرول کے متضاد دعووں کے باوجود مرنے والوں کے اعداد و شمار مفقود ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، اب تک 400 سے زیادہ افراد ہلاک اور لاتعداد شہری شدید گرمی میں بغیر بجلی اور کہیں کہیں پانی کے بغیر گھروں میں محبوس ہیں۔ ہسپتالوں کو ادویات سپلائی اور امدادی سرگرمیاں معطل اور وسیع پیمانے پر لوٹ مار کے باعث خوراک کی قلت پیدا ہو گئی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ سابق صدر عمرالبشیر نے فوج کے ارتکاز قوت کو منقسم کر کے آئے دن کی فوجی بغاوتوں کے تدارک کی کوشش کی تھی تاکہ مملکت میں سویلین بالادستی کے ذریعے سیاسی استحکام لایا جا سکے۔
سوڈان کے روایتی طور پہ مضبوط ادارہ اور عالمی طاقتوں کے مفادات کے مطابق بغاوتوں کی تاریخ رکھنے والی فوج کو سابق صدر عمر البشیر نے قومی مفادات کے تابع لانے کی خاطر بھارت کی طرح یونٹی آف کمانڈ سے نکال کر طاقت کے مسابقتی مراکز میں تقسیم کیا تاکہ عالمی طاقتیں صرف ایک آدمی (آرمی چیف) کے ذریعے عوام کے حق حاکمیت کا استحصال نہ کر سکیں۔ علی ہذالقیاس، نیم فوجی کور، ریپڈ سپورٹ فورس، کی تشکیل ابتداء میں دارفور میں عالمی قوتوں کی پشت پناہی کی حامل عیسائی مالیشیاؤں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے کی گئی تھی لیکن 1956 میں آزادی کے بعد سے ملک پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کرنے والی سوڈان کی روایتی فوجی اشرافیہ نے، اسے اپنی حکمرانی کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھ کر ابتداء ہی سے اسے تحلیل کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
تاہم اندرون ملک میں آر ایس ایف کو ملنے والی وسیع سیاسی حمایت کے علاوہ سونے کی کان کنی پہ کنٹرول اور علاقائی ملیشیاؤں کو آؤٹ سورس کرنے کے بعد آر ایس ایف ناقابل تسخیر ہو گئی۔ چنانچہ 2019 میں جب سوڈان کی عوامی بغاوت نے صدر عمرالبشیر کو معزول کیا تو فوج کو اقتدار پہ قبضہ کرنے کی خاطر RSF کے تعاون کی ضرورت پڑی کیونکہ لاکھوں افراد پہ مشتمل جس عوامی تحریک نے چند مہینوں میں بشیر کا تختہ الٹا وہ جرنیلوں کو بھی دوبارہ اقتدار پہ قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔
اس لئے عوامی نفرت کی لہر کو کند کرنے کی خاطر جنرل محمد الفتاح برہان نے پہلے حمدان دگالو کو پاور میں حصہ دے کر عبوری فوجی کونسل میں اپنا نائب بنایا اور بعد میں خودمختار کونسل کے نائب سربراہ کے طور پر جب جرنیلوں نے سویلین اپوزیشن کے ساتھ تقسیم اقتدار کا معاہدے کر لیا تو جنرل برہان نے حمدان دگالو سے شراکت ختم کر لی۔ اکتوبر 2021 کی بغاوت میں جنرل برہان کی جانب سے سویلین حکومت کو معزول کرنے کے بعد اقتدار پر فوج کا قبضہ مستحکم بنانے کی کوشش کے دوران حمدان دگالو نے خود کو برہان سے دور کرنا شروع کر دیا۔
دریں اثنا، معیشت، جس کی پریشانیاں 2019 کی بغاوت کی ایک بڑی وجہ بنی، مزید مشکلات میں الجھنے لگیں، جس سے سماجی بے چینی دوچند ہو گئی کیونکہ جب سوڈانی شہری سویلین حکومت کی بحالی کے لیے دباؤ بڑھانے لگے تو آر ایس ایف تیزی سے خود کو عوامی مطالبات سے ہم آہنگ کرنے کی لگی، یہاں تک کہ دگالو نے عوام میں خود کو غیر متنازعہ مصلح کے طور پر منوا لیا۔ اس نے خرطوم کی سویلین اشرافیہ کے ارکان کے ساتھ غیر سرکاری شراکت داری قائم کر کے عوامی مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے فوج کے ساتھ بات چیت میں نمائندگی کر کے حمدان دگالو نے اس سویلین اشرافیہ کا اعتماد حاصل کر لیا جو تاریخی طور پہ فوج کو اپنا دشمن سمجھتی تھی۔
چنانچہ دسمبر 2022 میں سویلین حکمرانی کی بحالی کی ضمانت دینے والے فریم ورک معاہدے نے دونوں فورسز کی دشمنی کو مزید بڑھاوا دیا۔ جب جنرل برہان نے بیرونی حمایت کے عوض اس معاہدے سے انحراف کیا، جس معاہدے میں آر ایس ایف کو مسلح افواج کے ہم پلہ ایک باقاعدہ سیکیورٹی ادارے کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسے عبوری دور کے دوران آرمی چیف کی بجائے سویلین سربراہ مملکت کی براہ راست کمان میں رکھنے کا عہد و پیماں کیا گیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت آر ایس ایف کو فوج میں ضم کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی اور یہی وجہ تھی جس نے جنرل برہان اور حمدان دگالو کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا۔ فوج اور آر ایس ایف کے درمیان سوڈان بھر میں نئی بھرتی کے لیے مقابلہ کے بعد فروری اور مارچ کے اوائل میں تناؤ واضح ہو گیا اور خاص طور پر حمدان دگالو کے گڑھ دارفور میں صورت حال زیادہ کشیدہ تھی۔ یہ افواہیں کہ فوج ان سرحدی گارڈز کو دوبارہ منظم کر رہی ہے جو تاریخی طور پر حمدان دگالو کے دیرینہ حریف موسیٰ ہلال کی کمانڈ میں تھی، اسی خبر نے فوج اور اس کے نیم فوجی دستوں کے درمیان آتش غضب کو مزید بڑھا دیا۔
جنرل برہان کی طرف سے خودمختار کونسل کو تحلیل کرنے اور ایک نئی فوجی کونسل بنانے کی تجویز نے بھی تنازعہ بڑھایا کیونکہ اس کا مطلب یہ لیا گیا کہ جنرل برہان، حمدان دگالو سے نائب صدر کی رسمی حیثیت بھی چھیننا چاہتے ہیں۔ تاہم دارالحکومت میں دو طرفہ فوجی تشکیل کے باوجود جنرل برہان اور حمدان دگالو نے 11 مارچ کو کشیدگی کم کرنے کا معاہدہ کیا جس کے مطابق حمدان نے گریٹر خرطوم سے اپنی فورسز نکالنے اور مشترکہ سیکورٹی کمیٹی بنانے پر اتفاق کر لیا۔
تاہم نئی سویلین حکومت کی تشکیل کے لئے حتمی مذاکرات نے جلد ہی ملک کو ایک بار پھر بدترین تصادم کی طرف دھکیل دیا کیونکہ سیکورٹی سیکٹر میں اصلاحات بارے مذاکرات نے مجموعی طور پر سویلین اشرافیہ کو فوج کے خلاف کھڑا کر دیا تھا۔ خاص طور پر ، دونوں میں آر ایس ایف کو فوج میں ضم کرنے کے ٹائم ٹیبل اور ایک مربوط فورس کے ڈھانچے پر اختلاف ناقابل عبور ہوتے گئے۔ عام شہریوں نے آر ایس ایف کے دس سالہ انضمام کی مدت کے لئے تجویز کی حمایت میں ریلی نکالی لیکن عالمی دباؤ پر فوج نے دو سال کے ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کر کے تناؤ بڑھا دیا، جنرل برہان RSF کو ایک دہائی دینے کو تیار نہیں تھے، جس میں وہ خود کو فوج کی نگرانی سے باہر رکھ کے اپنی خودمختاری اور قوت کو بڑھا سکتی تھی۔
یہ واضح ہے کہ برہان کو دسمبر کے فریم ورک معاہدے کے خلاف فوج کے اندر سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ معاملات کو سلجھانے کی بجائے حمدان دگالو کے ساتھ کشیدگی میں بدستور اضافہ ہو رہا تھا۔ جس کے نتیجہ میں فریقین خود کو مسلح تصادم کے لیے تیار کرنے کی خاطر نئی بھرتی کرنے لگے اور خاص طور پہ خرطوم سمیت اسٹریٹجک علاقوں میں بڑی تعداد میں اپنی فوجوں کو متحرک کر دیا۔ 13 اپریل کو ، RSF کے سپاہیوں کا بڑا دستہ شمالی قصبے میرو کے فضائی اڈے کے قریب دوبارہ تعینات ہوا، جہاں مصری فضائیہ بھی مامور تھی تو فوج نے RSF پر غیر مجاز حرکت کا الزام دھر کے اسے پسپا ہونے کا الٹی میٹم دیا، بڑی طاقتوں نے ثالثی کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھائے۔
امریکہ، برطانیہ، سعودی پر مشتمل بلاک اقوام متحدہ اور کواڈ کی کوششوں سے خرطوم میں فریقین کے درمیان تین ملاقاتیں بھی ہوئیں مگر دو دن بعد لڑائی شروع کر کے فوج نے آر ایس الف سے دشمنی نبھانے کی خاطر تیسری بار ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔ اگرچہ خانہ جنگی سوڈانیوں کے لئے کوئی نئی بات نہیں لیکن خرطوم کی یہ تیسری شہری جنگ لاکھوں انسانوں کو نگل لے گی، سوڈانی فضائیہ کی دارالحکومت پر بمباری کے باعث شہری شدید گرمی میں بجلی کے بغیر گھروں میں بھوکے پیاسے پھنس گئے۔ سوشل میڈیا سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت لوٹ مار شروع ہو گئی جب رہائشی اپنے محلوں میں جا کر فضائی نقصان پر قابو پانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ملک کے دوسرے حصوں میں صورت حال اتنی ہی سنگین ہے، جہاں سے معلومات کا آنا مشکل ہے۔

