تبدیل کرو، چھوڑ دو یا مرو،


اس خونی نعرے کی گونج ہمیں سوشل میڈیا کی وساطت سے آج دنیا کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک، کثیر ثقافتی اور قدیم تہذیبی شناختوں کی وارث دھرتی پر سنائی دیتی ہے۔ ہندوستانی سماج پر بنیاد پرستی کے منحوس سائے لہرا رہے ہیں۔ اگرچہ اس کے خلاف اسی سماج سے توانا آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا اور کہیں نہ کہیں مذہبی اور سیاسی اشرافیہ کی سرپرستی اور توثیق بھی اس صورتحال کو بگاڑ رہی ہے۔

ریاستوں اور سیاستدانوں کو انسانی تہذیبوں کو پھر سے پتھر اور جہالت کے زمانوں کی طرف نہیں دھکیلنا چاہیے۔ یہ انسانی شرف اور اس کی ذہنی بلوغت پر سوالیہ نشاں ہے۔

خبط عظمت کا شکار قوموں میں اٹھنے والی ایسی منفی ذہنیت نوع انسان کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ مذہب، قوم، رنگ، صنف یا زبان کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا یہ مجرمانہ اور ظالمانہ رویہ ہے۔

ہمیں اپنے شعور کو دنیا بھر کے روشن خیال مفکرین اور ان کی تحریکوں سے وابستہ کرنا ہو گا۔ جو کسی معاشی یا سیاسی خبط اور مذہبی ایجنڈے سے ہٹ کر دنیا کو نسبتاً زیادہ پرامن بنانا چاہتے ہیں۔

انسان کی بدنصیبی بھی ہے کہ وہ علاقائی مذہبی اور سیاسی عصبیتوں سے خود کو نہیں بچا سکا۔ اور ان عصبیتوں اور نفرتوں کی چھتری تلے اپنے ہی جیسے انسانوں کا قتل عام کرتا چلا آ رہا ہے۔ جبر کے سماج میں بچے عورتیں انسان انسانیت اور انسانی ناموس خطرے میں ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا اور گلوبل سرگرمیوں کی وجہ سے اب آپ کسی طرز عمل کو بہت زیادہ دیر تک دنیا کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رکھ سکتے۔ ہم نے پاکستان میں بنیاد پرستانہ متشدد رویوں کی مصیبت دیکھی ہے۔

جس کا خراج داخلی اور خارجی ہر دو سطحوں پر دینا پڑا۔ آج بھی بہت سے سانحات سکرین پر دیکھتے ہیں۔ اور اپنے آس پاس بھی ان سانحات کے منفی اثرات موجود پاتے ہیں۔ معاشروں کے لیے یہ مریضانہ صورت حال ہوتی ہے۔ ہمارے لیے یہ کم عرصہ نہیں، ضیائی بیانیہ کی نحوست اس خطے کے پورے چالیس سال کھا گئی۔

اب اسی نوعیت کی خبریں ہمیں ہندوستانی سماج میں سننے کو ملتی ہیں۔ اور اس جبر اور بنیاد پرستی کے خلاف اسی سماج سے اٹھتی آوازیں بھی سنتے ہیں۔ ہندوستان کثرت آبادی کی وجہ سے بہت سی قومیتوں کا ملک ہے۔ یہاں کسی بڑی اقلیت کو ماضی کے کسی رویے یا مذہبی عقیدے کی بھینٹ چڑھانا پہلے اقلیتوں، پھر اکثریتی مذہب کے اندر کے کمزور طبقات کو عدم تحفظ کا شکار کردے گا۔

جو اعداد شمار شیئر ہو رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر رپورٹ ہو رہے ہیں وہ نصف بھی سچ ہیں تو الارمنگ سچویشن ہے۔ یہ توڑ پھوڑ طویل عرصہ تک معاشروں کو فساد اور فتنہ میں مبتلا رکھتی ہے۔ اپنے سائے سے بھی لوگ ڈرنے لگتے ہیں۔ قانون کی عملداری اور لیڈرشپ کا اثر کم ہونے لگتا ہے۔ بے اعتمادی اور غیر محفوظ ہونے کے احساس کی وجہ سے ذرا ذرا سی بات پر فسادات ہونے لگتے ہیں۔ انتظامیہ اور دیگر ادارے منقسم طرز عمل کی وجہ سے بہتر فیصلے نہیں کر پاتے۔ اکثریت تسلط کے خبط میں غلط فیصلے کرتی ہے۔ اور اقلیتیں اپنی بقا کی فکر میں فکری اور سماجی طور پر خوف اور تنہائی کی نفسیات کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اکٹھے کاروبار سماجی تعلقات اور باہمی رواداری کے امکان کم اور قدم قدم پر جھگڑے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔

عدم برداشت کے یہ رویے کم و بیش ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ مغرب نے اپنی جنگوں کے بعد یہ سبق سیکھا۔ لیکن پاکستانی اور ہندوستانی سماج بٹوارے کے بعد آپسی جنگوں اور پراکسی سے بھی نہیں کچھ نہیں سیکھا۔ دنیا کمزور اور رضاکارانہ فیڈریشن کی سمت بڑھنے لگی ہے۔ اس لیے کہ اب یہ چھوٹا سا ٹکڑا زمین ایک طرح سے سائبر ویلج ہے۔ جہاں خبط عظمت کے غباروں سے فوری ہوا نکل جاتی ہیں۔ ایسے مریضانہ نعرے ہر قوم نے لگائے اور آج وہ شرمندہ ہیں۔ یہ ماضی قریب کی بات ہے۔

واپس پلٹو، چھوڑ دو یا مر جاؤ، گنگا جمنی تہذیب کا یہ نعرہ اس کے ماضی کی نمائندگی نہیں کر رہا بل کہ اس کے حال کو پریشاں اور مستقبل کو سوالیہ نشاں بنا رہا ہے۔ اس خبط عظمت کی سزا سہتی قوموں میں پاکستان کی مثال بھی موجود ہے۔ دونوں ممالک میں غربت کی خوفناک شرح ہے۔ اور ثقافتوں کی کثرت ایسے نعروں کے ذریعے عمومی بگاڑ اور مناقشے کے سوا کچھ نہیں دے سکتی۔

لوگوں کو ان کی ثقافت سے دور کرنا، انھیں ماضی کے غار میں دھکیلنا یا ان کے پرکھوں کی غلطیوں کی سزا دینا یا ملامت کرنا۔ کسی بھی صورت مہذب رویہ نہیں قرار دیا جا سکتا۔ عقیدہ کو جبر سے تبدیل کرنا

ان سے اظہار کا حق چھیننا اور کسی پرانے یا نئے مذہب کا بپتسمہ دینا انسان پر بحیثیت انسان جبر ہے۔

حقوق سے محرومی کا خوف پراکسی کو جنم دیتا ہے۔ کارکردگی اور خلوص متاثر ہوتا ہے۔ جو لیڈر اور ریاستیں ان مسائل کو سمجھتی ہیں۔ وہ قومی اتفاق رائے اور مذہبی رواداری پر یقین رکھتی ہیں۔

ہندوستان کے کثیر مذہبی اور ثقافتی سماج کے حسن کے خلاف تشدد پسندانہ اور مذہبی تسلط کا ایجنڈا رکھنے والی تنظیموں اور جتھوں کی سیاسی اور مذہبی اشرافیہ کی باقاعدہ سرپرستی کسی بھی طرح ملک و قوم کے لیے نیک شگون نہیں۔

جمہوری ممالک کا المیہ ہے۔ یہاں پراکسی کے منشور اور لائحہ عمل کے ساتھ بہت سی تنظیمیں سرگرم ہوجاتی ہیں۔ اپنی فالونگ کے ساتھ وہ سیاسی پارٹیوں کی حمایت بھی حاصل کر لیتی ہیں۔ یوں مذہبی فکر کی سرپرستی میں یہ فالونگ اور بھی بے رحم ہو جاتی ہے۔

ایسے گروہ جماعتیں یا تنظیمیں ایک طرح کی سیمی آرمی ہوتی ہے۔ یہ باقاعدہ تربیت اور جنگی مشقیں اپنے کارکنان کو سکھاتی ہیں۔ اور پھر یہ برین واشنگ اور جسمانی تربیت انھیں کسی جتھے کے ساتھ اپنے مخصوص ٹارگٹ کو نیست و نابود کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ایسے لشکروں اور گروہوں کو دوسروں کے باطل ہونے اور اپنے ہر ایکٹ کو مقدس اور خدا کا پسندیدہ قرار دینے کا فوبیا ہوجاتا ہے۔

نفسیاتی بیماریوں میں اپنے مقدس اور دوسرے کے جہنمی ہونے کا خبط سب سے بڑا مرض ہے۔ ایسے نفسیاتی امراض ایسی تنظیمات اور افراد کو معاشروں کے لیے شدید بدامنی کا باعث بنا دیتے ہیں۔ پاکستان کے بعد اب انڈیا اس شدید صورت حال سے گزر رہا ہے۔ جس پہ سماج سدھار اور رویوں پر نظر رکھنے والے نفسیاتی معالج بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔

لیکن مذہبی اور سیاسی نیتا چند تاجروں سے مل کر ایسے گروہوں اور افراد کو سپانسر کر رہے ہیں۔ کہانی کو جان جائیں تو لوگ ایسی سوچ اور ایسی بد روحوں سے بچ جائیں گے۔

لیکن میڈیا اور پروپیگنڈا، کہانی کے بہت سے کرداروں کو سکرین پر آنے ہی نہیں دیتا۔
کسی بھی معاشرے میں ایسی کسی بھی صورت حال کا نقصان عام آدمی کا ہوتا ہے

مذہبی اور سیاسی اشرافیہ نئے گیم پلان لیے بچ جاتی ہے۔ غریبوں اور محتاجوں کے بچے ہی اکثر ان جھگڑوں اور فسادات کا رزق بنتے ہیں۔

تشدد پسند، ہجوم کو ابھارتے ہیں اور بھاشن دینے کے لیے سائیڈ پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بڑی کلاس کی مذہبی اور سیاسی اشرافیہ اکثر اپنی سیاست کے لیے فسادات مینیج کرتی ہے۔ اور لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ اور کئی نسلوں کی دشمنیاں اور المیے ان کی بستیوں میں ڈیرہ ڈال دیتے ہیں۔ ذرا سوچیئے چیختے ہوئے نیتاؤں مولویوں اور برہمنوں کے گھروں میں کہیں بھی جنازے نہیں اٹھتے۔ نہ پوش بستیوں میں دھواں اور راکھ ہوتی ہے۔ یہ سب تو نچلے طبقات اور عوام کا مقدر بنتا ہے۔ یسد رکھیں ریاستوں کے منظور شدہ سچ اکثر ڈرائنگ روم میں جام بہ دست کمیشن خوروں کے تیار کردہ ہوتے ہیں۔ جنھیں منبر مقدس اور نیتا قومی مفاد قرار دے دیتا ہے۔

اس لیے یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہر مذہب اپنے روشن روشن اور سیکولر ٹیکسٹ کی دریافت کرے جو ہر مذہب میں پوری توانائی کے ساتھ موجود ہے۔ اور دنیا اور اپنے سماج کے لیے روادار روشن فکر اور وسیع المشرب معاشروں کی تعمیر کرے۔

تسلط پسندی اور غلبہ پسندی کے نعروں سے دنیا کو فتح نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کو اپنے فن علم اور اثر و رسوخ سے صرف متاثر کیا جا سکتا ہے۔

آج امن انصاف رواداری اور انسان دوستی کے بیانیوں کی تشکیل کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ اور ذہن انسان میں اس کی طلب بھی موجود ہے۔ شعور و آگہی کے اس سفر کو جہالت اور قتل و غارت کا میدان بنا دینے سے بچانے کے لیے تبدیل کرو، چھوڑ دو یا مرو، کے سلوگن کے بجائے تعمیر کرو، تعظیم کرو اور زندہ رہو، کا نعرہ کیوں نہ دیں جس میں انسانیت کا وقت اور فرد کی بقا ہے۔

دنیا کو جو چیلنج درپیش ہیں۔ مذہبی معاشروں کو اس کا ادراک نہیں۔ غربت مشینی زندگی کے نفسیات پر اثرات مصنوعی اور انسانی ذہانت کی کشمکش اور باہمی تعامل، بے ہنگم آبادی پانی کی کمی اور ماحول میں آنے والی غیر متوقع تبدیلیاں اور اس کے اثرات۔ سائبر دنیا اور گلوبل سماج میں نئے عمرانی معاہدات کی ضرورت ہے۔

ایشیا اور ایشیا میں ہندوستان کا اس میں بہت بڑا کردار ہو گا۔ یہ قائدانہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ہندوستانی سماج کو ایسے خونی منشورات اور سلوگن سے دستبردار ہونا ہو گا۔

Facebook Comments HS