فرسودہ سرکاری دفتری نظام اور چیف سکریٹری جی بی


سرکاری دفاتر کا نظام فرسودہ اور ناکارہ ہو چکا ہے۔ سرکار میں بھرتی ہونے والے ہزاروں کی تعداد میں گریڈ 14 سے نیچے کے بیشتر ملازمین کی کوئی پیشہ وارانہ تربیت نہیں ہوتی ہے اور وہ اپنی پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے دوران گھر یا معاشرے سے سیکھے ہوئے رویوں پر اکتفا کرتے ہیں جو کہ عموماً دفتری نظام کو چلانے کے قابل نہیں ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے ظاہری حلیے سے لے کر گفتگو اور لوگوں سے برتاؤ تک سب غیر پیشہ ورانہ اور سائلین کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔

اکثر سرکاری دفاتر بھوت بنگلوں کا منظر پیش کرتے ہیں جہاں بنیادی صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ سردیوں میں دروازے اور کھڑکیاں بند ہونے کی وجہ سے بدبو تو عام سے بات ہوتی ہے بلکہ نسوار کے گولے بھی جگہ جگہ پائے جاتے ہیں۔ بڑے افسران کے دفاتر بظاہر لش پش ہوتے ہیں لیکن وہاں صرف رویوں کا مسئلہ ہوتا ہے جبکہ نچلے ملازمین کے دفاتر میں رویوں کے ساتھ ساتھ صفائی اور مجموعی ماحول ناقابل بیان ہوتا ہے۔ ان دفاتر میں کسی کام کی غرض سے جانے والے شریف شہریوں کو اس ماحول کی وجہ سے ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خواتین تو ان دفاتر میں جا ہی نہیں سکتی کیونکہ اکثر دفاتر میں ان کے لئے ماحول سازگار نہیں ہوتا ہے۔ خاص طور سے تحصیل اور تھانوں کی حالت نا گفت بہہ ہے۔ یہاں رائج نظام اور ماحول بہت بگڑا ہوا لگتا ہے۔ اب تو ہر تحصیل آفس کے باہر بیٹھا ہوا ٹھگوں کا ایک ٹولہ کام نکالنے کا جھانسہ دے کر غریب اور ان پڑھ سائلین کو لوٹتا رہتا ہے۔ گلگت تحصیل میں ایسے کئی واقعات کی شکایات پہلے منظر عام پر آ چکی ہیں۔ یہ حال نچلی عدالتوں کے دفاتر کا بھی ہے جہاں ایک گہما گہمی ہر وقت ہوتی ہے۔

اتنا بے ہنگم رش لگا رہتا ہے کہ کوئی کام آسانی سے نہیں نکل سکتا۔ سرکاری دفاتر کا یہ نظام انگریزوں کے نظام سے بھی زیادہ بوسیدہ ہے کیونکہ انگریزوں کی موجودگی میں جزا و سزا کا خوف بھی تھا اب تو وہ بھی نہیں ہے۔ ہماری یاد میں یہ نظام قدرے بہتر تھا وقت کے ساتھ یہ بگڑتا رہا ہے اور اب تو اس کے اوئے کا اوا بگڑا ہوا ہے۔ اس نظام میں کام کرنے والے سرکاری بابوں کا خیال ہے کہ سب ٹھیک چل رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شاید ملکوں کے دفتری سرکاری نظام ایسے ہی چلتے ہیں۔

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ وہ ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور وہ بہت ذہین و فطین لوگ ہیں جو سرکاری نوکری رکھتے ہیں بلکہ ان میں سے اکثر خود کو دور حاضر کے سقراط بھی سمجھتے ہیں لیکن باہر سے نظارہ کرنے والوں کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ یہ نظام گل سڑ چکا ہے جس کے تعفن سے سارا معاشرہ متاثرہ ہو رہا ہے۔ یہ وہ دفتری نظام ہے جو ملک کی ترقی میں کام آنے کی بجائے اس کو تنزلی کا شکار کر رہا ہے۔ دنیا میں ایسا سرکاری دفتری نظام انتہائی غریب، کرپٹ یا جنگ زدہ ممالک میں ہی مل سکتا ہے باقی دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔

مغرب کی مثال تو چھوڑیں، سعودی عرب، ایران، ترکی اور دیگر کئی اسلامی ممالک نے اپنے ہاں ایسا جدید سرکاری دفتری نظام رائج کیا ہے جہاں پاسپورٹ جیسی حساس ڈاکومنٹ آن لائن گھر بیٹھے حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان ممالک نے اپنا دفتری نظام اتنا آسان بنایا ہے کہ وہاں لوگوں کی کوئی لائنیں نہیں لگتی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں بی آئی ایس پی کے پیسے لینے یا پنشن لینے کے لئے غریب، نادار اور بزرگ مرد و خواتین سردی اور گرمی میں سارا سارا دن بھوکے پیاسے لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں جہاں لمحہ لمحہ ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔

سرکاری دفاتر اور نچلی عدالتوں کے باہر ہزاروں عزت مند شہری بگل میں فائلیں دبائے مرجھائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اپنی باری کا یا کسی نخرے باز سرکاری افسر یا کلرک کا گھنٹوں انتظار کرتے ہیں اور آخر میں ان کو بڑی بے رخی سے کہا جاتا ہے کہ کل آ جائیں آج صاپ (صاحب) میٹنگ میں ہیں۔ اسی طرح دور دراز سے سفر کر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر کے کسی دفتر یا صوبائی کیپٹل میں کسی کام کی غرض سے آنے والے سائل کئی دنوں تک دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور آخر میں جیب خالی ہوئی تو مایوس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں یہ نظام بنیادی پیشہ ورانہ ہنر سے خالی ہونے کے ساتھ ساتھ کرپشن، غیر انسانی رویوں، فرقہ ورانہ سوچ اور طرح طرح کی کئی بیماریوں میں مبتلا ہے۔ اس نظام میں تبدیلی کے لئے حکومت کے پاس سرے سے کوئی منصوبہ ہے ہی نہیں لیکن نچلے ملازمین اور اعلی سرکاری افیسران بھی اس نظام کی تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ اس نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ ان کے اندر تخلیقی صلاحیتیں نہیں ہیں جن کی مدد سے وہ اس فرسودہ دفتری نظام میں تبدیلی لا سکیں۔

اور نہ ہی ان کے وقتاً فوقتاً کوئی تربیتی کورسز یا کلاسز ہوتی ہیں جن کی وجہ سے ان میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا ہو سکے۔ وہ سرکاری ملازمت کو قسمت کا دیا سمجھ کر وقت گزارتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے اکثر سرکاری ملازمین کو اپنے کام سے زیادہ ٹی اے ڈی اے، الاونسز، تنخواہوں میں اضافہ، تبادلہ اور پروموشن کی فکر رہتی ہے۔ ان کا زیادہ تر وقت انہی چکروں میں گزر جاتا ہے۔ یہ ان ملازمین کی غلطی نہیں ہے بلکہ اس نظام کے رکھوالوں اور پالیسی سازوں کی غلطی ہے جن کو ملک سے زیادہ اپنی ذاتی ترقی عزیز ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں غیر ترقیاتی اخراجات دوگنا زیادہ ہیں یعنی دس روپے خرچ کرنے کے لئے سرکاری ملازمین کو بیس روپے کے مراعات دیے جا رہے ہیں۔ اس گمبھیر صورتحال پر اگر بروقت قابو نہیں پایا گیا تو یہ نظام اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنی فطری موت مر جائے گا۔ چیف سکریٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی آج کل گلگت بلتستان میں تعلیم، صحت اور پولیس کے محکمے میں اصلاحات سے متعلق سوشل میڈیا میں کافی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔

وہ اگر واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو گلگت بلتستان کا سرکاری دفتری نظام تبدیل کرے تاکہ وہ باقی صوبوں کے لئے بھی مثال بن سکے۔ یہ کام جی بی میں اس لئے ممکن ہے کیونکہ جی بی پاکستان کا سب سے چھوٹا صوبہ نما انتظامی یونٹ ہے۔ چیف سکریٹری جی بی کو چاہیے کہ وہ سطحی قسم کے اقدامات اٹھا کر واہ واہ سمیٹنے کی بجائے ماہرین کی مدد سے اس سرکاری دفتری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، تمام سرکاری ملازمین بشمول پولیس کی جدید خطوط پر تربیت کو یقینی بنانے، تمام سرکاری دفاتر اور پولیس تھانوں میں انسان دوست ماحول کو فروغ دینے، تحصیل اور دیگر دفاتر میں ون ونڈو سسٹم لانے، صنفی تفریق کو ختم کرنے، ان دفاتر میں صفائی کا بہترین نظام متعارف کرانے، سرکاری ملازمین کے رویوں اور اخلاق کو ٹھیک کرنے، میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے، سرکاری اداروں کے اندر سول انٹیلی جنس کا نظام بنا کر تمام سرکاری ملازمین کو سزا و جزا سے گزارنے، تمام سرکاری دفاتر کے غیر ضروری اخراجات کم کرنے، اخراجات اور پرفارمنس اور حاضری کے لئے جدید سینٹرلائزڈ اور کمپیوٹرئرازڈ نظام متعارف کرانے اور شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنا ہو گا۔ ورنہ صرف نمبر بنانے کے چکر میں جو بھی کام کیا جائے گا وہ غیر پائیدار، وقتی اور سطحی ہو گا جس کے دیر پا نتائج نہیں نکلیں گے۔ #۔

Facebook Comments HS