صفدر زیدی کا ناول: "بنت داہر” اور بن قاسم

ناول کا انتساب مفتوح اقوام کے نام ہے۔ خود کلامی میں اپنے خلاف تھیسس کھڑا کیا گیا ہے اور اختتامی انتساب کی روایت قائم کرتے ہوئے راج کماری کو اس کا حق دار ٹھہرایا گیا، اور پھر البرٹ کامیو کے قول کو جھوٹ اور سچ کی صلیب پر رکھے فکشن نگار نے اپنے ہنر کی تابانیاں دکھائی ہیں۔ ہر سامراج کے اپنے ظلمات ہوتے ہیں۔ لیکن ہر اچھے ناول نگار کے اپنے بحر ظلمات بھی ہوتے ہیں۔ بنت داہر دو

Read more

انسانیت اور تاریخ سے معافی مانگ لیں

ریاستوں تنظیموں، تحریکوں اور حکمرانوں کو اپنی تسلط پسندی اور خبط عظمت کی معافی مانگ لینی چاہیے، پورے خلوص اور احساس کے ساتھ، غیر مشروط معافی اگر مگر کے بغیر۔ اس میں کچھ وقت کی ملامت اور انا پہ انچ آنے کا خطرہ ہے۔ لیکن یہ سیکھنے کا وہ عمل ہے جو زندگی کے سفر کو نیا پیکر دیتا ہے۔ قوموں کو اٹھان ملتی ہے اور تحریکیں نئے عزم سے رواں ہوتی ہیں۔ معافی کا رویہ کم از کم اپنی

Read more

اوشو: انسانی نفسیات کا بہت بڑا دماغ

اوشو، (چندر موہن جین) 1931 کو مدھیہ پردیش ضلع ہوشنگ آباد کچ ودا میں کپڑے کے ایک تاجر کے ہاں پیدا ہوا وہ گیارہ بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ شریر بچے کی پرورش نانا نانی کے ہاں ہوئی، اس کا بچپن شرارتوں اور بڑے جیبوں والے کوٹ میں بھرے پتھروں کے ساتھ گزرا۔ نانا کی وفات نے اس کی زندگی پر بہت اثر ڈالا۔ بچپن کی اس گہری وابستگی سے محرومی کا دکھ اوشو کی پوری زندگی پراثر انداز

Read more

تبدیل کرو، چھوڑ دو یا مرو،

اس خونی نعرے کی گونج ہمیں سوشل میڈیا کی وساطت سے آج دنیا کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے ملک، کثیر ثقافتی اور قدیم تہذیبی شناختوں کی وارث دھرتی پر سنائی دیتی ہے۔ ہندوستانی سماج پر بنیاد پرستی کے منحوس سائے لہرا رہے ہیں۔ اگرچہ اس کے خلاف اسی سماج سے توانا آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا اور کہیں نہ کہیں مذہبی اور سیاسی اشرافیہ کی سرپرستی اور توثیق بھی اس صورتحال کو بگاڑ رہی

Read more

نئے ججوں کی تعیناتی: ایپکس فورم پہ تھیٹر

تم نے سچ بولنے کی جرات کی یہ بھی توہین ہے عدالت کی سلیم کوثر بڑے عہدوں پہ چھوٹے لوگ تاریخ نے دیکھے اور بے رحمی سے ان کے کردار کو محفوظ کر لیا۔ ہم سیاست دانوں اور آمروں کے انداز اور کردار پہ روتے رہے۔ اب عدلیہ فورم کے طرزعمل پہ بھی رونا آتا ہے۔ پانچ ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا انعقاد تین گھنٹے کی گفتگو کے بعد جس طریقے سے انجام کو پہنچا وہ کسی

Read more

نیا نسائی سوشل کنٹریکٹ

مارکیز نے اپنے ایک خطبہ میں کہا؛ ہزاروں سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ مرد دنیا کو فطرت سے قریب رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ کیونکہ وہ فطرت شناس نہیں ہے۔ یہ کام عورت ہی کر سکتی جو ہمیشہ فطرت سے قریب، فطری تقاضوں کے لیے آمادہ اور تخریب سے گریزاں رہتی ہے۔ مارکیز کا تھیسز مردانہ سماج کی پے بہ پے ناکامیوں کی دلیل پہ استوار ہے۔ اسے مزید محاورے کی شاید ضرورت نہ پڑے۔ مرد اپنی فطرت میں

Read more

حسین، حریتِ فکرِ سماجی شعور اور انسانی مساوات کا وارث

کسی جابر اور آمر کے سامنے مظلوم کا حرف انکار انسانی شعور کی بلندی اور مساوات انسانی کی پہلی منزل ہے۔ تاریخ میں ایسی کسی بھی صدا کی ایک اہمیت ہے، ہر حرف انکار انسانوں کو غلامی اور اطاعت پہ مجبور کرنے والوں کو ناگوار گزرا۔ ان کی کمتر آنا پہ چوٹ پڑی تو وہ اپنے تکبر کے خول سے چنگھاڑتے ہوئے نکلے اور کہیں دار اور کہیں کربلا سجا دی۔ لیکن ہر کہیں ان کی زخمی انا ذلت و

Read more

تہذیبیں، آغاز، تصادم، انجام

تہذیبیں بھی طبعی عمر کو پہنچتی ہیں۔ سکرات سے دو چار ہوتی، عبرت و حسرت کا نشان یا نئی ابھرتی تہذیبوں کے لیے آئیڈیل کا نصیب پاتی ہیں۔ سدومی، عاد و ثمود، پومپے ثقافتیں اپنے خوفناک انجام اور غیر انسانی مبتذل رویوں میں ثقافتی پیش رفت کرتے ہوئے عبرتوں کا سامان تاریخ کے حوالے کر کے پیوند زمین ہو گئیں۔ البتہ یونان و روم کی تہذیبیں اپنی علمی روش سائنسی مزاج اور نسبتاً بہتر اخلاقیات کی بنا ہر بہت سا علمی

Read more