ریاست اور ریاستی ادارے ہوش کے ناخن لیں


سوات کے عوام کا کسی بھی بڑے دھماکے کے فوراً بعد یہ کہنا کہ ایسے کاموں میں ریاست برابر کی شریک ہے خود ریاست کے لئے ایک بڑی تشویش کی بات ہونی چاہیے۔ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور ریاستی اداروں پر مسلسل تنقید اور تشکیک کا ”آفٹرمیتھ“ کتنا بھیانک ہو سکتا ہے، تاریخ نے ہمیشہ اس بات کی وضاحت دی ہے۔ مشرقی پاکستان کے ٹوٹنے کے وقت بھی اسی گمان سے فضاء ابر آلود تھی۔ بلوچستان کے شر پسند عناصر اسی محرومی کا بہانہ بنا کر ملک و قوم کا امن برباد کرنے پر لگے ہیں۔ اسی محرومی کا کہہ کر وہ نوجوانوں کو اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔ بلوچستان کی مائیں جب اپنے بچوں کے چہرے دیکھنے کے لیے ترس کر چپ کی چادر اوڑھ لیتی ہے تو نئی نسل کی خون میں اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے اور ان حقوق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا جذبہ خود جنم لے لیتا ہے۔

ریاست کو چاہیے کہ اب وہ سوات میں اپنے کارندے لگائے جو جگہ جگہ نظر رکھیں کہ کہیں سیلنڈر نہ پھٹے ورنہ سوات اور خیبرپختونخوا کی پبلک سچائی جانے بغیر ریاستی اداروں کے گریبان پر ہاتھ ڈال دے گی۔ ادارے خود افراد سے بنتے ہیں اور انہیں افراد کے بیچ ادارے کے ساکھ کا اعتماد ہوتا ہے لیکن ایسے صورت حال میں اداروں کے ”پرسونیل“ کتنے عدم استحکام اور اعتماد کا شکار ہوتے ہیں یہ خود ان اداروں کو دیکھنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ خود ادارے ہی اپنی تباہی کی چنگاری کو ہوا دے رہے ہوں۔

سارا پاکستان اور خاص کر دہشتگردی سے متاثرہ علاقے ریاست کے خلاف اپنے حقوق اور امن کے لیے متحد ہو رہے  ہیں اس دوران کوئی بھی شخص ان لوگوں کی آڑ لے کر ملک کی امن اور سلامتی کو مزید داؤ پر لگا سکتا ہے۔ تاہم پبلک امن اور سلامتی کی خواہاں ہے، ریاست اپنے شہریوں کی طرح سلوک کرے تو یہ ریاست کی سلامتی پر اندرونی عناصر سے بھی آنچ آنے نہیں دیں گے۔

اس بات کا اندازہ سوات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ سوات کی پبلک حالیہ دھماکے کے فوراً بعد نکل کر سڑکوں پر امن کی صدائیں لگا رہی تھی۔ قومیں مضبوط تب ہوتی ہے جب اس میں ادارے مضبوط ہوں اور اداریت کے اصولوں پر کاربند ہوں۔ سوات، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا واحد مطالبہ ہی آئینی حقوق ہیں جس میں زندہ رہنے، محفوظ اور آزاد رہنے کا حق سر فہرست ہیں۔ اس لئے ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر حال میں انہیں ان کے متعلقہ حقوق یقینی بنانے چاہیے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ ان علاقوں میں ہر واقعے کی اصل حقائق عوام کے سامنے رکھے اور جہاں کہیں ان کی غفلت اور کوتاہی نتیجہ کئی زندگیوں کے لینے کا سبب بنی ہے اس کو قبول کر کے آگے قوم کا اعتماد حاصل کرے۔ سیاسی اور اپنے حقوق کا یہ شعور کسی بھی قوم کے پاس ایک خطرناک ہتھیار ہوتی ہے جو کسی بھی وقت ریاستی مشینری کو ہائی جیک کر کے بدامنی اور انتشار کا سامان بن سکتی ہے۔ اس لئے عام آدمی کے ذہن میں جو ریاست پر عدم اعتماد کا رنگ چڑھ رہا ہے اسے مزید مضبوط کرنے کے بجائے ختم کرنا چاہیے۔ عوام معاشی مشکلات میں مزید کسی مصیبت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

Facebook Comments HS