آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا
بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ یعنی ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا میں نے بچپن میں اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ لیکن آج یہ محاورہ پھر سے میرے ذہن میں آیا تو میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ تو مجھے اس کا اطلاق ریلوے کے ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں پر ہوتا نظر آیا۔ کیونکہ ریلوے کے یہ ریٹائرڈ ملازمین آج کل کچھ اسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
پاکستان ریلوے ملازمین دوران سروس جن مشکلات، دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں شاید ہی کسی اور سرکاری ادارے کے ملازمین کو ایسی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔ یہ اپنے پیاروں سے سینکڑوں میل دور جنگلوں، تپتے صحراؤں، ٹھٹھرتے ہوئے میدانوں اور سنگلاخ چٹانوں کے درمیان اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں۔ یہاں دوران سروس انہیں جن دکھوں، تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
انتہائی قابل افسوس امر بات ہے کہ جن محنت کشوں نے بڑی جاں فشانی کے ساتھ اپنی زندگی کے تیس سے ( 30 ) سے چالیس ( 40 ) سال اپنے ادارے اور ملک و قوم کی خدمت میں قربان کیے اور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔ آج ان محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ادارے اور ریاست کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی انسانی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اور دوران سروس وفات پا جانے والے ملازمین کے خاندانوں کو ریاست کی جانب سے ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ ضعیف العمر ریٹائرڈ ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے معاشی اور معاشرتی طور پر انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
معاشی بدحالی کے سبب ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہو کر یہ محنت کش مختلف قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہو کر معذوری کا شکار ہو کر ویل چیئر اور چارپائیوں پر آچکے ہیں اکثریت بیماریوں کی تاب نہ لاکر اپنی آنکھوں میں اپنے جواں سال بچوں کے ماتھے پر سہرے سجانے، بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانے اور اپنے بچوں کے سروں پر اپنی چھت ہونے کے خواب سجائے ہوئے بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس دار فانی سے کوچ فرما چکے ہیں۔ باقی ماندہ اپنے حقوق کے حصول کی مد میں ارباب اختیار کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ مگر ان کی داد و فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔
باقی تمام واجبات کی ادائیگیاں تو اپنی جگہ بے حسی، لا قانونیت اور مردہ ضمیری کی یہ حد ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضح ہدایات کے باوجود ان کو ان کی ماہانہ پینشن کی ادائیگی بھی بروقت نہیں کی جا رہی ہے۔
عمر کے اس حصے میں ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگی گزارنے کا تمام تر دارو مدار اس پینشن کی مد میں ملنے والی رقم پر ہے۔ اس کے علاوہ ان کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اس معاشرے میں جن گمبھیر صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ ادارے، ریاست اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان ریلوے کے پینشنرز کی ادائیگی کو اتنا طویل اور بوجھل بنا دیا گیا ہے کہ پینشن کی ادائیگی پچھلے ایک سال سے مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔
وزارت ریلوے کی مالیاتی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ کے لئے ہر ماہ کی 22 تاریخ کو وزارت خزانہ کو درخواست بھیجی جاتی ہے۔ التجا کی جاتی ہے۔ کہ پینشنرز کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیے فنڈ جلد مہیا کیے جائیں تاکہ ان کی پینشن کی بروقت ادائیگی کردی جائے۔ وزارت خزانہ آفس اس درخواست پر عمل درآمد کر کے اس درخواست کو ایک ہفتہ میں نمٹا دے تو اس کو پینشنرز کے لیے خوش بختی کی علامت سمجھا جائے وگرنہ دوسرا ہفتہ بھی اسی کارروائی میں گزر جاتا ہے۔
اس کے بعد اے جی پی آر کی اپنی بھول بھلیوں والا کھیل شروع ہوجاتا ہے اس کھیل کو کھیلنے کے لیے انہیں بھی دو سے تین روز درکار ہوتے ہیں۔ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جا کر اس پینشن کی مد میں درکار فنڈ کو اسٹیٹ بینک کی رونق بننا نصیب ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی راہداریوں سے ہوتا ہوا یہ فنڈ اب پاکستان میں موجود مختلف کمرشل بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پر یہ مثال صادر آتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔
پاکستان کے کمرشل بینکوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہوئی ہیں۔ کیونکہ ان کو پینشنرز کی ترجیحات کے مقابلے میں اپنی ترجیحات انتہائی عزیز ہیں۔ بظاہر تو یہ رقم پینشنرز کی امانت ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے یکسر مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے یہ پینشنرز کی پینشن اپنی سہولت کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں۔ شنید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی قانون اور قاعدے بنائے گئے ہیں جن کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ پینشنرز کو اولین ترجیح دے کر ان کی پینشن کی رقم ان کے اکاؤنٹ میں بروقت منتقل کرنے کے پابند ہوں گے ۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ احکامات لگتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں یہ احکامات صرف کاغذ کے ٹکڑے کی زینت بننے تک محدود ہیں۔ ضعیف، لاغر، بیمار اور معاشی حالات کے ستائے ہوئے یہ پینشنرز جب اپنی پینشن کی حصولی کے لیے بینکوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں بینک انتظامیہ کی جانب سے جس بے توقیری اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کی کسی بھی انسانی معاشرے میں مثال نہیں ملتی ہے۔
کمر شل بینکوں کے برتاؤ اور سخت گیر رویوں سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا وجود ان کمرشل بینکوں پر ایک وزن کم نہیں ہے۔ جبکہ کریڈٹ کارڈ سروس، ایس ایم ایس اور باقی دوسری سہولیات کی مد میں ان کمرشل بینکوں کو پینشنرز سے لاکھوں روپے وصول ہوتے ہیں اس کے باوجود اسٹیٹ بینک سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ ان بینکوں کو منتقل ہو جانے کے بعد کمرشل بینک اس رقم کو دو تین روز تک اپنے پاس رکھنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں۔
یہ پینشنرز کے ساتھ جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام چلاتے ہیں۔ پینشنرز کی پینشن کے فنڈ ان کے پاس موجود ہونے کے باوجود یہ مختلف حیلے اور بہانے تراش کر ان کی پینشن کی رقم کبھی بھی بروقت ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان مجبور و لاچار پینشنرز کو بیماری کی حالت میں بار بار بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں ذہنی تناؤ کے ساتھ ساتھ جسمانی تکالیف اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی خواہشات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس ملک و قوم کی خدمت اور ادارے کے وقار کی بحالی کو فوقیت دی۔ وہ لوگ آج بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی داد رسی کرنے والا آج کوئی نہیں ہے ان کی بیوائیں اور یتیم بچے جس طرح کسمپرسی اور بد حالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں آج ان کے لیے سوموٹو لینے والا کوئی نہیں ہے ان بہتری اور فلاح کے لیے کوئی قانون سازی کرنے والا نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ جو تھوڑی بہت قانونی مراعات ان کو تفویض کی گئی ہیں ان پر بھی عمل درآمد کرنے کی کسی میں سکت نہیں ہے۔
آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ اور ماں بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔ میری اس ریاست کے مطلق اختیار رکھنے والوں سے بدستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا یہ ضعیف العمر پینشنرز اس ملک اور قوم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس ملک اور قوم کے لیے اپنی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ خدارا ان کی قدر کیجئے یہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر دو سال سے ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو ان کے حقوق لوٹائے جائیں۔
وہ بیوائیں اور یتیم بچے جن کو ان کے ڈیوز کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آج بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کو ان کے رکے ہوئے ڈیوز کی فوری طور پر ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔ آخر میں میری گورنر اسٹیٹ بینک سے التجا ہے کہ آپ کی طرف سے پینشنرز کی سہولیات کی مد میں کمرشل بینکوں کے لئے جو قانون/ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان پر کمرشل بینکوں کو سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے۔ تاکہ یہ ضعیف العمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم بچے بھی اس معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔


