میاں بیوی والا عشق
شادی ایک سنجیدہ موضوع ہے۔ شادی کے حوالے سے صدیوں سے بحث رہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے انتخاب کے لیے کن معیارات اور تقاضوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے باہم رشتہ استوار کریں۔ تقابل ادیان میں بھی اس رشتے کی اہمیت، قطعیت اور خوبصورتی کے بارے میں صراحت سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔
دین اسلام اس حوالے سے سبقت لیے ہوئے ہے۔ پاکستانی سماج میں البتہ کچھ خرابیاں مرور وقت کے ساتھ در آئی ہیں جن سے جان چھڑانا مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں لاکھوں جوڑے شادی کے بندھن میں ہر سال بندھتے ہیں۔ اس رشتے میں بندھتے ہوئے ان کی باقاعدہ کوئی تربیت اور راہنمائی نہیں کی جاتی بلکہ اوٹ پٹانگ مشورے دیے جاتے ہیں جس کا نقصان طلاق، علاحدگی اور گھر کی تباہی کی صورت نکلتا ہے۔
سید باسط علی شاہ جی اور میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن علاقے میں واقعی ایک معروف نجی سکول میں اس موضوع پر برس ہا برس گفتگو کرتے رہے اور اس رشتے کے حوالے سے گردشی تمام تصورات، خدشات اور اندیشوں کا تحلیل نفسی کے ذریعے جائزہ لیتے رہے۔ تب وہ شادی شدہ اور میں کنوارا تھا۔
اب میں بھی اس میدان میں کود پڑا ہوں تو دال چنے کا بھاؤ معلوم ہوا کہ تھیری اور پریکٹیکل میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ شاہ جی کی تیس برس اور میری پانچ برس کی شادی شدہ یعنی ازدواجی زندگی میں جو کچھ ہم دونوں نے دیکھا، سنا، سہا اور بھگتا؛اس کا ماحصل یعنی خلاصہ نکات کی صورت پیش کیا جاتا ہے۔
امید کی جاتی ہے کہ آپ بھی ہماری طرح ان نکات کی زد میں کبھی رہے ہوں گے یا بہت جلد اس ناقابل تسخیر گھاٹی کو عبور کریں گے۔
٭۔ اگر آپ کی بیوی، بچوں میں دلچسپی نہیں لے رہی، ان کا فیڈر بنانے میں سستی برت رہی ہے، انھیں نہلانے دھلانے اور واش روم کرانے میں کوتاہی کر رہی ہے تو سمجھ لیں وہ آپ سے اور اپنی شادی سے مایوس ہو چکی ہے۔
٭۔ اگر آپ کی بیوی اکثر خاموش رہتی ہے ؛یونہی کبھی ادھر لیٹ جاتی ہے کبھی ادھر، چیزوں کی دیکھ بھال میں دلچسپی نہیں لیتی؛دودھ ابل جائے، کھانا جل جائے ؛اسے کوئی پروا نہیں، تو سمجھ لیں وہ آپ سے اور اپنی شادی سے مایوس ہو چکی ہے۔
٭۔ اگر آپ کی بیوی خاموشی سے بیٹھی آنکھیں گھماتی رہتی ہے، آپ کو اور بچوں کو دیکھتی رہتی ہے اور منہ سے کچھ نہیں کہتی؛یونہی کسی گہری سوچ میں گم ہو جاتی ہے اور پھر واپس آجاتی ہے اور ایک لمبی آہ بھرتی ہے تو سمجھ لیں وہ آپ سے اور اپنی شادی سے مایوس ہو چکی ہے۔
٭۔ شادی نہ تو سماجی مسائل کا شکار ہوتی ہے، نہ معاشی، مذہبی اور سیاسی۔ شادی جہاں بھی خراب ہو گی، نفسیاتی مسائل میں الجھ کر خراب ہوگی اور نفسیاتی مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں ؛جب ہماری تعلیم ہمارے مسائل حل کرنے میں مدد نہ کر رہی ہو، اور ہم منفی طرز فکر اپناتے جا رہے ہوں۔
٭۔ ہماری شادی نے ویسا ہی ہونا ہے ؛جیسی ہماری زندگیاں ہیں۔ آپ ایک جھوٹی اور منافقانہ زندگی گزارتے ہوئے، پسی ہوئی اور مظلوم ذہنیت کے ساتھ زندہ رہتے ہوئے، سچی اور صحتمند شادی کی توقع نہیں رکھ سکتے۔
٭۔ اگر آپ سمجھتے ہیں، بڑھاپے میں آپ کو تنہائی محسوس نہ ہو، آپ کا کوئی ساتھ ہو، کوئی پارٹنر ہو، تو پہلی شادی ہی بڑھاپے تک چلانی پڑے گی۔ بڑھاپے میں کی ہوئی دوسری شادی، آپ کی تنہائی کو مزید بڑھا دے گی۔
٭۔ زیادہ تر میاں بیوی ایک دوسرے کی نظروں سے گر چکے ہوتے ہیں ؛انھوں نے ایک دوسرے کی نظروں میں بلند ہونے والا کوئی کام کیا ہی نہیں ہوتا۔ انھیں شادی کی خوشیاں کیسے نصیب ہوں۔
٭۔ گالی گلوچ ہمارے کلچر اور مزاج کا حصہ رہی ہے ؛یہاں تک کہ مذہب ممالک میں بھی یہ اس وقت اپنے عروج پر ہے۔ میاں بیوی کے رشتے میں بدزبانی اور گندی زبان استعمال کرنے کی نفسیات کو دوبارہ سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
٭۔ دو چیزیں انسان اسی دنیا میں دیکھتا ہے ؛جو سلوک وہ اپنے باپ سے کرتا ہے، اس کی اولاد اس کے ساتھ ضرور کرتی ہے اور جو سلوک وہ کسی کی بیٹی کے ساتھ کرتا ہے ؛اسی کی بیٹی کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔
٭۔ میاں بیوی میں کئی روئیے ایک جیسے ہوتے ہیں : اگر آپ بیوی کی باتوں کو غور سے نہیں سنتے تو وہ بھی آپ کی باتوں کو توجہ سے نہیں سن سکتی؛اگر آپ بیوی کو اپنی زندگی میں اہمیت نہیں دیتے تو وہ بھی آپ کو اہمیت نہیں دیتی۔ اگر آپ اس پر اعتبار نہیں کرتے تو وہ بھی آپ پر اعتبار نہیں کرتی۔
٭۔ پہلے بندے کی شادی نہ ہوتی تو وہ بے چین رہتا، بے قرار پھرتا، لڑنے مرنے پر اترا رہتا۔ ماں باپ اس کی شادی کر دیتے تو وہ ٹھیک ہو جاتا؛لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہے ؛جو حال شادی سے پہلے ہوتا تھا، شادی کے بعد بھی اب ویسا ہی رہتا ہے۔
٭۔ اگر بیوی کے کچھ راز معلوم ہو جائیں تو اسے شرمندہ کر نے کے یا نیچا دکھانے کے لیے وہ راز افشا مت کریں ؛اس کی پردہ پوشی کریں اور ان رازوں کو اپنے تک محدود رکھیں۔
٭۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں لاکھوں نکھٹو لڑکے اور نکمی لڑکیاں چھپ چھپا کر عزت کی زندگی گزار لیتے ہیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کیا ہے؟ ماں باپ (ساس سسر) کے مرنے اور نندوں دیوروں کے بیاہوں تک؛ان کے گھر میں ان کے اصولوں کے مطابق رہنا؛جوائنٹ فیملی سسٹم ہے۔ اس میں کچھ برا نہیں ہے۔
٭۔ بیوی کو دس بار غصہ آئے تو دس بار ہی مصنوعی ہوتا ہے، فکر کی ضرورت نہیں۔
٭۔ ویسے اگر لڑکی والوں کا دس لاکھ خرچ ہوتا ہے تو چھے سات لاکھ لڑکے والوں کا بھی خرچ ہو جاتا ہے اور شراکت داروں کا الگ سے ؛مطلب یہ کہ شادی خالہ جی کا گھر نہیں۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اسے سنجیدگی سے ہی ہینڈل کرنا چاہیے۔
٭۔ آج کل کے شوہروں کے نزدیک بیوی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ان کے موبائل چیک نہ کرتی ہو۔ آج کل میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے سے تھوڑی بہت پرائیویسی کی ضرورت ہوتی ہے۔
٭۔ ہم اپنا مستقبل بنانے میں دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ بزنس سیٹ کرنے میں برس ہا برس لگا دیتے ہیں لیکن شادی کو خوشگوار بنانے میں ضد اور لڑائی کے علاوہ کسی چیز کو کنٹری بیوٹ نہیں کرتے۔
٭۔ انسان شادی سے پہلے سمجھتا ہے ؛شاید آئیڈیل ہی سب کچھ ہے۔ شاید زندگی کی خوشیوں کے لیے پسند کی شادی ہی سب کچھ ہے۔ اسے تو شادی کے بعد پتہ چلتا ہے کہ زندگی کی خوشیوں کے لیے اچھے سیاسی اور معاشی حالات سب سے ضروری ہیں۔
٭۔ محبت، تبادلہ، سمجھ بوجھ، ذہنی ہم آہنگی، طبیعتوں کی مطابقت؛یہ سب فضولیات ہیں، سراب ہیں، ہوکا ہے۔ اچھی اور خوبصورت شادی کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

