لان کے نرم کپڑے ہم سے خفا ہو گئے

اماں کی ساری شاپنگ ابا کرتے تھے۔ اور اولاد کی بھی۔ وہ خود کبھی بازار نہیں جاتی تھیں۔ عام اور خاص سب کپڑے ابا ہی خرید کر لاتے۔ اور لانے بھی کتنے ہوتے تھے۔ دو سرما کے اور دو گرما کے۔ یعنی کل ملا کے چار سوٹ ہر سال نئے خریدنے ہوتے۔ کوئی شادی، تہوار اور تقریب ہو تو بحیثیت گنجائش اور ضرورت اس کے علاوہ بھی جوڑا بن جاتا تھا۔ ابا عیال دار تھے۔ چار بچیوں کے باپ۔ اور خود انھیں ملا کے سب کے بائیس جوڑے تو بنتے ہی تھے۔ جب بھی رت بدلتی، ابا بازار جاتے۔ سالوں سے مخصوص دکان کے دروازے پر داخل ہی ہوتے کہ دکاندار کسی سیلز مین کو آواز لگاتا۔
گل احمد کے تھان لے آؤ۔ چوہدری صاحب آئے ہیں۔ مختلف پرنٹ کا ڈھیر ابا کے آگے لگ جاتا۔ اور ابا اپنی پسند، سمجھ بوجھ اور پہننے والوں کی عمروں کے مطابق کپڑا منتخب کرتے جاتے۔ اور یوں سب گھر کے مردانہ، زنانہ سبھی کپڑے ایک ہی جگہ سے خریدتے اور گھر کی راہ لیتے۔
عمدہ لان، کاٹن کا جوڑا بھی سو سوا سو روپے میٹر کٹتا تھا اور براہ راست تھان سے۔ جتنا اور جیسا چاہیے ہوتا، اتنا کٹوا لو۔ اماں گل احمد کے علاوہ کسی اور کا کپڑا نہ پہنتی۔ تو ابا اماں کے ساتھ ساتھ اپنے اور بچوں کے بھی گل احمد کے سوٹ ہی لاتے۔ چھ سات سو میں بہترین، موسم کے تھری پیس خرید لیے جاتے اور بچوں کے تو اس سے بھی کم کے پڑتے کہ کپڑا جو کم استعمال ہوتا۔ عید، شب برات پر نیا جوڑا بنانا اتنا بھی گراں نہ گزرتا۔ ابا جیسے گیارہویں اسکیل کا ملازم بھی خرید سکتا تھا بھلے تعداد میں کم ہوتا لیکن کوالٹی میں نہیں۔
لیکن یہ سب کچھ آج سے تیس، پینتیس سال پہلے کا قصہ ہے۔ جب پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں سر فہرست تھا۔ سرما کے دھندلے اور ٹھٹھرتے دن جنوبی پنجاب کی دیہاتی عورتوں کو کپاس چنتے کہر آلود شاموں کی طرف بڑھتے۔ نزدیکی شہروں کی منڈیاں جگہ جگہ کپاس کے ڈھیروں سے سجی رہتیں۔ کپاس کا بکنا اور خریداری عروج پر ہوتی۔ کارخانوں میں اگلی فصل کے آنے تک چھ چھ ماہ کا اسٹاک جمع ہو جاتا۔ ہاتھ کی کھڈیاں گاؤں کے ہر گھر میں ہوتیں۔ کمالیہ کا کھدر، فیصل آباد کا کپڑا اور ٹیکسٹائل ملز کا ڈنکا بجتا۔ اور اس سب سے اوپر ہاتھ کا بنا، نرم، ملائم اور سستا کپڑا ہر امیر، غریب کو دستیاب ہوتا۔
چالیس سال بعد ابا کی بیٹیوں میں سے ایک عید پر بازار تحائف اور بچوں کے لئے کپڑے خریدنے گئی تو جو اس کے ساتھ بیتا، وہ بھی پڑھئے :
خالص لان کا تھری پیس، لان دوپٹے کے ساتھ، بغیر کڑھائی کے چار ہزار سے نیچے نہیں۔
اگر پیسے نیچے جائیں گے تو یا تو لان کا دوپٹہ، شیفون دوپٹے سے غائب ہو جائے گا یا تھری پیس، ٹو پیس بن جائے گا یا کپڑا خالص لان نہیں رہے گا۔
برانڈز کی بھرمار میں ڈپو دکانیں غائب ہو رہی ہیں۔ یا پھر دام وہاں بھی ویسے اگر کچھ بہتر خریدنا ہے تو۔
کپڑے کے تھان سے موٹے، لمبے، پتلے، چھوٹے، بڑے افراد کے لئے ضرورت اور سہولت کے لحاظ سے کپڑا کٹوانے کی عیاشی بھی ندارد۔ کٹے کٹائے، پیکڈ جوڑے خریدیں۔ بھلے بنے نہ بنے۔ ضرورت ہو یا نہ ہو۔
اور گل احمد کا کپڑا تو اب عام آدمی کے بس سے ہی باہر ہے۔ ان سلا کپڑا ہی ہزاروں میں۔ اس میں سلائی ڈالیں۔ تو سونے پہ سہاگہ۔ باقی سبھی چھوٹے، بڑے ناموں کے یہی حالات ہیں۔
اب کاٹن کا ’پیور‘ کپڑا ’لگژری‘ میں شمار ہونے لگا ہے۔ اور کس کپڑے میں کتنے فی صد اصل کپاس کا استعمال ہے، یہ بھی اب ’ٹیگز‘ پر لکھا ہوتا ہے۔
مکس کپڑے کی بھرمار ہو رہی ہے۔
اب وہ زمانے لد گئے جب گرمیوں میں لان کے علاوہ کسی اور کپڑے کو تن سے لگانے کا تصور بھی نہیں تھا کہ سخت گرمی سے بچاؤ کا یہ ایک اچھا طریقہ تھا۔ گرمی میں پسینے سے کپڑا جسم کو چپکے بھی تو بدن کو کاٹے نہیں۔ ہوادار اور ملائم اور قابل برداشت رہے۔
اب جون، جولائی کے لو چلتے دنوں میں بھی لوگ جینز، مکس، واشنگ وئیر جیسا کپڑا پہنتے ہیں کہ لان دن بدن مہنگی اور قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں جو ایک دو جوڑے خریدے جاتے ہیں۔ وہ کبھی کبھار استعمال کے لئے رکھے جاتے ہیں۔ ورنہ روز کی دھلائی ان کی سستی کوالٹی کا بھرم بھی نہیں رہنے دیتی۔
ابا کے وقتوں کا مزدور بھی لان پہنتا تھا اور ابا کی لاڈلی افسر ہو کے بھی پانچ افراد کے لان کے جوڑے اکٹھے نہیں خرید پاتی کیونکہ کپاس کی ملکی پیداوار اب اس کی آدھی بھی نہیں رہی جو آج سے تیس سال پہلے تھی۔ موسمیاتی تغیر کے خلاف عقلمندانہ اور بروقت اقدامات کرنے کی بجائے چپ چاپ زمیندار مکئی کے ڈھیر پیدا کرنے پر لگ گیا۔ جس کی مارکیٹ میں ضرورت اور زر مبادلہ کمانے میں حصہ کپاس کے عشر عشیر بھی نہیں۔ اور حکومت باقی کم ہوتی اجناس کے ساتھ کپڑا بھی درآمد کرنے پر لگ گئی ہے۔ تو جب سب کچھ آپ نے دوسروں سے خرید کر پورا کرنا ہے بجائے پیدا کرنے کے تو پھر شوق سے پچاس سے اوپر درجہ حرارت پر جینز پہن کر ماڈرن نظر آنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر، پھرتے رہیں۔

