مونکی پاکس وائرس کیا ہے اس کا سد باب کیسے ممکن ہو گا؟
مونکی پاکس کے پھیلنے والے مرض کے بارے میں حال ہی میں انکشاف ہوا ہے، کہ اسلام آباد ائر پورٹ پر بیرون ملک سے آئے ایک پچیس سالہ نوجوان میں اس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ صحت کے ایک اہلکار کے مطابق اس متاثرہ شخص کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا، تا کہ ممکنہ طور پر اس وائرل بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت کی طرف سے کہا گیا، کہ مونکی پاکس ایک خطرناک وبائی مرض ہے۔ یہ ایک ڈبل سٹینڈرڈ ڈی این اے وائرس ہے، جو انسانوں اور پستان دار جانداروں میں تیزی سے پھیلتا ہے۔
اس کی علامات چیچک کی بیماری سے ملتی ہیں۔ مونکی پاکس کا وائرس پچھلے سال 2022 مئی کے مہینے میں وسطی اور مغربی افریقہ میں منظر عام پر آیا۔ یہ بیماری حیوانوں سے انسانوں میں اور انسانوں سے انسانوں میں تیزی سے منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس متاثرہ جسم سے دوسرے متاثرہ جسم میں خون لعاب یا نمی کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس مرض کو عالمی ادارہ صحت، چیچک سے کم خطرناک مانتا ہے۔ یاد رہے چیچک کا 1980 میں خاتمہ کیا گیا تھا۔ کیونکہ 1980 کے بعد چیچک کا مرض انسانوں میں نہیں پایا گیا ہے۔ مونکی پاکس کے دو ویرئینٹ کلاڈ ون اور کلاڈ ٹو کے نام سے رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔
بخار اور جسم پر دھبے ابھرنا اس کی اہم علامات ہیں۔ یہ بیماری انسانی جسم میں ظاہر ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ چار ہفتوں تک رہتی ہے۔ اس کے بعد اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ مرض نایاب ہے، اور ماضی قریب میں یہ افریقہ کے کچھ علاقوں تک محدود رہا ہے۔ لیکن تا حال اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو پایا ہے۔ تاہم خوش قسمتی سے اس مرض کا وائرس مخصوص مدت تک انسانی جسم میں رہنے کے بعد خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔
اس بیماری کے لپیٹ میں آنے کے کچھ دنوں کے بعد اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ کچھ دن میں ہی جسم پر سرخ دھبے نمودار ہو جاتے ہیں، جو جلد ہی درد دینے والے لیس دار آبلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ تاہم تمام افراد میں اس کی علامات یکساں نہیں ہوتیں۔
یہ بیماری ایک شخص میں اس وقت داخل ہو کر اسے اس وائرس کا حامل مریض بناتی ہے۔ جب وہ شخص کسی متاثرہ جانور یا دوسرے شخص کے کونٹیکٹ میں آتا ہے۔ جب دونوں اجسام کے زخمی مقامات کے لمس سے انتقال خون کا عمل مکمل ہوتا ہے، یا لعاب دہن کے ذریعے یہ وائرس ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہو جاتا ہے۔ سانسوں کی نمی سے بھی یہ وائرس ایک جسم سے دوسرے جسم میں پہنچ جاتا ہے۔ اس طرح جنسی عمل بھی وائرس کی منتقلی کا سبب بنتا ہے۔
اس تکلیف دہ مرض کی تشخیص کے لئے متاثرہ مریض کے جسم کے ٹشوز اور خون کے نمونے لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں۔ نتیجہ مثبت آنے پر مریض کو اکیس دن کے لئے قرنطینہ میں بھیجا جاتا ہے۔ تاکہ دوسرے لوگوں میں یہ بیماری نہ پھیلے۔ اسی دوران معالج متاثرہ مریض کی صحت پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ وہ مریض کے جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا۔ اسی دوران وہ مریض کو اینٹی بائیوٹکس دیتا رہتا ہے۔ تاکہ اس بیماری کے اثر سے اس کے جسم میں پیدا ہونے والے زہریلے مادوں اور بیکٹیریاز کو ختم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ اس وائرس پر براہ راست اثر کرنے اور اسے ختم کرنے والی کوئی دوائی تا حال نہیں بنائی گئی ہے۔ البتہ دوسرے وائرسز کے لئے بنائی گئی ادویات شاید موثر ہوں۔ لیکن اس بارے میں کوئی یقینیت نہیں پائی جاتی۔ کیونکہ اس وائرس پر تا حال محققین محو تحقیق ہیں۔ اگرچہ کچھ ادویات آزمائے جانے کے لئے موجود ہیں۔ تاہم ان کی نوعیت طویل المیعاد تحقیقی مقاصد کے لئے ہے۔
چیچک کی ویکسین کو اس بیماری کے لئے موثر خیال کیا جاتا ہے۔ مگر حتمی طور پر اس کی افادیت ابھی ابتدائی تحقیقاتی مراحل میں ہے۔ فی الحال بچاؤ، احتیاط اور اس بیماری سے دوری بنائے رکھنے میں ہی ہے۔ اس سلسلے میں ضروری ہو جاتا ہے، کہ متاثرہ شخص سے دور رہا جائے، اور ان چیزوں کا استعمال بالکل نہ کیا جائے، جنہیں مریض نے استعمال کیا ہو، مثال کے طور پر بستر، کپڑے، چادر اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیاء۔
احتیاط اور بچاؤ کی تدابیر کی مد میں ضروری ہو جاتا ہے، کہ کھانے کے لئے گوشت کو اچھی طرح پکایا جائے۔ ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھویا جائے، اور محفوظ جنسی عمل کو اختیار کیا جائے۔ اس طرح لازمی ہے، کہ ماسک سے منہ اور ناک کو ڈھانپا جائے، جبکہ آلودہ سطح اور دیگر اشیاء کو چھونے سے گریز کیا جائے۔
مذکورہ مونکی پاکس وائرس دو سے چار ہفتے تک انسانی جسم میں رہائش پذیر رہنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے، اور ساتھ ہی مریض کی جلد پر ظاہر ہونے والے سرخ دھبے واپس پلین ہو کر مٹ جاتے ہیں۔
یہ بیماری زیادہ مہلک نہیں ہے، تاہم اس سے دیگر سنگین پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ جیسے نمونیا دماغی انفیکشن اور آنکھوں میں سوزش۔
اگر کسی کو خدا نخواستہ یہ بیماری لاحق ہو جائے، تو وہ کیا کرے؟
ماہرین تجویز کرتے ہیں، کہ ایسا شخص بالکل نہ گھبرائے، کیونکہ اس بیماری سے پچھلے ایک سال سے ایک بھی موت نہیں ہوئی ہے۔ (یہاں پہلے سے لاحق ہونے والی پیچیدگیوں کی بات نہیں ہو رہی) اس لئے گھبرانا نہیں۔ یہ بیماری زیادہ خطرناک نہیں ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ معالج کے مشورہ سے درد کش ادویات لیتا رہے، جس سے وہ بیماری کے دوران یقیناً بہتری محسوس کرے گا۔ اس کے علاوہ گرم پانی سے نہانے سے اس کو قدرے سکون ہو گا، اور سب سے ضروری یہ کہ وہ بیمار شخص دوسرے صحت مند لوگوں سے خود کو الگ کرے، تاکہ ان کو بیماری منتقل نہ کر بیٹھے۔
الگ تھلگ کمرے میں بیٹھ کر ماسک پہنے، اسی دوران زیادہ سے زیادہ مشروبات کا استعمال کرے، اور اس بات کا اہتمام کرے، کہ جس کمرے میں وہ رہ رہا ہے۔ وہاں چوہے بلی بالکل نہ ہوں۔ نا ہی مریض اسی دوران کسی جانور کو ہاتھ لگائے۔ اگر مریض محسوس کرے، کہ اس کی صحت خرابی کی طرف چلی گئی ہے۔ مثال کے طور پر سانس لینے میں تکلیف محسوس کرے، سینے میں شدید درد اور اینٹھن محسوس کرے، گردن اکڑ جائے، سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہو نے لگے، بولنے اور حرکت کرنے میں دشواری محسوس کرے، بے ہوشی طاری ہونے لگے، اور جھٹکے لگنے لگے، تو مریض فوری طور پر اپنے معالج سے ملے، اور اس کی ہدایات ہر عمل کرے۔
حکومت کو چاہیے کہ بیرون ملک سے آنے والی فلائٹوں پر نظر رکھے۔ ملکی سرحدوں پر سکریننگ کا نظام بہتر بنائے، وہیں پر مشکوک اور بیمار افراد کے ٹیسٹ وغیرہ کا معقول انتظام کرے۔ تاکہ یہ نئی بیماری کوئی بہت بڑی مصیبت نہ کھڑی کردے۔ معیشت پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ خدا نخواستہ اگر یہ بیماری کسی غفلت سے ملک میں پھیل جاتی ہے۔ تو نیا سنگین مسئلہ درپیش ہو گا۔ جس سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ سیاسی جوڑ توڑ اپنی جگہ لیکن اس نئے چیلنج سے بھی نمٹنے کا خاطر خوا بندوبست کرے، عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے اس بیماری سے متعلق کھری معلومات فراہم کرے، اس مرض پر جو جدید ریسرچ ہوئی ہے، اس کی روشنی میں حفاظتی سفارشات مرتب کرے، اور عوام میں شعور جگائے تاکہ حکومت اور عوام اس نئی مصیبت کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک پیج پر موجود ہوں۔ اس سلسلہ میں اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ مصائب کا ہمیشہ مل کر ہی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

